اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر61

 



اختمون نے اپنےساتھی سےکہا کہ نکالو خنجر دیکھتے کیا ہو، اس کا ساتھی اپنے کپڑوں کے اندر سے خنجر نکالنے لگا تو خیمے کے باہر کھڑا محافظ بڑی تیزی سے خیمے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی وہ اس قدر پھرتیلا تھا کہ خیمے کے دروازے میں نظر آیا اور دوسرے لمحے اس کی تلوار کی نوک اختمون کے ساتھی کے سینے میں چبھ رہی تھی، محافظ نے اسے خنجر پھینک دینے کو کہا، تو اس نے بڑے اطمینان سے خنجر پھینک دیا۔

سپہ سالار عمرو بن عاص نے شاید کوئی آواز پہلے ہی مقرر کر رکھی تھی جو انہوں نے منہ سے نکالی تو محافظ جو اسی آواز کے انتظار میں تھا کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح خیمے میں آیا اور اس شخص کو اپنے قابو میں لے کر اسے نہتا کر دیا ،اختمون عمرو بن عاص کے قابو میں تھا۔

ان کا تیسرا ساتھی جو باہر کھڑا تھا اسے ابھی معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ خیمے کے اندر کیا ہو رہا ہے یہ دیکھنے کے لئے وہ خیمے کی طرف چلا تو دو محافظ مجاہدین نے پیچھے سے آ کر اسے دبوچ لیا ،مجاہدین کے لشکر کے سپہ سالار کو قتل کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی، کرسٹی نے ان تینوں کو پھنسانے کے لیے بڑا ہی خوبصورت پھندہ تیار کیا تھا، اور اللہ تعالی نے اسے کامیابی عطا فرمائی، شارینا اور اس کے خاوند حدید نے اس کے ساتھ ایسا تعاون کیا تھا جس کے بغیر وہ کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔

عمرو بن عاص نے تمام سالاروں کو بلوایا ۔اختمون اور اس کے ساتھیوں کو باہر لے گئے۔

ننگی تلواروں سے مسلح چار محافظ ان تینوں کے دائیں بائیں اور پیچھے کھڑے ہو گئے۔

اے خوش قسمت سپہ سالار!،،،،، اختمون نے عمرو بن عاص سے کہا۔۔۔ہم تمہیں قتل کرنے آئے تھے اور یہ قالین تو محض ایک بہانہ تھا تیری خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی کہ ہم کامیاب نہ ہو سکے ،میں نے سنا ہے کہ مسلمانوں کا کردار اور اخلاق بہت ہی بلند اور قابل تعریف ہے، میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان بخشی کی درخواست نہیں کروں گا صرف یہ درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں فوراً قتل کروا دیں ہمیں اذیتیں دے دےکر اور ترسا تڑپا کر نہ مارنا۔

سالاروں کو پہلےہی معلوم تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے وہ سپہ سالار کے بلاوے کےہی منتظر تھے اطلاع ملتے ہی دوڑے آئے ۔

عمرو بن عاص نے انہیں بتایا کہ یہ درخواست کرتے ہیں کہ انہیں فوراً قتل کر دیا جائے اور ایذا رسانی سے بچایا جائے۔

سالار یہ سن کر خاموش رہے انہیں یہ معلوم تھا کہ ان تینوں کو سزائے موت ہی دی جائے گی، لیکن عمرو بن عاص نے فیصلہ سنایا تو سب ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے۔

میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ عمرو بن عاص نے کہا۔ تم مجھے قتل کرنے آئے نہیں بلکہ بھیجے گئے تھے، میں تمہیں یہاں بھیجنے والے کو قتل کر آؤں گا۔ تم آزاد ہو واپس جاؤ اور اپنے جرنیلوں اور بزنطیہ میں بیٹھے ہوئے اپنے بادشاہوں کو بتانا کہ مرد میدان میں آ کر لڑا کرتے ہیں، یوں اپنےدشمن کو فریب کاری سے قتل کروانے کی کوشش عموماً شکست کا باعث بنا کرتی ہے۔ انہیں کہنا کہ اسکندریہ کی دیواروں اور قلعہ بندیوں کی پناہ سےباہر آؤ اور لڑ کر ہمیں یہاں سے پسپا کرو، تمہارے پاس اتنی زیادہ فوج ہے جس کے مقابلے میں میرا یہ لشکر کچھ بھی نہیں،آؤ اور اس چھوٹے سے لشکر کو کچل ڈالو۔

یقین نہیں آتا سپہ سالار!،،،،، اختمون نے کہا۔۔۔ تو ہمارے ساتھ کھیل رہا ہے ،ہمارا مذاق اڑا رہا ہے، ہم اسے جذباتی اذیت سمجھتے ہیں، مسلمانوں کے کردار کی تو ہم نے کوئی اور ہی کہانیاں سنی تھیں، ہم قتل ہونے کے لیے تیار ہیں ،تیرے قتل کا عہد ہم نے یہ قبول کرکے کیا تھا کہ ہم زندہ واپس نہیں جا سکیں گے۔

اور میں عہد کر چکا ہوں کہ تم زندہ واپس جاؤ گے۔۔۔ عمرو بن عاص نے کہا۔۔ تم نے ہمارے کردار کی جو کہانیاں سنی ہے ان میں یہ کہانی سب سے زیادہ دلچسپ اور انوکھی ہوگی جو تم باقی عمر لوگوں کو سناتے پھرو گے ۔

اختمون اور اس کے ساتھی حیرت میں ڈوبتے چلے جارہے تھے انہیں بڑی مشکل سے یقین آیا کہ سپہ سالار نے انہیں معاف کردیا ہے۔

مجھے صرف ایک بات بتا دے ائے سپہ سالار!،،،،،، اختمون نے پوچھا۔۔۔ تجھے کس طرح پتہ چل گیا تھا کہ میں خنجر نکال رہا ہوں، کہیں ایسا تو نہیں کہ تجھے پہلے ہی علم تھا کہ ہم تجھے قتل کرنے آ رہے ہیں؟ 

کیا تم اس پر حیران نہیں ہوئے کہ ہم اتنے تھوڑے ہیں اور کتنی بڑی فوج سے مصر چھین لیا ہے۔۔۔ عمرو بن عاص نے کہا۔۔۔ میرا تمہارے قاتلانہ حملے سے بچ نکلنا تو معمولی سی بات ہے، ہمیں اپنے اللہ پر بھروسہ ہے اور جسے وہ زندہ رکھنا چاہتا ہے اس کا کوئی سبب پیدا کر ہی دیتا ہے ،ہم کسی کو چوری چھپے قتل نہیں کیا کرتے۔

تو پھر یہ بھی سن لے آئے خوش بخت سپہ سالار!،،،،،، اختمون نے کہا۔۔۔ اسکندریہ بھی تیرا ہے، ہمیں اسقف اعظم قیرس نےتیرے قتل کے لیے بھیجا تھا، میرا خیال ہے کہ ہرقل کی ایک بیوہ مرتینا نے اسے پیغام بھیجا تھا کہ مسلمانوں کے سپہ سالار کو قتل کروا دو تو اس کے لشکر کے حوصلے پست ہوجائیں گے، دوسری بات یہ کہ قیرس اور مصر کی فوج کے سب سے بڑے جرنیل تھیوڈور میں اختلاف پائے جاتے ہیں ، دونوں کی نیتوں میں خاصا فرق پیدا ہو گیا ہے اور وہ کسی ایک بات پر متفق نہیں ہوتے ،اسکندریہ کے شہری اپنی فوج سے بیزار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

کیا بزنطیہ سے کمک نہیں آرہی ؟،، عمرو بن عاص نے پوچھا۔

نہیں!،،،،،، اختمون نے جواب دیا۔۔۔۔ بزنطیہ میں کچھ اور ہی چپقلش اور سازشیں چل رہی ہیں جو اسکندریہ پر بھی اثرانداز ہورہی ہے، اسکندریہ میں تو تیرے ساتھ صلح کے معاہدے کی بات ہوتی ہے اگر تو نے اتنے ہی چھوٹے سے لشکر سے بابلیون اور کریون کے قلعے فتح کیے ہیں تو اسی لشکر سے تو اسکندریہ بھی فتح کر لے گا۔

سپہ سالار عمرو بن عاص نے حکم دیا کے انکے قالین انہیں دے دیے جائیں اور انہیں واپس چلے جانے کی اجازت ہے۔

اختمون اصرار کرنے لگا کے وہ قالین واپس نہیں لے جائیں گے۔

لیکن عمرو بن عاص نے کہا کہ اسلام میں جان بخشی کی قیمت وصول کرنا گناہ ہے، اور ہر وہ چیز اسلام میں حرام ہے جو مال غنیمت کے زمرے میں نہیں آتی، اگر قیرس ، یا تمہارا سب سے بڑا جرنیل، یا تمہارا بادشاہ ملنے آئے اور اپنے ساتھ کوئی تحفہ لائے تو وہ میں قبول کر سکتا ہوں ،تمہارا کوئی تحفہ مجھ پر حرام ہے ۔

محافظ دستے کے مجاہدین نے قالین خیمے سے نکالے اور ان کے حوالے کر دیئے تینوں سر جھکائے ہوئے رخصت ہوگئے۔

ان کے جانے کے بعد عمرو بن عاص نے کرسٹی کو بلوایا وہ آئی تو اسے بے ساختہ اور بے دریغ خراج تحسین پیش کیا، پھر پوچھا کہ وہ کیا انعام چاہتی ہے، اگر وہ آزاد ہونا چاہتی ہے تو اس کی یہ خواہش بھی پوری کی جاسکتی ہے۔

نہیں قابل احترام سپہ سالار!،،،، کرسٹی نے کہا۔۔ میں اب آزاد نہیں ہونا چاہتی ،مجھے اسلام میں داخل کرلیا جائے، اور اگر مجھے کوئی مسلمان قبول کرلے تو میں اس کے ساتھ شادی کرکےخوشی محسوس کروں گی،لیکن میں یہ بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں ایک آبروباختہ لڑکی ہوں ، میرے خیال میں نے آپ کو قتل ہوجانے سے اس لئے بچایا ہے کہ میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی۔

اللہ بخشنے والا اور رحم کرنےوالا ھے۔ عمرو بن عاص نے کہا۔ ہماری عورتیں تمہیں اسلام سے ایسا روشناس کروائیں گی کہ تم اپنے آپ کو پاکباز عورت سمجھنے لگو گی، تمہاری شادی بھی کرا دی جائے گی۔  اس سے اگلے روز یا دو روز بعد کا واقعہ ہے کہ رومی فوج کا ایک دستہ شہر سے باہر نکلا اس دستے کی نفری بھی کوئی زیادہ نہیں تھی، لیکن اس سے پہلے جتنی نفری باہر آکر واپس چلی جاتی تھی اس سے اس دستے کی نفری زیادہ تھی، تاریخ میں اس دستے کی نفری کا کوئی واضح ذکر نہیں ایک دو اشاروں سے کچھ پتہ چلتا ہے کہ ایک ہزار کے لگ بھگ تھی ،اس دستے کے کمانڈر نے مسلمانوں کو للکارا ۔

عمرو بن عاص نے اس دستے جتنی ہی نفری آگے کی لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ رومیوں کا انداز وہی پہلے والا ہےکہ وہ مجاہدین کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں۔

میں اپنا ایک بہادر آگے کرتا ہوں۔۔ رومیوں کے کمانڈر نے للکار کر کہا۔ تم اس کے مقابلے کے لئے اپنا کوئی بہار آگے کرو۔

کھلی لڑائی سے پہلے ذاتی مقابلے اس دور کی لڑائیوں کا ایک رواج تھا، مجاہدین کے سالار مسلمہ بن مخلد نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آگے چلے گئے، ادھر سے ایک قوی ہیکل رومی گھوڑےپر سوار پہلےہی دونوں طرف کی فوجیوں کے درمیان پہنچ چکا تھا۔ تاریخ شہادت دیتی ہے کہ مسلمہ بن مخلد بہادری کے کارناموں میں بہت ہی مشہور تھے، وہ اس رومی کے مقابلے کو آگے بڑھے دونوں کے پاس برچھیاں تھیں اور وہ ایک دوسرے کو گھوڑے سے گرانے کی کوشش کر رہے تھے، دونوں وار کرتے بھی تھے اور وار بچاتے بھی تھے۔

پھر یوں ہوا کہ رومی بڑی ہی تیزی سے آیا یوں معلوم ہوتا تھا کہ دونوں کے گھوڑے آمنے سامنے سے ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں گے، رومی نے طاقت سے برچھی کا وار کیا جو مسلمہ نے بچا لیا لیکن رومی کا گھوڑا مسلمہ کے گھوڑے کے پہلو سے اتنے قریب سے گزرا کی مسلمہ نے آگے جھک کر برچھی کا وار تو بچا لیا لیکن رومی نے اپنے کندھے سے اتنی زور سے دھکا دیا کہ مسلمہ اپنے گھوڑے سے نیچے آ پڑے اور ان کے ہاتھ سے برچھی چھوٹ گئی ۔

رومی نے ذرا ہی آگے جاکر گھوڑا روکا بڑی تیزی سے موڑا اور مسلمہ کیطرف گھوڑا دوڑا دیا صاف پتہ چلتا تھا کہ مسلمہ جو اٹھ ہی رہے تھے رومی کی برچھی کا شکار ہو جائیں گے، لیکن انہوں نے اپنے گھوڑے کے پہلو کی ایک طرف ہو کر وار بیکار کر دیا۔

مسلمہ نے گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں رکھا تو رومی پھر واپس آیا اور اب کے تو اس کا گھوڑا بہت ہی تیز تھا اس نے مسلمہ کو گھوڑے پر سوار ہونے کی مہلت نہ دی اور برچھی بلند کرکے پوری طاقت سے ماری مسلمہ رکاب سے پاؤں نکالا اور بیٹھ گئے، اس طرح رومی کی برچھی انہیں لگنے کی بجائے گھوڑے کے پہلو میں لگی اور گھوڑا بھاگ اٹھا، مسلمہ اب پیادہ ہوگئے۔

مسلمہ کی برچھی یہ وار بچاتے ایک بار پھر گر پڑی، اب کے رومی پیچھے کو مڑا تو صاف نظر آنے لگا کے وہ مسلمہ کو برچھی کی انی پر لے لے گا یا اپنے گھوڑے تلے روند ڈالے گا۔ اس وقت ایک مجاہد نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور مسلمہ کو بچانے کے لیے سرپٹ گھوڑا دوڑا دیا پیشتر اس کے کہ رومی مسلمہ تک پہنچتا مجاہد پہنچ گیا اور اس نے برچھی کے پہلے وار سے ہی رومی کو گھوڑے پر اوندھا کردیا ۔ مجاہد کی برچھی رومی کے پیٹ میں اتر گئی اور اس کی انی پیٹ کیطرف سے باہر آگئی تھی، مسلمہ اٹھے اور ندامت کے سے عالم میں اپنے لشکر میں واپس آگئے۔

مؤرخوں نے لکھا ہے کہ سپہ سالار عمرو بن عاص کے چہرے پر ناراضگی اور غصےکا گہرا تاثر آگیا انہیں مسلمہ سے ایسی شکست کی امید نہ تھی، مسلمہ سر جھکائے ہوئے سپہ سالار کے قریب پہنچے ۔

مسلمان مؤرخوں نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ عمرو بن عاص نے مسلمہ سے کہا۔۔۔ تم جیسا شخص جو عورتوں کی خصلت رکھتا ہو اسے مردانہ کاموں میں دخل دینے کی کیا ضرورت آپڑی تھی۔

تاریخ میں یہ بھی آیا ہےکہ مسلمہ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوئے انہوں نے قہر اور غضب سے سپہ سالار کی طرف دیکھا ، لیکن وہ غصہ پی گئے۔

یہ پہلا موقع تھا کہ رومی دیوار سےکچھ زیادہ آگے آگئے تھے عمرو بن عاص نےحملے کا حکم دے دیا سالاروں کو انہوں نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ حملہ کس طرح کرنا ہے جس میں سب سے اہم ہدایت یہ تھی کہ قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کرنی ہے،لیکن رومی جو لڑنے کےلئے آگے تو آگئے تھے وہ ایسا خطرہ مول لینے والے نہیں تھے کہ شہر کا دروازہ مجاہدین اسلام کے لیے کھلا چھوڑ دیتے، انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ کچھ زیادہ نفری دروازے کے آگے کر دی اور دروازہ کھلا رہنے دیا۔

دیوار پر زیادہ خطرناک چیز منجنیقیں تھیں ،لیکن مسلمان اتنا آگےچلے گئے تھے جہاں منجنیقیں اوپر سے نیچے کیطرف سنگ باری نہیں کر سکتی تھیں، رومی تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑیں تو کی لیکن دونوں طرف کے آدمی اس طرح گڈ مڈ ہو گئے تھے کہ تیر اندازی رک گئی، یہ اس لئے بھی رکی کے مسلمان تیر اندازوں نے دیوار پر تیر پھینکنے شروع کر دیئے تھے۔

رومیوں کا انداز یہ تھا کہ وہ پیچھے ہی ہٹتے جا رہے تھے اور مجاہدین کی کوشش یہ تھی کہ رومیوں کے اس پہلو پر چلے جائیں جس پہلو پر شہر کا دروازہ تھا،سالاروں کی للکار یہی تھی کہ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرو، معرکہ بڑا ہی گھمسان تھا لیکن رومی پیچھے ہٹتے ہٹتے شہر کے اندر جاتے رہے ان کا جانی نقصان تو اچھا خاصہ ہوا لیکن وہ شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے، اور کوئی ایک بھی مجاہد ان کے پیچھے دروازے تک نہ پہنچ سکا پھر دروازہ بند ہو گیا مجاہدین کو واپس آنا پڑا۔

آخر جمعۃ المبارک کی صبح طلوع ہوئی مجاہدین نے اپنے سپہ سالار کی امامت میں نماز فجر ادا کی اور سپہ سالار نے لشکر کو بتایا کہ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے پیغام میں لکھا تھا کہ حملہ بعد از نماز جمعہ کیا جائے اور دعا بھی کی جائے یہ وقت دعاؤں کی قبولیت کا ہوتا ہے۔

نماز جمعہ کا وقت آیا تو پورے لشکر نے نماز پڑھی خطبے میں عمرو بن عاص نے لشکر کو امیرالمومنین کے پیغام کے یہ الفاظ ایک بار پھر سنائے، کہ تم میں وہ پہلے والا جذبہ نہیں رہا، اور شہادت کی طلب بھی نہیں رہی ،اور تمہیں وہ جگہ پسند آگئی ہے اور وہیں کے ہو کے رہ گئے ہو، عمرو بن عاص نےلشکر سے کہا کہ آج ہمیں امیرالمومنین کا یہ شبہ رفع کرنا ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی کو پیش نظر رکھنا ہے۔

لشکر میں جوش و خروش تو وہی تھا جو پہلے بھی ہوا کرتا تھا اس میں کوئی کمی نہیں آئی تھی لیکن بند دروازوں والے قلعے پر یلغار خودکشی کے برابر تھی، اسکندریہ کے دفاع کی بات ہی کچھ اور تھی سالاروں کو سپہ سالار نے ضروری ہدایات اور احکام پہلے ہی دے دیے تھے لشکر ہر طرح تیار تھا۔

اللہ نے مجاہدین کے لیے پہلی سہولت یہ مہیا کر دی کہ نماز سے فارغ ہوۓ ہی تھے کہ رومی فوج باہر آ گئی اس روز ان کی اچھی خاصی زیادہ نفری باہر آئی تھی ان کی للکار سے پتہ چلتا تھا کہ آج وہ لڑنے کے ارادے سے آئے ہیں۔

تاریخ میں ابن الحکم اور علامہ بلاذری کے حوالے سے یہ بات بھی آئی ہےکہ شہر کی اسطرف والی دیوار پر اس قدر آدمی کھڑے کردیے گئےتھے کہ ایک ہجوم تھا جس نے انسانی دیوار کی شکل اختیار کرلی تھی،ان میں جرنیلوں نےشہر کےلوگوں کو دیوار پر کھڑا کردیا تھا اور ان میں عورتیں بھی تھیں اور عورتوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے چہرے باہر کی طرف نہ رکھیں بلکہ پیٹھ باہر کو رکھیں تاکہ مسلمانوں کو یہ یقین ہوکہ یہ عورتیں نہیں بلکہ مرد ہیں،یہ ہجوم دراصل مجاہدین کو ڈرانے کے لئے دیوار پر کھڑا کیا گیا تھا کہ دیکھ لو ہماری تعداد اتنی زیادہ ہےکہ تم یہ شہر فتح نہیں کرسکتے۔

سپہ سالار عمرو بن عاص کے حکم سے ایک بلند آواز مجاہد آگےچلا گیا اور اس نے بڑی ہی بلند آواز سے رومیوں سے کہا کہ ہم تعداد سےڈرنے والےنہیں اگر ہم جنگی طاقت اور تعداد سے ڈر جاتے تو مصر میں داخل ہی نہ ہوتے،، یہ مجاہد واپس آگیا ،عمرو بن عاص نے بلند آواز سے اپنے لشکر سے کہا کہ تعداد سے نہ ڈرو ،لڑنے والے یوں اوچھی حرکتوں اور باتوں سے ڈرایا نہیں کرتے وہ لڑا کرتے ہیں، ان رومیوں کے اس مظاہرے سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ خود ڈرے ہوئے ہیں، خدا کی قسم آج ہم قلعے میں داخل ہو ہی جائیں گے۔

اس کےفوراً بعد سپہ سالار نےبڑی تیز اور شدید یلغار کا حکم دےدیا، رومیوں نے دیوار پر شہریوں کے ہجوم کو اکٹھا کرکے بڑی ہی حماقت کا مظاہرہ کیا تھا ،جب مجاہدین نے ہلہ بولا تو دیوار کے تیر اندازوں اور منجنیقوں کا جو خطرہ تھا وہ اس طرح کم ہو گیا کہ ان کا اپنا ہی ہجوم ان کے لیے رکاوٹ بن گیا، تیروں اور پتھروں سے بچنے کے لیے مجاہدین نے یہ طریقہ بھی اختیار کیا کہ بڑی ہی تیزی سے رومیوں پر جھپٹ پڑے لڑائی کی صورت ایسی پیدا ہوگئی کہ کسی بھی منجنیق کا کوئی ایک پتھر بھی نہ آیا اور تیر اندازی بھی خاصی کم رہی ،کیونکہ ان کے اپنے ہی فوجی زد میں آتے تھے۔

 تیروں اور پتھروں سے بچنے کے لیے مجاہدین نے یہ طریقہ بھی اختیار کیاکہ بڑی ہی تیزی سےرومیوں پر جھپٹ پڑے۔ لڑائی کی صورت ایسی پیدا ہو گئی کہ کسی بھی منجنیق کا کوئی ایک پتھر بھی نہ آیا اور تیر اندازی بھی خاصی کم رہی ،کیونکہ ان کے اپنے ہی فوجی زد میں آتے تھے۔

اس روز واقعی رومی لڑنے کے ارادے سے نکلے تھے وہ یہ احساس بھی رکھتے تھے کہ اسکندریہ گیا تو پورا مصر گیا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ فوج کو شراب پلا کر باہر بھیجا گیا تھا، بہرحال فوج پورے جذبے اور جوش سے لڑ رہی تھی مجاہدین کو عمرو بن عاص نے بڑی مہارت سے اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا تاکہ جس چال اور ترتیب سے وہ حملہ کرنا چاہتے تھے اس میں ذرا سی بھی گڑبڑ نہ ہو ،کوشش یہ تھی کہ قلعے میں داخل ہوا جائے، اسکا مجاہدین کو خاصا تجربہ حاصل ہو چکا تھا مجاہدین کا زیادہ دباؤ رومیوں کے اس پہلو پر تھا جس پہلو پر صدر دروازہ تھا۔

دروازے تو اور بھی تھے لیکن ابھی رومی فوج انکےآگے حائل تھی ، عمرو بن عاص نے دوسرے پہلو پر حملہ کروا دیا اس طرح رومی پہلوؤں کی طرف سے سکڑتے گئے اور ایک گھنے ہجوم کی صورت اختیار کر گئے، ان کے پیادے گھوڑ سواروں کی لپیٹ میں آنے لگے اور ان میں جو گر پڑتا تھا وہ گھوڑوں کے قدموں تلے کچلا جاتا تھا ، سپہ سالار نے رومیوں کو اور زیادہ بےحال اور مجبور کرنے کےلیے اپنےمحفوظہ کے دستوں میں سے ایک دستہ آگے کردیا کہ وہ سامنے کے رومیوں پر ٹوٹ پڑیں، دائیں بائیں سے تو رومیوں پر خاصا دباؤ پڑ رہا تھا۔

اسکا نتیجہ خاطر خواہ نکلا رومیوں کی چیخ و پکار نے اندر والوں کو مجبور کردیا کہ اس طرف سے بھی دروازے کھول دیں، اس وقت رومیوں کی دراصل ضرورت یہ تھی کہ اندر سےمزید فوج باہر بھیجی جائےجو مجاہدین کو پسپا کر دے، لیکن دروازے کھلے تو گھوڑ سوار رومی اندر جانے لگے اس طرح انہوں نے اندر سے آنے والوں کا راستہ روک لیا ، مجاہدین اس دیوار کے قریب چلے گئے تھے کہ اوپر سے تیر آتے تو ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تھے، سپہ سالار نے اپنے تیراندازوں کو ایسے مقام پر مورچہ بند کر دیا تھا جہاں سے ان کے تیر بڑی آسانی سے دیوار پر پہنچ جاتے تھے اور رومی تیر انداز اور منجنیقوں کے آدمی زخمی ہو کر وہاں سے ہٹ رہے تھے۔

اس خونریز معرکے میں ذاتی شجاعت کے بڑے ہی کارنامے ہوئے، اس روز مجاہدین کا جوش و خروش انتہا سے بھی آگے نکل گیا تھا، وہ طویل محاصرے سے تنگ آئے ہوئے تھے اور پھر امیر المومنین نے ان کی نیتوں پر شک کا اظہار کیا تھا ان میں کچھ اس قسم کا احساس پایا جاتا تھا کہ امیرالمومنین ناراض ہیں تو سمجھو اللہ بھی ناراض ہے۔

تمام سالار پوری حاضر دماغی سے کام لے رہے تھے، اسوقت تک انہیں رومیوں کی کمزوری کا پتہ چل چکا تھا، آخر رومی اپنی جان بچانے کے لئے لڑنے لگے اور اسکے ساتھ ہی وہ کھلے دروازوں سے اندر جانے لگے، رومی اس قدر خوفزدہ ہوچکے تھے کہ انھیں صدر دروازہ بند کرنے کی بھی ہوش نہ رہی، ایک تو ان کی ضرورت تھی کہ یہ دروازہ کھلا رہے کیونکہ باہر کے فوجی اندر جا رہے تھے اور اندر سے فوجی باہر آنے کی کوشش میں تھے۔

اس ہڑبونگ اور خونریزی میں مجاہدین قلعے میں داخل ہو گئے، قلعے میں داخل ہونے والوں میں سپہ سالار عمرو بن عاص بھی تھے اور مسلمہ بن مخلد بھی، مجاہدین نے جب دیکھا کہ ان کے سپہ سالار اور سالار بھی قلعے میں چلے گئے ہیں تو انہوں نےبڑا زور دار ہلہ بولا اور قلعے میں داخل ہوگئے وہ اس خطرے کےپیش نظر جانوں کی بازی لگا کر قلعے میں داخل ہوئے تھے کہ ان کے سپہ سالار اور ایک دو سالار اندر چلے گئے تھے اور صاف نظر آرہا تھا کہ رومی انہیں گھیر کر کاٹ پھینکیں گے۔

یہ خبر تمام تر لشکر میں پھیل گئی کے سپہ سالار قلعے میں داخل ہوگئے ہیں اس سے مجاہدین کے جوش و خروش میں مزید اضافہ ہوگیا،ان سالاروں کو جو ابھی باہر تھے یہ خطرہ نظر آنےلگا کہ سپہ سالار اور جو سالار اندر چلے گئےہیں زندہ پکڑے جائینگے۔ مجاہدین پکڑے جانے کی بجائے جان دے دینا بہتر سمجھتے تھے، سپہ سالار کا زندہ گرفتار ہو جانا پورے لشکر کے لئے بڑا ہی نقصان دہ تھا۔

مسلمانوں کے ہاں ایسی کوئی بات نہیں تھی کہ کمانڈر پکڑا جاتا تو پورا لشکر بھاگ اٹھتا، مسلمانوں کا انداز اور طور طریقہ یہ تھا کہ سپہ سالار کے شدید زخمی یا شہید ہوجانے کی صورت میں کوئی دوسرا سالار کمان لے لیتا اور لشکر کی قیادت میں ذرا سا بھی فرق نہیں آتا تھا ،پھر بھی عمرو بن عاص جیسے سپہ سالار کا دشمن کے ہاتھ چڑھ جانا کوئی اچھی بات نہیں تھی، تاہم مجاہدین پر اس کا یہ اثر نظر آیا کہ جہاں جہاں سپہ سالار کے اندر چلے جانے کی خبر پہنچی اور ساتھ یہ خطرہ محسوس ہوا کہ وہ زندہ نہ پکڑے جائیں مجاہدین کا جوش و خروش اس قدر زیادہ ہو گیا جیسے وہ ان دیواروں کو ہاتھوں سے گرا کر اندر چلے جائینگے اور اپنے سپہ سالار کو زندہ و سلامت دیکھیں گے۔

مجاہدین اسی جوش و خروش سے اندر گئے تو یوں لگتا تھا جیسے خاک و خون کا طوفان آ گیا ہو، ان کے سامنے جو آیا وہ کٹ کر گرا اور تڑپنے لگا لیکن اندر رومی فوج کی تعداد مجاہدین کی نسبت بہت ہی زیادہ تھی جرنیلوں نے اپنے فوجیوں کو ایسا بھڑکایا اور گرمایا کےرومی بھی جوش اور بڑے ہی مضبوط حوصلے کے ساتھ مجاہدین پر جھپٹ پڑے جرنیل للکار رہے تھے کہ یہ بہت ہی تھوڑے ہیں انھیں گھیر کر ختم کر دو۔

شہر کی عورتیں بھی اپنے فوجیوں کو للکار اور گرما رہی تھیں، پھر یوں ہوا کہ رومیوں نے تمام دروازے بند کر دیے مجاہدین کی بیشتر نفری باہر ہی رہ گئی۔ تاریخ اس معرکے کو یوں بیان کرتی ہے کہ اندر والے مجاہدین لڑ رہے تھے اور دروازوں کی طرف اس لئے ہٹ رہے تھےکہ دروازہ پھر کھول دیں۔

تاریخ میں یہ واضح نہیں کہ ایک دروازہ کسطرح کھل گیا ، توقع تو یہ تھی کہ اس دروازے سےمجاہدین اندر چلے جائیں گےلیکن اس دروازےپر اتنےزیادہ رومی تھے کہ باہر سے کوئی اور مجاہد اندر نہ جاسکا بلکہ اندر والے مجاہدین پر اتنا دباؤ پڑا کہ اس دروازے سے باہر آ گئے اور دروازہ پھر بند ہو گیا۔

غیرمسلم مؤرّخوں نے جن میں بٹلر خاص طور پر قابل ذکر ہے اور تمام مسلمان مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مجاہدین تو باہر آگئے لیکن چار مجاہدین اندر ہی رہے ان میں سپہ سالار عمرو بن عاص تھےاور سالار مسلمہ بن مخلد بھی تھے،اور دوسرے دو مجاہدین تھےیہ چاروں ایسی دیوانگی کےعالم میں لڑ رہے تھے کہ کوئی بھی رومی ان کے قریب آنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، اتفاق دیکھئے کہ عمرو بن عاص کو کوئی رومی نہیں پہچانتا تھا کسی رومی جرنیل کو بھی معلوم نہیں تھا کہ ان چار مجاہدین میں ایک سپہ سالار عمرو بن عاص ہیں، اور ایک اور سالار بھی ہے ،اگر انہیں پتہ چل جاتا تو وہ جانیں لڑا کر ان دونوں سالاروں کو زندہ پکڑ لیتے اور پھر صلح کی اپنی شرائط مسلط کرتے۔

اسقف اعظم قیرس نے تو عمرو بن عاص کو قتل کروانے کے لئے خزانہ لٹا دیا تھا اگر عمرو بن عاص اس کے ہاتھ چڑھ جاتے یا اسے معلوم ہوتا کہ ان چاروں میں یہ شخص عمرو بن عاص ہے تو وہ انہیں فوراً قتل کروادیتا اس کا خیال یہ تھا کہ سپہ سالار ختم ہو جائے تو اس قلیل سے لشکر سے مصر چند دنوں میں واپس لیا جاسکتا ہے، پتہ یہ چلتا ہے کہ روم کے حکمران حلقوں میں عمرو بن عاص ایک دہشت کا نام بن گیا تھا۔

یہ بھی اللہ کی مدد تھی کہ عمرو بن عاص کو وہاں کوئی بھی نہیں پہچانتا تھا یہ چاروں لڑتے رہے اور رومی انہیں عام سےقسم کے یا سپاہیوں کی حیثیت کے مجاہد سمجھتے رہے، رومیوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ قلعہ محفوظ ہے اور مسلمانوں کو باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ اور دیواروں سے تیر انداز انہیں اور دور ہٹا چکے ہیں تو رومی ہنسی مذاق کے موڈ میں آ گئے، اتنی بڑی فوج کےلیے چار آدمیوں کو پکڑنا یا تلواروں اور برچھیوں سے مار ڈالنا کوئی بڑی بات تھی ھی نہیں، چاروں اس طرح لڑ رہے تھے کہ انہوں نے پیٹھ جوڑی ہوئی تھی اور رومی فوجی انہیں گھیرے میں لیے ہوئے آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹ آتے تھے، کسی طرف سے بھی ان پر کوئی وار کارگر نہیں ہوتا تھا یہ سب جانتے تھے کہ ان پر ہر طرف سے تیر چلائے جائیں گے اور یہ ڈھیر ہو جائینگے لیکن ایک جرنیل کو کوئی اور ہی خیال آ گیا۔

اس جرنیل نے اپنے ان آدمیوں کو پیچھے ہٹ آنے کا حکم دیا جو ان چاروں کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اب صورت یہ تھی کہ یہ چاروں اکٹھے کھڑے تھے۔ اور ذرا دور ہٹ کر رومی فوجی اور شہری دائرے میں یوں کھڑے تھے جیسے تماشائی دنگل دیکھنے کے لئے اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔

ٹھہر جاؤ!،،،، یہ جرنیل ان مسلمانوں کے قریب آیا اور بولا۔۔۔تمھارے لشکر نے ہمارے کچھ آدمی قید کر لیے ہیں ہم تمہیں دیوار پر لے چلتے وہاں سے اپنے سپہ سالار سے کہو کہ وہ ہمارے آدمیوں کو چھوڑ دے اور ہم تم چاروں کو عزت سے رخصت کر دیں گے ۔

عمرو بن عاص نے اپنا چہرہ اس طرح چھپا لیا تھا کہ انکی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں انہوں نے محسوس کرلیا تھا کہ انہیں کسی نے پہچانا نہیں انہوں نے جرنیل کی یہ شرط ماننے سے انکار کردیا۔

ہم کسی شرط پر ہتھیار نہیں ڈالا کرتے۔۔۔ عمرو بن عاص نے کہا ۔۔۔ہم جانیں دے دیتے ہیں اور اللہ کے حضور سرخرو ہو جاتے ہیں۔ اگر تم اسے بہادری سمجھتےہو کہ پوری فوج چار آدمیوں کو قتل کرنے کی کوشش میں لگا دی جائے تو ہم اصل بہادری دکھائیں گے۔ تمہاری پوری فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے جانیں دے دیں گے۔

یہ جرنیل رومی تھا اور رومی بلاشک و شبہ جنگجو قوم تھی عمرو بن عاص کی اس بات نے اس کے دل پر بڑا ہی گہرا اثر کیا اس نے یقیناً محسوس کیا ہوگا کہ یہ کوئی بہادری نہیں کہ چار آدمیوں کو پکڑنے یا مارنے کےلیے اس نے پوری فوج کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا۔

پھر میری ایک شرط مان لو۔۔ جرنیل نے کہا۔۔ میں ایک آدمی باہر نکالتا ہوں اور تم میں سے کوئی آدمی اس کا مقابلہ کرو اگر میرے آدمی نے تمہارے آدمی کو مار دیا تو پھر ہم باقی تینوں کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں گے ،اور اگر تمہارے آدمی نے میرے آدمی کو مار ڈالا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں قلعے سے نکال دوں گا تم آزاد ہو گے۔

چاروں نے یہ شرط مان لی اور کہا کہ تم میں سے جو سب سے زیادہ قوی ہیکل شہ سوار اور مانا ہوا بہادر ہے اسے سامنے لاؤ۔

جرنیل گیا اور مقابلے کے لئے کسی کو منتخب کرنے لگا، ادھر مسلمہ بن مخلد نے عمرو بن عاص سے کہا کہ وہ اس رومی کا مقابلہ کریں گے،،،،،، عمرو بن عاص اور مسلمہ بن مخلد کے درمیان جو مختصر سا مکالمہ ہوا وہ تاریخ کے دامن میں لفظ با لفظ آج تک محفوظ ہے وہ یوں ہے۔

سوچ لو مسلمہ!،، عمرو بن عاص نےکہا تم پہلے بھی شرمسار کرا چکے ہو، ایک رومی نے تمہیں گھوڑے سے گرا دیا تھا ایک مجاہد نے تمہیں بچا لیا اب پھر تم مقابلے کے لئے اترنا چاہتے ہو۔

میرے محترم سپہ سالار!،،،،،، مسلمہ نے کہا۔۔۔ میں اپنی اس غلطی کی تلافی کرنا چاہتاہوں، میں مارا گیا تو مجھے بخش دینا لیکن مجھے اس موقع سے محروم نہ کریں۔

دراصل عمرو بن عاص خود رومی کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے لیکن مسلمہ بن مخلد نے ایسے انداز سے اپنے ارادے کا اظہار کیا کہ عمرو بن عاص خاموش ہوگئے اور انھیں لڑنے کی اجازت دے دی۔

ادھر سے جو رومی مقابلے کے لیے نکلا وہ خود تو قوی ہیکل تھا ہی لیکن اس کا جنگی گھوڑا اتنا زبردست تھا جیسے اس کےقابو میں ہی نہ آرہا ہو ،وہ جب چلتا اور دوڑتا تھا تو زمین ہلتی محسوس ہوتی تھی ،اس کے ہاتھوں میں برچھی تھی لیکن مسلمہ بن مخلد کے پاس تلوار تھی، برچھی اور تلوار کا کوئی مقابلہ نہ تھا مسلمہ اللہ کا نام لے کر اس کے مقابلے کو نکل گئے۔

دونوں گھوڑے کچھ دور چلے گئے رکے اور پیچھے کو مڑے دونوں نے ایک دوسرے کی طرف گھوڑے دوڑائے رومی نے برچھی آگے کر رکھی تھی، مسلمہ نے تلوار تانی ہوئی تھی لیکن بیشتر اس کے کہ تلوار برچھی والے کے جسم تک پہنچتی سکتی برچھی تلوار والے کے جسم میں داخل ہو چکی تھی وہاں تو کوئی کارآمد پینترا ہی کام آسکتا تھا یا اللہ کا خاص کرم مطلوب تھا ۔

گھوڑے ایک دوسرے کے بالکل قریب آئے تو مسلمہ یکلخت بائیں کو یوں ہوگئے جیسے گھوڑے سے گرنے لگے ہوں اس سے یہ ہوا کہ رومی کی برچھی جس کا نشانہ مسلمہ کا سینہ یا پیٹ ہوسکتا تھا ان کے جسم کے اوپر سے گزر گئی۔

مسلمہ نے فوراً گھوڑے کی باگیں کھنچی اور اسے وہیں روک لیا ،وہیں سےپیچھے کو موڑا رومی ابھی گھوڑے کو روک رہا تھا اسےبھی پیچھے کو مڑنا تھا،لیکن مسلمہ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور گھوڑا بےحد تیز ہوگیا پیشتر اسکےکہ رومی اپنا گھوڑا پوری طرح موڑ سکتا اور دوڑاتا مسلمہ اس تک پہنچ چکے تھے اس نے مسلمہ کو دیکھ لیا انہیں مارنے کے لئے برچھی اوپر اٹھائی ہی تھی کہ مسلمہ کی تلوار برچھی کی طرح اٹھے ہوئے بازؤں کے نیچے رومی کی بغل میں اتنی زور سے اتری کے سینے کے اندر چلی گئی رومی کا وہ بازو نیچے ہوا اور ہاتھ سے برچھی چھوٹ کر زمین پر جا پڑی ، مسلمہ ذرا آگے جا کر گھوڑے کو پھر اسی تیزی سے موڑ لائے، رومی ابھی سنبھل ہی رہا تھاکہ مسلمہ کی تلوار برچھی کی ہی طرح اس کی پیٹ میں اتر گئی۔

مسلمہ اب کے گھوڑا ذرا چکر میں لےجاکر موڑا، انہیں یقین ہو گیا تھا کہ انہوں نے رومی کو مار لیا ہے رومی کی حالت اب یہ تھی کہ وہ دائیں طرف کو جھک گیاتھا اور جس بازو کی طرف تلوار سینے میں اتری تھی وہ بازو بے جان سا ہو کر نیچے لٹک رہا تھا ،مسلمہ سامنے سے آ کر اس بازو والے کندھےپر اتنی زور سےتلوار کا وار کیا کہ بازو آدھے سے زیادہ کٹ کر جسم سے الگ ہو گیا لیکن کندھے کے ساتھ لٹکتا رہا، مسلمہ نےفاتحانہ انداز سےگھوڑا تماشائیوں کےقریب لےجاکر چکر میں موڑا اور چکر پورا کیا، رومی گھوڑے سے گر پڑا تھا اور اس کا ایک پاؤں رکاب میں آگے چلے جانے کی وجہ سے رکاب میں پھنسارہا اور گھوڑا آہستہ آہستہ چلتا ہوا اسے گھسیٹتا رہا، مسلمہ نے دیکھ لیا انہوں نے پیچھے سے آ کر رومی کے گھوڑے کی پیٹھ میں تلوار زور سے چبھوئی تو گھوڑا بدک کر دوڑنے لگا اور مرتے ہوئے رومی کو گھسیٹا پھرا۔

مسلمہ بن مخلد نے مقابلہ جیت لیا تھا، یہ خاص طور پر پیش نظر رکھنےوالی بات ہے کہ یہ گھوڑا مسلمہ کا اپنا نہیں تھا، وہ تو پیادہ قلعے میں داخل ہوئے تھے، رومی جرنیل نے انہیں کہا تھا کہ وہ اپنے لئے گھوڑا خود منتخب کر لے، جو انہوں نے کر لیا تھا ،وہ اس گھوڑے کے لیے اور گھوڑا ان کے لیے اجنبی تھا، گھوڑا اپنا ہو تو وہ اپنے سوار کے اشارے بھی سمجھتا ہے لیکن مسلمہ نے اس اجنبی گھوڑے کو بھی ایسا قابو میں رکھا کہ ان کے اشاروں پر چلتا رہا ۔

عمرو بن عاص اور ان کے ساتھی میدان میں آئے ادھر سے مقابلہ کرنے والا جرنیل آیا۔ عمرو بن عاص کو توقع نہیں تھی کہ رومی جرنیل اپنا وعدہ پورا کر ے گا۔

اسے اپنے لوگوں کو اور فوج کو تماشا دکھانا تھا جو وہ دکھا چکا تھا۔

اے روم کے جرنیل !،،، عمرو بن عاص نے کہا۔ تم ایک جنگجو قوم کے جرنیل ہو اور جنگجو قوم وعدہ خلافی نہیں کیا کرتی کیا تمہارے وعدے کے مطابق ہم آزاد ہیں؟ 

ہاں!،،،،، جرنیل نے کہا ۔۔۔میں وعدہ خلافی نہیں کرونگا میں یہ بھی کہہ دیتا ہوں کہ میں تمہاری بہادری کا قائل ہو گیا ہوں، جاؤ تم آزاد ہو۔

مسلمہ بن مخلد گھوڑے سے اتر آئے تھے چاروں چل پڑے رومی جرنیل نے انہیں روک کر مسلمہ سے کہا کہ یہ گھوڑا اپنے ساتھ لیتے جاؤ ۔مسلمہ نے کہا۔۔ ہم یوں کسی سے انعام وصول نہیں کیا کرتے۔ ہم لڑتے ہیں اور دشمن کے گھوڑے اور مال غنیمت خود ہی لے لیا کرتے ہیں، میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ تم نے میری قدر کی۔

تماشائیوں نے ان چاروں کو جانے کا راستہ دے دیا چاروں باہر نکلے تو کچھ دور جاکر عمرو بن عاص رک گئے اور بے اختیار مسلمہ بن مخلد کو گلے لگا لیا ۔

مسلمہ!،،،،، عمرو بن عاص نے کہا۔۔۔ تم وہ مقابلہ ہارے تھے تو میں نے تم پر طنز کی تھی آج تم نے میری وہ ناراضگی دھو ڈالی ہے۔ مجھے ایسے کلمے نہیں کہنے چاہیے تھے ،میں نے زندگی میں تین غلطیاں کی ہے، دو زمانہ جاہلیت میں جب میں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، اور تیسری غلطی یہ کہ تم جیسے بہادر پر طنز کیا تھا خدا کی قسم اب ایسی چوتھی غلطی نہیں کروں گا۔

قلعے سے کچھ دور مجاہدین کا لشکر بے تاب تھا اور اس بے تابی میں پریشانی کا عنصر زیادہ تھا، لشکر کی قیادت ایک اور سالار نے سنبھال لی تھی لیکن ان کے سامنے سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہ یہ تھا کہ قلعے پر ایک بار پھر یلغار کی جائے یا انتظار کیا جائے۔ سارے لشکر کو توقع یہی تھی کہ سپہ سالار، مسلمہ بن مخلد اور دونوں مجاہدین پکڑے گئے اور قتل بھی کیے جاچکے ہونگے، انہوں نے جب ان چاروں کو قلعےسے آتےدیکھا تو سب حیرت زدہ ہو کر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر انہیں دیکھنے لگے جیسے انہیں کوئی نظری دھوکا ہو رہا ہو، چاروں لشکر کے قریب آئے تو لشکر سے بے ساختہ تکبیر کے نعرے بلند ہونے لگے۔

اسلام کےپاسبانو! عمرو بن عاص نےبڑی ہی بلند اور جوشیلی آواز میں لشکر سے کہا۔۔۔ اسکندریہ ہمارا ہے ،دو چار روز پہلے اللہ نےمجھے قاتلوں سے بچایا اور اب ہم قلعے کے اندر پھنس گئے تو بھی اللہ نے ہمیں زندہ و سلامت باہر نکال دیا ہے ،یہ اللہ کے اشارے ہیں مجھے اللہ نے اسکندریہ کی فتح کا فرض سونپ کر زندگی عطا فرمائی ہے۔ اس کے فوراً بعد عمرو بن عاص نے سالاروں کو اپنے خیمے میں لےجاکر اسکندریہ پر ایک اور یلغار کا پلان بنانا شروع کردیا انہوں نے کہا کہ اب مزید انتظار نہیں کیا جائے گا۔

جاری ہے...

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023