Posts

Showing posts from June, 2022

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر56

Image
صبح طلوع ہوئی تو دو ملازم آئےانہوں نے اسطافت کے غسل کا انتظام کیا ،اور دونوں اس وقت تک حاضری میں کھڑے رہے جب اسطافت غسل کرکے اور کپڑے پہن کر تیار ہوگیا، پھر اس کےلیے بڑا ہی پرتکلف اور مرغن ناشتہ آیا۔ وہ ناشتے سے فارغ ہوا ہی تھا کہ بوڑھا پادری میزبان بزرگ کے ساتھ آگیا، انہوں نے اسطافت کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جیسے وہ کوئی بہت ہی اونچی شخصیت ہو۔ خوشامدانہ لہجےاور انداز میں اس سے پوچھا کہ رات کیسی گزری اور اسے تکلیف یا بےآرامی تو نہیں ہوئی۔ اسطافت پر ابھی تک کرسٹی کے حسن اور اس کی دوشیزگی کا خمار طاری تھا، دونوں بوڑھوں نے باتوں باتوں میں وہی بات چھیڑ دی جو گزشتہ رات انہوں نے اسطافت کے ساتھ کی تھی، وہ اسی پر زور دے رہے تھے کہ اب مصر میں عیسائیت کا راج ہوگا ۔ اسطافت کی جذباتی اور ذہنی حالت ایسی ہوگئی تھی جیسے اسے دنیا سے کوئی دلچسپی ہی نہیں رہی تھی، گزشتہ رات کرسٹی نے اس کے ساتھ یہی باتیں کی تھیں ،جو اس کےذہن میں گونج رہی تھی اور وہ اپنے وجود میں انتقام کی تپش محسوس کر رہا تھا۔ میں نے کچھ فیصلے اور کچھ ارادے کر لئے ہیں ۔۔۔اسطافت نے پر عزم لہجے میں کہا۔۔۔ میں یسوع مسیح کے مقدس نام پر مسل...

_سیرت_النبیﷺ

Image
 💕🌹#_سیرت_النبیﷺ🌹💕 💞حضرت محمدﷺکے نکاحِ مبارک 💞 🚩#پہلا_نکاح: ❤حضرت خدیجہؓ سے کیاآپؓ بیوہ تھیں اور عمر میں بھی آپﷺ سے بڑی تھیں بوقتِ نکاح آپؓ کی عمر چالیس40 سال جبکہ آپﷺ کی عمرِ مبارک پچیس سال تھی۔  🚩#دوسرا_نکاح:  💚حضرت سوداؓ سے کیا ۔ آپؓ بھی بیوہ تھیں اور بوقتِ نکاح آپ ﷺ کی عمرِ مبارک پچاس50 سال تھی ۔  🚩#تیسرا_نکاح: ❤حضرت عاٸشہ صدیقہؓ سے کیا آپؓ کنواری تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک تریپن 53 سال تھی ۔ 🚩#چوتھا_نکاح:  💜حضرت حفصہؓ سے فرمایا۔ آپؓ بیوہ تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک چھپن 56 سال تھی ۔  🚩#پانچواں_نکاح: 💙حضرت زینبؓ بنتِ خزیمہ سے کیا ۔ آپؓ بیوہ تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک چھپن 56 سال تھی ۔ 🚩#چھٹا_نکاح:  💚حضرت اُمّ سلمہؓ سے کیا۔آپؓ بیوہ تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک چھپن 56 سال تھی ۔  🚩#ساتواں_نکاح : 💜حضرت زینبؓ بنت حجش سے فرمایا۔ آپؓ مطلقہ تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک اٹھاون 58 سال تھی ۔ 🚩#آٹھواں_نکاح : 💛حضرت جویریہؓ سے کیا آپؓ قیدی تھیں اور بوقتِ نکاح آپﷺ کی عمرِ مبارک اٹھاون 58 ...

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر54

Image
  مبصرین لکھتےہیں کہ عمرو بن عاص مصر کی فتح کے لیے دیوانگی کی حد تک پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو راضی کیا تھا کہ انھیں مصر پر فوج کشی کی اجازت دیں۔ امیرالمومنین نےاجازت تو دےدی تھی لیکن کئی ایک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس کے خلاف تھے جس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے، وہ بزرگ صحابی تھے جن کی کوئی بات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ٹالتے نہیں تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نےیہ دلیل پیش کی تھی کہ عمرو بن عاص،خالد بن ولید سے زیادہ خطرہ مول لینے والے سپہ سالار ہیں اور یہ کسی بھی وقت پورے لشکر کو یقینی ہلاکت میں ڈال دیں گے اور انہیں بروقت کمک نہیں پہنچائی جا سکے گی۔ امیر المومنین نے اس دلیل کو صحیح جانتے ہوئے بھی عمرو بن عاص کو مصر پر فوج کشی کی اجازت دے دی تھی، حقیقت یہ تھی کہ امیرالمومنین اجازت دے کر بھی سوچ میں پڑگئے تھےکہ ان کا یہ فیصلہ صحیح ہے یا نہیں اور جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے امیرالمومنین نے ایک قاصد عمرو بن عاص کے پیچھے اس پیغام کے ساتھ دوڑا دیا تھا کہ اگر وہ مصر کی سرحد میں داخل نہیں ہوئے تو...

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر53

Image
  شہر کی اس ابتر کیفیت میں جب لوگوں نے سنا کہ قیرس بزنطیہ سےبہت بڑی کمک لایا ہےتو لوگ اس کےاستقبال کے لئے یا اپنے حوصلوں میں جان ڈالنے کے لیے بندرگاہ کی طرف اٹھ دوڑے وہ قیرس کو نجات دہندہ فرشتہ سمجھنے لگے تھے جو آسمانوں سے اترا تھا ۔ لوگ اس سے پہلے بھی کچھ خوفزدہ ہی تھےکیونکہ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ بزنطیہ سےکوئی کمک نہیں آئےگی،اگر مصر کےاور خصوصاً اسکندریہ کے حالات نارمل ہوتے تو قیرس کا استقبال ایسا پرجوش نہ ہوتا صرف وہی لوگ اس کا استقبال کرتے جنہوں نے ہرقل کی عیسائیت قبول کر لی تھی اور قیرس کو اسقف اعظم مانتے تھے۔ قبطی عیسائی تو قیرس کو اپنا دشمن سمجھتےتھے اور کئی ایک قبطیوں کے دلوں میں قیرس کے خلاف انتقام کا جذبہ پایا جاتا تھا ۔ پہلے یہ بیان ہوچکا ہے کہ قیرس نے کس طرح قبطیوں کا قتل عام کیا اور کیسے زور و ستم سے ہرقل کی عیسائیت منوانے کے جتن کئےتھے۔ لیکن قبطی عیسائی بھی اس خیال سے قیرس کےاستقبال کو چلےگئے کہ ان کی دشمنی قیرس کے ساتھ ہے، مصر اور عیسائیت کے ساتھ نہیں، وہ ایسی صورتحال کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتے تھے کہ مصر سے عیسائیت کی بادشاہی ختم ہوجائے اور اسلام کی حکمرا...

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر51

Image
  مرتینا کا بیٹا ہرقلیوناس وہاں موجود تھا اس نے دیکھا کہ کونستانس اس کی ماں پر اتنا سنگین الزام لگا رہا ہے تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور تلوار نکال لی۔ میری ماں پر یہ الزام۔۔ ہرقلیوناس نے للکار کر کہا۔۔ ادھر میرا سامنا کر میں تجھے اس الزام کا جواب دیتا ہوں۔ کونستانس تو پہلے ہی قہر و غضب کے غلبے میں آیا ہوا تھا اس نے بھی تلوار نکال لی اور ہر قلیوناس کو مقابلے کے لیے للکارا۔ قیرس اور ایک اور معمر رومی دوڑ کر ان دونوں کے درمیان آگئے وہ نہ آتے تو دونوں شہزادے ایک دوسرے کو لہو لہان کر دیتے ۔ ٹھہرو!،،، مرتینا نے بڑی با آواز میں کہا۔۔۔ میرا حکم مانو میں ملکہ روم ہوں، تلواریں نیاموں میں ڈال لو۔ تم ملکہ نہیں ہو۔ کونستانس نے کہا۔۔ کوئی ایسا شاہی فرمان جاری نہیں ہوا، تخت کی وراثت کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔ حکم میرا بھی چل سکتا ہے۔ وہاں جتنے بھی لوگ موجود تھے وہ سب اونچے درجے کی شخصیات تھیں۔ سب ذمہ دار لوگ تھے۔ اور صورتحال کی نزاکت اور خطرات کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ سبھی اٹھ کھڑے ہوئے اور دونوں شہزادوں کو الگ الگ کیا وہاں تو ایک ہنگامہ برپا ہوگیا تھا ۔کونستانس کسی کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا وہ بار بار کہ...