اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط
عمرو بن عاص نےانہیں بتایاکہ دین اسلام توہم پرستی اور بت پرستی کو ختم کرنے کے لیے اللہ نے اتارا ہے، عبادت اسی ایک اللہ کی کی جاتی ہے جس کے حکم سے دریا بہہ رہے ہیں اور دریاؤں کی روانی کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ عمرو بن عاص نے انہیں یہ بھی کہا کہ وہ عیسائی ہیں، لیکن یہ نہیں جانتے کہ عیسائیت میں بھی توہم پرستی گناہ ہے ، لیکن یہ رسم ان لوگوں کے دلوں میں اتنی گہری اتری ہوئی تھی کہ وہ اس کے خلاف کوئی بات کوئی دلیل تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں تھے۔ امیر مصر!،،،،، وفد کے ایک آدمی نے کہا۔۔۔ اگر آپ نے ہمیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت نہ دیں تو ہم یہاں سے نقل مکانی کر جائیں گے، کیونکہ نیل کو اس کی دلہن نہ دینے سے نیل اپنا بہاؤ روک دے گا، ہم قحط سالی برداشت نہیں کر سکیں گے، عید صلیب کو صرف دو مہینے باقی ہیں۔ عمرو بن عاص ایسا کر سکتے تھے کہ سختی سے حکم دیتے کہ وہ ایسی خرافات کی اجازت نہیں دے سکتے، لیکن انہوں نےبہتر یہ سمجھا کہ ان لوگوں کو کسی ایسےطریقے سے اس توہم پرستی سے ہٹایا جائے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور یہ راہ راست پر آجائیں، انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے امیرالمومنین سے پوچھ ...