اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر64 (سیکنڈ لاسٹ)




 اُن سے وہ سالاروں اور مجاہدین کی اخلاقی تخریب کاری کروانا چاہتا تھا ساتھ یہ بھی کہ ہر لڑکی ایسا موقعہ پیدا کر کے ایک ایک سالار کو قتل کردے ، قیرس کی زیادہ دلچسپی عمرو بن عاص کے قتل میں تھی، اس کا یہ حربہ بھی ناکام ہوا جا رہا تھا۔ آج کے روم کے ایک تاریخ نویس مائیکل کڈ سکیپ اور مصری مبصر اور وقائع نگار آذر سطوت نے یہ واقعہ تفصیل سے لکھا ہے اور مستند مورخوں کے حوالے دیے ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ قیرس کو توقع نہیں تھی کہ مسلمان اسکندریہ اتنی جلدی فتح کرلیں گے، اسے غالباً یہ توقع بھی تھی کہ مسلمان اسکندریہ فتح کر ہی نہیں سکیں گے، وہ سوچ رہا تھا کہ ان لڑکیوں میں سے تین چار کو باہر نکال دے اور وہ کسی طرح سپہ سالار عمرو بن عاص اور دوسرے سالاروں تک پہنچیں اور مظلومیت کی کیا کیا کہانیاں سنا کر ان سالاروں کی ہمدردیاں حاصل کریں۔

یہ اسے یقین تھا کہ جو لڑکی جس سالار کے خیمے میں داخل ہوگی اسے وہ اپنے جال میں لے لے گی اور اپنا کام کر گزرے گی۔

قیرس سوچتا ہی رہ گیا اور مجاہدین اسلام اس طرح اسکندریہ کے اندر نظر آنے لگے جیسے زمین میں سے ابھرے ہوئے ہوں، قیرس کا یہ حربہ دھرا رہ گیا اور مجاہدین شہر میں داخل ہوگئے، اس وقت قیرس اپنے محل میں تھا اسے اطلاع ملی کہ مسلمان شہر میں آگئے ہیں تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا، وہ ذرا جلدی سنبھل گیا اور باہر نکلا ،عمرو بن عاص محل کی طرف گئے تو قیرس نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔

ان کے درمیان ضروری گفتگو ہوئی، رومی فوج کے انخلاء کے لئےمہلت کا عرصہ طےہوا،اس عرصے کے اندر اندر رومی فوج کو اسکندریہ سے نکل جانا تھا ،قیرس مہلت کے اس عرصے میں اسکندریہ میں رہ سکتا تھا۔ عمرو بن عاص نے اسے قید میں نہ ڈالا وہیں رہنے دیا جہاں وہ رہتا تھا اسے مراعات سے محروم نہ کیا۔

اس نے مسلمانوں کا ممنون ہونے کی بجائے اپنی زمین دوز تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی، اس پر کوئی پابندی نہیں تھی اس نے چھ سات لڑکیاں منتخب کرلیں۔

وہ خاصا بوڑھا ہو چکا تھا۔ یہ بھی ایک وجہ تھی کہ مسلمانوں نے اس پر ایسی پابندی عائد نہ کی کہ لڑکیاں اس کےپاس نہ آئیں، وہ مذہبی پیشوا تو تھا ہی، اس پر ایسا شک تو کیا ہی نہ گیا کہ اسکے پاس یہ جو لڑکیاں آتی جاتی رہتی ہیں انہیں وہ کسی تخریب کاری کے لیے تیار کر رہا ہے۔

یہ دونوں تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اپنا کردار ایسا تھا کہ ان لڑکیوں کی طرف انہوں نے کبھی اس خیال سے دیکھا ہی نہیں تھا کہ یہ بہت حسین اور دلنشین لڑکیاں ہیں، اور یہ انکے رحم وکرم پر ہیں، کردار کی بلندی کے علاوہ سالاروں اور لشکر کےمجاہدین کو اتنی ہوش اور مہلت میسر نہیں تھی کہ وہ تفریح طبع کی بھی سوچتے وہ اتنے بڑے شہر کے ہر کونے کھدرے کو دیکھتے پھر رہے تھے کہ رومی فوجی تخریب کاری کے لیے کہیں چھپے نہ رہ جائیں،یا شاہی خزانے کا مال کہیں چھپا نہ رہے ہوں کہ جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں گے۔

شہر میں افراتفری کا سا ساماں تھا رومی فوجیوں کو نہتا کردیا گیا تھا اور وہ شہر سے نکل رہے تھے، بعض شہری بھی جا رہے تھے، شہر کا نظم و نسق اور امن و امان بھی معمول پر لانا تھا لوگ دیکھ رہے تھے کہ مسلمان لوٹ مار تو دور کی بات ہے کسی گھر کی طرف دیکھ ہی نہیں رہے، پھر بھی وہ اس اندیشے سے آزاد نہیں تھے کہ یہ مسلمان فاتحین جزیے کے علاوہ ان سے اور کچھ بھی جو چاہیں گے لے لیں گے، وہ اپنے مال و اموال اور جوان عورتوں کو محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔

قیرس کو ابھی تک یہ توقع تھی کہ اس افراتفری اور نفسانفسی کی کیفیت سے فائدہ اٹھا کر ایسی تخریب کاری میں کامیاب ہوجائے گا کہ رومی فوجی اور شہری مجاہدین اسلام پر دھاوا بول دیں گے اور انہیں اسکندریہ سےنکالا جا سکے گا، اس نے دو جرنیلوں کو اعتماد میں لے لیا تھا وہ لڑکیوں کو سالاروں کے قتل کے لئے تیار کر رہا تھا، اور انھیں یہ بھی بتا رہا تھا کہ دھوکے میں سالاروں کو شراب پلا کر مدہوش کر دیں۔ یہ ایک قدرتی حقیقت ہے کہ ایک حسین و جمیل لڑکی کسی بھی مرد کو شراب کے بغیر بھی مدہوش کر سکتی ہے۔

آخر چند ہی دنوں بعد شہر میں امن وسکون اور نظم و نسق کی کیفیت بحال ہوگئی، کوئی ایک بھی لڑکی کسی سالار کو اپنے جال میں نہ لاسکی شہر کے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اب وہ محفوظ ہیں، مسلمانوں نےانہیں حسن اخلاق سےاور رویے سےیہ یقین دلایا تھا۔قیرس مایوس ہوا جارہا تھا اسکےفوجی شہر سے ہمیشہ کے لئے چلے گئے تھے۔ شہری جو جانا چاہتے تھے وہ بھی جا چکے تھے، شہر میں جو لوگ رہ گئے ان میں اکثریت قبطی عیسائیوں کی تھی ،قبطی بہت خوش تھے کہ رومی گئے، لیکن ابھی یہ خدشہ دل میں موجود تھا کہ مسلمان نہ جانے ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ،مسلمانوں نے شہری حالات اور انتظامات معمول پر لاکر اعلان کردیا کہ اسلام قبول کرنےوالوں کو کیا مراعات ملیں گی،اور کسی کے مذہب اور عبادت گاہوں میں دخل اندازی اور جبر نہیں ہوگا، مختصر یہ کہ مذہبی آزادی کا اعلان کردیا گیا۔

اب قبطی عیسائی مسلمانوں کے محکوم ہوتے ہوئے اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگے ،انہوں نے ہرقل اور قیرس کے زور و استبداد میں زندگی گزاری تھی بلکہ انکی نسلیں رومیوں کی غلام چلی آ رہی تھیں، اب انہیں آزادی ملی تو انہوں نے اپنے اصل اسقف اعظم بنیامین کو جو پہلے ہی اسکندریہ میں موجود تھا کہا کہ وہ آزادی کا جشن منانا چاہتے ہیں، بنیامین نے انھیں کہا کہ وہ سپہ سالار سے اجازت لے دے گا۔

اس داستان میں بنیامین کا بڑا تفصیلی ذکر آیا ہے ،ہرقل نے بنیامین کی گرفتاری کا حکم دےدیا،اور قیرس کو اپنی بنائی ہوئی عیسائیت کا اسقف اعظم بنادیا تھا،بنیامین صحرا میں جا روپوش ہوا اور برسوں گزر گئے تھے ،اب ہرقل اور اس کے بیٹےقسطنطین کی موت کے بعد قیرس بزنطیہ سے اسکندریہ واپس آیا تو اس نے بنیامین کو روپوشی سے واپس بلالیا تھا، اور اسے کہا تھا کہ قبطی عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار کرے، بنیامین نے اسے کہا تھا کہ قبطی نہ رومیوں کا ساتھ دیں گے نہ مسلمانوں کا۔

قبطی تو رومیوں کے خلاف بغاوت پر اترے ہوئے تھے، لیکن بنیامین نے انہیں روک دیا تھا۔ اب مسلمانوں نے اسکندریہ پر قبضہ کرلیا تو بنیامین قیرس سے الگ ہو گیا اور محل سے نکل کر ایک عام سے مکان میں رہتا تھا۔

بنیامین نے سپہ سالار عمرو بن عاص سےقبطی عیسائیوں کو جشن آزادی منانے کی اجازت لے دی، لوگ شام کے بعد رات تاریک ہوتے ہی گھروں سے نکل آئے اور ٹولیوں کی صورت میں باغوں اور سرسبز میدانوں میں جا کر ناچنے گانے اور شراب نوشی کرنے لگے، بڑا ہی پرلطف ہنگامہ تھا جو رات گزرنے کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

مورخ بلاذری نے اس جشن کےمتعلق اتنا ہی لکھا ہے اس رات قبطی عیسائیوں سے اور شہر کے دیگر لوگوں نے ایسی رنگ رلیاں منائیں، جو رومی دور حکومت میں وہ بھول ہی گئے تھے۔ انہوں نے جذباتی اور جسمانی عیاشیوں کا ہر طریقہ اختیار کیا اور محفلیں ایسی جمائیں کے نیک و بد کی تمیز بھی نظرانداز کردی۔

تین اور مؤرخوں نے بھی اس جشن کے متعلق کچھ ایسے ہی ایک ایک دو دو جملے لکھے ہیں، تفصیل رومی اور مصری تاریخ نویسوں نے لکھی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جشن منانے والے اخلاقیات کی حدود پھلانگ گئے،اپنی پرائی بیویوں کی بھی تمیز اور پہچان ختم ہوگئی، یہ شراب نوشی کے کرشمے تھے، مسلمان اس جشن میں شامل نہیں تھے وہ صرف یہ دیکھ رہے تھے کہ دنگا فساد نہ ہو امن وامان رہے۔

قیرس نے اس موقع سے یہ فائدہ اٹھایا کہ جن چھ لڑکیوں کو وہ شہر پر مسلمانوں کے قبضہ کے دن سے ایک خاص ٹریننگ دے رہا تھا، جشن کی شام بلایا، انہیں تازہ پھولوں کے ہار دیئے، لباس ایسا پہنایا جس میں وہ نیم عریاں تھیں، ہر ایک کو گلاب کا ایک ایک پھول دیا۔

کسی اور تاریخ نویس نے لکھا ہے کہ پھولوں پر کوئی ایسا تیز زہر ملا ہوا تھا جسکی بو یہ پھول سننےوالے کے پھیپڑوں میں جا کر اسے کچھ ہی دیر بعد ہلاک کر ڈالتی، یا دماغ پر ایسا اثر کرتی تھی کہ دماغی توازن پاگلوں کیطرح بگڑ جاتا تھا۔

دوسرےدونوں مورخوں نےان پھولوں کا ذکر نہیں کیا، انھوں نے لکھا ہے کہ قیرس نے ان لڑکیوں سے کہا کہ ایک لڑکی سپہ سالار عمروبن عاص کےپاس اور باقی پانچ ایک ایک سالار کے پاس جائے انہیں جشن کے حوالے سے ہار پہنائے اور اپنا آپ اسطرح پیش کرےکہ وہ بد مست ہوکر انہیں قبول کرلیں، انہیں یہ پھول پیش کریں اور انھیں تھوڑی سی شراب پینے پر اکسائے شراب فوراً مل جائے گی ،گلاب کا یہ پھول شراب میں ڈبو کر شراب پلا دینا خواہ وہ ایک ہی گھونٹ پئے کام ہوجائے گا۔

لڑکیوں کو ٹریننگ دی جا چکی تھی اور وہ بہت ہی ذہین اور مکار لڑکیاں تھیں، سالار اس محل سے جس میں قیرس رہتا تھا کچھ دور کسی اور طرف رہتے تھے۔ لڑکیاں قیرس سے رخصت ہوکر چل پڑیں، راستے میں دو الگ ہوگئیں کیونکہ ان کےشکار کسی اور طرف رہتے تھے، راستے میں لوگ جشن منا رہے تھے ناچتے گاتے ان پر دیوانگی طاری ہوگئی تھی، شراب اپنا رنگ دکھا رہی تھی۔

اس ٹولی نے دو لڑکیوں کو دیکھ لیا، وہ جواں سال اور کچھ نوجوان تھے، لڑکیوں کے لباس اور ہاتھوں میں ہار دیکھ کر وہ سمجھیں کہ یہ لڑکیاں جشن منانے نکلی ہیں، ان سب نے انہیں بازوؤں پر اٹھا اٹھا کر پیار سے اچھالنا شروع کر دیا، لڑکیاں انہیں بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ کسی اور مشن پر جا رہی ہیں، وہ ہستے مسکراتے ان آدمیوں سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، دو آدمیوں نے انہیں بازوؤں میں لے کر رقص میں شامل کرلیا۔

اتنے میں بنیامین کا ادھر سے گزر ہوا ایک لڑکی نے اسے دیکھ لیا وہ بنیامین کو جانتی تھی اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ بنیامین قیرس کے ساتھ اس لئے رہتا ہے کہ وہ بھی اسقف اعظم ہے، اور مسلمانوں کے خلاف دونوں کا مشن ایک ہے، لڑکی ایک آدمی کے بازوؤں سے نکل کر بنیامین کے پاس دوڑتی پہنچی اور اسے بتایا کہ ان دونوں کو کس کام کے لئے بھیجا گیا تھا اور لوگوں نے انہیں روک کر سارا کھیل بگاڑ دیا ہے۔

بنیامین چونک اٹھا، قیرس نے اسے اس راز میں شریک کیا ہی نہیں تھا، سالاروں کے قتل کی یہ سازش اسے بتائی ہی نہیں تھی، بنیامین نے دوسری لڑکی کو بھی بلا لیا اور اس سے پوچھا کہ باقی چار لڑکیاں کہاں ہیں؟ ان دونوں نے اسے بتایا تو بنیامین انہیں اپنے ساتھ لیا اور اپنے گھر لے جا کر ایک کمرے میں بند کر دیا، باہر نکلا اور اس طرف دوڑ پڑا، جدھر چار لڑکیاں گئی تھیں، اسے معلوم تھا سالار کہاں کہاں رہتے ہیں۔

سارا شہر جاگ رہا تھا روشنی ہی روشنی تھی لیکن اسطرف اندھیرا تھا جہاں سالار رہتےتھے،سنتری ٹہل رہے تھے بنیامین ہر سنتری سے پوچھا کہ ادھر تین چار لڑکیاں تو نہیں آئیں، ہر سنتری نے تقریبا ایک جیسا ہی جواب دیا کہ ادھر لڑکیوں کا کیا کام۔

بنیامین لڑکیوں کو ڈھونڈتا پھرا لیکن اسکندریہ کوئی چھوٹا سا شہر نہ تھا کہ وہ رات ہی رات لڑکیوں کو ڈھونڈ نکالتا، صبح تک اسے لڑکیاں نہ ملیں، البتہ باغوں اور میدانوں میں اور جہاں جہاں رات جشن منایا گیا تھا وہاں کچھ آدمی کھلے آسمان تلے پڑے بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے، رات وہ اتنی زیادہ پی گئے تھے کہ جہاں گرے صبح تک وہیں پڑے رہے۔ چار لڑکیوں کا وہاں نام و نشان نہ تھا ،بعد دوپہر چار مختلف گھروں سے لڑکیاں مل گئیں، جشن منانے والوں نے رات بھر انہیں اپنے ساتھ رکھا تھا انہیں اتنی زیادہ شراب پلائی گئی تھی کہ ہوش و حواس کھو بیٹھی تھیں، چار آدمی ایک ایک لڑکی کو اپنے گھروں میں لے گئے تھے کہ باہر خراب نہ ہوتی پھریں، 

بنیامین نےان چاروں کو اپنےساتھ لیا اور گھر لےگیا۔وہ ساری رات پریشان رہا تھاکہ کوئی لڑکی کسی سالار کے پاس پہنچ ہی نہ گئی ہو، اور ایسا نہ ہو کہ کوئی سالار کسی لڑکی کے دھوکے میں آ کر مارا جائے، بنیامین نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھیں؟ چاروں نے بنیامین کو قیرس کا قابل اعتماد دوست سمجھتےہوئے اصل بات بتا دی، وہ خوش تھا کہ کوئی لڑکی کسی سالار تک نہیں پہنچ سکی تھی۔

عمرو بن عاص اور دیگر سالاروں کا ایمان ایسا کمزور تو نہیں تھا، ان میں سوائے ایک دو کے سب صحابہ کرام تھے، لیکن بنیامین کی اپنی سوچ تھی جس میں ہمدردی اور خلوص تھا، وہ ان سالاروں کا ممنون تھا کہ انہوں نے قبطی عیسائیوں کو رومیوں سے نجات دلائی تھی۔

وہ لڑکیوں کو اپنے گھر چھوڑ کر قیرس کے پاس گیا اور اس پر برس پڑا۔

تم قتل کے سوا کچھ بھی نہیں جانتے۔ بنیامین نے کہا۔ تم نے ہزار ہا قبطیوں کو قتل کروا دیا تھا ۔کیا تم نے سالاروں کو لڑکیوں کے ہاتھوں زہر دلوا دیا ہے؟ 

لڑکیاں کہاں ہیں؟ قیرس نے دبی دبی زبان میں پوچھا۔

میرے پاس۔ بنیامین نے جواب دیا۔ میں انہیں اپنے گھر چھوڑ آیا ہوں، جنگجو قوموں کے آدمی میدان میں اتر کر لڑا کرتے ہیں تمہاری طرح لڑکیوں سےدشمن کو نہیں مروایا کرتے، اگر میں ان لڑکیوں کو سپہ سالار کے پاس لے جاؤں اور وہ اسے بتائیں کہ تمہاری سازش کیا تھی تو جانتے ہو تم کس انجام کو پہنچو گے؟،،،،،قتل،،،، مسلمانوں کا سپہ سالار تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا لیکن میں تمھیں زندہ رکھنا چاہتا ہوں کہ اتنی بڑی شکست کی اذیت برداشت کرتے رہو اور گمنامی میں پڑے رہو ۔

یہ بنیامین کے کردار کی بلندی تھی کہ سپہ سالار عمرو بن عاص کو بتائے بغیر اس نے ان کا احسان چکا دیا تھا۔

فتح مصر کے بعد کی ایک اور دلچسپ بات سن لیں۔ اس داستان "اور نیل بہتا رہا" میں ایک واقعہ سنایا گیا ہے کہ عیسائیوں کا ایک فرقہ سال میں ایک خاص دن عید صلیب منایا کرتا تھا، اس دن ایک رسم ادا کی جاتی تھی جس میں ایک نوجوان لڑکی کو عروسی لباس اور بڑی قیمتی زیورات پہنا کر دریائے نیل میں پھینک دیا جاتا تھا اور لڑکی ڈوب کر مر جاتی تھی، اس لڑکی کو نیل کی دلہن کہا جاتا تھا، اس فرقہ کا عقیدہ یہ تھا کہ کسی سال نیل کی یہ قربانی نہ دی جائے تو اس کا بہاؤ رک جاتا ہے اور اس کے دونوں طرف کے کھیت خشک ہوجاتے ہیں اور فصل نہیں اگتی جس کا نتیجہ قحط ہوتا ہے۔

عیسائیت ایسی توہم پرستی بلکہ خرافات میں بالکل یقین نہیں رکھتی تھی، وہ کوئی ایسا فرقہ تھا جو خود کو عیسائی کہلاتا تھا، بنیامین بھی اس ظالمانہ رسم کے خلاف تھا اور قیرس بھی، رومیوں کے دور حکومت میں یہ رسم ممنوع تھی اور اسے قتل سمجھا جاتا تھا ،اس کے باوجود شہروں سے دور ہر سال یہ رسم ادا ہوتی تھی۔ بعض مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ رسم دراصل فرعونوں کے زمانے سے چلی آرہی تھی اور فرعون اس میں یقین رکھتے تھے۔ عمرو بن عاص نے مصر فتح کر لیا تو اس فرقے کا ایک وفد ان کے پاس آیا، چونکہ حکمران رومیوں نے نیل کی دلہن والی رسم کو جرم قرار دےرکھا تھا اس لئےوہ مصر کےفاتح سپہ سالار عمرو بن عاص جو اب امیر مصر بھی تھےکہ پاس یہ استدعا لے کر آئے کہ انھیں یہ رسم جاری رکھنےکی اجازت دی جائے، عید صلیب کو دو ماہ باقی تھے۔ 

جاری ہے...

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023