اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر21
●☆■ابن سعد نے تین مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس شام حکم دیا کے دسترخوان عام پر جو لوگ موجود ہیں انکی گنتی کی جائے۔ گنتی کی گئی۔ سات ہزار سے کچھ زائد تھی اور بوڑھے، بچے اور مریض جو دسترخوان پر نہیں آ سکے اور انہیں جہاں جہاں تھے کھانا پہنچایا گیا تھا انکی تعداد چالیس ہزار سے ذرا زیادہ تھی۔
امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس رات بھی وہ ہی کھانا کھایا جو باقی سب نے کھایا تھا۔ انھوں نے پانی مانگا تو انھیں وہ پانی دیا گیا جس میں شہد ملا ہوا تھا انہوں نے ایک گھونٹ پی کر پیالہ رکھ دیا۔
خدا کی قسم!،،،، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا۔۔۔ میں ایسا کام نہیں کروں گا جسکی روزقیامت مجھ سے جواب طلبی ہو۔
پھر ایک واقعہ یہ بھی قابل غور و فکر ہے کہ ایک روز امیرالمومنین نے اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو تربوز کا ایک ٹکڑا کھاتے دیکھا تو بولے،،،،، واہ امیر المومنین کے بیٹے تو پھل کھا رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھوکی مررہی ہے۔
بچہ اپنے عظیم باپ کی سخت مزاج سے واقف تھا وہ رو پڑا امیرالمومنین کو بچے کا رونا متاثر نہ کرسکا ،کسی نے انہیں بتایا کہ بچے نے تربوز کا یہ ٹکڑا چند ایک کھجوروں کے بدلے لیا ہےتو انہیں اطمینان ہوا اور انہوں نےبچے کو بہلا لیا۔
قحط ٹلتا نظر نہیں آرہاتھا،عراق، اور شام سےاناج اوراجناس آرہی تھی جو نہایت اچھے انتظامات کے تحت مدینہ سے دور درازعلاقوں تک بھی پہنچائی جارہی تھی۔امیرالمومنین خود جاکر تقسیم کے انتظامات دیکھتے تھے چھ سات مہینے گزر گئے تھے۔
ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ سے تھوڑی ہی دور ایک بستی میں گئے تو وہاں دو گھروں میں ماتم کی آہ و بکا دیکھی، ایک عورت کا جوان بیٹا، اور ایک عورت کا خاوند مر گیا تھا۔
حضرت عمر نے پہلی بات یہ پوچھی کہ یہ بھوکے تو نہیں مرے، یہ جواب سن کر انہیں اطمینان ہوا کہ انہوں نے ایک وقت کا بھی فاقہ نہیں کیا تھا، موت کا سبب کوئی ایسی بیماری بنی جسے کوئی بھی نہ سمجھ سکا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حکم دیا کہ ان کے کفن بیت المال سے دیئے جائیں۔ کفن آ گئے دونوں کی نماز جنازہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خود پڑھائی تھی۔
یہ پراسرار بیماری بڑھنے لگی بیماری ایسی تھی کہ علاج کی مہلت ہی نہیں دیتی تھی، یہ وبا کی صورت اختیار کرتی جا رہی تھی کسی بھی مؤرخ نے نہیں لکھا کہ اس بیماری کی علامت کیا تھی۔
امیرالمومنین جو ذرا سا آرام کرتے تھے وہ بھی چھوڑ دیا اور اس بیماری کی روک تھام کے لئے بستی بستی بھاگنے دوڑنے لگے۔ طبیب بھی پریشان ہوگئے ان کی دوائیوں کا اتنا سا ہی اثر ہوتا تھا کہ مریض کی موت کچھ دن ٹل جاتی تھی لیکن وہ آخر موت کے منہ میں چلا ہی جاتا تھا۔
طبیب اتنا ہی سمجھ سکے کہ اس بیماری کا تعلق قحط اور خشک سالی کے ساتھ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےحکم جاری کردیا کہ اس بیماری سے مرنے والوں اور قحط ختم ہونے تک کسی بھی بیماری سے مرنے والے کا کفن بیت المال سے ملے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ جہاں تک پہنچ سکتے وہاں نماز جنازہ خود پڑھاتے تھے۔
امیرالمومنین کسی بیمار کی وفات کی اطلاع پر جاتے تو کچھ اس قسم کے الفاظ ان کے کانوں سے ٹکراتے تھے۔
یا امیرالمومنین!،،، آپ نے بھوک سے تو بچا لیا موت سے نہیں بچا سکیں گے،،، یا یہ کہ یا امیرالمومنین!،،،، روٹی دے سکتے ہو زندگی نہیں دے سکتے.
اس پراسرار اور ظالم بیماری نےتمام تر عرب پر دہشت طاری کردی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نماز کے بعد قحط سے نجات کی دعا کرتے تھے، بیماری نے زور پکڑا تو رات رات بھر نوافل پڑھتے اور اسطرح قحط اور بیماری سے نجات کی دعا کرتے تھےکہ روتے روتے ان کی ہچکی بندھ جاتی تھی۔
یا اللہ! یا غفور الرحیم!۔۔حضرت عمر دعا میں یہ الفاظ ضرور کہتے تھے۔۔۔ میرے گناہوں کی سزا اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو نہ دے اپنے بندوں کو میرے ہاتھوں ہلاک نہ کرا پروردگار۔
یوں لگتا تھا جیسے اللہ نے سرزمین عرب سے نگاہیں پھیر لی ہوں دعاوں کو قبولیت حاصل ہو ہی نہیں رہی تھی۔
آخر امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی حالت ایسی ہوگئی جیسےبالکل ہی ہار کر بےدست و پا ہوگئے ہوں۔
انہوں نے ہر طرف قاصد اس پیغام کےساتھ دوڑا دیےکہ تمام لوگوں کو اپنی اپنی جگہ اکٹھا کرکے نماز استسقاء پڑھی جائے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں کی جائیں کہ قحط کے عذاب سے اللہ چھڑا دے ۔
پیغام میں یہ بھی کہا گیا کہ جو لوگ رات ہی رات مدینہ پہنچ سکیں پہنچ جائیں۔
قاصد فوراً ہی روانہ ہوگئے تھے دور کے علاقوں کو جانے والے قاصد رات کو بھی چلتے رہے تھے ،مدینہ منورہ میں نماز استسقاء کا وقت اگلے روز دوپہر کا مقرر کیا گیا تھا،،،،، جہاں جہاں پیغام پہنچایا گیا اور لوگوں نے نماز کا وقت مقرر کرکے اعلان کردیا۔
اگلے روز مدینہ کے لوگ اور مدینہ میں آئے ہوئے پچاس ساٹھ ہزار پناہ گزین زمین و آسمان کو جلاتی ہوئی دوپہر کے وقت نماز استسقاء کے لیے باہر نکلے ،اور میدان میں صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے، زمین دہکتے ہوئے انگاروں کیطرح گرم تھی، جس پر ننگے پاؤں کھڑا ہونا ممکن نہ تھا، لیکن لوگ اللہ کی ذات باری میں جیسے تحلیل ہوگئے تھے کہ انہیں پاوں جلنے کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ امامت کے لیے آگے آئے انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ردائے مبارک اپنے جسم پر لے رکھی تھی۔
جن مؤرخوں نے اس نماز کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے اس وقت کے وقعے نگاروں کے حوالے سے وہ منظر بیان کیا ہے۔
جب مدینہ کے لوگ نماز استسقا پڑھ رہے تھے لوگوں کی سسکیاں اور ہچکیاں صاف سنائی دے رہی تھیں اور یہی کیفیت امیرالمومنین پر طاری تھی۔
نماز کے بعد امیرالمومنین دعا کے لیے اٹھے ان کا کوئی لفظ واضح طور پر سمجھ میں نہیں آتا تھا، کیونکہ وہ بچوں کی طرح بلبلا اور رو رہے تھے۔
مؤرخوں نے یہ الفاظ لکھے ہیں کہ حضرت عمر کے انسو ان کی داڑھی سے یوں ٹپکنے لگے جیسے انہوں نے اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ہوں۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ،دعا کے دوران حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کا بازو پکڑا اور اٹھا کر اپنے پہلو میں کھڑا کر لیا پھر ان کے دونوں ہاتھ پکڑ کر دعا کے انداز میں آسمان کی طرف کیے۔
یااللہ !،،،،حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔۔۔ ہم تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو تیرے حضور شفاعت کے لئے لائے ہیں ہماری نہیں تو ان کی ہی سن لے۔
یا پروردگار !۔۔۔۔۔حضرت عباس نے حضرت عمر کی آواز سے بھی بلند آواز میں کہا۔۔۔ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت کے چند قطرے،،،،،،
حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی آواز رقّت میں دب گئی اور اس طرح ہچکیاں لے لے کر رونے لگے جیسے اپنے آپ پر قابو نہ پا سکیں گے۔
مدینہ سے دور دور تک جہاں جہاں امیر المومنین کا پیغام پہنچا تھا اس وقت نماز استسقاء پڑھی جا رہی تھی، ہر آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے، اور لوگ اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگ رہے تھے ۔
نماز کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بلند آواز سے ورد کرتے جاتے تھے۔ اللہ، رحمان ،اور رحیم، ہے۔
پھر جلتے اور جلاتے ہوئے اس دن کا سورج بھی غروب ہوگیا ایک اور رات آئی موسم کی تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ لیکن اس رات کے بطن سے جس صبح نے جنم لیا اسے دیکھ کر کسی کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھا ۔ سورج جیسےطلوع ہوا ہی نہ ہو کیونکہ آسمان پانی سے لدے ہوئےسرمائی اور سیاہ بادلوں کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا ۔اور جب یہ بادل پھٹ پڑے تو دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف جل تھل ہوگیا بارش ایسی موسلادھار کے اسکی دھند میں کچھ دور تک نظر کام نہیں کرتی تھی۔
نو مہینوں کی پیاسی زمین اللہ کی رحمت سے سیراب ہوگئی، یہ تاریخی قحط پورے نو مہینے رہا تھا۔
دو تین دنوں بعد بارش کا زور تھاما، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مدینہ کے اندر اور باہر ان پچاس ساٹھ ہزار پناہ گزینوں میں دوڑتے جو نو مہینوں سے وہاں پڑےتھے، وہ ان لوگوں سے یہ کہتے پھرتے تھے کہ اپنے گھروں کو چلے جاؤ ،لوگوں کو ان کے گھر بھیجنے پر امیرالمؤمنین کچھ زیادہ ہی زور دے رہے تھے۔
انہوں نے بعد میں اپنے مصاحبین سے کہا کہ وہ ان پناہ گزینوں کو اس خیال سے مدینہ سے نکال رہے تھے کہ انھیں آرام سے حاصل ہونے والی روٹی کا چسکا نہ پڑ جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا خیال یہ تھاکہ لوگ فوراً کھیتی باڑی میں لگ جائیں۔
*<========۔=========>*
☆■ ہم اس داستان کو پیچھے اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں روزی ایک بار پھر قربانی سے بچ گئی تھی اور پادری اس کے ساتھی اس کے انتظار میں نیل کے کنارے اس جگہ کھڑے تھے جہاں سے روزی کو نیل میں پھینکنا تھا۔
ماہی گیروں کا سردار بابا اس توقع پر وہاں پہنچا تھا کہ روزی کو ان تین آدمیوں نے اس جگہ پہنچا دیا ہوگا جن تین آدمیوں نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ روزی کو قربانی کی جگہ پہنچا دیں گے، لیکن انہوں نے راستے میں کشتی رانوں کو قتل کرکے دریا میں پھینک دیا اور روزی کو لے اڑے ، اس کے بعد روزی رابعہ بن گئی۔
ماہی گیروں کے سردار نے وہاں پہنچ کر پادری کو بتایا کہ اس نے روزی کو تین اجنبی آدمیوں کے ساتھ پہلے ہی بھیج دیا تھا، تو سب حیران ہوئے کہ لڑکی گئی کہاں؟
بڑے پادری نے یہ فتوی دیا کہ نیل کو اس لڑکی کی قربانی نہیں چاہئے، نیل اسی لڑکی کو چاہتا ہے جس کی قربانی کا فیصلہ پہلے ہوا تھا۔
وہ لڑکی ہورشش کی اکلوتی بیٹی تھی جسے دریا میں ڈوب مرنےسے بچانے کےلیے اس نے روزی کو دھوکہ دیا اور انطاکیہ سے اسے ساتھ لے گیا تھا ،قربانی کے دستور کے مطابق اس نے اپنی بیٹی کے سارے زیورات روزی کو پہنا دیے تھے وہ بڑےہی قیمتی زیورات تھے جو باپ نے اپنی بیٹی کی زندگی میں قربان کردئے تھے، مگر ہوا یہ کہ زیورات بھی گئے اور روزی بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ اور اب پادری نے یہ فیصلہ دے دیا کہ ہورشیش کی بیٹی کو ہی نیل کےحوالے کردیا جائےاور اسے زیورات سے سجانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔
چنانچہ ہورشیش کی بیٹی کو جگا کر لے آئے اور پادری نے اپنے ہاتھوں اسے دریا میں پھینک دیا۔
یہاں سے یہ داستان یوں آگے چلی کہ بیٹی کے صدمے نے ہورشیش کے دل و دماغ کو ماؤف کردیا ،یہ بیٹی اس کی اکلوتی اولاد تھی اس پر وہم طاری ہونےلگا، جن میں ایک یہ تھاکہ ان لوگوں نےاس لڑکی یعنی روزی کو قربانی سے بچانے کے لئے خود غائب کیا ہے اور اسکی بیٹی کو مروا ڈالا ہے۔
ہورشیش اپنے مذہب کو بھول ہی گیا اور اس کی جگہ انتقام کا جذبہ پیدا ہو گیا۔
بیٹی کے صدمے کے ساتھ یہ چوٹ بھی کچھ کم نہ تھی کہ اسکے بڑے ہی قیمتی زیورات بھی ضائع ہو گئے تھے۔
ہورشیش کی بستی سے تقریباً تین میل دور رومی فوج کی ایک چوکی تھی جس میں افسر ایک عہدے دار اور چند ایک سپاہی رہتے تھے۔ شاہ ہرقل کو بڑی اچھی طرح احساس ہو گیا تھا کہ مصر کے لوگ اس کے حق میں نہیں رہے ۔وجہ بڑی صاف تھی جس کا تفصیلی ذکر پیچھے ایک باب میں آگیا ہے وجہ یہ تھی کہ اس نے جو سرکاری عیسائیت رائج کی تھی اسے لوگ قبول نہیں کر رہے تھے، لڑکی کی قربانی کو تو اس نے قتل جیسا جرم قرار دے دیا تھا پھر بھی قبطی عیسائی چوری چھپے لڑکیوں کی قربانی دے رہے تھے۔
لوگوں پر دہشت طاری رکھنے کے لئے اور لڑکی کی قربانی روکنے کے لئے ہرقل نے مصر کے دیہاتی اور دور دراز علاقوں میں بھی چھوٹی بڑی چوکیوں کی صورت میں اپنی فوج پھیلا رکھی تھی۔
ان چوکیوں کے فوجی اپنے اپنے علاقے میں گشت کرتے رہتے اور لوگوں کو ڈراتے رہتے۔ ہورشیش کی بستی سے کچھ دور ایسی ہی چوکی تھی جس کے فوجی افسر اس بستی میں گشت کے لیے آتے رہتے تھے۔
ہورشیش کو اس چوکی کا خیال آیا تو اسکے اندر انتقام کی جو آگ سلگ اٹھی تھی وہ بہت بڑا شعلہ بن گئی اور وہ اس چوکی کی طرف چل پڑا۔
چوکی پر جاکر چوکی کے کمانڈر سےملا اور اسےبتایا کہ انکے پادری نے اسکی بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف زبردستی گھر سے اٹھا کر دریا میں پھینک دیا ہے۔
رومی افسر غصے سے بھڑک اٹھا اور پادری اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہورشیش نے اسے روک لیا اور کہا کہ وہ یہ کارروائی اسطرح کرے کہ یہ ظاہر نہ ہوں کہ ہورشیش نے مخبری کی ہے، اور اس کو ڈر یہ تھا کہ بستی والوں کو صحیح بات کا علم ہو گیا تو وہ اسے اور اس کی بیوی کو قتل کر دیں گے، اور اس نے یہ بھی کہا کہ وہ گھر پہنچ جائے تو کچھ دیر بعد فوجی آئیں۔
ہورشیش کے ساتھ اس طرح بات کریں جیسے وہ بھی اپنی بیٹی کی قربانی کا مجرم ہے۔
رومی افسر بات سمجھ گیا اور ہورشیش کو واپس بھیج دیا ۔
ہورشیش نے اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا تھاکہ وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کر رہا ہے۔
دن آدھے سے کچھ زیادہ گزر گیا تھا ،ہورشیش کی بستی کے لوگوں نےدوڑتے گھوڑوں کےٹاپ سنےجو بستی کیطرف بڑھتے آرہے تھے، یہ کوئی بڑی بستی نہیں تھی بیس پچیس مکانوں کی چھوٹی سی آبادی تھی لوگ گھروں سے نکل کر باہر آگئے انہوں نے گھوڑوں کو اور سواروں کو بھی پہچان لیا یہ انکے اپنےفوجی تھے جو گشت پر آتے ہی رہتے اور بستی کےلوگوں کے ساتھ گپ شپ بھی لگایا کرتے تھے۔
ان میں ایک افسر ایک جواں سال عہدے دار اور کم و بیش بیس سپاہی تھے، قریب آکر انہوں نے بستی کو گھیرے میں لے لیا افسر نے اعلان کیا کہ کوئی مرد یا عورت بھاگنے کی کوشش نہ کرے اور تمام لوگ باہر آجائیں۔
بستی کے لوگوں پر خوف طاری ہوگیا یہ سب قبطی عیسائی تھے اور اپنے بادشاہ ہرقل کی سرکاری عیسائیت کے سخت خلاف تھےاور یہ لوگ لڑکی کی قربانی میں بھی یقین رکھتے تھے انھیں ڈرنا ہی چاہیے تھا۔
ہورشیش کہاں ہے؟،،، رومی نےکہا۔۔ جو کوئی بھی ہو سامنے آ جائے۔
ہورشیش آگے ہوگیا افسر گھوڑے سے اتر آیا اور اس نے اپنے سوار سپاہیوں سے بھی کہا کہ گھوڑوں سے اتر آئیں اور گھوڑے ایک جگہ کھڑے کرکے بستی کے اردگرد پھیلے رہیں۔
کیا گزشتہ رات تم نے اپنی بیٹی کو قربانی کے لیے دریا میں پھینکا تھا رومی افسر نے پوچھا۔
ہورشیش نے تو انکار ہی کرنا تھا کیونکہ یہ پہلے طے ہوچکا تھا کہ یہ ظاہر نہیں ہونے دیا جائےگا کہ یہ مخبری ہورشیش نے کی ہے۔ رومی افسر نے یہ ظاہرکرنے کےلئے کہ وہ اپنے طور پر تفتیش کر رہا ہے اور اس سے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو سامنے لائے۔
میں ابھی تمہارا جھوٹ ثابت کردوں گا۔۔رومی افسر نے کہا۔ میں جانتا ہوں تمہاری یہی ایک ہی بیٹی تھی میں کسی شک پر نہیں آیا پوری یقین کے ساتھ آیا ہوں اگر تم سچے ہو تو اپنی بیٹی کو سامنے لےآؤ میں تمہیں مہلت بھی دے دیتا ہوں۔
چند منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ سولہ سترہ سال عمر کی ایک بڑی ہی خوبصورت لڑکی دوڑی آئی اور رومی افسر کےسامنے جاکر اس نے کہا کہ میں ہوں ان کی بیٹی۔
میں گھر میں نہیں تھی۔۔ لڑکی نےکہا۔۔۔میں لڑکیوں کے ساتھ کسی دوسرے گھر کی چھت پر کھڑی دیکھ رہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے ایک آدمی دوڑا آیا اس نے مجھے بتایا کہ آپ لوگ میرے باپ پر یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس نے مجھے نیل کی نذر کردیا ہے۔ میرا باپ اس لیے پریشان ہو گیا تھا کہ میں گھر میں نہیں تھی رومی افسر مسکرایا اس کی مسکراہٹ میں طنز تھی جیسے وہ جان گیا ہوں کہ اسے بے وقوف بنایا جارہا ہے اس نے ویسے ہی ایک آدمی کی طرف اشارہ کرکے اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا کہ یہ لڑکی کس کی بیٹی ہے۔
ہورشیش کی ہے اس آدمی نے نڈر ہو کر جواب دیا ۔
رومی افسر نے ایک اور آدمی کو اپنے پاس بلا کر یہی سوال پوچھا۔
میں حیران ہوں آپ پوچھ کیا رہےہیں؟،،اس شخص نےجواب دیا کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اتنا بھی نہیں جانتے کہ یہ بیٹی کس کی اور فلاں بچہ کس کا ہے سب جانتے ہیں کہ یہ ہورشیش کی بیٹی ہے اور اس کا نام عینی ہے۔
رومی افسر بستی کے تمام لوگوں سے مخاطب ہوا اور یہی سوال پوچھا بستی کی ساری آبادی نے بیک زبان جواب دیا کہ یہ ہورشیش کی بیٹی ہے۔ رومی افسر کو معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایکا کر لیا ہے اور یہ لوگ جان گئےہیں کہ ہورشیش کی بیٹی کی قربانی کی خبر کسی غدار نے فوجیوں تک پہنچادی ہے۔اور اگر اس افسر نے ثابت کردیا کہ یہ خبر صحیح ہے تو کوئی بعید نہیں کہ یہ بستی کو ہی آگ لگا دیں گے ۔
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ ہرقل اور اسکے مقرر کیے ہوئے اسقف اعظم قیرس کے دلوں میں ان لوگوں کےلئے ذرا سا بھی رحم نہیں تھا جو ان کی سرکاری عیسائیت کے خلاف تھے ۔
رومی افسر چکرا گیا اسے شک ہوا کہ کسی ذاتی وجہ کی بنا پر ہورشیش اس سے بستی والوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ اس نے بڑے غصے کے عالم میں ہورشیش کو بازو سے پکڑا اور ایک طرف لے گیا۔
تمہارے دل میں جو بدمعاشی ہے وہ فوراً بتا دو۔۔رومی افسر نےکہا۔۔نہیں بتاؤ گے تو یہی سب کے سامنے تمہارا سر اڑا دیا جائے گا۔
سچ بولوں گا تو یہ لوگ میرا سر اڑا دیں گے، ہورشیش نے سرگوشی میں جواب دیا میں سچ ہی بتاؤں گا لیکن ان لوگوں سے مجھے بچانا آپ کا کام ہے۔
تم سچ بولو رومی افسر نے کہا۔
ہورشیش نے بتا دیا کہ یہ اس کی بیٹی نہیں اور یہ فلاں شخص کی بیٹی ہے اور اس نے لڑکی کی ماں کا نام بھی بتا دیا۔
یہ بستی دریائے نیل کے کنارے پر آباد تھی وہاں کنارہ خاصہ اونچا اور چٹانیں تھا وہیں سے دریا مڑتا تھا اور پارٹ تنگ تھا اس لئےوہاں دریا گہرا بھی تھا اور اسکا جوش وخروش بھی زیادہ تھا، لڑکیوں کی قربانی اسی کنارے سے لڑکی کو دھکا دے کر دی جاتی تھی۔
جس لڑکی کی قربانی دی جاتی تھی اسے نیل کی دلہن کہا جاتا تھا اور اسے ایک مقدس آسمانی مخلوق سمجھ کر یاد کیا جاتا تھا۔
رومی افسر نے لڑکی کے باپ کو اور اسکی ماں کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ یہ کس کی بیٹی ہے دونوں نے جواب دیا کہ یہ ہورشیش کی بیٹی ہے ان لوگوں کے مذہبی جذبے کا یہ عالم تھا کہ لڑکی کی ماں نے رومی افسر کو ایک دو باتیں بڑے غصے میں کہہ ڈالی اور یہ بھی کہا کہ تم لوگ ہمیں ذلیل و رسوا کرنے کے لئے آجاتے ہو۔
رومی افسر نے سچ معلوم کرنے کے لئے ایک انوکھی ترکیب سوچ لی اس نے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور دریا کے بلند کنارے پر جا کھڑا کیا دو سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ لڑکی کو کنارے سے ذرا پیچھے رکھیں اور اس کے دائیں بائیں کھڑے رہیں وہ خود لوگوں سے مخاطب ہوا۔
میں اس لڑکی کو دریا میں پھینک رہا ہوں رومی افسر نے کہا اگر اسکی ماں اسے بچانا چاہتی ہے تو اسے اپنے ساتھ لے جائے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کی ماں اور لڑکی کے باپ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی میں تمہیں سوچنے کی مہلت دیتا ہوں کوئی جلدی نہیں اچھی طرح سوچ لو۔
لڑکی دریا کےکنارےکھڑی تھی رومی فوج کےدو سپاہی اسکے قریب کھڑے تھے اور رومی افسر بستی کے لوگوں اور لڑکی کے درمیان بڑے آرام سے ٹہلنے لگا اس نے بڑی اچھی ترکیب سوچی تھی کوئی ماں برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کی اولاد کو اس کی آنکھوں کے سامنے اتنے پر شور دریا میں پھینک دیا جائے ہورشیش اور اس کی بیوی کے جذبات سگے ماں باپ والے تو ہو ہی نہیں سکتے تھے توقع ہی یہی تھی کہ لڑکی کی سگی ماں اپنی بیٹی کو بچانے کےلئے دوڑی آئے گی، مگر وہاں جو ہوا اس کی تو کسی کو توقع ہی نہیں تھی ہوا یہ کہ بستی کے ایک پہلو سے ایک گھوڑاسرپٹ دوڑتا نکلا سب نے ادھر دیکھا گھوڑ سوار رومی فوج کی اس پارٹی کا عہدہ دار تھا اس کا رخ لڑکی کی طرف تھا فاصلہ بہت ہی تھوڑا تھا۔
عینی ہوشیار!،،،، گھوڑسوار نے پرجوش آواز میں کہا۔۔۔ لڑکی نےادھر دیکھا سوار سرپٹ دوڑتےگھوڑے سے لڑکی کی طرف جھکا اور دایاں بازو اس کی طرف پھیلا دیا لڑکی نے دونوں بازو پھیلادیے۔کسی کو کچھ سوچنےکی مہلت ہی نہیں ملی۔
انکے افسر نے لڑکی کے پہرے پر جن فوجی کو کھڑا کیا تھا وہ کچھ سمجھ گئے اور دونوں گھوڑے کے آگے آ گئے لیکن گھوڑا ان تک پہنچ چکا تھا اس نے دونوں کو ایسی ٹکر ماری کہ ایک تو لوٹتا ہوا دریا میں جاگرا اور دوسرا دوسری طرف گرا اس میں اٹھنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔
گھوڑے کی رفتار اور تیز ہو گئی اور جب گھوڑا آگے نکلا تو لڑکی کنارے پر نہیں تھی بلکہ سوار کی پیچھے بیٹھی ہوئی تھی اور اس نے دونوں بازو سوار کی کمر کے گرد لپیٹ لیے تھے ۔
فوجیوں کے گھوڑے ایک طرف کھڑے تھے ان کے افسر نے تعقب کا حکم دیا لیکن تعقب محض بیکار تھا، یہ سب کچھ چند سیکنڈ میں ہوگیا۔
فوجی اپنے گھوڑوں کی طرف دوڑے کود کر سوار ہوئے اور اپنے عہدے دار کے پیچھے گھوڑے دوڑا دیے عہدے دار کا گھوڑا بھی فوجی گھوڑا تھا اور وہ خاصی دور نکل گیا تھا۔ تعقب اس لئے بیکار تھا کہ آگے علاقہ کچھ پہاڑی اور زیادہ تر جنگلاتی تھا ادھر کسی کو نظر نہیں آرہا تھا اسکےگھوڑے کی ٹاپ سنائی دے رہے تھے جو اس کی رفتار کے ساتھ دور ہٹتے جارہے تھے سپاہی کچھ دور تک گئے اور ناکام لوٹ آئے۔
*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*
☆● اس فوجی عہدیدار کا نام بن سامر تھا ، جواں سال اور بڑا ہی خوبرو آدمی تھا، وہ جب گشت پر نکلتا تو اس بستی میں ضرور آتا تھا، ایک بار عینی اور بن سامر کا آمنا سامنا ہو گیا ۔
جگہ ایسی تھی جہاں اور کوئی نہ تھا بن سامر نے عینی کا راستہ روک لیا، عینی مسکراتے مسکراتے سنجیدہ ہوگئی اور اس کے معصوم اور بھولے بھالے چہرے پر خوف کے آثار آگئے۔
تم فوجی ہو ناں۔۔۔عینی نے کہا۔۔ تم سمجھتے ہو کہ جو چاہو کرسکتے ہو، ہم لوگوں پر یہی الزام کافی ہے کہ ہم قبطی ہیں اور بادشاہ کے مذہب کو نہیں مانتے تم مجھے زبردستی اٹھا لے جاؤ گے۔
بن سامر پر رومانی موڈ طاری تھا اس نے عینی کی یہ بات سنی تو عینی کی طرح اس کے چہرے پر بھی سنجیدگی آ گئی وہ ایک طرف ہو گیا عینی شاید بن سامر کے چہرے کے بدلے ہوئے تاثر سے متاثر ہو گی۔
بن سامر نے اسے راستہ دے دیا اسے بھاگ جانا چاہیے تھا لیکن وہ وہیں کھڑی رہی۔
میں تمہارے نام سے بھی واقف ہوں عینی!،،،، بن سامر نے کہا۔۔۔ تمہیں دور دور سے دیکھتا رہا ہوں میری نیت بد ہوتی تو تمہیں اٹھوا لینا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔میں تمہارے ماں باپ کو حکماً اپنی چوکی پر بلوا سکتا تھا تم بھی دوڑی آتی۔
بن سامر جذباتی ہوتا چلاگیا اور عینی پر جیسے سحر طاری ہو گیا تھا ، وہ بھی بن سامر کی پرکشش شخصیت میں تحلیل ہوتی چلی گئی، اس پہلی ملاقات کے بعد عینی کئی بار بن سامر سے ملی بن سامر نے عینی کو عملاً یقین دلادیا تھا کہ وہ عینی کی عصمت کا لٹیرا نہیں،،،،،، محافظ ہے۔
میں تمہیں راز کی ایک بات بتانا چاہتاہوں عینی!،ایک ملاقات میں بن سامر نے عینی سے کہا ۔۔۔۔اب مجھے تم پر اعتبار آگیا ہے کہ تم میرے راز کو اپنا ایک بڑا ہی نازک راز سمجھو گی میں قبطی عیسائی ہوں، لیکن ظاہر یہ کر رکھا ہے کہ میں شاہ ہرقل اور قیرس کی عیسائیت کا پیروکار ہوں لیکن میں کسی لڑکی کو نیل کی دلہن بنانے کو گناہ سمجھتا ہوں، میں قیرس کو اسقف اعظم نہیں مانتا، ہمارا اسقف اعظم بنیامین ہے وہ لڑکی کی قربانی کے سخت خلاف ہے۔
بن سامر اور عینی عیسائی تھےوہ جب چاہتےشادی کرسکتے تھے لیکن بن سامر نے اپنا اخلاقی فرض سمجھا کہ عینی کے والدین سے اجازت لے لے۔
ایک روز اس نے عینی کے والدین کے ساتھ بات کی، دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور خاموش رہے آخر عینی کے باپ نے کہا کہ وہ عینی کو جواب دے دے گا۔ اور عینی بن سامر کو بتا دے گی۔
اگلے ہی روز بن سامر گشت کے بہانے آیا اور عینی باہر جاکر اسے ملی۔
نہیں بن سامر۔۔عینی نے بن سامر کو اپنےباپ کا جواب سنایا، نہ میرا باپ رضامند ہےنہ ماں وہ کہتےہیں فوجی قابل اعتماد نہیں ہوا کرتے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ فوجی سرکاری عیسائیت کے پیروکار ہوتے ہیں۔
کیا تم نے انہیں بتایا نہیں بن سامر نے پوچھا،
بتایا ہے۔۔۔۔ عینی نے جواب دیا ۔۔۔۔میں نے بتایا ہے کہ بن سامر قبطی عیسائی ہے اور بنیامین کو اپنا اسقف اعظم مانتا ہے۔
باپ نے کہا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے کوئی فوجی کسی دوسری عیسائیت کا پیروکار نہیں ہوسکتا باپ نے یہ بھی کہا کہ اب تم بن سامر سے ملنا چھوڑ دو۔
تمہارا اپنا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ بن سامر نے پوچھا۔
میرا کوئی اور فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔۔عینی نے جواب دیا۔۔ میں نے اپنے دل کو مذہب کا اور مذہب کے فرقوں کا پابند بنا رکھا ہی نہیں، اپنے والدین کا فیصلہ بدلنے کی کوشش کروں گی وہ نہ مانے تو میں تمہارے پاس آجاؤں گی۔
عینی ابھی اپنے والدین کا فیصلہ بن سامر کے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن والدین مان نہیں رہے تھے اتنے میں یہ واقعہ ہوگیا ۔بن سامر نے دیکھا کہ عینی کو ہورشیش کی بیٹی بناکر اسکے افسر کے سامنے کھڑا کردیا تو بن سامر خاموش رہا اسے معلوم تھا کہ عینی کس کی بیٹی ہے۔
رومی افسر نے عینی کو دریا کے اونچے کنارے پر کھڑا کر کے اعلان کیاکہ اس لڑکی کےجو بھی ماں باپ ہیں وہ آگےآجائیں ورنہ لڑکی کو دریا میں پھینک دیا جائے گا۔ بن سامر کو یہ خطرہ صاف نظر آنےلگا کے لڑکی کےاصل والدین سامنے نہیں آئیں گے۔ اور ہورشیش سچ نہیں بولےگا،اور رومی افسر عینی کو نیل میں دھکیل دے گا۔
بن سامر کسی طرح بستی کےاندر چلا گیاکہ اسےکوئی دیکھ نہ سکا اس کا گھوڑا بستی کے باہر تھا سب کی نظروں سے اوجھل ہو کر بن سامر دوڑ کر اپنے گھوڑے تک پہنچا کود کر سوار ہوا اور پیشتر اس کے کہ کوئی سنبھل اور دیکھ سکتا کہ یہ کیا ہوا ہے، بن سامر عینی کو لے اڑا، اور پیچھے تڑپتا ہوا ایک سپاہی رہ گیا دوسرا سپاہی دریا میں ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔
رومی افسر غصے سے باؤلا ہونے لگا اس نے ہوشیش اور اس کی بیوی کو دیکھا ان کے چہروں پر رنج یا افسوس کا کوئی خاص تاثر نہیں تھا۔ اس افسر کےلیے یہ معلوم کرنا کے عینی کس کی بیٹی تھی بہت ہی مشکل تھا لیکن جس ماں اور جس باپ کی وہ بیٹی تھی وہ کیسے برداشت کر لیتے کہ ان کی بیٹی کو ایک فوجی لے گیا ہے۔
عینی کا باپ افسر کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ یہ گھوڑسوار کون تھا جو اس کی بیٹی کو لے گیا ۔
صحیح بات سامنے آگئی۔۔۔ رومی افسر نے غصے میں حکم دیا کہ بستی کو آگ لگادو۔ لوگ تڑپ اٹھے اور سب نے واویلا بپا کردیا۔رومی افسر نےانہیں خاموش کرایا اور کہاکہ کوئی ایک آدمی بات کرے۔
لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ وہ سب ان پڑھ اور پسماندہ ہیں، مذہب کے معاملات کو وہ نہیں سمجھتے انہیں پادری جو بات کہتے ہیں وہ اسی کو صحیح مان لیتے ہیں کوئی ماں باپ اپنی نوجوان اور کنواری بیٹی کو دریا میں پھینک دینا برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ مذہبی پیشواؤں کا عقیدہ ہے اور وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ نیل کو کچھ عرصے بعد ایک کنواری لڑکی نہ دو تو یہ لوگوں کے لئے غضب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
میں بھی تمہاری طرح عیسائی ہوں۔۔۔ رومی افسر نے کہا۔
اور میں قبطی بھی ہوں لیکن لڑکی کی قربانی کو میں ظلم اور بہت بڑا گناہ سمجھتا ہوں یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نےمردوں کو زندہ کیاتھا پھر ہم کسطرح مان لیں کہ ایک لڑکی کی جان لینا عیسائیت میں جائز ہے؟
حضرت عیسی علیہ السلام نے کوڑھیوں کو شفا بخشی تھی، اور انہوں نے پیار اور محبت کا راستہ دکھایا تھا،کیا تم نہیں جانتے ہمارا خدا کون ہے ہمارا خدا وہ ہے جو ہمیں حضرت عیسی علیہ السلام نے دکھایا تھا، یہ دریا ہمارا خدا نہیں ہو سکتا اور یہ وصف خدا کا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ایک معصوم انسان کی جان لے کر خوش ہوتا ہو۔
پھر ہمیں یہ بتا۔۔ ایک آدمی نے پوچھا کیا ہم وہ عیسائیت کو بھول جائیں جو ہمارے بادشاہ ہرقل نے رائج کی ہے۔
رومی افسر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا تھا کیونکہ وہ ہرقل کی فوج کا افسر تھا اور اس کی وفاداری ہرقل کے ساتھ تھی اگر وہ کہہ دیتا کہ ہرقل والی عیسائیت صحیح نہیں، اور اس کی مخبری ہوجاتی تو اس کی سزا موت سے کم نہیں ہوسکتی،
اس نے ہورشیش سے پوچھا کہ اس نےجھوٹ کیوں بولا تھا۔
میری یہی ایک بیٹی تھی۔ ہورشیش نےکہا ان لوگوں نے بڑے پادری کےحکم سے اسےدریا میں پھینک دیا میں اس کوشش میں تھاکہ بستی والوں کو پتہ نہ چلے کہ میں نے مخبری کی ہے لیکن یہ دیکھ کر کے آپ بستی کو جلا دینے کا حکم دے رہے ہیں تو میں سچ بول رہا ہوں میں بستی کو نذرآتش ہونے سے بچانا چاہتا ہوں اگر بستی والے مجھے غداری کی سزا دینا چاہیں تو مجھے وہ سزا قبول ہے۔
یہ خوف دل سےنکال دو۔رومی افسر نےکہا۔۔میری موجودگی میں تمہیں کوئی سزا نہیں دے سکتا میں تم سب کی تعریف کرتا ہوں کہ تم میں اتحاد اور اتفاق ہے میں تمہارا یہ اتحاد قائم رکھنا چاہتا ہوں تمھاری بستی کو کوئی نہیں جلائے گا لیکن اس بستی میں سے کسی لڑکی کی قربانی دی گئی تو پھر میرا رویہ وہی ہوگا جو شاہ ہرقل کے حکم کے مطابق ہونا چاہئے۔
ہم اپنےبڑے پادری کےحکم کےپابند ہیں۔۔ ایک آدمی نےکہا۔
رومی افسر نے ان لوگوں سے معلوم کر لیا کہ بڑا پادری کہاں رہتا ہے اور اس کے ساتھ اس قسم کی کارروائیوں میں کون کون ہوتا ہے لوگوں نے رومی افسر کو یہ ساری معلومات دے دیں اور اس شخص یعنی ماہی گیروں کے سردار کا نام بھی بتا دیا۔
رومی افسر نے اسی وقت وہاں سے اپنے سپاہیوں کو اکٹھا کیا اور اس بستی کی طرف گھوڑوں پر سوار ہو کر چلا گیا جس میں بڑا پادری رہتا تھا۔
پادری وہاں مل گیا اس کے تین چار چیلے بھی اسی بستی میں رہتے تھے ان سب کو گرفتار کرلیا گیا۔ اسی رات رومی افسر اس بستی میں پہنچا جہاں ماہی گیروں کا سردار بابا رہتا تھا اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔
*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
■● دوسرے دن رومی افسر چند ایک گھوڑسوار سپاہیوں کےساتھ بستی میں جاپہنچا،جہاں لڑکی کی قربانی دی گئی تھی اب اس کے ساتھ فوج کا ایک بڑا افسر بھی تھا ،اس کے علاوہ اس کے ساتھ بڑا پادری ،پادری کے تین چار ساتھی اور ماہی گیروں کا بابا بھی تھا،یہ سب زنجیروں میں بندھےہوئے تھے،اور انکے پیروں میں بیڑیاں تھیں ۔بستی کی ساری آبادی کو باہر نکال لیاگیا زنجیروں میں بندھےہوئے ملزموں کو دریا کے اونچی چٹانی کنارے پر کھڑا کردیا گیا۔
انہیں غور سے دیکھو۔۔بڑے فوجی افسر نے لوگوں سے کہا۔۔ اور پوچھا کیا یہی وہ لوگ جنہوں نے پہلے ایک لڑکی کو یہاں سے دریا میں پھینکا تھا اور پھر ہورشیش کی بیٹی کو بھی دریا میں پھینک دیا تھا۔
یہی ہیں ۔۔۔ ہورشیش کی آواز تھی۔
یہی ہیں ۔۔۔۔دو تین اور آوازیں اٹھیں۔
سب بولو۔۔۔ فوجی افسر نے کہا۔
ہاں یہی ہیں ۔۔۔ساری آبادی بول اٹھی۔
افسر نے سر سے اشارہ کیا ،سپاہی مجرموں کی طرف دوڑے گئے انکی زنجیر اور بیڑیاں اتار لیں،اور انہیں دریا کے اونچے کنارے پر کھڑا کردیا ،دوسرے کئی ایک سپاہیوں کے پاس تیر اور کمان تھی، اپنے افسر کے اشارے پر انھوں نے کمانوں میں تیر ڈالے اور دوسرے ہی لمحے یہ تیر مجرموں کے جسموں میں داخل ہو چکے تھے۔
ان میں سے کچھ اس طرح گرے کے بلند کنارے سے دریا میں جاپڑے اور جو ایک دو کنارے سےہٹ کر گرے انہیں سپاہیوں نے پاؤں کی ٹھوکروں سے دریا میں پھینک دیا۔
اس وقت بن سامر اور عینی وہاں سےبہت دور ریگستان میں جارہے تھے ۔
عینی بن سامر کےپیچھے گھوڑےپر بیٹھی تھی،مجھے صرف اپنےماں باپ کا خیال آتا ہے عینی کہہ رہی تھی رومی فوجی انہیں مار ڈالیں گے۔
کچھ تو قربانی دینی پڑتی ہے عینی!،،، بن سامر نے کہا۔۔۔ میرے بھی ماں باپ ہیں اور یہ بھی دیکھو کہ میں نے اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیا ہے،میں جب پکڑا جاؤں گا تو مجھے جلاد کےحوالے کردیا جائےگا، ایک تو میں نے فوجی قانون کے خلاف ورزی کی ہے، اور فوج کے دو سپاہیوں کو مار آیا ہوں، وہ جو دو سپاہی میرے گھوڑے کے آگے آگئے تھے وہ زندہ نہیں رہے ہونگے، اب پیچھے نہ دیکھو آگے کا خیال کرو میں تمہیں قبطی عیسائیوں کے بڑے پادری بنیامین کے پاس لے جا رہا ہوں وہ کوئی راستہ دکھا دے گا۔
بن سامر کو بنیامین کے ٹھکانے کا علم تھا۔ پچھلے باب میں بیان ہوچکا ہے کہ بنیامین شہروں اور بستیوں سے بہت دور دشوار گزار ریگستان میں ایک ایسی جگہ روپوش تھا۔ جس کے اردگرد ریت اور مٹی کے ٹیلے اور نشیب و فراز تھے۔
بن سامر کو یہ ٹھکانہ اس طرح معلوم تھا کہ وہ بنیامین کی ہی ایک خفیہ تنظیم کا آدمی تھا،
ہرقل نے قیرس نام کے ایک بڑے پادری کو اپنی بنائی ہوئی عیسائیت کا اسقف اعظم بنادیا ، اور اسے کلی اختیارات دے دیے تھے کہ وہ ظلم اور درندگی کے ذریعے سرکاری عیسائیت لوگوں سے منوائے، قیرس نے کسی ایسے پادری کو زندہ نہیں رہنے دیا تھا جس نے اسکی اور ہرقل کی عیسائیت کو قبول نہیں کی تھی، انہیں صرف مار ہی نہیں ڈالا تھا، بلکہ ایسی اذیت دی تھی کہ وہ مرتے بھی نہیں اور جیتے بھی نہیں تھے۔
مثلا اپنے مخالف کے کپڑے اتار کر اور لٹا کر اسکے جسم پر دہکتےہوئے انگارےیا جلتی ہوئی مشعلیں رکھ دی جاتی تھی، اور پھر اسے کہا جاتا تھا کہ وہ ہرقل کی عیسائیت کو قبول کر لے اور اسی عیسائیت کو گرجوں میں رائج کرے۔
یہ تو سرکاری کارروائیاں تھی جو کھلم کھلا کی جاتی تھیں، تاکہ لوگوں کے دلوں پر دہشت طاری ہوجائے لیکن بنیامین نے ایک خفیہ تنظیم بنا لی تھی۔ جس میں عیسائیت کے عالم بھی تھے اور بن سامر جیسے دلیر اور نڈر فوجی بھی تھے، جو اپنی جان پر کھیل جانے کو ایک کھیل ہی سمجھتےتھے۔
بن سامر اسی تنظیم کا جاں باز تھا اسے بنیامین کے ہاں ہی پناہ مل سکتی تھی۔
جاری ہے۔۔۔
.jpeg)
Comments
Post a Comment