اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر62
اس خونریز معرکے میں جو لڑا جاچکا تھا مجاہدین نے چند ایک رومی فوجیوں کو پکڑ لیا اور ساتھ لے آئے تھے، جنگی قیدیوں سے عموماً ان کی فوج کے متعلق معلومات لی جاتی تھیں ،ان سے بھی پوچھا جانے لگا کہ اسکندریہ کے اندر کی کیفیت کیا ہے، اور بزنطیہ کی کیا خبر ہے وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ ان جنگی قیدیوں میں ایک ذرا اونچے عہدے کا فوجی ہے جس کا تعلق شاہی خاندان کے ساتھ ہے ۔
عمرو بن عاص نے اسے اپنے پاس بلایا۔
اس رومی عہدے دار نے پہلی خبر یہ سنائی کے بزنطیہ میں مرتینا قتل کردی گئی ہے، اور وہاں شاہی محل کی صورتحال ایسی ہوگئی ہےکہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ وہاں سےکمک آئےگی،رومی نے اسکندریہ کے اندر کی بھی کچھ باتیں بتائیں جو عمرو بن عاص کے لیے سود مند ہوسکتی تھی۔
انھیں سب سے زیادہ اطمینان تو یہ سن کر ہوا کہ بزنطیہ کے شاہی محل کی صورتحال آپس کےخون خرابے تک پہنچ گئی ہے اور وہاں سے اسکندریہ والوں کو کوئی مدد اور کمک نہیں ملے گی۔
اللہ فتح انہیں عطا فرمایا کرتا ہے جن کا کردار اور ایمان پختہ ہو، اور جن کے ارادے اور جن کی نیت صاف اور نیک ہوں، اور ان کے سامنے کوئی ایسا مقصد ہو جو اللہ کو عزیز ہو۔ فتوحات فوجوں کی افراط سے اور اسلحے کے انباروں سے حاصل نہیں کی جاسکتی ،کالےجادو سےبھی نہیں ملا کرتی، اور اپنے حریف کو فریب کاری سےقتل کروانےسے بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔
بزنطیہ میں مرتینا کالاجادو چلا رہی تھی، اس نے ایک جادو گرنی سے کہا تھا کہ وہ ایسا جادو چلائے کہ اس کا بیٹا ہرقلیوناس تخت نشین ہوجائے، اور مصر سے عربی مسلمان نیست و نابود ہوجائیں، اور مصر اسے سالم کا سالم مل جائے، اب خبر ملی کہ مرتینا قتل کر دی گئی ہے۔
جادوگرنی نے مرتینا سے ایک نوزائیدہ بچہ مانگا تھا اور اس نےکہا تھا کہ بچے کی عمر ایک مہینے سے زیادہ نہ ہو، مرتینا کی بڑی ہی پیاری ملازمہ روبیکا کے یہاں بچہ پیدا ہوا اور وہ بچہ کچھ دنوں کا ہی تھا کہ لاپتہ ہوگیا۔ رابیکا کا دل ایک بچےکی خواہش میں ایسا بےچین اور بے قرار رہتا تھا کہ اس نے شادی کا انتظار نہ کیا نہ شادی کی ضرورت محسوس کی اور ہرقلیوناس کے ساتھ تعلقات پیدا کر کے بچہ پیدا کر لیا مگر بچہ لاپتہ ہو گیا۔
روبیکا چیختی چلاتی مرتینا کے پاس گئی اور کہا کہ اس کا بچہ غائب ہو گیا ہے۔ مرتینا نے اسی وقت تمام ملازموں سے کہا کہ بچے کو فوراً ڈھونڈا جائے ، رات کا وقت تھا مرتینا نے کسی ملازم کو سونے نہ دیا۔ ملازم بچہ کہاں ڈھونڈتے حکم کی تعمیل میں وہ ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتے دوڑتے رہے۔
صبح طلوع ہوئی ہی تھی کہ رابیکا جادو گرنی کے پاس جا پہنچی، یہ روبیکا ہی تھی جس نے جادو گرنی کو مرتینا سے متعارف کروایا اور اسے یقین دلایا تھا کہ جادوگرنی کا جادو معجزے کر کے دکھا سکتا ہے۔ روبیکا دوڑی دوڑی جادوگرنی کے پاس پہنچی اور روتے چینختے اسے کہا کہ اسے جو بچہ اس کے جادو کے اثر سے ملا تھا وہ لاپتہ ہو گیا ہے۔ جادوگرنی نےاپنے شیشے کا گولہ سامنے رکھ کر الٹی سیدھی حرکتیں کیں اور گولے میں جھانک کر بولی کے بچہ مل جائے گا لیکن کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا، بچہ زندہ ہے۔
جادوگرنی نےصرف یہ سچ بولا تھاکہ بچہ زندہ ہے،بچہ کہیں دور نہیں تھا جادوگرنی کے ساتھ والے کمرے میں سویا ہوا تھا۔ جادوگرنی نے اس بچے پر اپنا عمل شروع کردیا تھا اور ایک دو دنوں بعد اس نے بچے کا دل نکالنا اور دل پر کچھ عمل کر کے اپنی ناگن کو کھلا دینا تھا ۔جادوگرنی نے روبیکا کو ایسی تسلیاں دیں کہ وہ مطمئن ہو کر چلی گئی۔
دو تین دنوں بعد آدھی رات کےوقت بچہ گہری نیند سویا ہوا تھا جادوگرنی نے اسے ہاتھوں پر اٹھایا اور لکڑی کی ایک میز پر لٹا دیا بچے کو تو ابھی دنیا کا کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔ اس کی عمر ابھی ایک مہینے بھی نہیں ہوئی تھی وہ تو ایک کلی تھی جس کی ابھی ایک پتی بھی نہیں کِھلی تھی۔
جادوگرنی نےاپنا وہ ڈنڈا اٹھایا جس پر رنگ برنگےکپڑے لپٹے ہوئے تھے اور اس کے ایک سرے پر پرندوں کے رنگارنگ پر اڑسے ہوئے تھے ،اور دوسرے سرے پر ایک چھوٹی سی ایک گھنٹی بندھی تھی ،جادوگرنی یہ ڈنڈا بچے کے جسم سے ذرا اوپر کرکے ہوا میں آہستہ آہستہ پھرتی رہی اور پھر جادوگرنی کا جسم تھرتھرانے لگا تھا جیسے اس کا جسم اس کے دماغ کے قابو سےنکل گیا ہو کچھ دیر وہ ایسی ہی حرکتیں کرتی رہی اور پھر قریب پڑی ہوئی ایک نوک دار چھری اٹھائی۔
رات آدھی گزر گئی تھی جادوگرنی نے جیتے جاگتے بچے کے سینے میں اس جگہ چھوری اتار دی جہاں دل ہوتا ہے۔
مرتینا کی ایک اور منہ چڑی ملازمہ تھی جس کے دو جڑواں بچے تھے، ان کی عمر ایک سال ہو گئی تھی یہی دو بچے اس کی کل اولاد تھیں، جس رات روبیکا کا بچہ غائب ہوا تھا اس کے اگلے دن اس ملازمہ کا ایک بچہ بیمار ہوگیا،مرتینا نے اسے شاہی طبیب کے پاس بھیجا تھا لیکن اس طبیب کی کسی دوائی نے بھی اثر نہ کیا، کچھ دن بعد جادوگرنی نے آدھی رات کے وقت نوزائیدہ بچے کے سینے میں چھری اتاری تو بچہ گہری نیند سویا ہوا تھا اس کے منہ سے تو سی بھی نہ نکلی، لیکن جس ملازمہ کا ایک سال کا بچہ بیمار تھا چیخ اس ماں کی نکل گئی ،وہ اس لیے کہ اس نے آدھی رات کے وقت بچے کو دیکھا تو بچہ مرا پڑا تھا وہ اتنی زیادہ روئی اور چیخی کے اس کے قریب رہنے والے شاہی محل کے ملازموں کے گھر میں سب جاگ اٹھے اور دوڑے پہنچے، شاہی طبیب اس بچے کی بیماری کو نہایت معمولی بیماری کہتا رہا تھا لیکن بچہ بچ نہ سکا اور مرگیا، جادوگرنی نے نوزائیدہ بچے کے سینے سے ننھا سا کلی جیسا دل نکال لیا اور الگ رکھ دیا پھر اس نےباہر جاکر کدال اٹھائی اور صحن میں گڑھا کھود کر بچے کی لاش اس میں رکھی اور اوپر مٹی ڈال دی، کچھ دیر مٹی کے ڈھیر پر کھڑی ہو کر اسے دباتی رہی اور صحن کو ہموار کر دیا پھر اپنے خاص کمرے میں جاکر اسی وقت ننھے کا دل سامنے رکھ کر اپنا عمل شروع کردیا، اسے مرتینا نے خزانہ پیش کیا تھا جس کے لیے وہ بڑی ہی محنت کر رہی تھی۔
اگلی صبح روبیکا پھر جادوگرنی کے ہاں گئی اس وقت جادوگرنی صحن میں ہی کوئی کام کر رہی تھی روبیکا نے کھڑے کھڑے جادوگرنی کو بتایا کہ بچہ ابھی تک نہیں ملا، پھر پوچھا کہ اس کے ملنے کی توقع بھی ہے یا نہیں، جادوگرنی نے اسے غصے سے کہا کہ وہ کہہ چکی ہے کہ بچہ جلدی مل جائے گا ،پھر وہ کیوں پریشان ہوئی جا رہی ہے,,,, روبیکا کو کون بتاتا کہ وہ اپنے بچے کی قبر پر کھڑی ہے اور بچہ اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔ جادوگرنی کی یقین دہانی سے وہ کچھ مطمئن ہوگئی اور چلی گئی۔
ایک آدھ دن ہی اور گزرا ہو گا کہ جڑواں بچوں کی ماں کا دوسرا بچہ بھی بیمار ہو گیا اس کی بیماری کی علامت بھی پہلے بچے جیسی تھی جو مر گیا تھا ،ماں بےتاب اور بے حال ہوگئی وہ مرتینا کےپاس دوڑی گئی اور کہا کہ اس کے دوسرے بچے کو بھی وہی تکلیف ہو گئی ہے ،مرتینا نے اسے کہا کہ وہ بچےکو شاہی طبیب کے پاس لے جائے، ماں بچے کو سینے سے لگائے شاہی طبیب کے پاس جا پہنچی اور روتے ہوئے اس کی منت سماجت کرنے لگی کہ پہلا بچہ تو نہیں بچ سکا، اسے طبیب بچا لے۔ طبیب نےکہا کہ اب وہ کوئی اور دوائی آزمائے گا جو پہلے بچے کو نہیں دےسکا تھا، اس نے دوائی دے دیں اور کچھ پرہیز بتا کر ماں کو رخصت کر دیا۔
بچے کی حالت بگڑتی چلی گئی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دوائیاں الٹا اثر کر رہی ہوں، ماں مرتینا سے اور طبیب سے اپنے بچے کی زندگی کی بھیک مانگتی پھر رہی تھی، وہ جادوگرنی کے پاس بھی گئی جادوگرنی نے ایسے ویسے ہی تسلیاں دیں جیسی وہ روبیکا کو دے رہی تھی کہ اسکا بچہ مل جائے گا۔ جادوگرنی کو یہ تو معلوم ہوگا ہی کہ اس کا جادو کسی کی موت کو نہیں ٹال سکتا ،اور زندگی اور موت اس عظیم طاقت کے ہاتھ میں ہے جو بندوں کو آسمان سے زمین پر اتارتی اور جب چاہتی اٹھا لیتی ہے۔
جادوگرنی ہر رات روبیکا کے بچے کے سینے سے نکالے ہوئےدل پر اپنا کچھ عمل کرتی تھی اور پھر اسےایک انسانی کھوپڑی کے اندر رکھ دیتی تھی ،آخر ایک رات عمل پورا ہو گیا اس نے پنجرے سے اپنی ناگن نکالی اور اس کی گردن کو اس طرح دبایا کہ ناگن کا منہ کھل گیا ،جادوگرنی نے ننھا منا دل ناگن کے منہ میں رکھ کر انگلیوں سے دبایا اور ناگن کے حلق سے آگے کر دیا اس کے بعد ناگن خود ہی اس دل کو پیٹ کی طرف نگلنے لگی ،جادوگرنی نے ناگن کو پھر پنجرے میں بند کر دیا۔
جب ناگن کے جسم کے اندر دل اس کے پیٹ کی طرف جا رہا تھا ملازمہ کے بیمار بچے کی حالت بگڑ گئی بچہ گہری نیند سے جاگ اٹھا اور تکلیف سے رونے اور چیخنے لگا، وہ تو تڑپ رہا تھا ماں بھی رونےلگی لیکن اچانک یوں چپ ہوگئی جیسے اسےغیب کی کوئی آواز سنائی دی ہو اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا جیسے خدا سےبچے کی زندگی مانگ رہی ہو، لیکن اسے کوئی اور ہی خیال آ گیا تھا وہ دوڑتی باہر نکلی اور روبیکا کے کمرے کے دروازے پر جا دستک دی ،رات کی اس دستک پر روبیکا جاگ اٹھی اور دروازہ کھولنے کو دوڑی، دروازہ کھولا تو باہر ملازمہ کو کھڑے دیکھا اس نے بےتابی سے پوچھا میرا بچہ مل گیا؟،،،، نہیں روبیکا!،، ملازمہ نے کہا۔۔۔اندر چلو میں بتاتی ہوں تمہارا بچہ کہاں ہے۔
روبیکا اسے بازو سےپکڑے بڑی تیز تیز چلتی اندر گئی اور کہا جلدی بتاؤ ،،،،جلدی بتاؤ۔ تمہارا بچہ مرتینا کے حکم سے میں نے اٹھایا تھا۔ ملازمہ نے آنسو بہاتے ہوئےکہا۔ اس وقت تمہیں مرتینا نےاپنے ہاں بلوایا تھا اس نےاسی لیے رات کے اس وقت تمہیں بلوایا تھا کہ میں تمہارا بچہ اٹھا سکوں، میں نے بچہ اٹھایا اور اپنے گھر چھپا لیا تھا، تم جب واپس آئی اور بچے کو غائب پایا تو پھر مرتینا کے پاس چلی گئی۔ مجھے معاف کر دینا روبیکا بہن۔ میں اگر مرتینا کا حکم نہ مانتی تو مجھے بھی اور میرے بچوں کو بھی قتل کروا دیتی، لیکن خدا نے مجھے اس گناہ کی سزا دے دی ہے، میرا ایک بچہ مر گیا ہے اور دوسرا مر رہا ہے، میں اسی لیے تمھارے پاس آئی ہوں کہ یہ راز تم پر کھول دوں اور تم سے یہ درخواست کروں کہ میرا یہ گناہ معاف کردو۔ ہو سکتا ہے تمہاری بخشش سے میرا دوسرا بچہ زندہ رہ جائے۔
اس ملازمہ کو معلوم نہیں تھا کہ مرتینا نے یہ بچہ کس کو دیا تھا،جادوگرنی کا تو ملازمہ کےذہن میں ذرا سا بھی خیال اور شک نہیں تھا، اس نے یقین کی حد تک محسوس کر لیا تھا کہ اس کا ایک بچہ اسی گناہ کی سزا کے طور پر مر گیا ہے، اور دوسرا بھی اسی گناہ کی پاداش میں خدا اس سے واپس لے رہا ہے۔ اسے یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ جس وقت جادوگرنی نے روبیکا کے بچے کے سینے میں چھری اتاری تھی عین اسی وقت اس کا پہلا بچہ مر گیا تھا اور دوسرا بچہ اس وقت بیمار پڑا تھا جب اس نوزائیدہ بچے کا دل ناگن کے پیٹ میں پہنچا تھا۔
روبیکا تو غصے سے کانپنے لگی اسے شاید اس ملازمہ کی مجبوری کا خیال آگیا تھا اس لیے اس نے ملازمہ سے کچھ بھی نہ کہا البتہ غصے کی شدت سے مغلوب ہو کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کہنے لگی کہ وہ ابھی مرتینا کے پاس جاتی ہے۔ ملازمہ نے اسے پکڑ کر پلنگ پر بٹھا دیا اور کہا کہ رات کے اس وقت وہ مرتینا کو نہ جگائے ورنہ وہ اسے بچہ کیا دے گی ،اسے قتل ہی کروا دے گی۔
جادوگرنی مرتینا کو بتا گئی تھی کہ اس کا عمل پورا ہو گیا ہے، اور زیادہ سے زیادہ دس دنوں بعد اس کی مراد پوری ہو جائے گی، عرب کے مسلمان شکست کھا کر مصر سے نکل بھاگیں گے، اور بزنطیہ کے تخت پر اس کا بیٹا ہرقلیوناس بیٹھا ہوا ہوگا ،اور بادشاہی کا تاج اس کے سر پر ہوگا۔
ملازمہ جب اپنے گھر پہنچی تو اس کا دوسرا بچہ بھی مر گیا تھا اس کا خاوند بچے کی چارپائی کے قریب کھڑا ہچکیاں لے رہا تھا۔ ملازمہ اپنے مرے ہوئے بچے کے اوپر گری اور لاش کا منہ چوم چوم کر پاگل ہونے لگی، اور روتی اور یہی بین کر رہی تھی کہ مجھے اپنے گناہ کی سزا ملی ہے۔
روبیکا باقی رات سو نہ سکی وہ کروٹیں بدلتی اور تڑپتی رہی، کبھی اسےخیال آتا کہ مرتینا اس پر رحم کر کے اس کا بچہ واپس دے دے گی، لیکن زیادہ تر اسے دو بڑے ہی بھیانک خیال آ رہے تھے، اسے جادوگرنی کا خیال بھی آیا کہ مرتینا نے اس کا بچہ کسی عمل کے لیے جادوگرنی کو بھی نہ دے دیا ہو، صرف روبیکا کو معلوم تھا کہ مرتینا جادو گرنی سے کوئی عمل کروا رہی ہے ،روبیکا ہی اس جادو گرنی کو مرتینا کے پاس لے گئی تھی۔
صبح ابھی دھندلی تھی جب روبیکا شاہی محل میں مرتینا کے کمرے میں جاپہنچی، مرتینا آخر ملکہ تھی گو نام ہی کی ملکہ تھی لیکن اس کی حیثیت ملکہ جیسی ہی تھی وہ سوئی ہوئی تھی، روبیکا کی ممتا اس قدر بھڑکی ہوئی تھی کہ اس نے نتائج سے بے خبر مرتینا کو جگایا مرتینا کی آنکھ کھلی تو وہ روبیکا پر برس پڑی،اس نےکہا کہ روبیکا کو اتنی جلدی آکر اسے جگانے کی جرات کیسے ہوئی۔ روبیکا اس کی رازدان تھی لیکن روبیکا آخر ملازمہ تھی ۔
میرا بچہ مجھے لوٹا دو۔۔۔۔ روبیکا نے روتے ہوئے کہا۔
مرتینا غصے کی حالت میں اٹھ بیٹھی اور پوچھا کہ وہ کیا بک بک کر رہی ہے؟،،،،،،،، روبیکا نے پھر التجا کے لہجے میں کہا کہ مرتینا اسے اس کا بچہ لوٹا دے۔ ایسی توقع تو رکھی ہی نہیں جاسکتی تھی کہ بچے کے متعلق کچھ بتانا تو دور کی بات ہے وہ یہ تو تسلیم ہی کرلیتی کہ اس کا بچہ اس نے اٹھوایا ہے اور جادوگرنی کو دے دیا تھا، اور اس کا بچہ مارا جاچکا ہے، مرتینا نے روبیکا کو خوب ڈانٹ پلائی اور کہا کہ پھر اس نے اس پر یہ الزام لگایا تو اسے اس کی بڑی ہی بھیانک سزا ملے گی ۔
روبیکا نے ملازمہ کا نام لے کر کہا کہ اس نے اسے بتایا ہے کہ بچہ مرتینا کے حکم سے اس نے اٹھایا اور مرتینا کے حوالے کیا تھا۔
مرتینا اٹھ کھڑی ہوئی اور کہا کہ وہ ابھی اس ملازمہ کو بلا کر ایسی سزا دے گی کہ دیکھنے والے کانپ اٹھیں گے ،روبیکا نے اسے روک لیا اور کہا کہ اس بیچاری کا دوسرا بچہ بھی رات مر گیا ہے۔
مرتینا نے جب روبیکا کی جذباتی حالت دیکھی اور پھر یہ پتہ چلا کہ ملازمہ نے راز فاش کر دیا ہے تو اس نے اپنا رویہ فوراً بدل کر نرم کر لیا، اس کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ ملازمہ کو بلوا کر اسے جھوٹا کہہ دیتی اور اسےملازمت سے نکال دیتی لیکن اس کا ضمیر مجرم تھا اس لیے اس نے روبیکا کو بہلانے پھسلانے والا طریقہ سوچ لیا۔
بیٹھو روبیکا !،،،،، مرتینا نے بڑے پیار سے کہا ۔۔۔۔دعا کرو میرا بیٹا زندہ رہے،تمہیں ایک اور بچہ مل جائےگا لیکن مجھےنہیں ملے گا، ذرا ٹھنڈے دل سے میری بات سن لو دیکھو میں نے تمہارے ساتھ کتنا پیار کیا ہے اور تمہیں ملازمہ نہیں رازدان دوست سمجھتی ہوں، کیا تم میرے لئےاتنی سی قربانی نہیں دے سکتیں؟ مرتینا نے روبیکا کو صاف صاف بتا دیا کہ اس کا بچہ اسی نے اٹھایا تھا اور اس کا مقصد کیا تھا اور یہ بھی بتایا کہ جادوگرنی بچے کو مار چکی ہے اور اس کا عمل پورا ہو چکا ہے، دس دنوں تک میرا بیٹا شاہ روم بن جائے گا، مرتینا نے کہا۔۔۔ ادھر وہ تخت پر بیٹھے گا ادھر میں اس کے ساتھ تمہاری شادی کروا دوں گی اور تم سلطنت روم کی ملکہ کہلاؤ گی۔
روبیکا کی ذات میں ممتا یوں پھٹی جا رہی تھی جس طرح آتش فشاں کا دہانہ پھٹتا ہے، وہ شاہی محل کے ان بادشاہوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اسےیہ بھی معلوم ہو گا کہ ہرقل اور اس کے بیٹے قسطنطین کو مرتینا نے ہی مروایا تھا ،اس نے غالباً یہ بھی سوچا ہوگا کہ ملکہ تو مرتینا خود بننے کو بے تاب ہے ایک ملازمہ کو کون ملکہ بناتا ہے، اگر اس کی شادی ہرقلیوناس کےساتھ ہو بھی گئی تو یہ چند دنوں کا کھیل ہو گا اور پھر اسےحرم میں پھینک دیا جائے گا ،لیکن روبیکا کے دل و دماغ پر اور جذبات پر صرف بچہ غالب تھا۔ وہ ایک بچے کے لیے ہمیشہ تڑپتی ترستی رہتی تھی بچہ ملا تو وہ مرتینا نے اپنی ذاتی مفاد پر قربان کر دیا۔
مرتینا نے جب یہ کہا کہ بچے کو جادو گرنی مار چکی ہے تو روبیکا کا دماغ اس کے قابو سے نکل گیا اور اس پر پاگل پن سوار ہو گیا اس نے واہی تباہی بکنا شروع کردی وہ بھول ہی گئی کہ وہ ایک بے بس اور بےوسیلہ ملازمہ ہے اور قانون اور انصاف مرتینا کے ہاتھ میں ہے، اور وہ اسے بڑے آرام سے قتل کرواسکتی ہے، روبیکا کے منہ سےجھاگ پھوٹنےلگی۔
مرتینا نے اسے یہ بھی کہا کہ وہ منہ سے بولے کے اپنے بچے کی کتنی قیمت چاہتی ہے؟
میرے سامنے زروجواہرات کا ڈھیر لگا دو۔۔۔ روبیکا نے قہر بھری آواز میں کہا۔۔۔ میں اسے ٹھوکر مار کر اپنا بچہ ہی مانگوں گی۔
مرتینا اپنی شاہانہ حیثیت میں آگئی اس نے سلطنت کی ملکہ کے انداز سے روبیکا کو دھتکار دیا اور کہا کہ وہ فوراً یہاں سے نکل جائے ورنہ وہ اسے قید خانے میں ڈال دے گی اور اس کی باقی عمر کال کوٹھری میں گلتی سڑتی گزرے گی۔ مرتینا نے صرف کہا ہی نہیں بلکہ روبیکا کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے زور سے گھمایا اور پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر دھکا دیا اور کہا نکل جاؤ یہاں سے۔
روبیکا کی نظر کمرےکی سامنے والی دیوار پر گئی وہاں شاہ ہرقل کی تلوار لٹکی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ہرقل کا لمبا خنجر نیام میں پڑا لٹک رہا تھا، یہ دونوں ہتھیار مرتینا نے ہرقل کی یادگار کے طور پر کمرے میں لٹکا رکھے تھے۔
مرتینا کو تو یاد آگیا تھا کہ وہ اس سلطنت کی ملکہ ہے لیکن روبیکا بلکل ہی بھول چکی تھی کہ وہ اس ملکہ کی ملازمہ ہے وہ مکمل طور پر پاگل ہوچکی تھی اس نے بجلی کی سی تیزی سے لپک کر دیوار سے ہرقل کا خنجر نوچ لیا اور اتنی ہی تیزی سے خنجر نیام سے نکالا ،نیام پرے پھینکی پیشتر اس کے کہ مرتینا سمجھ پاتی کہ یہ کیا کر رہی ہے خنجر مرتینا کے سینے میں اترچکا تھا، روبیکا نے بڑی ہی تیزی سے مرتینا کے سینے میں تین بار خنجر مارا اور مرتینا ایک چیخ مار کر لڑھک گئی اور پھر وہ فرش پر پڑی ہوئی تھی۔
روبیکا خون سے لتھڑا ہوا خنجر ہاتھ میں لئے باہر نکلی اور چلا چلا کر کہنے لگی میں نے اپنے بچے کے خون کا انتقام لے لیا ہے، اس کی یہ للکار اور پکار جس کسی کے کانوں تک پہنچی وہ دوڑا آیا دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ملازموں کا اور شاہی خاندان کے کچھ افراد کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔
روبیکا چیختی چلاتی باہر کو جا رہی تھی اور وہ خون آلود خنجر لہراتی جا رہی تھی، آوازیں آنے لگیں پکڑو اسے۔۔۔۔ پکڑو اسے۔۔۔ مرتینا کے کمرے میں جا کر دیکھ لیا گیا تھا کہ وہ لہولہان مری پڑی ہے ۔
کئی آدمی روبیکا کو پکڑنے کے لیے اس کی طرف دوڑے۔ وہ بھاگی نہیں، پیچھے مڑی اور رک گئی اس نے دیکھا کہ اسے پکڑنے کے لیے آ رہے ہیں تو اس نے خنجر کا دستہ دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر ہاتھ اوپر کئے اور کہا میں اپنے بچے کے پاس جا رہی ہوں، اس نے بڑی زور سے اپنے دونوں ہاتھ نیچے کو کھینچا اور خنجر آدھے سے زیادہ اس کے سینے میں اتر گیا ،وہ آہستہ آہستہ گرنے لگی خنجر کو سینے میں ہی رہنے دیا گھٹنوں سے اس کی ٹانگیں دوہری ہوئی اور بڑی آہستہ سے اس کے گھٹنے زمین پر لگے اور پھر وہ ایک پہلو کو لڑھک گئی۔
اسے پکڑنے والے اس تک پہنچے اور اسے سیدھا کر کے پیٹھ کے بل کر دیا وہ آخری سانسیں لے رہی تھی اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور ہونٹ ہل رہے تھے ،،،،،میرا بچہ مل گیا ہے،،، اس کے ہونٹوں سے سرگوشیاں پھسل رہی تھیں۔۔۔ آخر میرا منّا مل ہی گیا اب اسے میرے سینے سے کوئی نہیں نوچ سکتا۔۔۔ اس نے اپنے دونوں بازو اپنے سینے پر رکھ کر دبا لیے سینے سے ابھی تک خون بہے جا رہا تھا، فوراً ہی بعد اس کی آنکھیں کھلی ہونٹ ساکن ہو گئے، اور پھر آنکھیں کھلی ہی رہ گئیں اور ہونٹ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔
مرتینا کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہ تھا اس کا بیٹا ہرقلیوناس بھی وہاں پہنچ گیا تھا وہ تحکمانہ بلکہ شاہانہ لب و لہجے میں کچھ نہ کچھ کہے جا رہا تھا ،وہ تو جیسے وہاں کھڑے ہر انسان کو قتل کروا دینے کا فیصلہ سنا رہا تھا۔
کونستانس کو اطلاع مل گئی وہ بھی دوڑتا ہوا آن پہنچا ، رومی فوج کا سپریم کمانڈر جنرل اقلینوس بھی آگیا اور پھر دوسرے جرنیل بھی آن پہنچے۔
کونستانس اور جنرل اقلینوس کو صرف یہ بات مطمئن نہیں کر سکتی تھی کہ ایک ملازمہ نے مرتینا کو قتل کر کے خود کشی کی ہے،وہ اس اتنےبڑے حادثے کی وجہ معلوم کرنا چاہتے تھے، انہوں نے مرتینا کے ملازموں سے پوچھنا شروع کردیا انہیں بتایا گیا کہ روبیکا مرتینا کی منہ چڑھی ملازمہ تھی، بلکہ یہ ملازمہ کم اور مرتینا کی گہری دوست زیادہ تھی، یہ پوچھ گچھ ہو ہی رہی تھی کہ وہ ملازمہ آگئی جس کا دوسرا بچہ بھی مر گیا تھا، اسے پتہ چلا کہ شاہی محل میں کیا قیامت آئی اور گزر گئی ہے تو وہ بھی وہاں آن پہنچے، جذباتی لحاظ سے اس کی حالت بھی نارمل نہیں تھی وہ اپنے دوسرے بچے کی لاش گھر میں چھوڑ کر آئی، اور آتے ہی غیر قدرتی سے لہجے میں اعلانیہ کہا کہ اسے معلوم ہے کہ یہ سب کیوں ہوا ہے ۔
اس نے ساری بات کھول دی وہ اتنا ہی بتا سکی کہ روبیکا کا بچہ اس نے مرتینا کے حکم سے اٹھایا اور مرتینا کو دیا تھا، اس سے آگے اسے کچھ معلوم نہیں تھا، البتہ ایک اور بات اسے اچھی طرح معلوم تھی اس نے وہ بھی بتا دی وہ یہ تھی کہ روبیکا کو ہرقلیوناس نے داشتہ بنا رکھا تھا اور یہ بچہ ہرقلیوناس کا ہی تھا۔
مجھے ہرقلیوناس کی ماں کے قتل کا کوئی افسوس نہیں۔۔۔ کونستانس نے اعلانیہ لہجے میں کہا۔۔۔ مجھے غم یہ کھا رہا ہے کہ سلطنت روم کا زوال بڑی تیزی سے ہو رہا ہے، ہم خود اس عظیم سلطنت کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں ،ادھر مصر ہاتھ سے نکل گیا ہے اور مٹھی بھر مسلمانوں نے اتنے بڑے ملک پر قبضہ کر لیا ہے ،اور ادھر دارالحکومت میں یہ پراسرار اور خونی کھیل کھیلے جارہے ہیں ۔
میں یہ کھیل بند کروا دوں گا۔۔
ہرقلیوناس بڑی کھوکھلی سی آواز میں بولا۔۔۔ اور جو کوئی میرا حکم نہیں مانے گا،،،،،،،
مجھے باغی کہہ لو،کچھ کہہ لو۔۔ ایک پرانا جرنیل بول اٹھا۔۔ حکم صرف ایک حکمران کا چلے گا،اور وہ حکمران کونستانس ہوگا ، کبھی سنا ہی نہیں کہ ایک سلطنت کے بیک وقت دو حکمران ہوں، اور دونوں اپنے اپنے حکم چلا رہے ہوں۔
اس جرنیل کے بولنے کی دیر تھی کہ دوسرے جرنیل بھی بول اٹھے وہ اس جرنیل کی تائید میں بول رہے تھے۔ جرنیل اقلینوس نے سب کو خاموش کروا دیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں کہ یہاں ملازموں اور دوسرے لوگوں کے سامنے کھڑے کھڑے طے کر لیا جائے ،یہ کہیں اور بیٹھ کر طے کرنے والا معاملہ ہے، اور اب ہمیں کسی نہ کسی فیصلے پر پہنچنا ہی ہوگا۔
مرتینا مر چکی تھی اور اس کا بیٹا ہرقلیوناس اکیلا رہ گیا تھا ،مرتینا ہی اس کی تلوار اور مرتینا ہی اس کی ڈھال تھی، اور یہ تلوار اپنے آپ ہی چلا کرتی تھی ،اس دن کے بعد ایک اور چپقلش چل پڑی، اب تو ہر جرنیل اور سول حکومت کا ہر بڑا حاکم ایک ہی بات کہتا تھاکہ ہرقلیوناس کو ایک طرف کر دیا جائے اور صرف کونستانس شاہ روم کہلائے۔
ایک واقعہ کچھ دنوں بعد ہوا تھا۔ اس سے پہلے مصر میں مجاہدین اسلام نے اسکندریہ پر آخری یلغار کردی تھی۔ بہتر ہے کہ بزنطیہ کا یہ واقعہ یہیں بیان کردیا جائے۔ واقعہ یوں ہوا کہ یہ بات زیر غور آئی کے سلطنت روم کا حکمران صرف کونستانس رہے، ہرقلیوناس کہ حامی تو بہت ہی کم رہ گئے تھے لیکن کچھ نہ کچھ زمین دوز سازشیں چل رہی تھیں، ہرقلیوناس صرف کہنے سے یا اپنی مرضی سے حکمرانی سے دستبردار نہیں ہو رہا تھا۔
ماں کے قتل کے تین چار روز بعد ہرقلیوناس گھوڑے پر سوار ہوا چند ایک ملازم ساتھ لیے اور جنگل میں شکار کو نکل گیا۔
ان دنوں سلطنت روم ایسی صورتحال میں آگئی تھی کہ کسی کو شکار کھیلنے کی سوجھ بھی نہیں سکتی تھی، لیکن ہرقلیوناس اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا تھا ۔
کچھ دیر بعد ایک گھوڑسوار گھوڑا دوڑاتا آیا اور اس نے کونستانس کو اطلاع دی کہ شکار کے دوران نہ جانے کدھر سے دو تیر آئے اور دونوں تیر ہرقلیوناس کی پیٹھ میں اتر گئے،ظاہر ہے تیر پھیپھڑوں میں اترے تھے ہرقلیوناس گھوڑے سے گرا اور گرا بھی پیٹھ کے بل جس سے یہ ہوا کہ دونوں تیر اور زیادہ آگے پھیپھڑوں میں چلےگئے، اور تھوڑی ہی دیر بعد ہرقلیوناس مر گیا۔
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ تیر اتفاقیہ یا حادثاتی طور پر اسے نہیں لگے تھے، بلکہ ایک باقاعدہ پلان کے تحت اسے قتل کیا گیا تھا۔ بہرحال شاہی محل سے یہ اعلان کیا گیا کہ ہرقلیوناس کے ساتھ کچھ اور شکاری بھی تھے جن میں سے دو نے بیک وقت کسی جانور پر تیر چلائے تو اتفاق سے ہرقلیوناس آگے آگیا اور تیر اس کے پیٹھ کی طرف سے اس کے سینے میں اتر گئے اور وہ مر گیا ۔ اب کونستانس شاہ روم بن گیا، اس طرح تخت و تاج کا تنازعہ ختم ہو گیا۔۔۔
جاری ہے......
.webp)
Comments
Post a Comment