اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط
عمرو بن عاص نےانہیں بتایاکہ دین اسلام توہم پرستی اور بت پرستی کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے اتارا ہے، عبادت اسی ایک اللہ کی کی جاتی ہے جس کے حکم سے دریا بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کی روانی کو کوئی روک نہیں سکتا ۔
عمرو بن عاص نے انہیں یہ بھی کہا کہ وہ عیسائی ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ عیسائیت میں بھی توہم پرستی گناہ ہے ، لیکن یہ رسم ان لوگوں کے دلوں میں اتنی گہری اتری ہوئی تھی کہ وہ اس کے خلاف کوئی بات کوئی دلیل تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھے۔
امیر مصر!،،،،، وفد کے ایک آدمی نے کہا۔۔۔ اگر آپ نے ہمیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت نہ دیں تو ہم یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے، کیونکہ نیل کو اس کی دلہن نہ دینے سے نیل اپنا بہاؤ روک دے گا، ہم قحط سالی برداشت نہیں کر سکیں گے، عید صلیب کو صرف دو مہینے باقی ہیں۔
عمرو بن عاص ایسا کر سکتے تھے کہ سختی سے حکم دیتے کہ وہ ایسی خرافات کی اجازت نہیں دے سکتے، لیکن انہوں نےبہتر یہ سمجھا کہ ان لوگوں کو کسی ایسےطریقے سے اس توہم پرستی سے ہٹایا جائے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور یہ راہ راست پر آجائیں، انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے امیرالمومنین سے پوچھ کر کوئی فیصلہ کریں گے، وہ دراصل ان لوگوں پر یہ تاثر قائم کرنا چاہتے تھے کہ اسلام میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا جو اپنا حکم چلاتا ہے اور زبردستی رعایا سے منواتا ہے۔
عمرو بن عاص نے اسی روز اس رسم کی تفصیل لکھوائی اور ایک پیغام امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مدینہ بھیج دیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پیغام پڑھا تو انہوں نے بھی یہی سوچا کہ ان بھٹکے ہوئے لوگوں کو کسی طریقے سے ہی قائل کیا جائے، انہوں نے پیغام کا جواب فوراً دیا اس پیغام کے ساتھ ایک الگ پیغام نیل کے نام تھا، قاصد نے اتنا طویل سفر اتنی جلدی طے کیا کہ عید صلیب سے کچھ دن پہلے مدینہ سے اسکندریہ پہنچ گیا۔
عمرو بن عاص نے اپنے نام پیغام پڑھا جس میں امیرالمومنین نے انہیں کچھ ہدایات لکھی تھی، پھر نیل کے نام پیغام پڑھا اور اس فرقے کےوفد کو بلوایا یہ لوگ اسکندریہ میں ہی رکے ہوئےتھے،اطلاع ملتےہی آگئے، عمرو بن عاص نےانہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا نیل کے نام لکھا ہوا پیغام پڑھ کر سنایا، تحریر یوں تھی۔
اللہ کےبندے امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ کیطرف سے مصر کے دریائے نیل کے نام! امابعد اگر تو اپنی مرضی سےبہتا ہےتو نہ بہہ، رک جا ، اور اگر تیرے بہاؤ کو رواں دواں رکھنے والا اللہ وحدہٗ لا شریک ہے ،تو ہم اسی کے نام پر تجھ سےعرض کرتےہیں کہ اسی کے حکم سے بہتا رہے، اپنی روانی میں ایک لمحے کی بھی رکاوٹ نہ آنے دے۔
اس فرقے کے وفد کا ہر فرد مایوس نظر آنے لگا، لیکن عمرو بن عاص نے کہا کہ وہ خود یہ پیغام نیل کے سپرد کریں گے اور دیکھیں گے کہ نیل بہتا رہے گا یا رک جائے گا۔
عید صلیب اس مہینے کی بارہ تاریخ کو منائی جاتی تھی، اس صبح عمرو بن عاص خود دریائے نیل کے کنارے اس جگہ پہنچےجہاں انہوں نے وفد کو پہنچنے کے لئے کہا تھا، وفد کے علاوہ وہاں اور بھی بہت سے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، عمرو بن عاص نے نیل کے نام امیر المومنین کا پیغام بلند آواز سے پڑھ کر دریا میں پھینک دیا اور پھر لوگوں سے کہا کہ اگلے روز آکر دیکھیں کہ نیل بہہ رہا ہے یا رک گیا ہے۔ اگلے روز لوگوں کا ایک ہجوم دریا کے کنارے جا پہنچا، نیل بہہ رہا تھا اس کے بعد کئی روز جا کر دیکھتے رہے نیل بہ رہا تھا، اور پھر نیل بہتا رہا۔
یہاں ایک وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے بعض تاریخ نویسوں نے اس روایت کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ دریا کا بہاؤ رک گیا تھا اور لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ یہ اچھا شگون نہیں پھر انہوں نے لکھا کہ عمرو بن عاص نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام دریا میں پھینکا اور دریا بہنے لگا۔
بعض نے یوں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام جب نیل میں پھینکا گیا تو اس وقت نیل بہہ رہا تھا اگلی صبح دیکھا گیا کہ رات ہی رات دریا کا پارٹ سولہ ہاتھ چوڑا ہو گیا۔
یہ دونوں روایات بالکل بے بنیاد ہیں ۔ اگر ہم انہیں صحیح مان لیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عیسائیوں کے اس فرقے کی توہم پرستی صحیح اور جائز تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کو اللہ نے غیر معمولی ذہانت اور باریک بینی کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ عمرو بن عاص اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے یہ طریقہ سوچا تھا، انہیں یقین تھا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی دریا کا بہاؤ رک جائے ان کا یہ طریقہ کامیاب رہا اور یہ رسم جس میں ایک معصوم لڑکی کی جان چلی جاتی تھی ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی۔
مجاہدین عرب نے جب کسریٰ ایران کو شکست دے کر اس کے محلات پر قبضہ کیا تھا تو وہ اس کے آباؤ اجداد کی پوشاکیں اور وہاں کے خزانے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے ۔
ایسی ہی ایک پوشاک امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجی گئی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی آنکھیں حیرت سے جیسے ٹھہر ہی گئی تھیں، ان بے بہا خزانوں کے علاوہ وہاں اور کوئی خاص قابل ذکر چیز نہیں تھی، لیکن اسکندریہ شہر نے عرب کے فاتح مجاہدین کو مبہوت اور انگشت بدنداں کر دیا تھا۔
یہ شہر عجائبات کا خزانہ تھا اسے سکندر اعظم نے آباد کیا تھا۔ سکندر اعظم کا مقبرہ جو فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا اسکندریہ میں ہی ہے۔ اس شہر میں عبادت گاہیں اور مختلف مذاہب کے پیغمبروں کے مقبرے ہیں۔ جن میں بعض سنگ مرمر کے بنے ہوئے تھے۔ فرعونوں کی ملکہ مصر قلوپطرہ کی تعمیرات بھی اس وقت تک موجود تھیں۔
اتنے وسیع وعریض شہر میں ایک سےبڑھ کر ایک خوبصورت مینار تھا ،اگر ہم ان میں سے ہر ایک کو تفصیل سے بیان کرنے لگے تو ایک الگ کتاب بن جائے، لیکن یہاں اتنا ہی کہیں گے کہ یہ حیران کن حد تک خوبصورت باغات اور تعمیرات کا شہر تھا، ہم صرف ایک مینار کا ذکر کریں گے جو سکندر اعظم کے بعد ایک یونانی بادشاہ بطلیموس ثانی نے سمندر میں ایک چٹان پر تعمیر کروایا تھا، اسکے متعلق اتنا ہی کہہ دینا کافی ہونا چاہئے کے اس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا رہا ہے، یہ سنگ مرمر سے زیادہ سفید پتھروں سے بنایا گیا تھا۔ دن کے وقت یہ پتھر چمکتے تھے رات کو اس مینار میں آگ جلا دی جاتی تھی، اس مینار کا مقصد بحری جہازوں کی رہنمائی تھا ۔
یہ مینار تین سو ہاتھ بلند تھا ،اور اس کی چار منزلیں تھیں، پہلی منزل چوکور تھی،دوسری منزل کےآٹھ پہلو تھے،تیسری منزل گول تھی،اور چوتھی منزل بلکل کھلی ہوئی تھی۔ جہاں جہازوں کی رہنمائی کے لیے آگ جلا دی جاتی تھی۔
آگ والی جگہ ایک بہت بڑا آئینہ نصب تھا کوئی بھی نہ جان سکا کہ یہ آئینہ کس دھات سے بنایا گیا تھا ،ایک خیال یہ ہے کہ یہ شفاف پتھر سے بنا تھا، یہ آئینہ سات ہاتھ لمبا اور اتنا ہی چوڑا تھا، دن کو دھوپ اس میں سے منعکس ہوتی تھی جس کی چمک دور دور تک نظر آتی تھی، اور رات کو اس کی روشنی منعکس ہوکر بہت دور تک پہنچتی اور جہازوں کی رہنمائی کرتی تھی۔
اس آئینے کے متعلق کچھ اور روایات بھی تاریخ میں ملتی ہیں جن میں ایک ہی قابل ذکر ہے ،وہ یہ کہ یونانیوں نے یہ آئینہ دشمن کے جہازوں کو جلانے کے لئے اس مینار پر نصب کیا تھا، اس کا استعمال یہ تھا کہ دور سے دشمن کا بحری بیڑہ نظر آتا تو اس آئینے کو اس زاویے پر کردیا جاتا تھا کہ سورج کی کرنیں مرکوز ہو کر دشمن کے جہازوں کے بادبانوں پر پڑتی اور بادبانوں کو آگ لگ جاتی تھی، معلوم نہیں یہ روایت کہاں تک صحیح ہے لیکن مصدقہ بات یہی ہے کہ اس آئینے کی چمک سے جہازوں کی رہنمائی ہوتی تھی۔
ہم اس مینار کا انجام پیش کرتے ہیں، ایک وہ مجاہدین تھے جنہوں نے عجائبات زمانہ سے بھرپور ملک فتح کیا تھا ،اس کےمتعلق عمرو بن عاص نے امیرالمومنین کو لکھا تھا کہ میں نےایک ایساشہر فتح کیاہے جسکی تعریف نہیں کی جاسکتی، بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہاں چار ہزار عمارتیں اور اتنے ہی حمام ہیں، اور چار سو شاہی رقص گاہیں ہیں۔
عمرو بن عاص نے اور انکے بعد خلفاء راشدین کے زمانے میں مصر کے جتنے امیر مقرر ہوئے ان عمارات ،میناروں اور دیگر عجائبات کو بڑی صحیح حالت میں رکھا،لیکن چند سو برس بعد وہ خلفاء آگئے جن کی دلچسپی خزانوں کے ساتھ تھی اور ان کے انداز بادشاہوں جیسے تھے، ان میں ایک خلیفہ ولید بن عبدالملک تھا۔
تاریخ میں یوں آیا ہے کہ رومی مسلمانوں سے مصر تو واپس نہ لے سکے لیکن مسلمانوں کی دشمنی نسل بعد نسل ان کے دلوں میں قائم رہی، رومیوں نے مسلمانوں کو بد نام کرنے کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ ایک رومی خلیفہ ولید کے پاس گیا اور قبول اسلام کی خواہش ظاہر کی، اس نے یہ بھی بتایاکہ وہ شاہ روم کا خاص آدمی تھا لیکن بادشاہ اس سے ناراض ہوگیا اور اسے قتل کروانا چاہتا تھا لیکن وہ بھاگ آیا ہے۔
اس شخص نے خلیفہ ولید پر اپنا اعتماد اس طرح بٹھا لیا کہ اسے مصر کے کچھ مدفون خزانوں کا علم ہے، ولید نے اسے اپنا مقرب بنا لیا ،اس شخص نے شام میں دو جگہوں کی نشاندہی کی، ولید نے وہاں جاکر کھدائی کروائی تو خزانے برآمد ہوئے، اس کے بعد اس نے ولید کو بتایا کہ اسکندریہ میں جہازوں کی رہنمائی کے لیے جو مینار کھڑا ہے اس کے نیچے سونے اور جواہرات کے بہت بڑے خزانے دفن ہیں۔
خلیفہ ولید فوراً اسکندریہ پہنچا اور اتنے قیمتی کار آمد اور خوبصورت مینار کو گرانے کے لئے ایک فوجی دستہ لگادیا، مینار گرتا رہا اور دیکھتے رہے کہ خزانہ کہاں سے برآمد ہوتا ہے، لیکن خزانہ ہوتا تو برآمد ہوتا، مینار مسمار کردیا گیا اور نیچے سے سمندری چٹان برآمد ہوئی ، اس رومی کو ڈھونڈنے لگے جس نے خزانے کا پتہ دیا تھا لیکن وہ غائب ہو گیا تھا۔ مینار دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ جب اس میں آئینہ نصب کیا گیا تو اس کی چمک ختم ہو چکی تھی اور اب یہ محض بیکار تھا اب وہاں اس مینار کی بنیادوں کے کچھ آثار ملتے ہیں۔
مصر آج بھی اپنے دامن میں مختلف تہذیبوں کے آثار لیے ہوئے ہے، جن میں فرعونوں کے احرام ابوالہول کا مجسمہ، اور کچھ دیگر تعمیرات قابل ذکر ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جن مجاہدین نے فرعونوں کا یہ ملک فتح کر کے سلطنت اسلامیہ میں شامل کیا تھا وہ ہے تو آج بھی عالم اسلام کا ایک ملک، لیکن اس ملک کے آج کے حکمرانوں نے امریکہ اور اسرائیل کی دوستی میں اللہ کے نام لیواؤں کی سرکوبی کے لئے فرعونیت رائج کر رکھی ہے۔
ختم شد
الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب اللعالمین
تو کیسی لگی اپنی راٸے ضرور دیجٸےگا آگے کونسا ناول سٹارٹ کیا جاٸے

Comments
Post a Comment