اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر60
اس کے وجود کا رعشہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ شک ہوتا تھا کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے گی۔ گھنٹیوں اور گھنگروؤں کی جھنکار ڈراونی سی ہوتی جارہی تھی، خاصی دیر بعد اس کا پھڑکنا ذرا کم ہونے لگا ،اور کم ہوتے ہوتے اس کا جسم اپنی قدرتی حالت میں آگیا ،اس نے منہ چھت کی طرف کرکے کھولا اور منہ سے بڑی لمبی ہُو جیسی آواز نکالی، پھر اس نے بڑی دور سےڈنڈا دو چار مرتبہ ہوا میں گھمایا جیسےکسی کو مار رہی ہو ،اس کے بعد دوسرا ہاتھ ہوا میں اوپر کرکے یوں گھمانے پھرانے لگی اور بار بار اس طرح مٹھی بند اور کھولنے لگی جیسے ہوا کو یا ہوا میں کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہو، آخر وہ بیٹھ گئی اور پھر شیشے کے گولے میں جھانکنے لگی۔
ہوجائے گا۔ اس نے لرزتی کانپتی آواز میں کہا۔ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا، ایک بچہ چاہیے عمر ایک مہینے سے زیادہ نہ ہو، کچھ نہ کچھ ہاتھ آ ہی جائے گا۔
کیا کہا ؟،،، مرتینا نے پوچھا۔ ایک بچہ چاہیے؟ عمر ایک مہینے سے زیادہ نہ ہو۔
ہاں ملکہ!،، جادوگرنی نے ہانپتی کانپتی سانسوں کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ مجھے ایک بچہ دے دے جس کی عمر ایک مہینے سے دوچار دن کم ہو ،میں اپنے گھر میں اسے کچھ دن رکھونگی اور اس پر کچھ عمل کروں گی یہ عمل مکمل کر کے بچے کا دل نکال لوں گی پھر اس دل پر اپنا کچھ کام کرکے اسے ناگن کو کھلا دوں گی۔
ایک تو جادوگرنی کی شکل و صورت بھی مکروہ اور ڈراؤنی سی تھی، اور پھر اس کا حلیہ اور ہی زیادہ کراہت آمیز تھا ، اور اسکے بولنے کا انداز تو بالکل ہی غیر فطرتی تھا ، اس نے جب یہ کہا کہ وہ بچے کا دل اپنے ناگن کو کھلا دی گی تو مرتینا جیسی شیطان فطرت عورت بھی لرز گئی، اس نے گھبرائی ہوئی نگاہوں سے جادو گرنی کی طرف دیکھا۔
بچے کی تلاش کوئی مشکل نہیں۔ جادو گرنی نےکانپتی ہوئی سرگوشی کی،،،،،، تیری قسمت تیرے اپنے ہاتھوں میں آ جائے گی بچہ تیرے گھر میں موجود ہے، چند دنوں بعد تجھے مل جائے گا، ربیکا کو بچہ پیدا ہونے والا ہے ۔
نہیں؛، نہیں،،،، مرتینا نے کہا۔۔۔ ربیکا اپنا بچہ نہیں دے گی، یہ لڑکی تو ایک بچے کی خاطر مری جا رہی تھی اسے ایک بچے کی بہت ہی خواہش تھی،اس نے مجھے بتایا تھا کہ تیرے ہی عمل سے اسےیہ بچہ ملا ہے، میں تجھے یہ بھی بتا دیتی ہوں کہ یہ میرے بیٹے کا بچہ ہے۔
یہ تو بہت اچھا شگون ہے۔ جادو گرنی نے کہا۔۔ اس بچے میں تیرا خون ہے یہ تیری کایا پلٹ دے گا ۔ پرایا بچہ ذرا مشکوک ہوتا ہے، ربیکا سے یہ بچہ خرید لے تیرے پاس خزانہ ہے اور خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔
نہیں دے گی۔۔ مرتینا نے کہا۔۔۔ میں حکم دے کر اس سے بچہ لے سکتی ہوں لیکن حکم نہیں دونگی اس لڑکی کے ساتھ مجھے بہت پیار ہے میں اس کا دل نہیں دُکھاؤ نگی۔
پھر اپنی مرادیں اور خواہشیں دل سے پھینک دے۔جادوگرنی نے کہا ۔۔۔ملکہ کو اتنا رحم دل نہیں ہونا چاہیے، قلوپطرہ بن جا اور دل سے رحم وکرم نکال پھینک، بچہ چوری کروا اور مجھ تک پہنچا دے، یہی بچہ موزوں ہے، ربیکا کو پتہ نہ چلنے دینا کہ میں نے بچہ مانگا ہے۔
مرتینا گہری سوچ میں کھو گئی۔ وہ کوئی رحم دل عورت نہیں تھی،لیکن آخر عورت تھی اسکی ذات میں ممتا موجود تھی، ایک معصوم بچے کا دل ناگن کو کھلا دینا ۔ اسکے تصور آتا ہی نہیں تھا، اور اگر آیا بھی تو وہ سر سے پاؤں تک کانپ گئی۔جادوگرنی کچھ نہ کچھ بولے جارہی تھی اس نے مرتینا کو بتایا کہ اس نے سانپ پالے ہیں تین سانپ ہیں اور تینوں بڑے زہریلے ہیں، ان میں ایک ناگن ہے اور اس ناگن نے اسکی کئی مرادیں آسان کی ہیں۔
مرتینا نے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کرنا شروع کردیا کہ وہ ربیکا کا بچہ جادوگرنی کو دے دی گی، اس نےجب تصور میں اپنے آپ کو ملکہ کے روپ میں دیکھا تو وہ ممتا اس کے وجود میں ہی کہیں گم ہوکر غائب ہوگئی۔ اس نے جادوگرنی کو بتایا کہ ربیکا کا بچہ اسے مل جائے گا، جادوگرنی اسے یہ یقین دلا کر اٹھی کہ اسکی تینوں مرادیں پوری ہوجائیں گی، بشرطیکہ بچہ اس تک پہنچا دیا جائے۔
مرتینا نےجادوگرنی کو کچھ انعام دیا اور کہا کہ کام ہو جانے پر وہ اس پر خزانہ لٹا دے گی، جادوگرنی رخصت ہوگئی اور ربیکا دوڑی دوڑی مرتینا کے پاس آئی۔
کیا کہتی ہے؟،،،،، ربیکا نے مرتینا سے پوچھا۔۔۔ کیا آپ کا کام ہو جائے گا۔
ہاں ربیکا! مرتینا نے جواب دیا ۔۔۔ہوجائے گا۔
ربیکا ملازموں کے کمروں میں رہنے والے کمروں میں سے ایک کمرے میں رہتی تھی، وہ مرتینا کی خاص اور معتمد ملازمہ تھی اور ہرقلیوناس کی داشتہ تھی۔
دس بارہ دن ہی گزرے ہونگے کہ ربیکا کا بچہ پیدا ہوا، مرتینا نے شاھی دائی کو ربیکا کی خدمت پر لگا دیا تھا۔ مرتینا اور ہرقلیوناس اسے دیکھنے کے لئے اس کے کمرے میں گئے ،اور اس کے آرام و آسائش کو اچھی طرح دیکھا بڑا خوبصورت اور پھول جیسا بچہ تھا ،ربیکا تو بہت ہی خوش تھی کہ اس کی ایک خواہش پوری ہو گئی ہے۔
ربیکا بچے کی پیدائش پر اس قدر خوش تھی کہ بیس دن ہی گزرے تھے کہ نارمل حالت میں آکر مرتینا کے پاس جا پہنچی اور روزمرہ کے کام کاج میں مصروف ہوگئی ۔کبھی وہ بچہ اپنے ساتھ لے آتی تھی اور کبھی اپنے کمرے میں ہی سوتا چھوڑ آتی تھی ۔
ایک رات ربیکا کام سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی، کچھ ہی دیر بعد مرتینا نےاسے پھر بلوالیا ،اور جب ربیکا آئی تو اسے کسی کام میں لگا دیا اور ساتھ ساتھ اس کے ساتھ باتیں بھی کرتی رہی، اسے کم و بیش ایک گھنٹہ اپنے ساتھ رکھا اور پھر اسے فارغ کیا ،ربیکا چلی گئی۔
تھوڑی ہی دیر بعد ربیکا چیختی چلاتی اور روتی ہوئی مرتینا کے پاس دوڑتی آئی، مرتینا گھبرا کر اٹھی اور پوچھا کیا ہوگیا ہے ؟
میرا بچہ غائب ہو گیا ہے۔۔۔ ربیکا نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔ میں اسے سوتا چھوڑ آئی تھی۔
مرتینا اور ہرقلیوناس دوڑے گئے اور انہوں نے بھی دیکھا کہ بچہ غائب ہے۔ مرتینا نے ہنگامہ بپا کردیا اور تمام ملازموں کو جگا کر اکٹھا کیا اور حکم دیا کہ بچے کو تلاش کریں، ہرقلیوناس سب کو گالیاں دے رہا تھا، صرف مرتینا کو معلوم تھا کہ بچّہ کہاں ہے۔ جن کے دلوں میں اللہ کا نام تھا اللہ نے ان کی قسمت انکے ہاتھوں میں دے دی تھی، وہ ایمان کی پختگی کے جادو جگا رہے تھے ،اللہ نے وعدہ فرمایا تھا کہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک چھوٹی سی جماعت ایک بڑی جماعت پر غالب آئی ہے، ایسا ہر وقت ہوسکتا ہے شرط یہ ہےکہ چھوٹی جماعت والوں کے دلوں میں اللہ کا نام ہو اور ان کا ایمان پختہ ہو۔
مجاہدین اسلام کا لشکر ابھی تک اسکندریہ سے باہر اس انتظار میں تیار تھا کہ رومی باہر نکل کر حملہ کریں گے، جیسا وہ ہر قلعے کے محاصرے کے وقت کرتے رہے ہیں لیکن رومی چھوٹی چھوٹی جھڑپوں کے لئے باہر نکلتے اور واپس چلے جاتے تھے۔
سپہ سالار عمرو بن عاص بھی کوئی زیادہ جلدی میں نہ تھے وہ محاصرے کو طول دے سکتے تھے اس مہلت سے یہ فائدہ مل رہاتھا کہ سابقہ معرکوں کے شدید زخمی لڑنے کے قابل ہو رہےتھے ،رسد کی کمی لشکروں کے ارادے اور عزم تہس نہس کردیا کرتی تھی،لیکن مجاہدین کو کسی ایسےمسئلےکا سامنا نہیں تھا انہوں نےاسکندریہ کے قرب و جوار کےجو قصبے اور شہر فتح کیے تھے وہاں سے رسد کے ذخائر اکٹھے ہوگئے تھے، مصری بدوّ رسد کم ہونے ہی نہیں دے رہے تھے، عقب سے حملے کا خطرہ بھی نہیں رہا تھا۔
سپہ سالار عمرو بن عاص کی کوشش یہ تھی کہ شہر کےاندر رسد نہ جاسکے انہوں نے رسد کے ممکنہ راستے بند کر دیئے تھے لیکن سمندر کا راستہ بند نہیں کیا جاسکتا تھا ،اور اصل مشکل یہ تھی کہ شہر کا محاصرہ ہو ہی نہیں سکتا تھا ،اس کے باوجود عمرو بن عاص کہتے تھے کہ اسکندریہ کے اندر قحط والی کیفیت نہ بھی پیدا ہوئی تو رومی جرنیل اتنی طویل محاصرے سے اپنی ذلت ضرور محسوس کریں گے، رومیوں کے تمام چھوٹے بڑے جرنیل اسکندریہ میں جمع ہو گئے تھے اور ان کا اسقف اعظم قیرس بھی ان کے ساتھ تھا۔ بہرحال عمرو بن عاص مطمئن تھے کہ محاصرہ طول پکڑتا ہے تو یہی بہتر ہوگا۔
مجاہدین چوکس اور چوکنے تو رہتے ہی تھے لیکن وہ تقریباً فراغت کے دن گزار رہے تھے۔ خیمہ گاہ سے تھوڑی دور تک گھوم پھر بھی آتے تھے، قریبی دیہات کے لوگ خیمہ گاہ کے قریب آکر انہیں دیکھتے بھی رہتے تھے۔ کرسٹی اپنے باپ کےساتھ قید ہوکر آئی تھی تو دونوں ڈرےہوئے تھے انکی حیثیت جنگی قیدیوں والی تھی جنہیں غلام سمجھا جاتا تھا، بلکہ غلام بنا لیا جاتا تھا، کرسٹی کے باپ کے دل پر یہی ایک خطرہ سوار تھا لیکن اسے کھلی قید میں رکھا گیا تھا اسے بتادیا گیاتھا کہ وہ بھاگنے کی کوشش نہ کرے ورنہ اسے زنجیریں ڈال کر رکھا جائے گا ،اس باپ کے لیے دوسرا خطرہ یہ تھا کہ کرسٹی جو غیر معمولی طور پر حسین لڑکی تھی سالاروں کے لئے کھلونا بن جائے گی، کرسٹی کو عورتوں کے حوالے کردیا گیا تھا ۔
اسے ہر لمحہ توقع رہتی تھی کہ سالار اسے لونڈی سمجھ کر داشتہ بنا لیں گے اور اس کی ہر رات کسی نہ کسی سالار کے خیمے میں گزرے گی، لیکن کریون سے اسکندریہ اتنی راتیں گزر گئیں تھیں کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا، سالاروں کو تو جیسے اسکی موجودگی کا احساس ہی نہیں تھا۔
کرسٹی کو جن عورتوں کے حوالے کیاگیا تھا وہ مجاہدین کی بیویاں، مائیں، اور بہنیں وغیرہ تھیں ان میں تین چار وہ رومی لڑکیاں بھی تھیں جو مجاہدین کے کردار اور حسن اخلاق سے متاثر ہوئیں اور ان کی محبت میں گرفتار ہو کر اسلام قبول کر لیا اور ان کے ساتھ شادیاں کر لی تھیں ۔کرسٹی ان لڑکیوں میں گھل مل گئی تھی۔
وہ سب سے زیادہ متاثر شارینا سے ہوئی تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ اسے بتایا گیا تھا کہ شارینا شاہ ہرقل کے شاہی خاندان کی لڑکی تھی اور ایک مجاہد سے اتنی متاثر ہوئی کہ شاہانہ زندگی کو ٹھوکر مار کر اس مجاہد کے ساتھ آگئی اور دل و جان سے اسلام قبول کر کے اس مجاہد کی بیوی بن گئی، اس کے خاوند کا نام حدید بن خزرج تھا ،جو جاسوسی اور شب خون مارنے کی خصوصی مہارت رکھتا تھا ، کرسٹی نے ضرور سوچا ہوگا کہ شاہی خاندان کی اتنی خوبصورت لڑکی نے آخر ان صحرا نورد عربوں میں کوئی خاص بات ہی دیکھی ہوگی کہ ان کے ساتھ ماری ماری پھر رہی ہے، کرسٹی دوسری نومسلم لڑکیوں سے بھی خاصی متاثر تھی۔
یہ سب لڑکیاں خصوصا شارینا کرسٹی میں زیادہ دلچسپی لیتی تھی، اور انہوں نے اسے اپنے ساتھ پوری طرح بے تکلف کرلیا تھا۔ کرسٹی اپنے متعلق انہیں جو کچھ بتاتی رہی تھی وہ سب جھوٹ تھا وہ اپنے آپ کو اور اپنے باپ کو مظلوم سمجھتی تھی اور کہتی تھی کہ انھیں بے گناہ پکڑ لیا گیا ہے ،وہ ڈرے ڈرے سے لہجے میں انہیں بتاتی رہتی تھی جن میں دو خدشے اسے زیادہ پریشان رکھتےتھے، ایک یہ کہ اس کے بوڑھے باپ کے ساتھ بہت برا سلوک ہوگا، اور وہ خود سالاروں کی تفریح طبع کا بڑا ہی خوبصورت ذریعہ بن جائے گی۔
لیکن میں حیران ہوں۔۔ کرسٹی نے کہا۔۔ ان سالاروں میں سے کوئی میری طرف دیکھتا ہی نہیں جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ ایک اتنی حسین اور نوجوان لڑکی ان کے درمیان موجود ہے،کبھی خیال آتا ہے کہ شائد ان بدوؤں کےہاں حسن کا معیار کچھ اور ہے جس پر میں پوری نہیں اتر سکتی۔
شارینا اور وہ لڑکیاں جو وہاں بیٹھی سن رہی تھیں کھلکھلا کر ہنس پڑیں، انہوں نے کرسٹی کو بتایا کہ یہ سب بدو نہیں ہیں،اور جہاں تک اس نوجوانی کا تعلق ہےانکا معیار رومیوں اور مصریوں سے مختلف نہیں،انہوں نے کہا کہ انکی عورتوں کو دیکھ لو ان میں کیسی کیسی خوبصورت خواتین موجود ہیں۔
یہ معیار کی نہیں کردار کی بات ہے۔۔ شارینا نے کہا۔۔ یوں کرو کسی بھی سالار کے خیمے میں جا کر بالکل برہنہ ہو جانا اور دعوت گناہ دینا،وہ تمہیں اپنےہاتھوں کپڑے پہناکر خیمے سے نکال دے گا، تم یہ تاثر لے کر آؤ گی کہ تم کسی بھی مرد کے لیےقابل قبول ہو ہی نہیں، اور اس حسین جسم میں ذرا سی بھی کشش نہیں ہے ۔
آزمانے کی ضرورت ہی نہیں۔۔ کرسٹی نے کہا۔ یہ تو میں پہلے ہی محسوس کر رہی ہوں کہ یہ لوگ بد ذوق اور بے حس ہیں یا میں بدصورت اور دھتکاری ہوئی لڑکی ہوں۔
نہ یہ بدذوق ہیں نہ تم بدصورت ہو ۔۔۔ایک اور نومسلم لڑکی عینی نے کہا۔۔۔ تمہاری تربیت ایسی ہوئی ہے کہ تم کچھ اور سوچنے کے قابل نہیں رہی، راز کی ایک بات سن لو ، دیکھ رہی ہو کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی تھوڑی ہے لیکن انہوں نے تمہارے سامنے کریون کا قلعہ فتح کیا اور اب اسکندریہ پر حملے کر رہے ہیں، اور انہوں نے سارا مصر فتح کر لیا ہے کبھی تم نے سوچا کہ کیوں؟،،،،،،،،،، صرف اس لئے کے ان کی توجہ تم جیسی لڑکیوں پر نہیں ،ان کی نظریں اپنے اللہ پر لگی ہوئی ہیں، تم صرف اس ایک شخص کے لئے قابل قبول اور حسین ہوگی جو تمہارے ساتھ اللہ کے نام پر شادی کرے گا۔
کرسٹی بڑی زندہ دل، شگفتہ مزاج، اور بے تکلفی سے باتیں کرنے والی لڑکی تھی، اس نے ایسی کوئی بات نہ کی کہ وہ ان مسلمانوں سے اتنی متاثر ہوئی ہے کہ مسلمان ہو جانا چاہتی ہے، اس نے ہنستے مسکراتے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اس کی تربیت کسی اور ہی طرح سے ہوئی ہے ۔
اس وقت تک وہ ان لڑکیوں کو اپنے متعلق غلط بات نہیں بتا رہی تھی اب اس نے سچ اگلنا شروع کردیا۔ اس نےکہا کہ وہ زہر میں بجھا ہوا ایک بڑا ھی حسین تیر ہے، جو بڑی آسانی سے اپنے شکار کے دل میں اتر جاتا ہے، اور اسے کسی کام کا نہیں چھوڑتا،اور اسکا کوئی مذہب اور کوئی وطن نہیں رہتا۔ اس نے بڑے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ یہ شخص جسے وہ اپنا باپ بتا رہی ہے اس کا باپ نہیں، اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کا باپ کون اور ماں کون تھی، اس کی عمر سات آٹھ سال تھی۔ اسےیاد تھاکہ اسکی پرورش کرنے والوں نےاسے بڑے پیار سےپالا پوسا اور جوان کیاتھا، اسکے دل سے سگےماں باپ کی محبت اور ذہن سے انکی یادیں بھی صاف ہو گئی تھیں، اسی عمر سے اسے یہ تربیت دی جانے لگی تھی کہ آدمیوں کو انگلیوں پر کس طرح نچایا جاتا ہے، مردوں پر اپنا طلسم طاری کرنا،پتھر کو موم کرنا، اپنے حسن کو برقرار رکھنا،اور دشمن دیس کو اپنا گھر سمجھنا،اور ایسےہی کچھ اور سبق تھے جو اسے زبانی ہی نہیں پڑھائے گئے بلکہ اسے عملاً سکھایا گیا تھا ۔ یہ تربیت اسے بڑی ہی حسین و جمیل اور بے حد چالاک عورتوں نے دیں تھیں، اسے بتایا گیا تھا کہ اپنے شکار کے جذبات کو بھڑکا کر اس کی عقل و ہوش اپنے قبضے میں کر لینا اور خود جذبات سے عاری اور بے حس ہو جانا۔
اسے خبردار کیا گیا تھا کہ دل میں کسی دشمن کی ہمدردی پیدا ہوجائے تو اسے اپنے کام میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، مختصر یہ کہ اسے بڑی ہی خوبصورت ناگن بنادیا گیا تھا اور یہ تعلیم و تربیت اس کی فطرت بن گئی تھی۔
کرسٹی نےان لڑکیوں کو سنایاکہ اس نے مصری بدوّ اسطافت کو کس طرح قبضہ میں لے لیا تھا، اور وہ ایک سالار کو قتل کرنے پر آ گیا تھا اور خود مارا گیا۔
اسطافت مسلمان نہیں تھا۔۔۔ شارینا نے کہا۔۔۔ وہ عرب بھی نہیں تھا، اگر وہ مسلمان ہوتا تو تمہارے جھانسے میں کبھی بھی نہ آتا۔
میری تربیت صرف عورتوں نے نہیں کی۔۔۔ کرسٹی نے کہا۔۔۔میں مرد استادوں کےہاتھوں میں سے بھی گزری ہوں وہ سب میرےمذہب کے آدمی تھے،ہر ایک آدمی نے مجھے تربیت دینے سےپہلے میرےاس حسین جسم سےلطف اٹھایا،پھر اگلی بات کی، لیکن مسلمانوں کے یہاں تو بالکل ہی الٹ معاملہ دیکھا ہے، یہ شخص جسے میں اپنا باپ کہتی ہوں اس نے بھی مجھے نہیں بخشا۔
تم اسلام قبول کر لو ۔۔۔شارینا نے کہا۔۔۔ پھر جو آدمی تمہیں اچھا لگے وہ مجھے بتاؤ اور تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دونگی۔
میں نے شادی کی تو سوچی ہی نہیں۔۔۔ کرسٹی نے کہا۔۔۔مذہب کو تو میں نے کبھی اہمیت دی ہی نہیں ،مجھے یہ بتایا گیاتھا کہ مسلمان عیسائیت کے دشمن ہیں اور اسلام کو ختم کرنا ہے، اب میرے خیالات اتنے بدل گئے ہیں کہ میں ان مسلمانوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں، میرے دل میں ان مسلمان سالاروں کی عزت پیدا ہو گئی ہے۔
تم ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتی۔۔۔ایک اور نومسلم لڑکی نے کہا۔
بہت کچھ کر سکتی ہوں۔۔۔ کرسٹی نے کہا۔۔۔ میرے پاس یہی ہنر ہےجو بتاچکی ہوں ،میں چاہتی ہوں کہ مسلمان مجھ سے فائدہ اٹھائیں میں ان کے لئے جاسوسی کر سکتی ہوں۔ رومی جرنیلوں کو قتل کروا سکتی ہوں، یہ نہ ہو سکا تو انھیں ایک دوسرے کا دشمن بناسکتی ہوں، کسی طرح مجھے اسکندریہ میں داخل کر دیں۔
کرسٹی ! شارینا نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔۔۔ اسلام میں عورت کو اس طرح استعمال کرنا بہت بڑا گناہ ہے، یہ لوگ اپنی بیٹی کی ہی نہیں بلکہ بیٹی کسی دشمن کی بھی ہو تو یہ اپنے آپ کو اس کی عزت و آبرو کا محافظ سمجھتے ہیں، تم اپنے مستقبل کی سوچو تمہارے سامنے بڑی لمبی عمر پڑی ہے،یہ باعزت انداز سے گزرنی چاہیئے۔ یہ بات کچھ سنجیدگی اور کچھ مذاق میں آئی گئی ہو گئی۔
مدینہ میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہر لمحہ مصر سے خبر آنے کے منتظر رہتے تھے، پیغام آتے جاتے رہتے تھے لیکن پہلی مرتبہ یوں ہوا کہ چار مہینوں سے زیادہ عرصہ گزر گیا عمرو بن عاص کیطرف سے کوئی پیغام مدینہ نہ گیا، اس تاخیر اور خاموشی سے امیر المومنین کو تشویش ہونے لگی، یہ تشویش ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئی اور امیرالمومنین نے مجلس مشاورات بلائی، تمام مستند مؤرخوں اور بعد کےتاریخ نویسوں نےلکھا ہےکہ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مشیروں سے کچھ اس طرح خطاب کیا۔
کیا تم میری طرح پریشان نہیں ہو۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا۔۔۔ چار چاند طلوع و غروب ہو گئے ہیں اور عمرو بن عاص کی کوئی خبر نہیں آئی،یہ وہی لشکر ہے جس نےمصر کے بڑے ہی مضبوط شہر اور ناقابل تسخیر قلعہ فتح کیےہیں ،پھر کیا بات ہے کہ وہ اسکندریہ کی دیواروں کے باہر جاکر بیٹھ گئے ہیں اور کوئی حرکت نہیں کر رہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ انہیں وہ جگہ اچھی لگی اور اسی کو وہ ایک خوبصورت منزل سمجھ کر وہیں کے ہوکر رہ گئے ہیں۔
یا امیرالمومنین!،،،،،، ایک مشیر نے کہا۔۔۔ عمرو بن عاص ایسے غیر ذمہ دار سپہ سالار تو نہیں کچھ دن اور انتظار کر لیا جائے۔
یہ بھی تو ہوسکتا ہے۔۔۔ ایک اور نے کہا۔۔۔ اسکندریہ بہت ہی مضبوط اور قلعہ بند شہر ہے اور یہ مصر کا آخری قلعہ ہے، عمرو بن عاص کے لشکر کی تعداد اور کم ہو گئی ہے اس لئے اس شہر کی فتح کے لئے تین چار مہینے کافی نہیں ہوسکتے۔
خدا کی قسم میں ان سب پہلوؤں پر غور کر چکا ہوں۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا۔۔۔ اسکندریہ اجنادین سے زیادہ مضبوط نہیں ہو سکتا، اس وقت ہرقل بھی زندہ تھا اور روم کی فوج بھی زندہ و بیدار اور بے حد طاقتور تھی، رومی سمجھتے تھے کہ اجنادین دراصل بیت المقدس کا دفاعی قلعہ ہے یہ گیا تو بیت المقدس بھی ہاتھ سے نکل جائے گا، رومی بیت المقدس میں اپنے آپ کو یوں سمجھتے تھے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر کا دفاع کر رہے ہو، لیکن اسی عمرو بن عاص نے رومیوں سے اجنادین بھی لے لیا اور بیت المقدس بھی چھین لیا تھا ،آج عمرو بن عاص اسی رومی فوج کے سامنے کیوں بے بس ہو گیا ہے؟،،،، اب تو رومی فوج بہت زیادہ دہشت زدہ اور کمزور ہوگئی ہے، اسکے علاوہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ بزنطیہ میں ہرقل کے بعد اس کا بیٹا قسطنطین بھی مر چکا ہے، اور وہاں تخت و تاج کی وراثت پر شاہی محل میں جھگڑا چل رہا ہے ،عمرو بن عاص اس صورتحال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھا رہا ؟
کیا آپ کو اس پر کوئی شبہ ہے امیرالمومنین!،،، ایک صحابی نے پوچھا۔
ہاں میرے بھائی!،،،، امیرالمومنین نے جواب دیا۔۔۔ مجھے شبہ ہے کہ عمرو اور اس کے لشکر میں کوئی ایسی ذہنی خرابی پیدا ہو گئی ہے جس نے ان کے دلوں سے شہادت کی تڑپ اور جہاد کی لگن چھین لی ہے، ہوسکتا ہے مصر کی خوبصورتی اور دولت نے انہیں دنیاوی آسائشوں اور عیش پرستی میں الجھادیا ہو،اگر یہ نہیں تو کوئی ایسی وجہ ضرور ہےکہ مصر کی فتح میں اتنی زیادہ دیر لگ رہی ہے،،،،، کیا میں عمرو بن عاص کو پیغام بھیج کر پوچھ نہ لوں کہ اس کی اتنی طویل خاموشی کی وجہ کیا ہے، اور اسکا لشکر کس حال میں ہے؟
سب نے متفقہ طور پر رائے دی کہ ابھی پیغام دے کر قاصد کو روانہ کر دیا جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی وقت پیغام لکھا جو آج تک تاریخ کے دامن میں لفظ با لفظ موجود ہے ،تاریخ نویس ابن الحکم، مقریزی اور بلاذری کے حوالے سے یہ پیغام ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔
"میں حیران ہوں کہ تم دو سالوں سے لڑ رہے ہو اور مصر کی فتح ابھی تک مکمل نہیں ہوئی، میں جانتا ہوں تم مصر کا آخری قلعہ فتح کرنے پہنچے ہوئے ہو، لیکن اتنے عرصے میں تمہاری طرف سےکوئی اطلاع اور کوئی خبر نہیں آئی،مجھے شک ہےکہ تمہارےدل میں وہ پہلا سا جذبہ نہیں رہا، اور اپنے اس دشمن کے ملک کا تم پر یہ اثر ہوا ہے کہ تمہارے دل میں بھی دنیا کی محبت پیدا ہوگئی ہے، اگر ایسا ہے تو اللہ تعالی تمہاری کوئی مدد نہیں کرے گا، میں نے چار بڑے ہی بہادر سالار تمہاری مدد کے لیے بھیجے تھے اور لکھا تھا کہ ان میں سے ہر سالار ایک ہزار مجاہدین کے برابر ہے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی دنیاوی جاہ و جلال میں الجھ گئے ہیں، اور تم بھی الجھے ہوئے ہو ،میرا یہ پیغام پورے لشکر کو سناؤ اور انہیں کہو کہ اپنے جذبے اور حوصلے کو مجروح نہ ہونے دیں، میرے بھیجے ہوئے چاروں سالاروں کو فوج کے آگے رکھو اور اللہ کے نام پر اسکندریہ پر چڑھ دوڑو"۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس پیغام میں جن چار سالاروں کا ذکر کیا ہے انکی شجاعت کےکارناموں کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ یہ تھے زبیر بن العّوام ،عبادہ بن صامت، مقداد بن اسود، اور مسلمہ بن مخلد رضی اللہ تعالی عنہم، یہ سب صحابہ کرام تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں جب کمک دے کر مصر بھیجا تھا تو ساتھ پیغام میں انھوں نے لکھا تھا کہ ان چاروں میں ہر ایک سالار ایک ہزار مجاہدین کے برابر ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان چاروں کی شجاعت اور میدان جنگ میں قیادت کی مہارت کی تعریف کی تھی، لیکن تاریخ لکھنے والے ایک غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے اس غلط فہمی کی تفصیل بھی پہلے بیان ہو چکی ہے، زبیر بن العّوام کی بہادری تو معجزہ نما تھی۔
ہم آج کے دور میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام بنام سپہ سالار عمرو بن عاص پڑھتے ہیں تو ہمارے تصور میں عمرو بن عاص کا یہ رد عمل آتا ہے کہ انہوں نے کہا ہوگا کہ مدینہ میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں یہاں آکر دیکھیں گےہم لوگ کیسی مشکلات میں گرفتار ہیں، اور ہم سے ناممکن کو ممکن بنانے کی توقع رکھی جارہی ہے۔ لیکن عمرو بن عاص نے کسی ایسے ناروا ردعمل کا اظہار نہ کیا، وہ خود محسوس کررہے تھےکہ اسکندریہ پر زیادہ وقت صرف ہو رہا ہے اور حاصل کچھ بھی نہیں ہو رہا ،وہ امیر المومنین کی بےتابی کو اور ان کے شکوک و شبہات کو اچھی طرح سمجھتے تھے، انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ پیغام پڑھا اور پہلا کام یہ کیا کہ امیر المومنین کے نام ایک پیغام لکھوا کر اسی قاصد کو دے کر رخصت کردیا۔ اس پیغام کے الفاظ تاریخ کے صفحات پر نہیں ملتے سوائے اس کے کہ عمرو بن عاص نےامیرالمومنین کو مطمئن کیاکہ لشکرکا جذبہ مجروح ہونےکی بجائے پہلے سے زیادہ پختہ اور غضب ناک ہوگیا ہے، اور ہر مجاہد اسکندریہ کی فتح کے لیے بے تاب ہے۔
تاریخ کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا پیغام عمرو بن عاص کےپاس دن کے پچھلے پہر پہنچا تھا ،عمرو بن عاص نے اسی وقت تمام لشکر کو اکٹھا کیا اور امیرالمومنین کا پیغام بلند آواز میں پڑھ کر سنایا۔ پھر لشکر سے کہا کہ سب وضو کرکے فوراً واپس آئیں۔ مجاہدین گئے وضو کیا اور واپس آ گئے ۔
عمرو بن عاص نے دو رکعت نفل باجماعت پڑھائے اور اس کے بعد فتح کی دعا مانگی گئی، تاریخ میں آیا ہے کہ دعا کے دوران عمرو بن عاص کی آنکھوں سے آنسو بہے جارہے تھے، دعا کے بعد انہوں نے لشکر سے کہا کہ اسکندریہ پر یلغار کی جائے، مجاہدین نے نعروں سے سپہ سالار کے اس عہد اور عزم پر لبیک کہی۔
ابن عبدالحکم اپنے والد عبداللہ بن عبدالحکم سےروایت کرتے ہیں کہ دعا کے بعد لشکر منتشر ہو گیا اور عمرو بن عاص سالاروں کو اپنےخیمے میں لےگئے،بغیر کسی تمہید اور تعارف کے اسکندریہ پر یلغار کا پلان تیار ہونے لگا، یہ واقعی ایک ناممکن مہم تھی جسے ممکن بنانا تھا، عمرو بن عاص اور ان کے سالار جذبات کے زور پر نہیں سوچا کرتے تھے بلکہ حقائق اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر پلان بناتے اور جذبے اور جوش و خروش سے اس پر عمل کرتے تھے، انہوں نے ہر پہلو پر غور کیا تو سوائے دشواری اور ناکامی کے کچھ نظر نہ آیا۔ عمرو بن عاص یوں زمین پر پیٹ کے بل لیٹ گئے جیسے تھک ہار گئےہوں معلوم نہیں انکے اسطرح لیٹ جانے سے سالاروں پر کیا اثر ہوا ہوگا۔
ہوا یوں کے عمرو بن عاص فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور پرجوش لہجے میں بولے میں نے غور کر لیا ہے اور اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے انجام کو وہی سنوارے گا جس نے آغاز کو سنوارا ہے،،،،،،،، ظاہر ہے ان کا اشارہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف تھا۔
ایک سالار عبادہ بن صامت بھی وہیں تھے عمرو بن عاص نے انھیں کہا کہ اسکندریہ پر یلغار کے وقت علم ان کے ہاتھ میں ہوگا ،ایک روایت یہ بھی ہے کہ عمرو بن عاص نے علم مسلمہ بن مخلد کےحوالے کرنےکا فیصلہ کیاتھا،لیکن مسلمہ بن مخلد نے کہا کہ اتنے بڑے اعجاز کے حقدار عبادہ بن صامت ہیں، چنانچہ عمرو بن عاص نے علم عبادہ بن صامت کے حوالے کیا۔
یہ واضح رہے کہ میدان جنگ میں علم برادر کو اپنی جان پر کھیل کر علم بلند رکھنا پڑتا تھا۔ دشمن علم کو گرانے کے لئے حملے پر حملے کرتا تھا علم کو بلند اور لہراتا رکھنے کے لئے کئی مجاہدین شہید ہو جایا کرتے تھے۔
اسکندریہ پر حملے کا پلان بن گیا جس کے لیے مجاہدین پہلے ہی تیار تھے، لیکن حملہ کچھ دنوں بعد کرنا تھا۔
تین مؤرخوں نے لکھا ہے کہ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ حملہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کےبعد کیاجائےکیونکہ اس وقت اللہ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے اور یہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا ہوتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ حملے سے پہلے اللہ کے حضور گڑگڑا کر فتح کے لیے دعا کی جائے، حملے میں تاخیر کی غالباً یہی وجہ تھی جمعۃ المبارک کو ابھی چار پانچ دن باقی تھے۔
ان چار پانچ دنوں میں ایک اور واقعہ ہوگیا، مجاہدین حملے کے لیے تیار بھی تھے اور بے تاب بھی لیکن ابھی ان کے لئے فراغت تھی، ایک روز تین آدمی جو غالبا مصری تھے چھوٹے چھوٹے قالین اٹھائے خیمہ گاہ کے قریب آ کھڑے ہوئے انہوں نےدو تین قالین کھول کر زمین پر بچھا دیےیہ مصلے کےسائز کے قالین تھے، قریبی خیموں سے چند مجاہدین باہر نکلے تو ان آدمیوں کے پاس جاکر قالین دیکھنے لگے، ایک مجاہد نے کہا کہ وہ یہاں کیوں آگئے ہیں یہاں ان قالینوں کا کوئی خریدار نہیں۔
ہم یہ قالین بیچنے نہیں آئے۔۔۔ ایک آدمی نے کہا۔۔۔ ہم دو تین قالین آپ کے سپہ سالار کو تحفے کےطور پر پیش کرنا چاہتے ہیں، ان پر وہ نماز پڑھا کریں گے۔
پہلی بات یہ ہے دوستوں ۔۔۔۔مجاہد نے کہا۔۔۔ ہمارے سپہ سالار تمہیں ملیں گےہی نہیں اور اگر مل گئےتو یہ تحفہ قبول نہیں کریں گے، ہمارے یہاں تحفہ لینے کا رواج ہی نہیں۔
ہمیں ان تک پہنچا تو دو۔۔۔۔ ایک آدمی نے کہا۔۔۔ ہم مسلمانوں کے کردار سے اور جو سلوک آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ روا رکھا ہے اس سے اتنے متاثر ہوئے ہیں کہ ہم اظہار تشکر کے لیے اپنے بنائے ہوئے یہ قالین انہیں بطور تحفہ پیش کرنے آئے ہیں۔
مجاہدین نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ سپہ سالار اتفاق سے کہیں مل جائیں تو ان سے ملاقات ہو سکتی ہے لیکن وہ تحفہ قبول نہیں کریں گے، ایک مجاہد نے کہا کہ ہم زمین پر نماز پڑھا کرتے ہیں ہمارے سالار بھی ہمارے ساتھ زمین پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور زمین پر ہی سجدے کیا کرتے ہیں۔
یہ تو ہم نے دیکھا ہے۔ قالین والے ایک آدمی نے کہا۔۔ آپ لوگ جس زمین پر سجدہ کرتے ہیں وہ زمین اللہ کی طرف سے آپ کے نام لکھ دی جاتی ہے،اور وہ زمین آپ کے قدم چومتی ہے ۔
مجاہدین وہاں سے ہٹنے لگے ابھی دو تین مجاہدین وہیں تھے ایک طرف سے مجاہدین کی تین چار خواتین آ رہی تھیں ان میں شارینا بھی تھی اور کرسٹی بھی،قالین اتنی خوبصورت تھی کہ لڑکیاں زمین پر بچھے ہوئے قالینوں کو ہاتھ لگا کر دیکھنے لگیں، خریدنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا نہ انہیں ایسے خوبصورت اور قیمتی قالینوں کی ضرورت تھی، قالینوں والے تین آدمی بھی زمین پر بیٹھ گئے، کرسٹی نےقالینوں سے نظریں ہٹاکر ان تینوں آدمیوں کیطرف دیکھا، ان تینوں میں میں ایک ہی تھا جو مجاہدین کے ساتھ باتیں کرتا رہا تھا وہی بولتا تھا اور باقی دو چپ چاپ بیٹھے یا کھڑے رہے، ان جواں سال آدمی نے کرسٹی کو دیکھا تو اس کے ماتھے پر شکن آ گئے، اور اس نے آنکھیں ذرا سی سکیڑیں جیسے کرسٹی کو غور سے دیکھ رہا ہو،
یہی تاثر کرسٹی کے چہرے پر بھی آگیا وہ بھی جیسے اس شخص کو پہچاننےکی کوشش کررہی تھی، جلدی ہی دونوں کے چہرے کا یہ تاثر حیرت میں بدل گیا جیسے انہوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا ہو ،عورتیں ان تینوں سے قالینوں کے متعلق کچھ پوچھ رہی تھیں، کرسٹی بیٹھی بیٹھی پاؤں پر سرکی اور نہایت آہستہ آہستہ اس شخص کے قریب چلی گئی۔
ان دونوں کے درمیان سرگوشیوں میں کوئی مختصر سی بات ہوئی اور کرسٹی اٹھ کھڑی ہوئی اور خواتین کے پاس آگئی ،ان تینوں آدمیوں نے قالین لپیٹنے شروع کر دیے اور مجاہدین کی یہ خواتین اور کرسٹی وہاں سے چل دیں ، کرسٹی نےشارینا کو اشارے سے الگ کیا اور اسے سرگوشیوں میں کچھ کہا شارینا یوں سر ہلاتی رہی جیسے کرسٹی کی بات سمجھ گئی ہو اور اسے یہ بات اچھی لگی ہو،یہ خواتین اپنے خیموں کیطرف چلیں گئیں، اور قالینوں والے قالین اٹھا کر مایوسی کے عالم میں وہاں سے رخصت ہوگئے۔
گھنٹےڈیڑھ بعد کرسٹی قالینوں والےاس آدمی کےپاس کھڑی تھی جو سب سے زیادہ بولتا اور اس کی باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ عقل و دانش والا آدمی ہے اور جہاندیدہ بھی ہے، وہ دونوں ایسی جگہ کھڑے تھے جہاں انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا، کرسٹی چھپ چھپا کر وہاں تک پہنچی تھی یہ وہی علاقہ تھا جو پہلےبیان ہوچکا ہے،وہاں ہری بھری ٹیکریاں تھیں اور درختوں کے جھنڈ اتنے گھنے تھے کہ وہاں قریب سے بھی کوئی کسی کو دیکھ نہیں سکتا تھا، اسی جگہ بارہ مجاہدین کو رومیوں نے اس طرح گھات لگا کر شہید کردیا تھا کہ نہ ان رومیوں کے آنے کا پتہ چلا نہ یہاں سے جانے کا۔
کرسٹی اکیلی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی تھی مجاہدین کی کوئی اور خاتون ہوتی تو کوئی اور بات تھی، کرسٹی کی حیثیت ایک قیدی کی سی تھی یہ الگ بات ہے کہ ان پر قیدیوں جیسی پابندی نہیں تھی پھر بھی عورتوں کو بتادیا گیا تھا کہ اسے اپنی نگرانی میں رکھیں۔ کرسٹی کے لئے اس خطرناک علاقے تک جانا صرف اس لیے ممکن ہوا تھا کہ اس نے شارینا کو ایک خاص بات بتا کر اعتماد میں لیا تھا اور شارینا نے یہ بات اپنے خاوند حدید کو بتا دی تھی ،کرسٹی کو معلوم نہیں تھا کہ حدید چھپ چھپ کر اس کے پیچھے گیا تھا اور جب وہ اس آدمی کے پاس پہنچی تو حدید کچھ دور اوٹ میں زمین پر پیٹ کے بل لیٹا انہیں دیکھ رہا تھا، کرسٹی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔
کرسٹی نے قالین دیکھتے دیکھتے جب اس آدمی کو دیکھا تو اسے پہچان لیا تھا ،وہاں سے ہٹ کر کرسٹی نے شارینا کو الگ کرکےیہ بتایا تھا کہ وہ اس شخص کو جانتی ہے،کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہی ہے اس کے کہنے کے مطابق یہ شخص ان پیشہ ور قاتلوں میں سے تھا جو دشمن کی بڑی شخصیتوں کو قتل کرنے کی خصوصی مہارت رکھتے تھے۔
کرسٹی نے شارینا کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ اس گاؤں میں یہ مشن پورا کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی کہ مسلمانوں کے سپہ سالار کو قتل کرنا ہے، اس سے پہلے اسے کسی اور مقام پر بھیجا گیا تھا اور یہ شخص اس کے ساتھ تھا لیکن وہاں مسلمانوں کے سپہ سالار تک پہنچنے کا موقع نہ مل سکا اور مجاہدین کا لشکر وہاں سے آگے کوچ کرگیا ،اسکے بعد کرسٹی اس شخص سے الگ کردی گئی تھی اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس آدمی کو کہاں بھیج دیا گیا ہے۔
کرسٹی کو اس گاؤں میں منتقل کردیا گیا تھا جہاں مصری بدو اسطافت ایک سالار کو قتل کرنے لگا تھا مگر خود مارا گیا۔
یہ سارا راز شارینا کو دے کر کرسٹی نے کہا تھا کہ وہ اس شخص سے ملے گی اور معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ وہ یہاں تک کیا عزم لے کر آیا ہے، یا اسے کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔
شارینا نے حدید کو بتایا اور حدید نے یہ انتظام کیا تھا کہ کرسٹی اس آدمی سے ملے۔
کرسٹی نے قالین دیکھتے دیکھتے اس آدمی سے سرگوشی میں جو بات کی تھی وہ اسی ملاقات کا وقت اور جگہ کا تعین کیا تھا، اس کے مطابق وہ وہاں پہنچ گیا تھا، کرسٹی نےاس آدمی کا نام اختمون بتایاتھا،اس قسم کےنام فرعونوں کے خاندان کے افراد کے ہوا کرتے تھے ،یہ شخص مصری تھا اور اس کا مذہب عیسائیت تھا۔
تم ان دشمنوں کے پاس کیسے پہنچ گئی ہو؟،،،،، اختمون نے کرسٹی سے پوچھا ۔
پکڑی گئی تھی۔ کرسٹی نے جواب دیا۔ سیموسن بھی میرے ساتھ ہے، ہم ان کے قیدی ہیں لیکن ہمیں کچھ آزادی حاصل ہے اس لیے تم تک پہنچ گئی ہوں ،سیموسن وہی آدمی تھا جسے کرسٹی اپنا باپ ظاہر کرتی تھی۔ لیکن وہ اس کا باپ نہیں تھا ۔
اختمون نے اس سے پوچھا کہ وہ پکڑے کس طرح گئے تھے؟
کرسٹی نے اسے پوری تفصیل سے بتایاکہ اسے اس گاؤں میں مسلمانوں کے سپہ سالار کو قتل کرنےیا کروانے کےلئے بھیجا گیاتھا،ایک مصری بدو مسلمانوں کےلشکر کے لیے رسد اکٹھی کرتا پھرتا تھا اس کے جال میں ایسا آیا کہ وہ کسی نہ کسی سالار کو قتل کرنے کے لیے تیار ہو گیا، لیکن عین اس وقت جب وہ سالار اس کے تیر کے نشان میں تھا وہ پکڑا گیا ،اور اس کے بعد کرسٹی بھی اور سیموسن بھی پکڑے گئے ۔
یہاں کیسی گزر رہی ہے ؟،،،،،اختمون نے پوچھا۔
یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔۔ کرسٹی نے جھوٹ بولا۔۔ مجھ جیسی لڑکی کسی کےہاتھ چڑھ جائےتو کیا بغیرپوچھے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ اس کی کیسی گزر رہی ہے، میری ہر رات کسی نہ کسی سالار کے خیمے میں گزرتی ہے ،کچھ راتیں سپہ سالار کے خیمے میں گزاری ہے لیکن وہ بڑا محتاط آدمی ہےکچھ دیر بعد خیمےسے نکال دیتا اور اپنے پاس نہیں رکھتا تھا، میرے ارادوں میں ذرا سی بھی تبدیلی نہیں آئی میں ان کے سپہ سالار کے قتل کے لئے بے تاب اور بے قرار ہوں لیکن موقع نہیں ملتا، میں نے ان سب پر اپنا اعتماد جما رکھا ہے پھر بھی کسی سالار کے خیمے میں مجھے بلایا جاتا ہے تو پہلے میری جامہ تلاشی ہوتی ہے کہ میرے ے پاس کوئی ہتھیار تو نہیں یہ کام صرف تم کر سکتے ہو۔
لیکن اصل مسئلہ کون حل کرے گا ۔۔۔اختمون نے پوچھا ۔۔۔مجھے سپہ سالار کےخیمے تک کون پہنچائے گا ،میں نے دیکھ لیا ہے کہ باہر اسے قتل کرنا ناممکن ہے میں نے اسے دور سے دیکھا ہے وہ جہاں بھی جاتا ہے محافظ گھوڑ سواروں کے حصار میں ہوتا ہے، آخر یہ طریقہ آزمایا کہ قالینوں کا تحفہ پیش کیا جائے شاید اس طرح اس کے خیمے میں داخلے کا موقع نکل آئے لیکن یہ موقع بھی ممکن نظر نہیں آتا ،ان لوگوں نے بتایا ہے کہ سپہ سالار کوئی تحفہ قبول نہیں کرتا اور اس کے خیمے میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں۔
اگر تمہیں اس کےخیمے تک پہنچادوں تو اسے کس طرح قتل کرو گے؟،،،، کرسٹی نے پوچھا۔۔۔۔ اور اسے خبردار کیا قتل تو کر لو گے لیکن وہیں پکڑے جاؤ گے اور مارے جاؤ گے۔
زیادہ امکان تو یہی ہے۔۔ اختمون نے کہا۔۔ لیکن میں بچ نکلنے کی صورت بھی پیدا کرسکتا ہوں، ہم دو آدمی قالین لے کر اس کے خیمے میں جائیں گے اور قالین زمین پر بچھا دیں گے ،وہ دیکھنے کو جھکے گا یا نہ بھی جھکے تو پیچھے سے خنجروں کے وار کرکے نکل جائیں گے اور جب تک باہر والوں کو پتہ چلتا ہے کہ ان کا سپہ سالار خیمے میں قتل ہو گیا ہے ہم اس خیمے سے دور نکل چکے ہونگے، اور آگے علاقہ ایسا ہے جہاں ہم یوں غائب ہو جائیں گے جیسے زمین نے ہمیں نگل لیا ہو ،اگر پکڑے گئے تو ہم دونوں آدمی مرنے کے لئے تیار ہیں، ہمیں اتنا زیادہ معاوضہ دیا گیا ہے جسے تم ایک خزانہ کہہ سکتی ہو، یہ ہماری آئندہ دو تین نسلوں کے لئے کافی ہوگا۔ یہ نہ بھی ہوا تو تم جانتی ہو کہ ہم مذہب کے جنونی ہیں اسلام کا راستہ اپنی جان قربان کرکے روکنا ہے،،،،،، کہو ہماری کچھ مدد کر سکتی ہو؟
کرسکتی ہوں۔۔۔۔ کرسٹی نے کہا ۔۔۔ کل صبح جب سورج افق سے اوپر اٹھ رہا ہو گا تم یہیں آ جانا میں تمہیں بتاؤں گی کہ راستہ صاف ہوا ہے یا نہیں،،،،،،،، یہ سوچ لو کہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں گی۔
ہمیں خیمے کے اندر تمہاری ضرورت بھی نہیں ہوگی۔۔۔ اختمون نے کہا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس راز کو اپنی ذات میں ہی دفن کر دو گی۔ جب سورج افق سےاوپر اٹھ رہاتھا کرسٹی اور اختمون اسی جگہ کھڑے تھے جہاں ان کی گزشتہ روز ملاقات ہوئی تھی، اس صبح کی ملاقات بہت ہی مختصر تھی، کرسٹی نے اختمون کو بتایا کہ آج وہ زیادہ دیر رک نہیں سکے گی اور صرف یہ بتانے آئی ہے کہ آج جب مسلمانوں کا لشکر ظہر کی نماز پڑھ چکے گا تو اختموں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ اسی جگہ پہنچ جائے جہاں وہ قالین لے کر آئے تھے، کرسٹی نے کہا کہ ان کے پاس قالین ہونے چاہیے وہاں انہیں ایک آدمی ملے گا جو انہیں اپنے ساتھ سپہ سالار کے خیمے تک پہنچا دے گا۔
یہ انتظام تم نے کیسے کیا ہے؟،،،،، اختمون نے پوچھا ۔
مجھ جیسی لڑکی کیا نہیں کرسکتی۔۔۔ کرسٹی نے کہا ۔۔۔میں نے رات سپہ سالار کے خیمے میں گزاری ہے اور اسے بتایا کہ وہ مصر کے قالین کم از کم دیکھ ہی لیں وہ مان تو نہیں رہا تھا لیکن میں نے منوا لیا اور اس نے اپنے ایک محافظ کو کہہ دیا کہ قالین والے آئیں تو انھیں اس کے خیمے میں پہنچا دیا جائے۔
اسی روز ظہر کی نماز حسب معمول پورےلشکر نے باجماعت عمرو بن عاص کی امامت میں پڑھی اور نماز سے فارغ ہوکر عمرو بن عاص اپنے خیمے میں چلے گئے، انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ تین آدمیوں نے قالین زمین پر رکھے کھڑے تھے ،عمرو بن عاص نے ان کی طرف توجہ نہ دی صرف انہیں دیکھا۔
خیمے میں پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ایک محافظ خیمے میں داخل ہوا اور بتایا کہ قالینوں والے تینوں آدمی آگئے ہیں، عمرو بن عاص نے کہا کہ انہیں اندر بھیج دیا جائے، محافظ باہر نکلا اور دو آدمی مصلے کےسائز جتنےدوچار قالین اٹھائے خیمے میں داخل ہوئے، عمرو بن عاص نے کہا کہ کھول کر دکھائیں۔
یہ آدمی قالین کھول کر زمین پر بچھانے لگے، ان کا تیسرا ساتھی خیمے کےباہر پہرے پر کھڑے محافظ کے پاس رکا رہا اور اسکے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا، وہ اس محافظ کی توجہ خیمے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، خیمے کے اندر دونوں نے قالین کھول دیے اور سپہ سالار عمرو بن عاص کھڑے ہوکر قالینوں کے اردگرد آہستہ آہستہ ٹہلنے لگے۔
ذرا جھک کر یا بیٹھ کر ان قالینوں کو قریب سے دیکھیں۔۔۔ اختمون نے کہا ۔۔۔ہم یہ قالین بیچنے نہیں آئے، آپکی خدمت میں تحفہ پیش کرنے آئے ہیں، ہمارے پاس کوئی خزانہ نہیں جو آپ کو پیش کریں یہی ہمارا ہنر ہے اور یہی لے آئے ہیں، ان رومیوں نے ہم پر فرعونوں کی طرح حکومت کی ہے، آپ تو ہمارے لئے رحمت کے فرشتے بن کر آئے ہیں۔
عمرو بن عاص ایک قالین پر جھک گئے جیسے اسے بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں ۔
اختمون آہستہ آہستہ ان کے عقب میں آگیا ،اس کا دایاں ہاتھ کپڑوں کے اندر چلاگیا یہ ہاتھ باہر آیا تو اس ہاتھ میں خنجر تھا ،عمرو بن عاص کی اس کی طرف پیٹھ تھی۔
خنجر اوپر اٹھا اور بیشتر اس کے کہ یہ عمرو بن عاص کی پیٹھ میں اترتا عمرو بن عاص حیران کن تیزی سے جھکے جھکے پیچھے کو مڑے سیدھے ہوئے اور جھپٹ کر اختمون کے اوپر اٹھے ہوئے بازو کی کلائی پکڑ لی اور اس قدر زور سے مروڑی کے اس کے ہاتھ سے خنجر نیچے گر پڑا اور اختمون اتنا طاقتور جوان ہونے کے باوجود اس طرح بل کھا گیا کہ اس کی پیٹھ عمرو بن عاص کی طرف ہو گئی۔
جاری ہے....
.jpeg)
Comments
Post a Comment