اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر24
●☆■ میں تجھے قتل کروں گا۔۔۔۔ حضرت عمر نے کہا۔
ائے عمر !،، ہرمزان نےکہا۔۔ تو مجھےقتل نہیں کرسکتا کیونکہ ابھی ابھی تو مجھے زندہ رہنے کا حق دے چکا ہے۔
تو جھوٹ بول رہا ہے۔ حضرت عمر نے غصیلی آواز میں کہا۔ میں تجھے جینے کا حق نہیں دے سکتا۔
حضرت عمر کا غیض وغضب دیکھ کر انس بن مالک کو فوراً دخل اندازی کرنی پڑی۔۔۔ انہوں نے حضرت عمر سے کہا ۔۔۔کہ ہرمزان دھوکے میں جان کی امان پا چکا ہے۔
تو کیا کہہ رہا ہے انس!،،،،، حضرت عمر نے سٹپٹا کر پوچھا میں ایسے شخص کو کس طرح جان کی امان دے سکتا ہوں جس نے ہمارے اچھے اچھے سالار قتل کر ڈالے ہیں،،،،، میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ شخص کس دھوکے سے مجھ سے جان بخشی کروائی ہے.
یا امیرالمومنین!،،،، انس نے کہا۔۔۔ اس نے کہا تھا کہ جوں ہی میں پانی پی لو گا آپ مجھے قتل کردیں گے آپ نے کہا تھا کہ یہ جب تک پانی نہیں پیئے گا اسے قتل نہیں کیا جائے گا یہ شخص پانی پیئے گا ہی نہیں۔
اے ایران کے فریب کار سپہ سالار!،،، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہرمزان پر غضبناک نگاہ ڈال کر کہا ۔۔۔۔تو نے مجھے دھوکہ دیا ہے خدا کی قسم میں اس لیے دھوکا کھا گیا ہوں کہ مسلمان ہوں مسلمان اگلے ہوئے الفاظ نگلا نہیں کرتا۔
اے خلیفۃ المسلمین!،، ہرمزان مسکرایا اور دایاں ہاتھ حضرت عمر کی طرف بڑھادیا، میں اسلام کو قبول کرتا ہوں میں اسی مقصد کے لئے آیا تھا۔
اسطرح ایران کے ایک بہت بڑے جرنیل نے جو شاہی خاندان کا فرد بھی تھا اسلام قبول کر لیا اس کے ساتھ ہی اس نے حضرت عمر سے اجازت چاہی کہ وہ باقی عمر مدینہ میں گزارنا چاہتا ہے۔
حضرت عمر نے اسے اجازت دے دی اور دو ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔
دو مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہرمزان نے حضرت عمر سے کہا تھا کہ اس نے یہ دھوکا اس لیے دیا تھا کہ لوگ خصوصا ایرانی یہ نہ کہہ سکے کہ اس نے تلوار اور جان کے ڈر سے اسلام قبول کیا ہے۔ یہ بھی تاریخ میں آیا ہے کہ حضرت عمر جنگی امور میں ہرمزان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔
تاریخ میں یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ مدینہ میں کیا کام کر رہا تھا صرف ایک جملہ لکھا ہے کہ اس نے اسلام کی خاطر بہترین خدمت سرانجام دی ۔ بہرحال اس کا اپنا انجام بہت برا ہوا۔
ہم چونکہ فتح مصر کی طرف بڑھ رہے ہیں اور یہی ہمارا موضوع ہے، لیکن بات ہرمزان اور حضرت عمر کی چل نکلی تو موزوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پورا واقعہ بیان کردیا جائے۔
امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو 26 ذوالحج ۔23 ہجری بروز بدھ مسجد میں ایک قاتل نے شہید کردیا تھا ،قاتل کا نام ابولولوفیروز تھا، اور وہ حجرہ بن شعبہ کا مجوسی غلام تھا ،وہ جب پکڑا گیا تو اس نے اسی خنجر سے خود کشی کر لی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ وہ ایرانی تھا اور جنگ نہاوند میں جنگی قیدی بنایا گیا تھا۔
حضرت عمر کے بیٹے یہ معلوم کرتے پھر رہے تھے کہ حضرت عمر کو کیا اس شخص نے کسی ذاتی عناد کی بنا پر شہید کیا ہے، یا اس کے پیچھے کوئی سازش ہے، قاتل کا خنجر اپنے قبضے میں لے لیا گیا تھا یہ عام قسم کے خنجروں جیسا نہیں تھا بلکہ اس کا دستہ درمیان میں تھا اور یہ ایک کے بجائے دو خنجر تھے، ایک پھل ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف۔
تاریخ کی روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر نے یہ خنجر دیکھا تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔
خدا کی قسم میں نے یہ خنجر پہلے دیکھا ہے۔۔۔۔ عبد الرحمن بن ابی بکر نے کہا۔۔۔ اور ذرا چونک کر بولے میں نے ہرمزان کو دو آدمیوں کے ساتھ کھڑے کُھسر پُھسر کرتے دیکھا تھا ،ایک جفینہ ،اور دوسرا یہ مردود قاتل ابولولوفیروز تھا۔ مجھے دیکھ کر یہ تینوں چونک پڑے۔ جب تیزی سے ادھر ادھر چلنے لگے تو یہ خنجر گر پڑا جو ابولولو نے اٹھا لیا اور چلے گئے۔
عبدالرحمن بن ابی بکر کی یہ بات سن کر معمر صحابہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے دی جس سے یہ ثابت ہوا کہ ہرمزان اور جفینہ حضرت عمر کے قتل میں شریک تھے۔
عبد اللہ بن عمر نے جب ان صحابہ اکرام کی باتیں اور ان کی رائے سنی تو انہوں نے تلوار اٹھائی اور غیظ و غضب میں گھر سے نکل گئے ۔پہلے ہرمزان کے گھر پہنچے اور اسے باہر بلا کر کہا کہ میرے ساتھ آؤ میرا گھوڑا دیکھو، ہرمزان ان کے آگے آگے چلا تو عبداللہ بن عمر نے ایک ہی وار سے ہرمزان کا کام تمام کر دیا۔ ہرمزان گرا اور وہیں مرگیا۔
وہاں سے جفینہ کے یہاں پہنچے اور اسے بلا کر قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر کے قاتل ابولولو کے یہاں گئے جہاں اس کی ایک چھوٹی بیٹی موجود تھی انہوں نے اس لڑکی کو بھی قتل کر دیا اور پھر وہ ہیجان اور جنون کے عالم میں تلوار لہراتے باہر نکلے اور بڑی بلند آواز سے کہتے گئے کہ میں کسی ایرانی اور غیر مسلم غلام کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ،اگر ان پر قابو نہ پایا جاتا تو وہ اپنے عظیم باپ کے خون کا بدلہ نہ جانے کتنے ہی آدمیوں کو قتل کرکے چکاتے۔
بات ہو رہی تھی کہ اس صورتحال میں جو طاعون کی وباء نے پیدا کر دی تھی۔ امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس پریشانی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ رومیوں یا ایرانیوں نے حملہ کردیا تو بہت بڑی مشکل پیدا ہوجائے گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ مسلمان حملے کی تاب ہی نہ لاسکتے اور شام سے پسپا ہو آتے۔
ابھی حضرت عمر کو یہ خیال بھی نہیں آیا تھا کہ کھلے حملے کے بجائے زمین دوز حملہ بھی ہوسکتا ہے اور ہرقل کے ہاں اس منصوبے پر ہی غور کیا جا رہا ہے کہ شام پر عیسائی آبادی مسلمانوں کے خلاف بغاوت کر دے۔
بنیامین کے ہاں کچھ اور عیسائی بھی آکر ٹھہرے ہوئے تھے ان میں بعض بنیامین کے خفیہ گروہ کے آدمی تھے اور ایک دو بن سامر کی طرح بھگوڑے یا مفرور تھے، ان میں دو بن سامر کے بڑے گہرے اور رازدان قسم کے دوست بن گئے تھے، یہ دونوں دوست بن سامر کی طرح مذہب کے معاملے میں جنونی تھے۔ دونوں بن سامر کی ہی طرح رومیوں اور مسلمانوں کے سخت خلاف تھے۔
بنیامین کے پاس جو دو جاسوس بڑی لمبی رپورٹ لائے تھے ان میں سے ایک بن سامر کے ایک دوست کا گہرا راز دار دوست تھا ۔
اس جاسوس نے اپنے دوستوں کو رازداری سے بتا دیا کہ وہ کیا خبر لائے ہیں۔
تو کیا شام کے عیسائی مسلمانوں کے خلاف بغاوت کریں گے؟ ۔۔۔بن سامر کے دوست نے پوچھا۔
نہیں۔۔۔۔جاسوس نے جواب دیا۔۔۔ بنیامین بغاوت کے حق میں نہیں وہ کہتا ہے کہ اس سے پہلے شام کے عیسائی بغاوت کر کے بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ،ادھر ہرقل کا استف اعظم بھی بغاوت کے حق میں نہیں۔
کیا ہرقل شام پر حملہ نہیں کرے گا؟ ۔۔۔بن سامر کے دوست نے پوچھا۔
نہیں ؟۔۔۔جاسوس نے جواب دیا ہرقل شش و پنج میں پڑا ہوا ہے۔
یہ لوگ مسلمانوں کو سنبھلنےکی مہلت دے رہےہیں۔بن سامر کےدوست نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔حملہ کرنے کا یہی وقت موزوں ہے، یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو مسلمان پھر طاقت پکڑ لیں گے اور مصری فوج کا وہی حال کرکے پسپا کر دیں گے جو انہوں نے پہلے کیا تھا۔
بن سامر اور اسکے یہ دونوں دوست عقل سے کم اور جذبات سے مغلوب ہو کر زیادہ سوچا کرتے تھے۔
بنیامین کی رائے کچھ اور بھی ہے۔۔ جاسوس دوست نے کہا۔۔ وہ کہتا ہے کہ شام میں بغاوت نہیں ہونی چاہیے تاکہ مسلمان وباء کے اثرات سے نکل کر تیار ہو جائیں اور مصر پر حملہ کرکے رومی فوج کو یہاں سے بھگا دیں۔
ایسا نہیں ہوگا !،، بن سامر کے دوست نے جذباتی اور غصیلی آواز میں کہا۔۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ شام پر بھی مسلمانوں کی حکمرانی ہےاور مصر پر بھی انکی حکمرانی قائم ہوجائے گی ،نہیں ،،،،نہیں،،،، ہم شام میں بغاوت کرائیں گے۔
تینوں نے اپنا ایک منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا وہ کہتے تھے کہ شام میں بغاوت کرانے کے لئے یہاں سے کچھ آدمی بھیجے جائیں گے،جو وہاں خفیہ طریقے سے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے ۔ ان تینوں کا خیال تھا کہ یہ کام وہ بھی تو کرسکتے ہیں۔ تینوں نے ایک دوسرے کو یقین دلایا کہ یہ زمین دوز تخریب کاری وہ کرسکتے ہیں۔ اور عیسائیت کی رو سے یہ ان کا فرض ہے کہ یہ کارروائی کریں۔ ان کی عقل پر مذہبی جنون اور کٹرپن غالب آگیا اور انھوں نےفیصلہ کیا کہ بنیامین کو بتائے بغیر یہاں سے نکل جائیں اور شام جا پہنچیں۔
عینی بن سامر کی بیوی تھی وہ بھی ان دوستوں کی ملاقاتوں میں شریک ہوتی اور ان کی باتیں سنتی رہتی تھی، عینی تو جوان اور بہت ہی حسین لڑکی تھی اور اس میں خاص قسم کا پھرتیلا پن اور زندہ مزاجی تھی۔ بن سامر کے ان دونوں دوستوں کے ساتھ وہ پوری طرح بے تکلف ہو گئی تھی، وہ بن سامر اور ان کے ان دوستوں کی ہم خیال تھی۔
بنیامین کے یہاں گھوڑے موجود رہتے تھے ایک رات ان تینوں نے چار گھوڑے تیار کیے اور چپکے سے وہاں سے چل دئیے۔ بنیامین کے ہاں کوئی پہرے دار یا سنتری پہرے پر ہوتا نہیں تھا کہ انھیں دیکھ لیتا ۔وہ دشوار گزار ریگزار تھا ایک گھوڑے پر عینی سوار تھی ،ریت پر چلتے ہوئے گھوڑوں کی آہٹ تو سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
☆■ صبح تک بہت دور پہنچ گئے ،صبح بنیامین نے چاروں کو غیرحاضر دیکھا اور اصطبل کے چار گھوڑے کم دیکھےتو اس نے اتنا ہی کہا کہ خدا انہیں اپنی امان میں رکھے۔
اگر وہ اسکندریہ چلے جاتے تو وہاں سے انہیں بحری جہاز مل جاتا جو انھیں انطاکیہ پہنچا دیتا۔ لیکن احتیاط لازم تھی یہ احتیاط بھی بن سامر کے لئے تھی، کیونکہ وہ فوج کا بھگوڑا اور مفرور قاتل تھا ،اسکی کوشش یہ تھی کہ سفر کے دوران کہیں دیکھا اور پہچانا نہ جائے۔
وہ آبادیوں اور فوجی چوکیوں سے دور دور ویرانے میں چلے جارہے تھے، بن سامر نے داڑھی خاصی بڑھا لی تھی اور ایسا لباس پہن لیا تھا جیسے وہ کوئی راہب یا مذہبی پیشوا ہو۔ بن سامر چونکہ فوج میں عہدیدار رہ چکا تھا اس لئے وہ مصر میں فوج کے ساتھ بہت سے علاقوں میں گھوما پھرا تھا اسے معلوم تھاکہ مصر کے مشرقی ساحل پر بحیرہ احمر اور خلیج سویز پر باقاعدہ بندرگاہیں ہیں، لیکن وہاں اسے دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ وہاں فوج کی موجودگی کا خطرہ تھا ۔اسے یہ بھی معلوم تھا کہ بعض جگہوں سے جہاز مل جاتے ہیں جو باقاعدہ بندرگاہوں پر لنگر انداز نہیں ہوتے۔
تین دنوں کی مسافت کےبعد وہ بحرہ احمر کے شمالی ساحل پر جہاں سےخلیج سویز شروع ہوتی ہےایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں چھوٹے بادبانی جہاز مل سکتے تھے۔
وہ گھوڑےبھی اپنےساتھ لےجانا چاہتےتھے جہاز میں گھوڑے لے جائے جاسکتے تھے۔ اس جگہ پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ تین چار دنوں تک ایک جہاز تیار ہوجائے گا۔
چوتھے پانچویں روز جہاز تیار ہو گیا ان تینوں دوستوں کے پاس اتنی رقم موجود تھی جو عرب کے ساحل تک پہنچانے کےلیے کافی تھی۔ جہاز بھی اتنا بڑا تھا کہ گھوڑے بھی اس میں آ گئے۔
اگر جہاز کو اس ساحل سےبالکل سیدھےمیں عرب کے ساحل تک جانا ہوتا تو یہ فاصلہ ایک سو میل سے کچھ ہی زیادہ بنتا تھا ،لیکن جہاز عرب کے ساحل پر ایک دور کی بندرگاہ تک جا رہا تھا اور یہ فاصلہ ساڑھے تین سو میل بنتا تھا اس طرح منزل تک پہنچنے کے لیے کئی دن درکار تھے۔
جہاز نےلنگر اٹھایا اور بادبان کھول دئے ،کچھ ہی دیر بعد بن سامر نے اپنے دوستوں کو مشورہ دیا کہ جہاز کے مسافروں کے ساتھ ملاقات شروع کردی جائے، اور ان میں اگر عیسائی ہیں تو انہیں اپنے مشن کے لئے تیار کیا جائے ،اس پروگرام کے تحت انہوں نے اسی روز مسافروں سے ملنا شروع کر دیا دو دنوں میں انہیں پتہ چل گیا کہ کتنے مسافر عیسائی اور کتنے مسلمان ہیں۔
بن سامر کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ جہاز انہیں عرب کے کی کسی بندرگاہ پر اتارےگا اور وہاں سےشام کا سفر بڑا ہی لمبا ہوگا،اور یہ سارا علاقہ ریگستانی ہے،اس نے عیسائیت کے نام پر اتنا لمبا سفر اور اس کی اذیتیں ذہنی طور پر قبول کر لی تھیں، اور دوستوں کو بھی بتا دیا تھا کہ سفر کتنا لمبا اور کیسا ہوگا ،ان کے پاس گھوڑے تھے اس لئے وہ کچھ زیادہ پریشان نہ ہوئے۔
انہوں نے عیسائیوں میں چار پانچ سرکردہ سردار قسم کے افراد منتخب کر لئے اور ان کے قریب ہو گئے، اتفاق سے ان میں ایک شام کےکسی عیسائی قبیلے کا سردار تھا ۔تینوں نے ان عیسائیوں کو مسلمانوں کےخلاف ابھارنا شروع کردیا ۔ان مسافروں کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی ہوتا تھا اور آخر یہ عیسائی مسافر قائل ہو گئے۔
بن سامر اور اسکے دوست ان عیسائیوں سے یہ کہہ رہے تھے کہ وہ بھی اپنے طور پر شام جائیں اور عیسائی قبائل کو بغاوت پر آمادہ کریں۔
انہیں ایک اور عیسائی ملا جو ادھیڑ عمری کی اوائل عمر میں تھا۔ بن سامر اور اس کے دوستوں نے خاص طور پر محسوس کیا کہ یہ شخص دانشمند لگتا ہے اور جب بولتا ہے تو اس کے انداز میں ایک تاثر ہوتا ہے جو دوسروں کو متاثر کر دیتا ہے۔ ایک روز ان تینوں نے اسے گھیر لیا اور پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے، اس نے شام کے کسی شہر کا نام لیا کہ وہ وہاں کا رہنے والا ہے۔
ان تینوں نے اسے پاس بٹھا کر تبلیغ شروع کردی اور پھر کہا کہ شام میں عیسائی بغاوت کردیں تو کم از کم اس ملک پر عیسائیت کی حکمرانی ہو سکتی ہے، اس عیسائی نے ان کی تائید کی اور پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟،،، اور وہ کیا کرنے آئےہیں؟ بن سامر نے اسے بتادیا کہ وہ اسی مشن پر آئے ہیں اور وہ وہاں خفیہ طور پر یہ کام کریں گے،
اس شخص نےان سےیہ بھی معلوم کرلیاکہ ہرقل اور مقوقس اور بنیامین اس سلسلے میں کیا کر رہے ہیں؟
بن سامر نے اسے وہ ساری بات سنا دی جو جاسوس بنیامین کو سنا چکے تھے اور بن سامر کو ایک دوست کے ذریعے یہ ساری رپورٹ ملی تھی، اس نے ان سے اور بھی بہت سی باتیں پوچھ لیں جن میں ایک یہ تھی کہ رومی فوج کس حالت میں ہے اور اس کے جرنیل کیا کرتے ہیں ،بن سامر خود فوجی تھا اور اس نے بنیامین کے ہاں جا کر بھی بہت سی باتیں سنی تھیں اس لئے اس نے سب کچھ اس شخص کو بتا دیا۔
ایک رات بن سامر جہاز کے عرشے پر گیا رات چاندنی تھی عرشے پر ٹہلتے ٹہلتے یہی شخص نظر آیا اسے شک ہوا یہ وہ آدمی نہیں ،لیکن وہ بالکل وہی آدمی تھا بن سامر نے سوچا کہ اس کی شکل و صورت سے ملتی جلتی شکل و صورت کے دو آدمی بھی تو ہو سکتے ہیں، لیکن اسے کچھ شک سا ہوا اس نےقریب ہوکر اس شخص کو دیکھا بن سامر کو شک اس لئےہوا تھا کہ وہ آدمی نماز پڑھ رہا تھا ۔بن سامر کو اس نے بتایا تھا کہ وہ عیسائی ہے وہ عشاء کی نماز پڑھ رہا تھا اور دو مسافر اس کے قریب ہی نماز پڑھ رہے تھے ۔
تم تو کہتے تھے کہ مسلمان نہیں ہو۔۔۔بن سامر نے اس سے پوچھا۔۔۔ لیکن تم تو نماز پڑھ رہے ہو۔
میں درویش آدمی ہوں۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔خدا کی عبادت فرض ہے ضروری نہیں کہ ایک ہی طرح سے عبادت کی جائے ،میں مسلمانوں والی نماز نہیں پڑھ رہا میں اس طریقے سے خدا کو یاد کر رہا ہوں۔
بن سامر کی تسلی نہ ہوئی اس نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کر دیا اور وہ آدمی اسے ٹالتا رہا آخر بن سامر وہاں سے اٹھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس گیا ،اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ شخص عیسائی نہیں مسلمان ہے، اس نے اپنےساتھیوں کو بتایا اور رائے دی کہ اس قسم کے آدمی جاسوس ہوا کرتے ہیں اور یہ شخص مسلمانوں کا جاسوس ہی معلوم ہوتا ہے۔
اگلے ہی روز انہوں نے مسافروں سے تصدیق کروائی کی یہ شخص مسلمان ہے اور عربی ہے، یہ تو کوئی بتا ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ جاسوس ہے۔
حقیقت یہ تھی کہ یہ آدمی مسلمان تھا اور جاسوسی کےلئے ہی مصر بھیجا گیا تھا، اس نے رات عرشے پر جو دو آدمی اس کے قریب نماز پڑھ رہے تھے وہ اسکے ساتھی تھے۔ تفصیلات لکھنے والے تاریخ نویس نے یہ نہیں بتایا کہ ان تینوں کو کس نے بھیجا تھا۔
بن سامر کو زیادہ غصہ اس لیے آ رہا تھا کہ اس مسلمان نے اس سےبہت سی ایسی باتیں پوچھ لی تھی جو وہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا تھا۔ ان باتوں سے ہی بن سامر کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص جاسوس ہی ہوسکتا ہے۔
بن سامر نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ اس مسلمان مسافر نے اسے کس طرح دھوکہ دیا ہے۔ اسکے دوست بھی جذباتی اور جنونی تھے عقل سے تو سوچتےہی نہیں تھے انہوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ رات کے وقت موقع دیکھ کر اس مسلمان کے ہاتھ پیچھے باندھ کر سمندر میں پھینک دیا جائے۔
بن سامر نے کہا کہ اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو آج رات ہی ہوجائے ،میرے ساتھ اسکی بڑی اچھی بات چیت ہے بن سامر نے کہا میں اسے کہوں گا کہ چلو عرشے پر چل کر بیٹھتے ہیں تو وہ فوراً چل پڑے گا اسے وہاں کھڑا کریں گے جہاں کوئی اور دیکھنے والا نہیں ہو گا، یہ کام رات کو کریں گے ہم اسے سمندر میں دھکیل دیں گے کوئی دیکھ بھی نہیں سکے گا اور جہاز آگے ہی آگے چلتا جائے گا۔
بن سامر اسی شام اس مسلمان جاسوس سے ملا اور بڑی بے تکلفی سے دوستانہ محبت کا اظہار کیا اسے کہا کہ آج رات وہ اس کے پاس بہت دیر بیٹھنا چاہتا ہے۔ مسلمان نے اس سے پوچھا کہ کوئی خاص بات ہے یا ویسے ہی اوپر جا بیٹھنے کو جی چاہتا ہے۔
میں نے بہت سوچا ہے۔۔۔ بن سامر نے کہا۔۔۔ میں آخر مان گیا ہوں کہ تم درویش ہو اور خدا کو راضی رکھنے کا تم نے اپنا ہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے، تم عالم اور دانشور معلوم ہوتے ہو مجھے اپنا شاگرد سمجھ لو اور آج رات یہ راستہ مجھے بھی سمجھا دو اور دکھاؤ۔ میں دراصل پریشان حال آدمی ہوں شاید خدا مجھ سے بہت ناراض ہے میں تمھیں اپنی زندگی کی داستان سنانا چاہتا ہوں۔
جس وقت کہو گے اوپر چلے چلیں گے ۔۔۔مسلمان نے کہا ۔۔۔کہو گے تو ساری رات تمہارے ساتھ اوپر بیٹھا رہوں گا۔
بن سامر نے اس مسلمان کو وہ وقت بتایا جس وقت مسافر اپنی اپنی جگہوں پر سو جایا کرتے تھے ۔مسلمان نے یہ وقت قبول کر لیا اور کہا کہ وہ اس وقت اوپر آجائے گا ۔بن سامر دوڑا گیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ آج رات شکار خود ان کے جال میں آ جائے گا۔ اسکے دوست بہت خوش ہوئے اور اس مسلمان کو سمندر میں پھینکنے کےلیے تیار ہوگئے۔
اس رات تک جہاز تقریباً آدھا سفر طے کر چکا تھا ۔مسلمان جاسوس مقررہ وقت پر عرشے پر چلا گیا فوراً ہی بعد بن سامر اس کے پاس پہنچا، مسافر نیچے سو گئے تھے ، عرشے پر ایک تو بن سامر تھا ،اور دوسرا مسلمان جاسوس، اور دو تین اور آدمی الگ جنگلے کے ساتھ کھڑے چاندنی رات میں سمندر کا نظارہ کر رہے تھے، ایک طرف افق پر بجلی چمک رہی تھی اور صاف پتا چلتا تھا کہ گھٹا اوپر اٹھتی آرہی ہے، ہوا بالکل ساکن ہوگئی تھی ،اور بادبان جو ہوا سےبھرے رہتے تھے عام کپڑوں کی طرح پھڑپھڑا رہے تھے ،جس کے زیر اثر جہاز کی رفتار نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔
بن سامر مسلمان تک پہنچا اور دونوں جنگلاں پکڑکر چاندنی میں چمکتےسمندر کو دیکھنےلگے اور پھر انہوں نے بڑی تیزی سےآگے بڑھتی ہوئی گھٹاؤں کو دیکھا اور دیکھتےہی دیکھتے گھٹاؤں نے چاند کو اپنے عقب میں لے لیا ۔بن سامر کے دونوں دوست عرشے پر آگئے وہ آہستہ آہستہ بن سامر اور مسلمان کی طرف بڑھ رہے تھے۔
بن سامر نے وقت کا بڑا اچھا انتخاب کیا تھا۔ گھٹاؤں نے اس کے ساتھ یہ تعاون کیا کہ چاند کو چھپا کر رات کو تاریک کر دیا،اب ان تینوں کےلیے مسلمان کو اٹھاکر سمندر میں پھینکنا آسان ہو گیا تھا، اور دیکھنے والا کوئی بھی نہ تھا۔
بن سامر کے دوست قریب پہنچے تو اچانک ہوا چل پڑی سب نے محسوس کیا کہ ہوا معمول سے زیادہ ٹھنڈی ہے اب چند لمحوں میں ہی ان تینوں نے اپنا شکار مار لینا تھا۔
اوبھائیو!،،، انہیں کچھ دور سے للکار سنائی دی،،،، فوراً نیچے چلے جاؤ طوفان آ رہا ہے سمندر میں جا گرو گے جلدی چلو یہاں سے نیچے بھاگو۔
ان سب نے ادھر دیکھا جہاز کے دو تین ملاح دوڑتے آرہے تھے ان میں سے کسی نے وہاں سے چلے جانے کو کہا تھا، وہ وہاں سےہٹے اور آہستہ آہستہ چل پڑے انہوں نے دیکھا کہ ملاحوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی، شاید تمام ملاح اوپر آگئے تھے اور بادبانوں کے رسے کھیچنے لگے تھے۔
فوراً ہی ہوا اور تیز ہو گئی اور اس نے طوفانی رفتار پکڑ لی پھر ایسی موسلادھار بارش شروع ہو گئی کہ اوپر ٹھہرنا محال ہو گیا ،جہاز کاغذ کی ناؤ کی طرح ڈولنے لگا اور پھر اس طرح جیسے کوئی زبردست طاقت جہاز کو اوپر اٹھا اٹھا کر سمندر کی سطح پر پٹخ رہی ہو۔
مسافر جاگ اٹھے وہ تو ایک دوسرے پر گر رہے تھے، مسافر مسلمان جاسوس اور بن سامر کے دوستوں کو پتہ ہی نہ چلا کہ وہ کہاں ہیں اور دوسرے کہاں ہیں، سمندر کی طوفانی موجیں اوپر اٹھ اٹھ کر جہاز میں گر رہی تھیں۔
بادبان لپیٹ دیے گئے تھے لیکن جلدی میں اچھی طرح لپیٹ نہ جاسکے اور اتنی تیز طوفانی آندھی میں پھڑپھڑانے لگے اب جہاز بڑے ہی زبردست طوفان کی لپیٹ میں آگیا۔ کسی کو کسی کا خیال نہ رہا ، ماؤں نے بچوں کو سینے سے لگا لیا لیکن جب جہاز اوپر اٹھتا یا دائیں اور بائیں ڈولتا تو ماؤں کے لئے بچوں کو سینے سے چھپائے رکھنا ممکن نہ رہا ، مائیں پکڑتی تھی اور بچے بازوؤں سے گر پڑتے تھے، جہاز کے اندر بھی یوں لگتا تھا جیسے مسافر سمندر میں ہوں ۔جہاز میں پانی بھرتا جا رہا تھا۔
مسافر چیخ چلا رہے تھے ،لیکن طوفان کی چیخیں اور زناٹے اس چیخ و پکار سے کئی گنا زیادہ بلند اور جگر پاش کے جہاز اپنے جہاز رانوں کی گرفت سے نکل گیا تھا ۔اور اب یہ طوفان باد و باراں کے رحم و کرم پر تھا ۔اس قسم کی آوازیں سنائی دینے لگیں جیسے کسی کا کوئی عزیز سمندر میں جا پڑا ہو۔ مسافر ایک ایک دو دو کر کے سمندر میں ڈوب رہے تھے۔
طوفان نے جہاز کو ساحل کے قریب کردیا جہاز کے اندر اتنا زیادہ پانی آ گیا تھا کہ اب کسی بھی لمحے اسے ڈوب جانا تھا۔
لمحے طوفان کی تیز و تند رفتار کے ساتھ گزرتے جارہے تھے، اور جہاز ایک طرف سے ڈوبنے لگا۔ اسکے تین چار تخت نکل آئے اور ادھر سے سمندر کی موجیں جہاز میں آئی تو جہاز اس پہلو پر ہوگیا،مسافر جو ابھی تک اس امید پر جہاز میں ہی رہے کہ طوفان گزر جائےگا سمندر میں کود گئے کچھ ہی وقت بعد جہاز ڈوب گیا۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
☆● صبح طلوع ہوئی تو آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے منڈلا رہے تھے، اور ان میں ایک گونہ معصومیت تھی، سمندر پر سکون تھا جیسے رات کچھ ہوا ہی نہ ہو، اس سمندر نے نہ جانے کتنے مسافروں اور ان بچوں اور بچوں کی ماؤں کو اپنے پیٹ میں ڈال کر ہضم کر لیا تھا۔
ساحل پر کچھ دور دور تک چند آدمی نظر آ رہے تھے ان میں سے کچھ ایسے پڑے تھے جیسے بےہوش ہوگئے ہوں اور کچھ قدم گھسیٹے جارہے تھے ،یہ وہ خوش قسمت تھے جو تیر کر ساحل پر پہنچ گئے تھے، وہ تیرنا جانتے تھے اور طوفان نے ان پر یہ کرم کیا تھاکہ جہاز کو ساحل کے تھوڑا قریب کردیا تھا ،مگر جہاز جہاں تک گیا تھا وہ بھی سمندر بہت ہی گہرا اور موجیں طوفانی تھی کوئی قسمت والا تیراک ہی نکل سکتا تھا۔
دن کا پچھلا پہر تھا تین آدمی آہستہ آہستہ ساحل سے خاصی دور اکٹھے چلے جارہے تھے، وہ عربی معلوم ہوتے تھے انہیں معلوم تھا کہ آبادی تک پہنچ جائیں گے اس علاقے کی آبادیوں اور بستیوں سے واقف تھے ،انہیں معلوم تھا کہ وہ جدّہ اور مدینہ کے درمیانی علاقے میں جا رہے ہیں۔
صاف پتا چلتاتھا کہ یہ تینوں سمندر میں سےنکل کر آئے ہیں اڑھائی تین میل گئے تو انہیں ایک آدمی یوں بیٹھا نظر آیا کہ اس نے سر اپنے گھٹنوں پر رکھا ہوا تھا ،جیسے بیٹھے بیٹھے سو گیا ہو یا کسی تکلیف میں ہو، یہ تینوں اس کے قریب پہنچے تو اس نے سر اٹھایا اس نے ان تینوں کو باری باری دیکھا اور ایک کو پہچان لیا، یہ وہی مسلمان جاسوس تھا جسے بن سامر اور اس کے ساتھی سمندر میں پھینک دینے کے لئے عرشے پر لے گئے تھے لیکن طوفان نے ان کے ارادوں کی تکمیل نہ ہونے دی۔
مسلمان جاسوس نے اسے پہچان لیا وہ بن سامر تھا ،اس مسلمان کے ساتھ وہ جواں سال آدمی تھے جو اس کے ساتھی تھے، اور جاسوسی کے مشن پر اس کے ساتھ گئے تھے۔
تم خوش قسمت ہو۔۔۔۔ بن سامر
مسلمان جاسوس نے کہا۔۔۔ اس طوفانی سمندر سے زندہ نکلنا خوش قسمتی نہیں تو اور کیا ہے، تمہارے ساتھ ایک بڑی خوبصورت لڑکی بھی تھی کیا وہ ڈوب گئی؟
نہیں!،،،،، میرے دوست۔۔۔۔ بن سامر نے جواب دیا ۔۔۔وہ میری بیوی تھی سمندر میں تو نہیں ڈوبی اس ریگستان میں ڈوب گئی ہے۔
میں سمجھ گیا بن سامر!،،،،، مسلمان نے کہا۔۔۔ وہ سمندر سے تو نکل آئی تھی اور یہاں آکر مر گئی ہے اور تم نے اسے دفن کردیا ہے، کہاں دفن کیا ہے؟
تم کچھ بھی نہیں سمجھے میرے بھائی۔۔۔ بن سامر نے کہا۔۔ میں تمہیں کیا بتاؤں مجھ پر کیا گزری ہے۔
بن سامر!، مسلمان نے کہا، اب میں تمہیں اپنے متعلق صحیح بات بتاتا ہوں میں عیسائی نہیں مسلمان ہوں اور میرا نام مسعود بن سہیل مکی ہے۔ تم اب میرے ملک میں ہو، میں اور میرے یہ دوست تمہیں یہاں تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ مسعود بن سہیل اور اسکے دونوں ساتھی بن سامر کے پاس بیٹھ گئے مسعود نے کہا۔۔۔ اب بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو اور تم پر کیا بیتی ہے؟
بن سامر کو یہ خیال ضرور آیا ہوگا کہ وہ اس شخص کو قتل کرنے جہاز کے عرشے پر لے گئے تھے مسعود کو تو ان کے اس ارادے کا علم ہی نہیں تھا لیکن بن سامر محسوس کرنے لگا کہ ان مسلمانوں سے اسے کسی اچھے سلوک کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ اثرات تھے اس عداوت کے جو اس نے اپنے ذہن میں مسلمانوں کے خلاف بٹھا رکھے تھے، چونکہ مسعود بن سہیل اور اس کے ساتھ ہمدردی اور دلچسپی سے اس کے پاس بیٹھ گئے تھے اور اس کی بات سننا چاہتے تھے اس لئے اس نے انہیں اصل واقعہ سنا دیا۔
اس نے یوں سنایا کہ جب جہاز ڈوبنے لگا تو وہ اور اس کے دونوں ساتھی سمندر میں کود گئے بن سامر کو سب سے زیادہ خیال عینی کا تھا اس نے یہاں تک سوچ لیا تھا کہ عینی ڈوب گئی تو وہ بھی اس کے ساتھ ڈوب مرے گا۔
وہ سمندر میں کود کر عینی کو پکارنے لگا۔ عینی بھی کود گئی تھی لیکن وہ سمندر میں اسے نظر نہیں آرہی تھی وہ ادھر ادھر عینی کو ڈھونڈنے کے لئے تیرنے لگا جلد ہی اسے نظر آگیا کہ اسکے ایک ساتھی نے عینی کو اپنے پیٹھ پر ڈال لیا تھا اور ساحل کی طرف تیر رہا تھا ۔وہاں تو طوفان کی چیخیں اور زناٹے تھے اور بکھرے ہوئے سمندر کی اٹھتی گرتی طوفانی موجیں تھیں بن سامر نے اپنے دوست کی یہ آواز سن لی کہ عینی کی فکر نہ کرو اسے میں باہر نکال لوں گا۔
بن سامر مطمئن ہوگیا اور ساحل تک پہنچنے کے لئے سمندر سے لڑنے جھگڑنے لگا ۔
وہ فوجی ہونے کی وجہ سے بڑا اچھا تیراک تھا اور اس کے ساتھی بھی تیراکی میں مہارت رکھتے تھے۔
ساحل سے کچھ دور ہی تھے سمندر کی موجوں نے ان تینوں کی بہت مدد کی وہ اس طرح کے موجیں ساحل کی طرف جا رہی تھی اور ساحل سے ٹکرا کر واپس آتی تھی اس طرح ان موجوں نے انھیں ساحل پر لے جا کر پھینک دیا۔ لیکن ان کی جسمانی حالت اس قدر بری ہو چکی تھی جیسے وہ اپنے پاؤں پر کھڑے بھی نہیں ہوسکیں گے۔ جوان آدمی تھے کچھ وقت بعد ان کے جسم نارمل حالت میں آنے لگے اور وہ اس منزل کی طرف چلنے کے قابل ہو گئے جن کا انہیں ابھی پتا ہی نہ تھا۔ ایک دو مسافر انہی کی طرح سمندر سے نکل آئے تھے انہوں نے بن سامر کو بتایا کہ یہ عرب کا ساحل ہے اور شام بہت دور ہے۔
وہ چل پڑے اور رات آ گئی انہوں نے خاصا فاصلہ طے کر لیا تھا ،لیکن دور دور تک آبادی کے کوئی آثار نہیں تھے رات کو وہ ایک جگہ لیٹ گئے عینی بن سامر کی بیوی تھی اس لیے یہ دونوں اپنے ساتھیوں سے زرا الگ ہٹ کر اکٹھے لیٹے ۔ تھکن نے ان کے جسم توڑ دیے تھے لیٹتے ہی سو گئے آدھی رات سے کچھ پہلے بن سامر کو کچھ شور اور کچھ ہلچل سنائی دی، تو وہ جاگ اٹھا رات چاندنی تھی اس نے بڑی اچھی طرح کچھ دور تک نظر آتا تھا، اس نے دیکھا کہ عینی اس کے پہلو سے غائب ہے اور ذرا ہی پرے اس کے دونوں ساتھی عینی کے ساتھ دست درازی کر رہے تھے ۔دست درازی بھی ایسی کے اس کے جس دوست نے عینی کو اپنی پیٹھ پر ڈال کر طوفانی سمندر سے نکالا تھا اس نے عینی کو نیچے گرا رکھا تھا اور اسے برہنہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کا دوسرا دوست عینی کے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔
بن سامر دوڑتا ہوا وہاں تک پہنچا پہلے ایک دوست کے منہ پر گھونسا مار کر پرے گرایا پھر دوسرے کو بڑی زور سے لات ماری اور عینی کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اس کا تو دماغ ماؤف ہو گیا تھا کہ یہ اس کے دوست ہیں جو اس کی عزت پر مجرمانہ حملہ کر رہے ہیں ،یہ تو مذہبی جنونی تھے آخر انہیں ہو کیا گیا ہے۔
دور کھڑے رہو بن سامر!،،،، اس کے ایک دوست نے کہا۔۔ اسے میں سمندر سےنکال کر لایا تھا اور اس دوست نےمیری مدد کی تھی اس لڑکی پر ہمارا اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا ہے۔
تم تو اسے سمندر میں ڈوب مرنے کے لئے چھوڑ آئے تھے۔۔۔ دوسرے دوست نے کہا ۔۔۔اب تمہارا اس پر کوئی حق نہیں۔
بن سامر نے عینی کو اپنےپیچھے کرلیا اور ان دونوں سے کہا کہ وہ تو مذہب پرست آدمی ہیں، یہ حرکت شیطانوں والی ہے اس نے انہیں یاد دلایا کہ وہ کس مقصد کی خاطر یہاں آئے ہیں، اس کے دوستوں پر اس کی کوئی بات اثر نہیں کر رہی تھی وہ دھمکیوں پر اتر آئے تھے۔ آخر ایک دوست نے کہا کہ وہ عینی کو صرف آج رات کے لئے ان کے حوالے کر دے۔ بن سامر کو یہ صورت قبول نہیں تھی اور ہونی بھی نہیں چاہئے تھی یہ آخری اس کی بیوی تھی۔
تم دونوں پر شیطان غالب آ گیا ہے۔۔۔۔ بن سامر نے کہا۔۔۔ میں شیطان کا دماغ درست کرنے کا طریقہ جانتا ہوں۔
بن سامر ان کی طرف بڑھا تو وہ دونوں اس پر ٹوٹ پڑے تینوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا ورنہ وہ لہو لہان ہو جاتے ،اور ان میں سے کوئی بھی ہو سکتا تھا، دونوں دوست بن سامر پر ٹوٹ پڑے اور اس پر گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کردی۔
بن سامر نے دونوں کا مقابلہ کیا ،لیکن وہ بھی اسی جیسے جواں سال اور طاقت ور تھے۔ عینی کمسن لڑکی تھی وہ بن سامر کی مدد نہیں کر سکتی تھی وہ الگ کھڑی دیکھتی رہی ان دونوں میں سے کسی کے پاس ہتھیار ہوتا تو وہ بن سامر کو قتل ہی کر دیتے۔
انہوں نے بن سامر پر قابو پا لیا اور اسے اس قدر زودکوب کیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا ،بے ہوشی کی حالت میں بھی اس کے پہلو میں ٹھنڈ مارتے رہے تاکہ یہ اٹھنے کے قابل نہ رہے۔
بن سامر ہوش میں آیا تو اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسکی ہڈیاں کئی جگہوں سے ٹوٹ گئی ہیں، سر چکرا رہا تھا وہ اٹھا تو پاؤں پر کھڑا رہنا محال نظر آیا ،سورج طلوع ہوچکا تھا اس نےہر طرف دیکھا اسکےسامنے ریگستان پھیلا ہوا تھا اور عینی کا نام و نشان نہ تھا، وہ جان گیا کہ اس کے دوست اس کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں، وہ وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ کیا کرے اور کدھر جائے اس نے چلنے کی کوشش کی تو چند قدم چل کر ہی بیٹھ گیا، اسے آرام کی ضرورت تھی اس نے گھٹنوں پر سر رکھ کر اس تلخ حقیقت کو ذہنی طور پر قبول کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ اس کے دوست اسے دھوکہ دے گئے ہیں اور اب عینی اسے نہیں مل سکے گی۔
اسے مسعود بن سہیل مکی اور اس کے ساتھیوں نے ان تلخ سوچوں سے بیدار کیا۔
مسعود بھائی!،،،، بن سامر نے کہا ۔۔۔مجھے تم سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ میری مدد کرو گے ،تم نے کہا تھا کہ میں تمہارے ملک میں ہوں اور تم مجھےاکیلا نہیں چھوڑوں گے، کیا میں یہ سمجھوں کہ تم میری ہر طرح مدد کرو گے؟، نہیں کرو گے،،، تم جانتے ہو میں عیسائی ہوں،،، تم آخر میری مدد کیوں کرو گے؟
میں مسلمان ہوں بن سامر!،،،، مسعود بن سہیل نے کہا۔۔۔ میں اسلام کے احکام کا پابند ہوں، تمہارا مذہب جو کچھ بھی ہے تم ایک انسان ہوں اور مصیبت میں گرفتار ہو،اسلام مجھ پر فرض عائد کرتا ہے کہ میں تمھاری مدد کروں، یہ بھی ذہن میں رکھو کہ اسلام کا یہ بھی حکم ہے کہ جو تمہاری زبان سے نکل گیا ہے وہ بھی عملاً پورا کرو، میں اور میرے یہ دوست تمہاری مدد کریں گے ۔ دراصل تمہاری بیوی اس قدر خوبصورت اور دلکش ہےکہ اس کا جسم حاصل کرنے کے لئے کوئی پارسا بھی پارسائی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
بن سامر اٹھا، اس کے دوست بھی اٹھ کھڑے ہوئے انہوں نے پہلے وہاں زمین دیکھی وہاں لڑائی کے نشانات صاف نظر آ رہے تھے۔ مسعود نے ایک طرف دیکھا اور اکیلا ہی اس طرف چل پڑا بن سامر کے دونوں دوستوں اور عینی کے نقوش پا صاف نظر آ رہے تھے۔ مسعود تجربے کار جاسوس تھا اس نے دیکھا کہ بعض جگہوں پر قدموں کے نشان ایسے ہیں جیسے عینی کو زبردستی یا گھسیٹ کر ساتھ لے جا رہے ہوں۔
کچھ دور جاکر مسعود واپس آیا اور اپنے دوستوں کو بتایا کہ وہ کیا دیکھ آیا ہے، صحرا میں نقوش پا کو چھپایا نہیں جاسکتا، اور یہ تعقب کرنے والوں کی بڑی ہی واضح اور قابل اعتماد رہنمائی کیا کرتے ہیں۔
وہ دور نہیں گئے ہونگے۔۔۔ مسعود کے ایک ساتھی نے کہا ۔۔۔دور جاسکیں گے بھی نہیں۔ یہ بتاؤ بن سامر!،،، کیا انکے پاس پینے کو پانی ہے؟
نہیں!،،، بن سامر نے جواب دیا۔۔۔ ان کے پاس پانی کہاں سے آسکتا تھا ہم تو سمندر سے نکل کر آئے تھے۔
اٹھو اور چلنے کی کوشش کرو۔۔ مسعود نے بن سامر سے کہا۔ ہماری منزل کہیں اور ہے لیکن ہم پہلے کوشش کریں گے کہ تمہاری بیوی تمہیں واپس مل جائے۔
بن سامر اٹھا اور ان کے ساتھ چل پڑا اس سے ٹھیک طرح چلا نہیں جارہا تھا مسعود اور اسکےایک ساتھی نے بن سامر کے دائیں اور بائیں ہوکر اس کے جسم کا کچھ بوجھ اپنے بازوں پر لے لیا اور اس طرح وہ کچھ دور تک چلتا گیا ، سورج اوپر آیا تو اسکی تپش نے اس کے جسم میں جان ڈال دی اور وہ بغیر سہارے کے چلنے لگا ،وہ پرانا فوجی تھا اس کا جسم مشقت برداشت کرسکتا تھا، اس نے دو چار مرتبہ زخمی حالت میں بھی پیدل سفر کیا تھا بہرحال وہ ان تینوں مسلمانوں کے ساتھ چلتا گیا۔۔۔
جاری ھے۔۔
.jpeg)
Comments
Post a Comment