اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر54
مبصرین لکھتےہیں کہ عمرو بن عاص مصر کی فتح کے لیے دیوانگی کی حد تک پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑی مشکل سے امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو راضی کیا تھا کہ انھیں مصر پر فوج کشی کی اجازت دیں۔ امیرالمومنین نےاجازت تو دےدی تھی لیکن کئی ایک صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس کے خلاف تھے جس میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے، وہ بزرگ صحابی تھے جن کی کوئی بات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ٹالتے نہیں تھے۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نےیہ دلیل پیش کی تھی کہ عمرو بن عاص،خالد بن ولید سے زیادہ خطرہ مول لینے والے سپہ سالار ہیں اور یہ کسی بھی وقت پورے لشکر کو یقینی ہلاکت میں ڈال دیں گے اور انہیں بروقت کمک نہیں پہنچائی جا سکے گی۔
امیر المومنین نے اس دلیل کو صحیح جانتے ہوئے بھی
عمرو بن عاص کو مصر پر فوج کشی کی اجازت دے دی تھی، حقیقت یہ تھی کہ امیرالمومنین اجازت دے کر بھی سوچ میں پڑگئے تھےکہ ان کا یہ فیصلہ صحیح ہے یا نہیں اور جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے امیرالمومنین نے ایک قاصد عمرو بن عاص کے پیچھے اس پیغام کے ساتھ دوڑا دیا تھا کہ اگر وہ مصر کی سرحد میں داخل نہیں ہوئے تو واپس آجائیں، لیکن عمرو بن عاص نے ایک استادی کھیلی اور مصر کی سرحد میں داخل ہو کر یہ پیغام کھول کر پڑھا اور پیش قدمی جاری رکھی تھی۔
اب جب وہ آدھے سے زیادہ مصر فتح کرتے ہوئے اسکندریہ کی طرف بڑھ رہے تھے تو ایسےخطرے سامنے آگئے تھےجو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی مخالفت کی تائید کرتے تھے۔ یوں نظر آتا تھا جیسے عمرو بن عاص فتوحات کے نشے سے سرشار اندھا دھند خطروں میں چلے آ رہے ہیں اور اب وہ اپنی شکست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
سپہ سالار عمرو بن عاص کو ایک جاسوس مجاہد نے آگے سے آکر یہ اطلاع دی کہ رومیوں کے جو فوجی بھاگ گئے تھے وہ چھ میل دور سلطیس کے قریب اکٹھے ہوگئے ہیں، اور ان کے ساتھ اس علاقے کا ایک بڑی نفری والا دستہ بھی موجود ہے۔ جاسوس نےبتایا کہ اس نےان فوجیوں کو بڑے غور سے دیکھا ہےاور پھر معلوم بھی کیا کہ یہ رومی مجاہدین کےانتظار میں ہیں اور جم کر لڑنے کا عہد کر چکے ہیں۔
عمرو بن عاص سیدھے چلے جا رہے تھے، اور جس جگہ کی نشاندہی جاسوس مجاہد نے کی تھی وہ کسی اور سمت تھی ،عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں سے مشورہ کئے بغیر اپنے گھوڑے کی باگیں اس طرف موڑ دیں اور بازو اوپر کر کے لشکر کو اشارہ کیا کہ ان کے پیچھے آئے۔
سپہ سالار لڑنے کے ارادے سے اس طرف ہولئے تھے انہوں نے جاسوس سے پوچھ لیا تھا کہ فوجیوں کی نفری کتنی ہے۔ نفری مجاہدین سے تقریبا دوگنی تھی ۔
سلطیس کی طرف رخ کرکےاور کچھ دور جاکر عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں کو بلایا، سالار آئے تو عمرو بن عاص نے روک کر نہیں بلکہ چلتے چلتے انہیں بتایا کہ وہ کدھر جا رہے ہیں اور کیا کرنےکا فیصلہ کرلیا ہے۔انہوں نےسالاروں کو وہ ترتیب بتائی جس میں مجاہدین کے لشکر کو دشمن کے قریب جاکر ہو جانا تھا ۔ سپہ سالار نے تمام ضروری ہدایات دیں اور یہ بھی بتایا کہ دشمن کھلے میدان میں لڑے گا اور دور دور تک کوئی قلعہ نہیں جس میں جاکر دشمن پناہ لے گا اور ہمیں للکارے گا۔
لشکر کے نامور سالار زبیر بن العوام نے عمرو بن عاص سے پوچھا کہ وہاں کی زمین کے خدوخال کیسے ہیں ،یہ علاقہ عمرو بن عاص نے پہلے نہیں دیکھا تھا وہ اتنا ہی جانتے تھے کہ یہ نیل کا ڈیلٹا علاقہ ہےاور نیل کی شاخوں میں بٹ جاتا ہے۔
عمرو بن عاص نےسالار زبیر بن العوام کو بتایا کہ آگےدلدل بھی ہوسکتی ہے،جنگل بھی ہوسکتا ہے، اور کھلا میدان بھی ہو سکتا ہے، لیکن سالار زبیر صحیح خدوخال معلوم کرنا چاہتے تھے انھوں نے اس جاسوس مجاہد کو اپنے پاس بلایا جو یہ خبر لایا تھا اور اب لشکر کے ساتھ جا رہا تھا۔
زبیر بن العوام نے اس جاسوس مجاہد سے پوچھا کہ رومی فوج جہاں لڑنے کے لیے تیار کھڑی ہے اس کے اردگرد کا علاقہ کیسا ہے۔ جاسوس مجاہد نے انھیں بڑی اچھی طرح سمجھا دیا اس نے یہ بھی بتایا کہ ایک طرف زمین نیچے چلی جاتی ہے جہاں کچھ دلدل سی ہے ،اور کچھ درخت بھی ہیں ،اور نیچے جا کر زمین خاصی پھیل جاتی ہے۔ سالار زبیر نے سپہ سالار کو بتایا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ سپہ سالار نے انہیں اجازت دے دی اور پیش قدمی جاری رکھی بلکہ رفتار اور تیز کردی چھے میل کا فاصلہ گھوڑوں نے اور پیادوں نے بڑی جلدی طے کر لیا اور انہیں رومی فوج نظر آنے لگی۔ رومی فوج کو اس کے جاسوس نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مسلمان آرہے ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے۔ سپہ سالار عمرو بن عاص نے جب رومی فوج کو دور سے دیکھا تو انھیں اندازہ ہو گیا کہ اس فوج کی نفری ان کے لشکر سے دگنی ہے اور یہ رومی فوج تمام کی تمام گھوڑ سوار ہے۔
عمرو بن عاص نے اپنا گھوڑا راستے سے الگ کیا اور رک گئے، لشکر ان کے سامنے سے گزرتا جا رہا تھا عمرو بن عاص دایاں بازو اوپر کئے ہلا رہے تھے ،اور بلند آواز سے کہ رہے تھے ۔تم اس آزمائش میں سے بھی سرخرو گزر جاؤگے ،،،،،، اللہ نے تمہیں فراموش نہیں کیا،،،،،،، تمہارے جسم تھکے ہوئے ہیں روحیں تروتازہ ہیں،،،،، تم اس آزمائش میں بھی سرخرو گزر جاؤ گے،،،،،، وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد یہی کہتے رہے اور لشکر ان کے سامنے سے گزر گیا تب انہوں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور گھوڑا دوڑاتے لشکر کے آگے چلے گئے۔
رومی فوج پہلے ہی ترتیب میں تیار تھی مجاہدین کے لشکر کو دیکھ کر رومیوں کے کمانڈر نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دستوں کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
وہ دیکھو تمہارا دشمن آ رہا ہے۔۔۔۔ رومی کمانڈر نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا ۔۔۔۔اس دشمن کی تعداد دیکھو ،عرب کے یہ بدوّ تھک کر شل ہو چکے ہیں ،عہد کر لو کہ ان کے ٹکڑے اڑا دو گے ،اپنے آپ کو ان میں شامل نہ کر لینا جو بھاگ نکلے ہیں، اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اپنا نام ایسا اونچا کرو کہ ہمیشہ زندہ رہے۔
رومی کمانڈر نے ایسے ہی کچھ اور جوشیلے الفاظ کہے کہ ان دستوں میں جوش و خروش نظر آنے لگا۔
مجاہدین کا لشکر قریب پہنچا تو سالاروں نےاپنے آپ ہی اپنے اپنے دستےالگ کئے اور لشکر ایک مشین کی طرح چلتے چلتے لڑائی کی ترتیب میں آگیا ،لڑائیوں کے دستور کے مطابق ہوتا یوں تھا کہ دونوں طرف فوجیں ایک دوسرے کے قریب آ کر ایک دوسرے پر حملہ کرتی اور لڑائی لڑی جاتی تھی، لیکن مجاہدین کا لشکر ابھی ترتیب میں آیا ہی تھا اور کچھ دور تھا کہ تمام تر رومی فوج نے گھوڑوں کو ایڑ لگادی، برچھیاں اور تلواریں آگے کر لیں اور شدید ہلہ بول دیا، وہ تو گھوڑوں اور انسانوں کا ایک بڑا ہی تند و تیز طوفان تھا جو لگتا تھا درخت راستے میں آئیں گے تو جڑوں سے اکھڑ جائیں گے ، گھوڑوں کے نیچے زمین ہل رہی تھی زمین و آسمان دم بخود تھے کہ یہ ہلہ مجاہدین کا لشکر برداشت کر سکے گا یا نہیں۔
سپہ سالار عمرو بن عاص نے رومیوں کا یہ ہلہ دیکھا تو اپنے دستوں کو اور زیادہ دائیں بائیں پھیلا دیا ،انہیں ایسی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سپہ سالار کو کوئی نہ کوئی حکم اور ہدایت بھیجتے یہ مسلمانوں کا اپنا طریقہ تھا کہ اتنے بڑے دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے،معرکے کےلئے جو ابھی شروع ہوا تھا سپہ سالار نے راستے میں سالاروں کو بتا دیا تھا کہ کن حالات میں کیا پینترے بدلنے ہیں۔
اب دیکھا کہ رومی فوج بند توڑ کر آنے والے سیلاب کی طرح یا بڑی ہی تیز طوفان کی طرح آرہی ہے تو یوں لگتا تھا جیسے اتنےہزار گھوڑے مجاہدین کے اس چھوٹے سے لشکر کو روندتے چلے جائیں گے۔
تاریخ گواہی دیتی ہے کہ سپہ سالار عمرو بن عاص کےہونٹوں پر تبسم آ گیا انہوں نےاپنے سالاروں کی طرف دیکھ کر جو ان سے دور دور تھے ہاتھ اوپر کرکےکچھ اشارے کیے، پہلو والے دستے اور زیادہ پھیل گئے اور درمیان میں جو دستے تھے وہ رومیوں کے مقابلے کو آگے بڑھے ۔
رومی چیختے چلاتے آرہے تھے مجاہدین کے لشکر سے صرف ایک نعرہ تکبیر بلند ہوا جس کے جواب میں پورے لشکر نے اتنی زور سے اللہ اکبر کہا کہ آسمان بھی لرز گیا ہوگا ۔
وہ قبل از شہادت کا جوش اور ولولہ تھا۔
مجاہدین کے وہ دستے جو دشمن کے مقابلے کو آگے بڑھے تھے وہ دشمن سےٹکرا گئےوہ اتنےتھوڑے تھےکہ اتنے زیادہ رومیوں میں غائب ہی ہو جاتے لیکن ان کا انداز یہ تھا کہ لڑ رہے تھے اور آہستہ آہستہ پیچھے بھی ہٹ رہے تھے، ادھر دائیں اور بائیں پہلو پر جو مجاہدین کےدستے تھے وہ اپنے سالاروں کے حکم کے مطابق اس طرح دائیں بائیں پھیل گئے کہ رومیوں پر آمنے سامنے کی بجائے پہلوؤں سے حملہ کریں۔
عمرو بن عاص نے محفوظہ(ریزور)کے دو دستے پیچھے روکے ہوئے تھے انھیں خاص صورتحال میں آگے بڑھنا تھا مطلب یہ کہ عمرو بن عاص اتنے کثیر دشمن کے مقابلے میں بھی دماغ کو حاضر اور دل کو ٹھنڈا رکھ کر سوچ رہے تھے اور ان کے انداز میں گھبراہٹ کا اشارہ بھی نہیں ملتا تھا۔
مجاہدین رومیوں کےپہلوؤں میں جانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن رومی اس کےمطابق پھیلتے جارہے تھے، ادھر آمنے سامنے والے دستے پیچھے ہٹتے آرہے تھے اور اس کے مطابق رومی بھی یہ سمجھ کر کہ مجاہدین ہلنے کی تاب نہ لاکر پسپا ہو رہے ہیں آگے ہی آگے آتے گئے۔ سپہ سالار کی کوشش یہ تھی کہ رومیوں کی ترتیب کو درہم برہم کر دیں، لیکن رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھیں کہ وہ اپنی تعداد کے زور پر مجاہدین کو کچل اور مسل دینا چاہتے تھے اور انہیں توقع بھی یہی تھی کہ وہ اس چال میں کامیاب ہوجائیں گے آج کی فوجی زبان میں اسے بلڈوز کرنا کہتے ہیں۔
یہ ایک خونریز معرکہ تھا لیکن مجاہدین اپنےآپ کو بچا بھی رہے تھے کیونکہ ان کے سالاروں کو معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ظاہری صورت یہ تھی کہ رومی مجاہدین پر غالب آگئے تھے اور مجاہدین کی کوئی چال کامیاب نہیں ہونے دے رہے تھے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ مجاہدین ان کے پہلوؤں پر آنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بھی دیکھا گیا کہ اس رومی فوج میں دوسری جگہوں سے بھاگے ہوئے فوجی بھی تھے لیکن اس معرکے میں ان کے جوش اور جذبے میں کوئی اور ہی تازگی پیدا ہوگئی تھی وہ واقعی یہ عہد کر چکے تھے کہ مجاہدین اسلام کو اسی میدان میں کاٹ پھینکیں گے۔
صورت ایسی پیدا ہو گئی تھی جو مجاہدین کے لئے انتہائی خطرناک تھی، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ بات صحیح معلوم ہونے لگی تھی کہ عمرو بن عاص کسی بھی وقت پورے لشکر کو ہلاکت میں ڈال دیں گے ،اب نظر یہی آنے لگا تھا کہ عمرو بن عاص نے لشکر کو یقینی ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔ لیکن ان کے چہرے سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ وہ متفکر تو ضرور ہیں لیکن پریشان نہیں، بلکہ ان کے چہرے پر اطمینان کی بھی جھلک تھی ،اور اتنےٹھنڈے مجاز میں رہےکہ انہوں نے محفوظ کے دستوں کو پیچھے ہی رہنے دیا۔ ایسی صورتحال میں اکثر کمانڈر محفوظ دستوں کو بھی لڑائی میں جھونک دیا کرتے ہیں۔
عمرو بن عاص نے گھوڑا دوڑا دیا اور ایک موزوں مقام پر گھوڑا روک کر دائیں بائیں بازو اوپر کیا اور ہاتھ سے کوئی اشارہ دیا جس طرف اشارہ کیا تھا ادھر سے سینکڑوں گھوڑے دوڑنے کا ہنگامہ سنائی دیا، لیکن ادھر معرکے کا ہنگامہ اتنا شدید تھا کہ کسی نے سنا ہی نہیں کہ یہ گھوڑے کس کے ہیں اچانک رومیوں کے عقب سے ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ رومیوں کی پیٹھوں میں تلواریں اور برچھیاں اترنے لگیں اور وہ یہ دیکھے بغیر کے پیچھے کون آگیا ہے گھوڑوں سے گرنے تڑپنے اور مرنے لگے ،گھوڑے انہیں روندنے لگے، رومیوں کے لشکر میں کھلبلی مچ گئی ان کا ہلہ اور اس کی شدت یکلخت کم ہو گئی، اور وہ پیچھے دیکھنے لگے۔
وہ سالار زبیر بن العوام تھےجنہوں نے ڈیڑھ دو ہزار مجاہدین سے رومیوں پر حملہ کیا تھا لشکر جب اس میدان جنگ کی طرف آ رہا تھا تو سالار زبیر نے جاسوس مجاہد سے پوچھا تھا کہ وہاں کی زمین کے خدوخال کیا ہیں، انہیں جب بتایا گیا کہ ایک پہلو پر جا کر زمین نیچے چلی جاتی ہے تو زبیر بن العوام نے سپہ سالار سے اجازت لی تھی کہ ایک چال چلنا چاہتے ہیں۔ ان کی چال یہ تھی کہ میدان جنگ سے دور ہی تھے کہ انہوں نے ڈیڑھ دو ہزار مجاہدین کو ساتھ لیا اور دور کا چکر کاٹ کر اس جگہ جا پہنچے جہاں زمین زیادہ نیچے کو چلی گئی تھی وہاں انہوں نے اپنے مجاہدین کو چھپا لیا تھا اور یہ سارا دستہ گھوڑ سوار تھا۔
زبیر بن العوام کہیں اونچی جگہ کھڑے لڑائی کا منظر دیکھ رہےتھے انہوں نےجب دیکھا کہ رومی مجاہدین پر غالب آگئے ہیں اور کوئی چال چلنے کی مہلت نہیں دے رہے تو انہوں نے اپنے دستے کو حملے کا حکم دیا وہ پہلے پورے دستے کو بتا چکے تھے کہ کیا کرنا ہے، سپہ سالار نے حملے کا اشارہ بھی دے دیا تھا یہ دستہ سالار زبیر کی قیادت میں کچھ دور جاکر اس نیچی جگہ سے باہر نکلا اور رومیوں کے پیچھے جا کر پھیل گیا رومیوں کو لڑائی کے ہنگامے میں پتہ ہی نہ چل سکا۔
یہ خالد بن ولید کی چال تھی جو انہوں نے دو تین مرتبہ لڑائیوں میں چلی اور کثیر تعداد دشمن کو کاٹ پھینکا تھا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عمرو بن عاص خالد بن ولید کی چالیں چلتے اور انہیں اپنا استاد مانتے تھے۔احباب اور ساتھیوں کی محفل میں ان چاروں کی باتیں ہوتیں تو عمرو بن عاص خالد بن ولید اور ابو عبیدہ کے حوالے دیا کرتے تھے۔
جنگی چالوں کے معاملے میں رومی جرنیل بھی کچھ کم نہ تھےاور کہا جاسکتا ہےکہ مسلمانوں کے ہم پلہ تھے،خود ہرقل جنگی چالوں کا ماہر تسلیم کیا جاتا تھا ،اور اس کا جرنیل اطربون تو اس فن میں خصوصی طور پر ماہر تسلیم کیاجاتا تھا۔اسےدوسری قومیں جنگ کی دہشت سمجھتی تھیں لیکن وہی ہرقل شام جیسا وسیع وعریض ملک مجاہدین اسلام کے قدموں میں رکھ کر اس طرح بھاگا اور مصر میں اس کا نامور جرنیل اطربون مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا ۔
وجہ یہ تھی کہ مسلمان اللہ اور قرآن کے حکم سے لڑتے تھے اور ہرقل اپنی ذات کو ہی سب کچھ سمجھتا تھا ۔ مجاہدین اسلام کو اللہ نے ایمان کی قوت عطا فرمائی تھی جس سے رومی مرعوب تھے۔
رومیوں پر عقب سے سالار زبیر بن العوام نے ہلہ بولا تو وہ پیچھے کو متوجہ ہوئے اور کٹنے لگے اور عین اس وقت سپہ سالار عمرو بن عاص نے محفوظہ کے دستوں کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا اب رومی تعداد میں خواہ دگنے بھی تھےنرغے میں آگئے اور ان پر آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ایسا حملہ ہوا کہ وہ سکڑ گئے، اور ان کے لیے کوئی چال چلنا تو دور کی بات ہے ہتھیار چلانا بھی دشوار ہو گیا اس کے ساتھ ہی مجاہدین نے ان پر پہلوؤں سے بھی حملہ کردیا رومی گر گر کر اپنے ہی گھوڑوں کے قدموں تلے روندے جانے لگے، اب وہ بھاگ نکلنے کےراستے دیکھنےلگے ان کے عہد و پیمان ٹوٹ گئے ان کے کمانڈر کا پرچم گر پڑا اور کمانڈر کا کچھ پتا نہ چلا وہ کہاں غائب ہو گیا ہے۔
رومی بھاگتے بھی تو کہاں جاتے دور دور تک کوئی قلعہ نہ تھا جہاں جا کر پناہ لیتے۔
بہرحال وہ اب جان بچانے کے لیے لڑ رہے تھے اور جس رومی کو بھاگ نکلنےکا موقع ملتا وہ فورا بھاگ اٹھتا۔ مجاہدین کی کمزوری یہ تھی کہ ان کی تعداد بہت تھوڑی تھی رومیوں کو مجاہدین کی اس کمزوری نے خاصا فائدہ پہنچایا اور کچھ رومی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔ ان کا رخ کریون کی طرف تھا جو مستحکم قلعہ بند شہر تھا اور یہ شہر وہاں سے خاصا دور تھا۔ کریون میں جنرل تھیوڈور نئے عزم اور تازہ ولولے کے ساتھ اس فوج کی ٹریننگ میں مصروف تھا جو اس نے قلعے میں اکٹھی کر رکھی تھی۔ پہلے بیان ہوچکا ہےکہ اب وہ اپنے آپ کو مختار کل سمجھنے لگا تھا اور اس کے ساتھ جو جرنیل تھےانہوں نےاپنی وفاداریاں پیش کردی تھیں۔اطربون کے بعد جنرل تھیوڈور ہی ایک قابل جرنیل رہ گیا تھا،اور اس کے بعد جنرل جارج تھا۔ تھیوڈور میں اتنی اہلیت اور اتنا تجربہ تھا کہ وہ مختار کل کہلانے کا پورا پورا حق رکھتا تھا۔
اس نےاپنے جرنیلوں سے کہا تھا کہ جو دستہ کریون سے دور دور مسلمانوں کےساتھ راستےمیں مورچہ بند ہیں انہیں وہیں رہنے دیا جائے تا کہ وہ مسلمانوں کے راستے کی رکاوٹ بنے رہیں اور انھیں کمزور کرتے رہیں، ایک روز وہ اپنی فوج کو خود ٹریننگ دے رہا تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ ایک لڑائی سے کچھ رومی سپاہی بھاگ کر آئے ہیں اس نے اسی وقت ان سپاہیوں کو بلایا، پہلے تو اس نے یہ دیکھا کہ ان سپاہیوں کے چہروں پر شکست صاف نظر آ رہی تھی اور وہ ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتے تھے۔ تھیوڈور نے گرج کر انہیں ڈانٹا اور کہا کہ وہ اتنے بزدل نہ بنیں کہ اپنے قلعے میں آکر بھی ان کے منہ سے بات نہیں نکل رہی۔
کاٹ دیا۔۔۔ آخر ایک سپاہی نے لرزتی کانپتی آواز میں کہا۔۔۔ سب کو کاٹ دیا ۔
ٹھیک طرح بولو ۔۔۔تھیوڈور نے غصیلی آواز میں پوچھا ۔۔۔کس نے کس کو کاٹ دیا۔
ان سپاہیوں نے اسے بتایا کہ کہاں لڑائی ہوئی ہے اور کیا ہوا ہے ،اتنے میں جنرل تھیوڈور کو پھر اطلاع ملی کہ کچھ اور سپاہی آئے ہیں جن میں کچھ زخمی بھی ہیں ،اب جنرل تھیوڈور نے یہ ضرورت نہ سمجھی کہ ان سپاہیوں کو بھی اپنے پاس بلاتا اس کے بعد اسے یہی خبر ملتی رہی کہ کچھ اور فوجی آئے ہیں اس طرح شام تک اور رات کو بھی سلطیس کےمعرکے سےبھاگے ہوئےرومی کریون میں آتے رہے۔ اگلی صبح تک کریون کی فوج میں ایسی کھسر پھسر شروع ہو گئی تھی جس میں ڈر اور خوف کی جھلک نمایاں تھی۔ حسب معمول اور حسب عادت بھگوڑے فوجیوں نے مسلمانوں کی بہادری کے قصے مبالغہ آرائی سے سناۓ تاکہ لوگ ان بھگوڑے رومیوں کو بزدل نہ سمجھیں، انکی یہ باتیں لوگوں تک بھی پہنچی اور شہر پر خوف و ہراس طاری ہونے لگا ۔ لوگوں نے پہلے ہی سن رکھا تھا کہ مسلمان اگر خود جنات نہیں تو ان میں جنات والی پراسرار طاقت ضرور موجود ہےاس سےپہلے دوسری جگہوں سے بھاگے ہوئے کچھ لوگ کریون پہنچے تھے اور انہوں نے بھی یہاں کے لوگوں کو ایسی ہی ڈراؤنی باتیں سنائی تھیں۔
جنرل تھیوڈور اور اس کے جرنیلوں کو پتہ چلا کہ فوج اور لوگوں پر یہ کیفیت طاری ہوگئی ہے تو ان کے لیے اچھا خاصا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ فوج اور لوگوں کا جذبہ مضبوط کرنے کی کوشش میں تھے لیکن مسئلہ وہیں رہا جہاں پہلے تھا۔ تھیوڈور اور دوسرے جرنیل بھی جانتے تھے کہ ان کی فوج میں اور لوگوں میں بھی یہی کمزوری پیدا ہو گئی ہے کہ انہوں نے اپنے دلوں پر مسلمانوں کا خوف طاری کر لیا ہے یہ خوف رفع کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔جنرل تھیوڈور ایک ہی بات پر زور دیتا تھا کہ ان مسلمانوں کو ایک بار شکست دی جائے اور ان کی لاشیں اور ان کے قیدی اپنے لوگوں کو دکھائے جائیں اور کہا جائے کہ یہ دیکھو ان مسلمانوں کو جن سے تم بلاوجہ ڈرتے رہے ہو۔
ہرقل نے بھی ایسی بہت باتیں سوچی تھیں اور ان پر عمل بھی کیا تھا لیکن کچھ اثر نہیں ہوا تھا ۔اب جرنیل بھی وہی ترکیبیں لڑا رہے تھے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ مسلمان اللہ کے حکم سے لڑتے ہیں اور اللہ نے اپنا فرمان قرآن میں ان الفاظ میں وحی کےذریعے ان مومنین تک پہنچایا ہے کہ جب مسلمانوں کو لوگوں نے بتایا کہ کفار نے تمہارے مقابلے میں بہت بڑا لشکر اکٹھا کرلیا ہے اس لیے ان سے ڈرو ،تو ہوا یہ کہ مسلمان ڈرنے کی بجائے اپنے ایمان پر اور زیادہ قائم ہو گئے اور ان کا ایمان مستحکم ہوگیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین سازگار ہے۔
سورہ آل عمران کی اس آیت میں اللہ نے اہل ایمان کو یہ مژدہ سنایا ہے کہ ،کفار تمہارے خلاف کتنا ہی بڑا لشکر اکٹھا کر لیں اگر تم اپنے ایمان پر قائم رہے تو تم اپنے آپ میں قلیل تعداد ہونے کے باوجود کوئی کمزوری نہیں پاؤ گے، اور اللہ تمہارا مددگار اور سازگار ہو گا ، یہ تھی وہ قوت جسے رومی نہیں سمجھ رہے تھے مختصر بات یہ کہ کفار کو شمشیر پر بھروسہ تھا اور اہل ایمان کو اپنے ایمان پر تکیہ تھا اور وہ شمشیر کو بعد کا درجہ دیتے تھے۔ جنرل تھیوڈور اور اس کے ساتھی جرنیل بہت پریشان تھے کہ اپنی فوج اور لوگوں کے دلوں سے مسلمانوں کا خوف کس طرح نکالا جائے۔ اتنے میں انہیں آسمان سے ایک مدد مل گئی۔ وہ اس طرح کے اسکندریہ سے کچھ دستے کمک لے کر آگئے یہ قیرس نےبھیجے تھے۔ یہ بزنطیہ سے آئےہوئے تازہ دم دستے تھے اور ابھی یہ مجاہدین اسلام کے مقابلے میں نہیں آئے تھے۔
اس کمک کے ساتھ چند ایک مبلغ بھی تھے جنہیں قیرس بزنطیہ سے ساتھ لایا تھا۔
معلوم ہوا کہ ایسے کئی ایک مبلغ اردگرد کی بستیوں میں پھیلادیے گئےہیں جو لوگوں کو مذہب کیطرف اور مسلمانوں کو شکست دینے کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ کریون میں جو مبلغ آئے انہوں نے آتے ہی لوگوں سے ملنا شروع کردیا، تھیوڈور نےانہیں بتادیاتھاکہ ان لوگوں پر مسلمانوں کا خوف غالب آگیا ہے یہ خوف رفع کرنا ہے۔
یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ مجاہدین کا لشکر اس لڑائی کے فوراً بعد وہاں سے چل پڑتا، اپنے شہیدوں کی تجہیز و تکفین کرنی تھی اور زخمیوں کی مرہم پٹی بھی لازمی تھی، اور انہیں کچھ دنوں کی مہلت دینی تھی کہ ان کے زخم بہتر ہو جائیں لشکر کو کچھ آرام بھی دینا تھا رومیوں کے گھوڑے اور انکے ہتھیار بھی اکٹھے کرنے تھے، اور ایسے بے شمار ہی کام تھے جو کر کے وہاں سے کوچ کرنا تھا۔
مجاہدین کی جو مستورات لشکر کے ساتھ تھیں انھیں دور پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ میدان جنگ کی زد میں نہ آئیں، انہیں آگے بلا لیا گیا تاکہ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی وغیرہ کے سلسلے میں اپنا کام کریں ۔
عمرو بن عاص جلدی میں تھے تاکہ دشمن کو کہیں سنبھلنے اور تیاری کرنے کا موقع نہ مل سکے،پھر بھی کم و بیش ایک مہینہ گزر گیا اور اس ایک مہینے میں کریون میں اور اردگرد کے دور دور تک کے علاقے میں ایک تبدیلی رونما ہوگئی جو مجاہدین کے لیے اچھی نہیں تھی۔
یہ تبدیلی وہ مبلغ لائے تھے جنہیں قیرس بزنطیہ سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ ان مبلغوں کے متعلق تاریخ میں کوئی زیادہ تفصیلات نہیں ملتی لیکن ان کی کارکردگی اور پروپیگنڈے کے جو اثرات سامنے آئے ان سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ تو کی ہی تھی لیکن لوگوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں لانے کے لیے کچھ اور ہی پروپیگنڈہ کیا تھا ،اور ایسے طریقے استعمال کیے تھے کہ لوگ ان سے متاثر ہوگئے، کریون کے اردگرد کی آبادیوں اور چھوٹی بڑی بستیوں میں یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مسلمانوں کے خلاف کریون میں فیصلہ کن جنگ ہوگی اور اس میں ہر عیسائی کا شامل ہونا مذہبی فریضہ ہے۔
ان مبلغوں نے اور تھیوڈور کےآدمیوں نےبھی اردگرد کےعلاقے میں مسلمانوں کے خلاف اچھی خاصی نفرت پیدا کر دی، پروپیگنڈا کچھ اس قسم کا ہوا کہ مسلمان لوٹ مار کے لیے آرہے ہیں، اور عورتوں کے معاملے میں وہ وحشی ہیں، اور بچوں کو قتل کرنا ایک کھیل سمجھتے ہیں، لوگوں سے یہ بھی کہا گیا کہ مسلمان سب سے پہلے بستیوں پر ٹوٹ پڑیں گے، اور انہیں اجاڑ کر رکھ دیں گے، اور اس کے بعد قلعے کو محاصرے میں لے لیں گے۔ اس پروپیگنڈے کا جس پر مذہب کا رنگ چڑھا ہوا تھا یہ اثر ہوا کہ اردگرد کی بستیوں کے وہ لوگ جو ابھی جوانی کی عمر میں یا لڑنے کی عمر میں تھے کریون شہر میں اکٹھے ہونے لگے اور وہ جرنیل تھیوڈور کو اپنی خدمات اسطرح پیش کرتےتھےکہ انہیں فوج میں شامل کرلیا جائے،وہ لوگ جو لڑنے کےقابل نہیں تھےاپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے جرنیلوں کو ہر طرح کے تعاون اور امداد کا یقین دلارہےتھے،مختصر یہ کہ لوگوں میں بیداری پیدا ہوگئی تھی اور انہوں نے اپنے دلوں سے مسلمانوں کا خوف جھٹک ڈالا تھا۔ بعض مؤرخوں نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ لوگ اس قدر خوفزدہ تھے کہ وہ اکٹھے ہو گئے اور انھیں بتایا گیا کہ اس خوف سے نجات کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ اکٹھے ہوکر اپنی فوج کا بازو مضبوط کریں۔
قبطی عیسائیوں کی اچھی خاصی تعداد مجاہدین کے لشکر کے ساتھ تھی، پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ قبطی لڑنے کے لیے نہیں بلکہ امدادی کاموں کےلیےلشکر کےساتھ تھے ،مثلاً کسی گہرے اور چوڑے نالے پر پل بنانا ہوتا تو یہ قبطی بناتے تھے، یا راستے میں کوئی اور رکاوٹ آ جاتی تو وہ اس رکاوٹ کو ہٹاتےتھے، ان کاموں کے لئے وہ لشکر سے خاصہ آگے آگے جاتے تھے مصری بدوّ بھی لشکر میں شامل تھے اور وہ باقاعدہ لڑائی میں شریک ہوتےتھےاور لڑنے کےعلاوہ رسد اکٹھی کرنے کا کام انہوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا ،ان کے ساتھ مسلمانوں کا سلوک برتاؤ بہت ہی اچھا تھا ،مال غنیمت میں سے انہیں پورا پورا حصہ ملتا تھا ، مسلمانوں کے اس کردار سے وہ اس قدر مطمئن تھےکہ اپنےگھروں کو کبھی واپس جانے کی بات ہی نہیں کرتے تھے۔
مسلمانوں کا جاسوسی کا نظام ہمیشہ بڑا ہی کارآمد رہا ہے ، حالانکہ انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح کبھی لڑکیوں کو استعمال نہیں کیا تھا ۔ جاسوس مجاہدین ہر بھیس بدل لیتے اور اپنی اصلیت کو چھپا لیتے کبھی تو وہ اپنے آپ کو یقینی موت یا گرفتاری کے خطرے میں ڈال لیا کرتے تھے ۔
عمرو بن عاص نے اپنے جاسوس آگے بھیج رکھے تھے اب جاسوسوں نے سپہ سالار عمرو بن عاص کو پوری رپورٹ دی تھی کہ بستیوں میں اسکندریہ سے کچھ ایسے لوگ آئے ہیں جو یہاں کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسا رہےہیں، اور انہیں بے بنیاد باتیں بتا رہے ہیں، لوگوں کا جو ردعمل تھا جاسوس نے وہ بھی بتایا اور پھر سپہ سالار کو یہ اطلاع بھی مل گئی کہ یہ لوگ بھی کریون میں اکٹھے ہو رہے ہیں ، اور مجاہدین کے خلاف بڑا ہی مضبوط محاذ بن رہا ہے۔
عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں کو بلا کر اس صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا، ان کا دھیان قبطی عیسائیوں اور مصری بدوؤں کی طرف چلا گیا تھا جو مجاہدین کے لشکر کے ساتھ تھے ۔سپہ سالار نے سالاروں کو اس خطرے سے خبردار کردیا اور یہ ہدایت جاری کی کہ نظر رکھی جائے کہ باہر کا کوئی شخص مرد یا عورت ان قبطیوں اور بدوؤں کے پاس نہ آئے، اور ان کا رابطہ باہر کے کسی شخص کے ساتھ نہ ہو ،اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھا جائے کہ ان بدوؤں اور قبطیوں کے ساتھ اپنا سلوک پہلے سے زیادہ اچھا کر لیا جائے۔
اپنی مستورات کو بھی بتا دیا جائے۔۔۔ سپہ سالار نے کہا۔۔۔ انہیں بتا دیں کہ قبطیوں اور بدوؤں کی جو عورتیں ان کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ اور زیادہ پیار اور شفقت سے پیش آئیں، اور نظر رکھیں کہ باہر کی کوئی عورت ان کے پاس نہ آئے، اگر کوئی عورت آتی ہے تو اسے منع کرنے کی بجائے اس کےساتھ عیسائی کی حیثیت سے بات کریں، اور بھید لیں کہ وہ کون ہے اور کیوں آئی ہے،،،،،مجھے اسکندریہ سے خبر مل چکی ہے کہ قیرس مبلغوں کی ایک فوج اپنے ساتھ لایا ہے یہ مبلغ ہر طرف پھیل گئےہیں اور لوگوں کو اپنے زیر اثر کر رہے ہیں ، ہم نے اس سے زیادہ بڑے خطروں کا مقابلہ کیا ہے، اور اللہ نے ہمیں کامرانی عطا کی ہے،اگر کریون میں بستیوں کے لوگ فوج کےساتھ جاملےہیں تو اس سےہمیں ڈرنا نہیں چاہیے یہ ایک بے لگام ہجوم ہے جس کا احساس رومی جرنیلوں کو شاید نہیں ہوا ہم انھیں بکھیر دیں گے۔
ادھر قلعے میں جرنیل تھیوڈور بڑے ہی پرمسرت اور فاتحانہ لہجے میں اپنے جرنیلوں کے ساتھ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کا پلان بنا رہا تھا ،اسے خوش ہونا ہی چاہیے تھا، کمک کے آجانےسے اور پھر لوگوں کو فوج میں شامل ہونے سے اس کے پاس بے انداز نفری اکٹھی ہوگئی تھی، اسے وہ اتنی بڑی طاقت سمجھتا تھا جس سے ٹکرا کر مجاہدین پاش پاش ہوجائیں گے۔ ان عربوں کی تعداد دیکھو ۔۔۔تھیوڈور نے ایسے لہجے میں کہا جس میں غرور اور تکبر کی جھلک تھی۔۔۔ سلطیس کی لڑائی میں انہوں نے ہماری فوج کو شکست دی ہے اور بہت ہی جانی نقصان پہنچایا ہے، لیکن ان کی اپنی تعداد جو پہلےہی کم تھی اور کم ہوگئی ہے،اب ہم اتنی زیادہ فوج سے انھیں قتل اور مسل کر رکھ دیں گے، انہیں مہلت دو کے یہ شہر کا محاصرہ کر لیں، تم اندازہ کر سکتے ہو کہ یہ جب محاصرہ کرلیں گےتو بکھر جائینگے کیونکہ محاصرے کے لیے ان کی نفری بہت ہی تھوڑی ہے ان کا محاصرہ کچے دھاگے جیسا ہوگا ، ہم ان پر دستے باہر بھیج کر حملے کرتے رہیں گے اور ان کی تعداد اتنی تھوڑی رہ جائے گی کہ یہ بھاگ نکلیں گے یا ہتھیار ڈال دیں گے۔
یہ بات ذہن میں رکھو کہ مسلمانوں کو ایسا کمزور بھی نہ سمجھنا جیسا میں نے کہا ہے۔ یہ صحرائی سانپ ہیں جو لمبائی میں بہت چھوٹےہوتے ہیں لیکن ڈس لیں تو آدمی چند سانسیں لے کر مرجاتا ہے۔ مسلمانوں کے اس لشکر کے متعلق اپنے آپ کو کسی دھوکے اور فریب میں نہ رکھنا، انھوں نے ملک شام میں ہرقل کو ایسی ہی تھوڑی تعداد میں شکست دی ہے،اور مصر میں آکر انہوں نے ہمارے جرنیل بھی مار ڈالے ہیں، جن میں اطربون خاص طور پر شامل تھا ، یہ سوچ لو کہ عربوں کو کریون میں ہی شکست دینی ہے اگر ہم ناکام رہے تو اردگرد کے علاقے کے جو لوگ ہمارے ساتھ آن ملے ہیں وہ ہمارے دشمن ہو جائیں گے، اور مسلمان یہاں سے سیدھے اسکندریہ جا پہنچیں گےاور وہاں تک کے لوگ ان سے مرعوب اور خوفزدہ ہو جائیں گے ۔پھر یہی لوگ ان کا ساتھ دیں گے، عہد کر لو کہ انہیں یہیں کریون میں ہی ختم کرنا ہے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ جرنیل تھیوڈور نے آخر میں جو الفاظ کہے تھے وہ یہ تھے۔۔۔ حملہ آوروں اور اسکندریہ کی دیوار کے درمیان ہم خود دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے۔ کریون کا قلعہ اور شہرپناہ بہت ہی مضبوط اور چوڑی تھی اسکے اردگرد کوئی خندق نہیں کھودی گئی تھی لیکن ایک چوڑا نالہ دیوار کے قریب سے گزرتا تھا یہ دراصل ایک گہری اور قدرتی نہر تھی یا اسے نیل کی ایک شاخ کہ لیں۔ اس کا نام ثعبان تھا ۔ قلعے کا صدر دروازہ نالے کی طرف تھا اس طرح یہ نالہ قلعے کی دفاع کا کام کرتا تھا۔
مجاہدین کا لشکر جب کوچ کر کے کریون کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ رومی فوج قلعے کے باہر ان کے استقبال کو تیار کھڑی تھی۔ جاسوس مجاہدین نے عمرو بن عاص کو بتایا تھا کہ رومیوں کی جتنی تعداد باہر کھڑی ہے اتنی ہی قلعے کے اندر ہے ۔ عمرو بن عاص نے کچھ اور آگے جاکر اپنے لشکر کو لڑائی کی ترتیب میں کرلیا اب مجاہدین کے لشکر کی تعداد اور ہی کم ہوگئی تھی کیونکہ مجاہدین شہید بھی ہوئے تھے اور کچھ ایسے شدید زخمی ہوئے کہ لڑائی کے قابل نہیں تھے اس کے علاوہ کچھ نفری کو مفتوحہ مقامات کے انتظامات اور امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پیچھے چھوڑ آئے تھے۔یہاں بھی حملے میں رومیوں نے پہل کی انکے حملے کا انداز وہی تھا جو سلطیس کےمعرکے میں بیان ہوچکا ھے۔ عمرو بن عاص نے اپنا دماغ حاضر رکھا اور اپنے انداز سے حملے کے مقابلے کے لئے دستے بڑھائے انہوں نے محفوظہ کے دستےپیچھےرکھےہوئےتھےجنہیں انتہائی خطرناک صورتحال میں استعمال کرنا تھا، رومیوں کا حملہ اس قدر زیادہ طاقتور اور اتنا شدید کے عمروبن عاص کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اپنے پورے لشکر کو آگے کر دیتا ۔لیکن عمرو بن عاص کی یہی خوبی تھی کہ وہ یقینی ہلاکت کو اپنے سامنے دیکھ کر بھی دماغ کو حاضر رکھتے تھے اور اطمینان اور تحمل سے سوچ کر چال چلتے تھے۔
سپہ سالار عمرو بن عاص نے اپنے لشکر کو خاص طور پر یہ ہدایت دے رکھی تھی کہ دشمن کے ہجوم کے اندر جانے سے بچیں ورنہ وہ گھیرےمیں آکر مارے جائینگے، دوسری ہدایت یہ کہ اپنے آپکو تنظیم میں رکھ کر دائیں بائیں بکھرتے رہیں تاکہ دشمن کا ہجوم بھی بکھرجائے ۔ لیکن رومیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ سپہ سالار کی کسی ہدایت پر عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ تمام سالار سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے لیکن انہوں نے نظر اپنے دستوں پر رکھی ہوئی تھی کہ وہ تنظیم سے بکھر نہ جائیں، دراصل یہ معرکہ اس نوعیت کا تھا کہ ہر مجاہد اپنی اپنی لڑائی لڑ رہا تھا ۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ ہر مجاہد یہ سوچ کر لڑ رہا تھا کہ اس کا سارا لشکر شہید ہو چکا ہے اور رومیوں کو شکست دینا صرف اس کی ذمہ داری ہے۔
سالار زبیر بن العوام حیران کن حد تک دلیر انسان تھے انکی نظر رومیوں کے پرچم پر تھی جو رومی فوج کے پیچھے تھا، زبیر اس کوشش میں تھےکہ دو تین مجاہدین کےساتھ پرچم تک پہنچ جائیں اور پرچم بردار کو گراکر پرچم غائب کردیں، یہ اس زمانے کا دستور تھا کہ پرچم گر پڑتا تو اس کا مطلب یہ لیاجاتا تھا کہ ان کا بادشاہ یا جو کوئی بھی کمانڈر ہے وہ مارا گیا ہے پوری فوج میں بددلی پیدا ہوجاتی اور فوج پسپا ہونے لگتی تھی ۔سالار زبیر لڑتے ہوئے دشمن کے پیچھے جانے کی سرتوڑ کوشش کررہے تھے لیکن رومیوں کا دباؤ اتنا زیادہ تھا کہ سالار زبیر کو مجبورا پیچھے آنا پڑتا تھا۔گھوڑوں اور پیادوں کی اڑائی ہوئی گرد کےپیچھےسورج اپناسفر طے کرتا افق تک جا پہنچا اور سورج غروب ھو گیا تو اندھیرا چھانے لگا۔ اس تاریکی نے اس خونریز معرکے کو روک دیا رومی قلعے میں چلے گئے اور مجاہدین پیچھے ہٹ آئے۔
رات سیاہ کالی ہوگئی تو قلعے کا دروازہ کھلا اور بے شمار مشعلیں باہر آئیں، ادھر مجاہدین کیطرف سے بھی مشعلوں کا ایک جلوس میدان جنگ کیطرف چلا یہ مشعل مجاہدین کی مستورات نے اٹھا رکھی تھی اور یہ مستورات زخمی مجاہدین کو پانی پلانے اور انہیں اٹھا کر اور سہارا دے کر پیچھے لانے کےلئے جارہی تھیں ۔قلعے سے جو مشعلیں نکلیں تھیں وہ زیادہ تر آدمیوں کے ہاتھوں میں تھیں اور ان میں عورتیں بھی تھیں یہ عورتیں زخمیوں کو اٹھانے نہیں آئیں تھیں بلکہ اپنے عزیزوں کو ڈھونڈنے آئیں تھیں، پتہ چلا کہ جو فوج باہر لڑی تھی اس میں شہر کے جوان آدمی بھی شامل تھے فوج جب اندر گئی تو کئی شہری واپس نہیں جاسکے تھے اب ان کی مائیں بہنیں وغیرہ انہیں لاشوں اور زخمیوں میں ڈھونڈنےآئی تھیں،ان میں اکثر اونچی آواز میں رو رہی تھیں، ادھر مسلمان خواتین پر کوئی ماتمی کیفیت طاری نہیں تھی انہیں ہر زخمی کو سنبھالنا تھا ہر زخمی ان کا بھائی بھی تھا بیٹا بھی، ایسا ہرگز نہیں ہوتا تھا کہ یہ عورت پہلے اپنے عزیزوں کو تلاش کرتیں، اس موقع پر ایک واقعہ ہوگیا ایسے واقعات عام طور پر نہیں ہوا کرتےتھے، ہوا یہ کہ تین چار مسلمان خواتین لاشوں اور زخمیوں میں اپنے مجاہدین کو ڈھونڈ رہی تھیں۔
جاری ہے...
.jpeg)
Comments
Post a Comment