اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر28

 


اسکندریہ شہر اور اردگرد کے دیہاتی علاقے میں جہاں جہاں تک سوار ہرکارے پہنچ سکتے تھے یہ اعلان کروایا گیا کہ کل فلاں وقت فرمانروائے مصر مقوقس خطاب کرے گا اور کچھ ضروری نہایت باتیں بھی بتائے گا،،،،،،، دیہات کے لوگ جوق درجوق پہنچنےلگے مقوقس کا خطاب کوئی معمولی بات نہیں تھی اس سے پہلے اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا دیہات کے لوگوں کو ابھی تو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ مسلمانوں کا لشکر مصر میں داخل ہوچکا ہے اور اس نے شہر عریش لے بھی لیا ہے اور بڑی ہی شدید جنگ تیزی سے بڑھی آ رہی ہے۔

شاہی حکم کی تعمیل بڑی ہی تیزی سے ہوجایا کرتی تھی گھوڑ دوڑ کے میدانوں میں ایک چبوترا بنا دیا گیا اور مقررہ وقت سے پہلے فوج وہاں آ گئی اور لوگوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا جا رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اتنے وسیع و عریض میدان میں کھڑا ہونے کی جگہ بھی نہ رہی۔

مقوقس شاہی بگھی میں شاہانہ انداز سے اس میدان میں آیا اور چبوترے پر جا کھڑا ہوا۔ محافظ دستے کے گھوڑسوار اس کے آگے دائیں بائیں اور پیچھے ایک ترتیب سے کھڑے ہوگئے اس وقت ضرورت یہ تھی اور حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا کہ مقوقس شاہانہ طور طریقہ اختیار نہ کرتا اور مسلمانوں کی طرح ایک عام آدمی کی حیثیت سے آتا اور چبوترے پر کھڑا ہو کر یہ تاثر دیتا کہ وہ انہیں میں سے ہے۔ لیکن شہنشاہیت کا نشہ ایسا تھا جو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں اترتا تھا ۔ مقوقس نے فوج پر اور پھر دور دور تک پھیلے ہوئے ہجوم پر نگاہ ڈالی تو شہنشاہیت کا نشہ اور بھی تیز ہو گیا ہوگا ۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ شہنشاہ تو ہرقل ہی تھا لیکن مقوقس کو اس نے مصر کا باج گزار فرمانروا بنا رکھا تھا۔ مقوقس لوگوں پر یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ ھرقل سے کم حیثیت والا ہے۔

بہادر رومیو ،اور غیرت مند مصریوں!،،،،، مقوقس نے پھیپڑوں کا پورا زور لگا کر کہا۔۔۔ مسلمان اب تمہارے گھر میں آن پہنچے ہیں۔ وہ اس خوش فہمی میں آئے ہیں کہ تمہیں یہاں بھی شکست دے لیں گے انہوں نے شہر عریش پر قبضہ کر لیا ہے میں تمہیں بتاتا ہوں کہ انہوں نے یہ شہر لڑکر نہیں لیا بلکہ ہم نے وہاں سے اپنی فوج پہلے ہی نکال لی تھی۔ تاکہ مسلمان یہ شہر لے لیں، یہ ہم نے سوچ سمجھ کر چال چلی ہے کہ مسلمان اس خوش فہمی میں مبتلا ہوکر آگے آئیں اور ہم انہیں پھندے میں پھنسالیں  اور ان میں سے کوئی ایک بھی واپس نہ جا سکے ،وہ اب شہر فرما کے قریب پہنچ گئے ہیں موت انہیں بڑی تیزی سے ہمارے پھندے میں لا رہی ہے۔

اس کے بعد اس نے اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف خوب زھر اگلا اور عیسائی فوج کو دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج کہا پھر یہ کہا کہ دنیا میں صرف ایک مذہب کی حکمرانی ہوگی اور وہ مذہب عیسائیت ہوگا۔

لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوگا کہ تم عیسائیت کا تحفظ کرو مقوقس نے کہا۔۔۔ آج ملک اور مذہب قربانی مانگ رہے ہیں اگر تم نے شام کی طرح مصر بھی مسلمانوں کو دے دیا تو عیسائیت کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہاں مسلمانوں کی حکمرانی ہوگی۔ وہ بزدل اور بے وقار تھے جو شام جیسا بڑا ملک مسلمانوں کے ناپاک قدموں میں پھینک کر بھاگ آئے۔ مصری اتنے بزدل نہیں ہوسکتے میں جانتا ہوں تمہاری تلواریں مسلمانوں کے خون کی پیاسی ہیں مسلمان آرہے ہیں اپنی تلواروں کی پیاس بجھا لو شام کی شکست کا انتقام دل کھول کر لو۔

مقوقس کی تقریر جو شیلی ہوتی چلی گئی اور پھر اس نے جذباتی رنگ اختیار کر لیا لیکن مقوقس نے یہ دیکھا کہ تقریر سننے والے جوش و خروش کا ذرا سا بھی اظہار نہیں کر رہے تھے ،ایسی تقریر اور ایسے خطاب کے دوران لوگ نعرے لگایا کرتے تھے لیکن وہاں سننے والے ہجوم پر خاموشی طاری تھی۔

مقوقس نے آخر میں یہ کہا کہ شام میں ہمارا شہنشاہ ہرقل اس غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور انہیں بڑی آسانی سے شکشت دی جا سکے گی۔ لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا مقوقس نے اس کی وجوہات بیان کیں اور اس فوج کے خلاف باتیں کیں جس نے شام میں شکست کھائی تھی اور کہا کہ وہ نئی فوج تیار کرنا چاہتا ہے جس کے لئے جذبے والے اور مضبوط دل والے جوانوں کی ضرورت ہے اس نے اور زیادہ جوشیلی اشتعال انگیز اور جذباتی باتیں کر کے جوانوں کو اکسانے کی کوشش کی کے وہ فوراً فوج میں شامل ہو جائیں۔

مقوقس غالباً انسانی فطرت کا یہ پہلو نظر انداز کر رہا تھا کہ انسانوں پر جبراً حکومت کی جا سکتی ہے ۔لیکن ان سے جبراً کوئی قربانی نہیں لی جاسکتی، مقوقس نے دیکھا کہ اس کی اس اشتعال انگیز دعوت کے جواب میں بھی ہجوم خاموش رہا جرنیل اطربون بھی وہیں تھا۔اس نے مقوقس کو اشارہ کیا کہ وہ تقریر روک دے، مقوقس نے یہ اشارہ سمجھتے ہوئے بھی اپنی زبان کا جادو جاری رکھا اور ایک بار پھر عیسائیت کا نام لیا۔

صرف ایک بات بتا دیں۔۔۔۔ ہجوم میں سے ایک بڑی ہی بلند آواز اٹھی۔۔۔ آپ کونسی عیسائیت کی بات کر رہے ہیں شاہ ہرقل اور قیرس کی عیسائیت کی، یا اسقف اعظم بنیامین کی عیسائیت کی۔

مقوقس پر خاموشی طاری ہو گئی جیسے وہ اس سوال پر بوکھلا گیا ہو وہ آخر شاہی خاندان کا فرد تھا اسے غصہ آ گیا لیکن غصے کا اظہار نہیں کیا، اطربون نے اسے کہا کہ قبطیوں کا رویہ خطرناک معلوم ہوتا ہے۔

دیکھو یہ آدمی کون ہے۔۔۔ مقوقس نے حکم کے لہجے میں کہا ۔۔۔اس کے اس سوال سے میری کم تمہاری اور شاہ ہرقل کی زیادہ توہین ہوئی ہے اس شخص کو گرفتار کر کے سزا دی جائے۔

نہیں!،،،،، اطربون نے کہا۔۔۔۔ چاہتا میں بھی یہی ہوں کہ اس شخص کو عبرتناک سزا دی جائے لیکن صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنا رویہ نرم رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سخت رویہ اختیار کریں تو قبطی سرکش اور باغی ہو جائیں۔

مقوقس اور اطربون وہاں سے غصے اور شرمندگی کے عالم میں چلے گئے، مقوقس نے فوری طور پر دو کام کیے ایک یہ کہ ایک قاصد ہرقل کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ مسلمان فرما کے قریب پہنچنے والے ہیں اور قبطی عیسائیوں کا رویہ مخالفانہ لگتا ہے، مقوقس نے ہرقل سے یہ درخواست کی تھی کہ اسے بتایا جائے کہ کیا کرے۔

مقوقس نے دوسرا کام یہ کیا کہ بڑی ہی تیزی سے ان فوجی دستوں کو فرما روانہ کردیا جن میں رومی عیسائی اکثریت میں تھے اور قبطی عیسائی بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر تھے۔ ان دستوں کو حکم دیا گیا کہ انتہائی تیزی سے فرما پہنچے اور وہاں جو دستے موجود ہیں ان میں قبطی دستے بھی ہیں ان سب کو واپس اسکندریہ بھیج دیا جائے۔ مقوقس کو یہ خطرہ صاف نظر آنے لگا تھا کہ فرما میں قبطی عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہوئی تو وہ اتنا اہم اور قلعہ بند شہر مسلمانوں کو دے دیں گے۔

ہرقل بزنطیہ میں تھا بزنطیہ بہت دور تھا قاصد کو جانے اور آنے میں کئی دن درکار تھے ادھر سپہ سالار عمرو بن عاص کا لشکر فرما کے قریب پہنچ گیا تھا۔

*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*

مجاہدین اسلام کے لشکر کو ہدف تک پہنچنے میں کچھ دن اور لگ گئے اس دوران اسکندریہ سے مقوقس کی بھیجی رومی فوج کے دستے فرما پہنچ گیا اور قبطی عیسائیوں کے دستے وہاں سے نکال دیے گئے اس طرح فرما کا دفاع مزید مستحکم ہو گیا تھا۔

مجاہدین نے فرما کو محاصرے میں لے تو لیا لیکن شہر پہاڑی پر ہونے کی وجہ سے شہر کے اردگرد جگہ بہت تنگ تھی اس کا مسلمانوں کو یہ نقصان ہو رہا تھا کہ شہر کی دیواروں اور پہلو سے جو تیر آتے تھے وہ مسلمانوں کو زد میں آسانی سے لے لیتے تھے یہ پہاڑی بجائے خود اس شہر کا ایک قدرتی دفاعی انتظام تھا۔

مجاہدین نے اپنی روایتی شجاعت اور بے جگری کا یہ مظاہرہ کئی بار کیا کہ دوڑ کر دروازوں تک پہنچے اور دروازے توڑنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ دروازے بہت مضبوط تھے اور اوپر سے تیروں کی بوچھاڑیں آتی تھیں۔ کئی مجاہدین دروازوں پر شہید اور شدید زخمی ہوگئے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اس لشکر کے پاس محاصرے کا پورا سامان نہیں تھا منجیقیں نہیں تھیں کمند پھینکنے والے رسے نہیں تھے، اور رسوں والی سیڑھیاں بھی نہیں تھیں، قلعہ سر کرنے میں تو مسلمان خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ کمند پھینک کر بھی دیواروں پر چڑھ جایا کرتے اور جان قربان کر دیا کرتے تھے لیکن ان کے پاس ایسا کوئی سامان تھا ہی نہیں۔

مقوقس نے پہلے ہی اپنے دفاعی دستوں کو حکم دے رکھا تھا کہ مسلمانوں کی نفری تھوڑی ہے اور اسے بھگانے اور مارنے کا یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ ایک ایک دو دو دستے باہر بھیج کر ان پر حملہ کریں اور واپس قلعے میں آجایا کریں۔

ایک دو مؤرخوں نے لکھا ہے کہ محاصرہ ایک مہینے رہا بعض نے محاصرے کی مدت دو مہینے لکھی ہے ۔محاصرے کا صحیح عرصہ کہیں بھی نہیں لکھا قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ محاصرہ زیادہ لمبا نہیں ہوا تھا کیونکہ قلعے کی فوج نے باہر نکل نکل کر مسلمانوں پر حملے شروع کردیئے تھے مسلمانوں کی مجبوری یہ تھی کہ پہاڑی کے اوپر ان کے لیے لڑنے کی جگہ اتنی تھوڑی تھی کہ سالار کوئی پینترہ نہیں بدل سکتے تھے نہ کوئی چال چلنے کی پوزیشن میں تھے ان پر جب اندر سے حملہ آتا تھا تو وہ پیچھے ہٹتے اور پہاڑی کی ڈھلان ہی قدم جمانے نہیں دیتی تھی وہ مجبوراً پہاڑی سے اتراتے تھے رومی فوج نیچے نہیں آتے تھے وہ اوپر سے ہی واپس بڑی تیزی سے قلعے کے اندر چلے جاتے اور دروازے بند ہو جاتے تھے۔

سپہ سالار عمرو بن عاص کو اس قسم کی لڑائیاں لڑنے کا خاص تجربہ تھا انہوں نے اس تجربے کے مطابق ایک پلان بنا لیا اور اپنے لشکر کا کچھ حصہ اس پلان میں شامل کیا اور اس حصے کے سالار کو اچھی طرح سمجھا دیا کہ اب اندر سے حملہ آئے تو اسے کیا کرنا ہے۔

ایک روز قلعے کے ایک طرف کے دو دروازے کھلے اور رومی فوج روکے ہوئے سیلاب کی طرح بڑی ہی تیزی اور شدت سے باہر نکلی اور اس طرف کے مجاہدین پر ہلہ بول دیا ۔

جس سالار کو عمرو بن عاص نے اپنا پلان دیا تھا وہ شہر کے ایک پہلو میں تھا۔

 اس نے بڑی تیزی سے حرکت کی اور اپنے دستے ساتھ لے کر دیوار کے ساتھ ساتھ آیا تھا تاکہ دروازوں پر قبضہ کر لیا جائے لیکن رومی زیادہ تیز نکلے انہوں نے دیکھ لیا اور فوراً واپس ہوئے لیکن مسلمانوں نے پھر بھی انہیں روک لیا اب جو رومی فوج حملے کیلئے نکلی تھی اس کی تعداد پہلے حملوں سے خاصی زیادہ تھی۔

اب چونکہ مسلمان پہاڑی سے اترنے کے بجائے دیوار کے ساتھ تھے اس لیے انہوں نے جم کر مقابلہ کیا لیکن ان کی تعداد رومیوں کی نسبت بہت ہی کم تھی بڑا ہی خونریز معرکہ لڑا گیا بہت سے مجاہدین شہید ہو گئے رومی بھی بے شمار مارے گئے لیکن تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجاہدین پر غالب آگئے اور دروازوں میں داخل ہو کر اندر چلے گئے اور دروازے بند ہو گئے۔

مجاہدین کے لشکر کی نفری اور کم ہو گئی شہر کا دفاعی انتظام ایسا مستحکم تھا کہ شہر کے باہر جو درخت تھے وہ سب کاٹ دیے گئے تھے تاکہ محاصرہ کرنے والے درختوں پر چڑھ کر دیوار پر تیر اندازی نہ کرسکیں۔ عمرو بن عاص اور ان کے سالاروں کے لئے وہ صورتحال پیدا ہوگئی تھی جس میں بڑے بڑے نامور جرنیل بھی مایوس ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن سپہ سالار عمرو بن عاص نے سالاروں سے کہا کہ مایوسی جیسا گناہ نہ کرنا ان شاءاللہ فتح ہماری ہوگی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم یہیں ہار گئے تو ایوان خلافت میں ہماری کوئی حیثیت نہیں رہ جائے گی،،،، عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں کو ایک اور پلان دیا اور کہا کہ اس پلان میں یہ امکان موجود ہے کہ ہمارا آدھا لشکریہی ختم ہوجائے لیکن فتح یقینی ہوگی۔

تاریخ میں لکھا ہے کہ عجیب بات ہے کہ اتنے اہم شہر کے دفاعی دستوں کی کمانڈ لینے کے لیے نہ مقوقس فرما آیا نہ اطربون،  تاریخ میں اس جرنیل کا نام نہیں ملتا جو اس شہر کا کمانڈر تھا وہ جو کوئی بھی تھا مقوقس کے احکام کے مطابق چل رہا تھا یہ احکام اور پلان اسے محاصرے سے پہلے ہی ذہن نشین کرا دیے گئے تھے۔

اس پلان کے مطابق اس نے زیادہ دستوں سے حملہ کروایا تھا۔ اب پلان کے فیصلہ کن حصے پر حملہ کرنا تھا ۔رومی جرنیل نے آدھی سے زیادہ فوج حملے کے لئے مختلف دروازوں سے باہر نکال دیں یہ دستے پہلے کامیابیوں سے بہت خوش تھے اور انہیں اب بھی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی ،ان کی نفری بھی اب بہت زیادہ تھی اس لئے وہ کچھ زیادہ ہی دلیر ہو گئے تھے۔

 اس کثیر نفری نے محاصرے پر حملہ کیا تو عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں کو جو پلان دیا تھا اس کے مطابق مجاہدین لڑنے کے بجائے پہاڑی سے اس طرح اترنے لگے جیسے ڈر کر بھاگ نکلے ہوں، رومی پہلی کامیابیوں کے نشے سے سرشار ان کے پیچھے آئے عمرو بن عاص نے اس مقصد کے لئے کچھ دستے ریزرو میں رکھے تھے۔

 جو ایرونی پہاڑی کے ڈھلان پر آئے مجاہدین کے ریزرو دستے تیزی سے حرکت کر کے ان کے عقب یعنی شہر کی دیوار اور رومیوں کے درمیان پہنچ گئے اور رومیوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک دستہ یا غالباً کچھ نفری کھلے دروازوں میں سے قلعے کے اندر چلی گئی اس طرف کے رومی پھندے میں آگئے پہاڑی سے اتر جانے والے مجاہدین پھر پہاڑی چڑھنے لگے۔ اور انہوں نے رومیوں کو جو کاٹنا شروع کیا تو ان کے زخمی اور ان کی لاشیں لڑھکتی ہوئی نیچے ہی نیچے جانے لگی۔

 یہ چال شہر کے صرف ایک طرف ہی چلی گئی بلکہ ایک اور پہلو پر یہی صورتحال پیدا ہوئی تو مجاہدین نے وہاں بھی رومیوں کے عقب میں جاکر ان پر ہلہ بولا اور کچھ مجاہدین قلعے کے اندر چلے گئے۔

 رومی اس صورتحال کے لیے بالکل ہی تیار نہ تھے وہ تو پہلی کامیابیوں کو ذہن میں رکھے ہوئے اب بھی کامیابی کی ہی توقع لیے ہوئے تھے ۔ اندر گئے ہوئے مجاہدین کو لڑائی تو لڑنی پڑی لیکن انہوں نے باقی دروازے بھی کھول دیے رومیوں کی زیادہ تر نفری شہر سے باہر مجاہدین کی تلواروں سے کٹ رہی تھی۔

 جانی نقصان تو مجاہدین کا بھی ہو رہا تھا لیکن ہر مجاہد اس لڑائی کو اپنی ذاتی لڑائی سمجھ کر لڑ رہا تھا مرنے والوں میں زیادہ تعداد قبطیوں کی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایسی جنگ کبھی نہیں لڑی تھی پھر بھی انہوں نے رومیوں کو بہت ہی جانی نقصان پہنچایا۔

 شہر اس حالت میں فتح ہو گیا کہ شہر کے اندر اور باہر اس قدر خون تھا جیسے خون کا مینہ برس گیا ہو ، چھوٹی چھوٹی قلعہ بندیاں برجیاں اور برج اتنے زیادہ تھے کہ بھول بھلیاں سی بنی ہوئی تھی اور شک تھا کہ رومی جرنیل اور ماتحت افسران کہیں چھپے ہوئے ہیں ،سپہ سالار عمرو بن عاص نے شہریوں کو حکم دیا کے تمام قلعہ بندیاں گرا دیں۔ کچھ مجاہدین کو ان کے ساتھ لگا دیا۔ شک صحیح نکلا رومی جرنیل ایک برج کے کونے میں دبکا بیٹھا مل گیا اسے گرفتار کر لیا گیا۔

 فرما کی فتح مکمل ہوگئی اور مال غنیمت اکٹھا کیے جانے لگا ۔

تاریخ نویس بٹلر اور دو اور یورپی تاریخ نویسوں نے لکھا ہے کہ تاریخ ہمیشہ حیران رہے گی کہ اتنے تھوڑے مسلمانوں نے اتنا مضبوط قلعہ آخر کس طرح فتح کر لیا تھا۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*

فرما کی فتح کو غیر مسلم مؤرخوں نے حیرت انگیز کہا ہے۔ لیکن اہل دین ایمان کے لئے اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں تھی تاریخ اسلام ایسی  معجزہ نما فتوحات سے بھری پڑی ہے ۔سالاروں کے دلوں میں ایسا کوئی لالچ نہیں تھا کہ رومی جرنیلوں کے محلات میں سے زر و جواہرات کے خزانے ملیں گے اور دیگر مال غنیمت کا بھی کوئی شمار نہیں ہوگا۔ نہ ہی مجاہدین کے دلوں میں کوئی ایسی خواہش تھی ۔وہ اللہ کے نام پر اس فوج کشی کو جہاد فی سبیل اللہ جان کر گئے تھے۔ ان کے عزائم ذاتی نہیں دینی اور ملی تھی۔

اس سے بڑھ کر اور معجزہ کیا ہوسکتا ہے کہ ایران اور روم جیسی بڑی جنگی طاقتوں کو جنھیں تاریخ نے ناقابل تسخیر کہا ہے کچل اور مسل کر الگ پھینک دیا گیا تھا اور وہاں آج بھی اسلام کا پرچم بڑے فخر اور شان و شوکت سے لہراتا ہے۔

چونکہ فرما کی فتح غیرمسلم مؤرّخوں کے لئے حیرت ناک تھی اس لیے انہوں نے اس کے کچھ اسباب گڑھ لیے اور تاریخ کے دامن میں ڈال دیے تھے۔ مثلاً ایک یہ کہ اتنے تھوڑے سے مسلمان اتنی بڑی اور طاقتور فوج سے فرما کر قلعہ بند شہر نہیں لے سکتے تھے ۔وہ اس لئے فاتحہ کہلائے کہ بنیامین کے حکم سے قبطی عیسائی جو رومی فوج میں تھے لڑے ہیں نہیں تھے اور ان میں سے کچھ اپنی ہی فوج کے دشمن ہو گئے اور قتل و غارت کی ۔ دوسرا جواز یہ پیش کیا گیا کہ ہرقل کی سرکاری عیسائیت کا اسقف اعظم قیرس در پردہ ہرقل کے خلاف ہو گیا تھا اور اس نے بھی مسلمان سپہ سالار کے ساتھ ساز باز کرلی تھی ۔ پھر یہ کہ تمام مصری بدوّ مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے۔

غیرمسلم مؤرّخوں کی لکھی ہوئی تاریخ آگے چل کر پڑھی جائیں تو یہ خود اپنی ہی من گھڑت باتوں کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ اتنی سی بات درست ہے کہ بنیامین نے قبطی عیسائیوں کو یہ ہدایت پہنچا دی تھی کہ وہ جانوں کی بازی لگا کر نہ لڑیں لیکن رومیوں کو یہ پتہ نہ چلنے دیں کہ وہ دل وجان سے اس لڑائی میں شامل نہیں ۔ تاریخ میں یہ اعداد و شمار بھی ملتے ہیں کہ رومی فوج میں قبطی عیسائیوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی جو اگر باغی ہو بھی جاتی تو اس سے رومیوں کو جنگی لحاظ سے کوئی نقصان نہ ہوتا۔

باقی رہی بات ہرقل کے اسقف اعظم قیرس کی تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ قیرس کا سپہ سالار عمروبن عاص کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا ہی نہیں تھا نہ ہی عمرو بن عاص کو یہ توقع تھی کہ وہ قیرس اپنا ہمنوا اور مددگار بنا سکیں گے۔  قیرس اور ہرقل کے درمیان کوئی اور اختلاف ہو سکتا تھا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جہاں تک مصر کے دفاع کا تعلق تھا ہرقل اور قیرس ایک محاذ پر متحد اور متفق تھے۔

یہ صحیح ہے کہ بدوّ مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے اور انھیں جس دانشمندی سے استعمال کیا گیا تھا وہ پچھلے باب میں بیان ہوچکا ہے ۔لیکن جہاں تک لڑائی کا تعلق تھا بدوؤں کو ٹھیک طرح لڑایا نہیں جاسکتا تھا۔ کیونکہ وہ جنگجو ہی سہی، ایک منظم لشکر اور منظم فوج میں جاکر لڑنے کا تجربہ نہیں رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ بدؤوں کا جانی نقصان زیادہ ہوا تھا۔

*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*

یہ بھی صحیح ہے کہ رومی فوج میں زیادہ تعداد ان فوجیوں کی تھی جو شام سے شکست کھا کر بھاگے اور زخمی بھی ہوئے تھے ان پر مسلمانوں کی جو دہشت طاری تھی وہ ابھی تک موجود تھی۔ مقوقس نے نئی فوج تیار کی تھی لیکن پرانے فوجیوں نے نئے فوج کے ذہن میں یہ حقیقت ڈال دی تھی کہ مسلمان کس طرح بے جگری سے لڑتے ہیں، جانیں قربان کردیتے ہیں پیچھے نہیں ہٹتے۔

 پرانے فوجیوں نے نئے فوجیوں کو یہ بھی بتایا تھا کہ مسلمانوں کے لشکر کا ہر فرد لڑائی کو ذاتی لڑائی سمجھ کر لڑتا ہے۔

اس دہشت کے علاوہ رومی فوج مسلمانوں کے حسن سلوک سے بھی متاثر تھی خصوصاً غیر فوجی عیسائی تو مسلمانوں کے کردار اور اس نے سلوک سے بہت ہی متاثر تھے، وہ کہتے تھے کہ مسلمان ظالموں کی طرح لڑتے ہیں لیکن فتح کے بعد مفتوحہ لوگوں کے لئے رحمت کے فرشتے بن جاتے ہیں ۔ان کا یہ کہنا غیرمسلم مؤرّخوں کی لکھی ہوئی تاریخ میں بھی ملتا ہے کہ مسلمان صرف جسموں کو ہی فتح نہیں کرتے تھے بلکہ دلوں کو فتح کر لیتے اور مفتوحہ لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ وجہ یہ کہ وہ نہ تو اور عورتوں اور کمزوروں پر ہاتھ اٹھاتے تھے نہ لوٹ مار کرتے نہ یہ کہ عورتوں پر ٹوٹ پڑتے۔

یہ کہنا صحیح نہیں کہ رومیوں میں قومی جذبہ اور وقار نہیں تھا سب کچھ تھا لیکن انہیں مارا تو شہنشاہیت نے مارا ۔ یہاں ایک رومی لڑکی کا واقعہ سامنے آتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رومیوں میں قومی جذبہ اور وقار کس قدر زیادہ موجود تھا۔ اس لڑکی کا نام نوشیبا تھا اور وہ اس جرنیل کی بیٹی تھی جو فرما کی دفاعی رومی فوج کا کمانڈر تھا۔

 تاریخ میں اس جرنیل کا نام نہیں ملتا اس جرنیل کی اس بیٹی نے تاریخ کا وہ باب لکھ ڈالا تھا جو صرف اس تاریخ نویسوں کے یہاں ملتا ہے جنہوں نے کچھ پس منظر کے واقعات تفصیل سے لکھے ہیں۔

اس جرنیل کا تعلق ہرقل کے شاہی خاندان کے ساتھ تھا نوشیبا کی عمر اس وقت بائیس تیئس سال تھی اور ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔ فوج کا ہی ایک جوان سال رومی عہدیدار تھا جس کے ساتھ نوشیبا کی منگنی ہو چکی تھی ۔یہ عہدیدار بھی شاہی خاندان کا فرد تھا یہ سب لوگ نوشیبا کو نوشی کہتے تھے۔

ہم اس داستان کو کچھ دن پیچھے اس وقت پر لے جا رہے ہیں جب مسلمان فرما کے قلعے میں داخل ہورہے تھے ۔ قلعے کے باہر بھی اور اب قلعہ کے اندر بھی خونریز جنگ لڑی جا رہی تھی ۔ یہ فرما کا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ نوشی کا جرنیل باپ اس وقت دیوار پر کھڑا یہ خونریز معرکہ دیکھ رہا تھا اور وہ یقیناً محسوس کر رہا ہو گا کہ مسلمان فرما فتح کر چکے ہیں اور اس کی فوج ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہی ہے ۔ لڑائی کی صورتحال یہ تھی کہ رومی قلعہ کے دفاع کے لئے نہیں بلکہ اپنی اپنی جان کے دفاع کے لیے لڑ رہے تھے وہ بری طرح کٹ رہے تھے۔

جرنیل نے دیوار سے پہلے تو باہر دیکھا پھر اندر کی طرف دیکھنے لگا اس کا ایک ماتحت اس کے پاس آ کھڑا ہوا اور جرنیل سے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ مسلمانوں کو اندر آنے دیا جائے اور اپنی فوج باہر رہے اور پھر مسلمانوں پر حملہ کرکے انہیں ختم کر دیا جائے۔ وہ کہتا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور ان پر قابو پانا ایسا مشکل نہیں جسے ہم ناممکن کہیں۔

میں شام سے آیا ہوں ۔۔۔رومی جرنیل نے ہاری ہوئی سی مسکراہٹ سے کہا۔۔۔ میں نے ان مسلمانوں کو لڑتے دیکھا ہے اور لڑا بھی ہوں۔

 تم انہیں کم تعداد والے کہہ رہے ہو یہی کم تعداد ان کی اصل طاقت ہے کیا تم اس صورتحال میں اپنی فوج کو اپنے حکم کا پابند کر سکتے ہو کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ ہمارے فوجی جان بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن بھاگنے کے راستے بھی دیکھ رہے ہیں۔ بدوّ غداری کر گئے ہیں۔

تو پھر ہمارے لئے کیا حکم ہے۔۔۔ ماتحت عہدے دار نے پوچھا۔

میری طرف سے تمہیں اجازت ہے۔۔۔ جرنیل نے کہا۔۔۔ لڑنا چاہتے ہو تو لڑو بھاگنا ہے تو بھاگ جاؤ۔

مجھے ایسا بزدل بھی تو نہ سمجھیں۔۔۔ ماتحت نے کہا۔۔۔ آپ نے کہہ دیا کہ بھاگنا ہے تو بھاگو تو کیا میں بھاگ اٹھوں گا آخر دم تک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔

اس ماتحت نے شہر کے اندر کا منظر دیکھا تو وہیں کھڑے کھڑے اپنے قریبی سپاہیوں کو للکار کر کہا کہ مسلمان اندر آگئے ہیں اور یہیں سے منہ اندر کی طرف کر لو اور مسلمانوں کو تیروں کا نشانہ بناؤ۔۔۔۔ جس رومی سپاہی نے بھی یہ حکم سنا وہ گھوم کر شہر کے اندر مسلمانوں پر تیر برسانے لگا۔

شہر میں بھگدڑ مچ گئی تھی لوگ گھروں سے نکل نکل کر بھاگ رہے تھے اور فوجی لڑ رہے تھے اور کچھ شہریوں میں مل کر بھاگ رہے تھے ۔مسلمان اعلان کر رہے تھے کہ کوئی شہری گھر چھوڑ کر نہ بھاگے گھروں میں رہوں کوئی مسلمان کسی گھر میں داخل نہیں ہو گا نہ لوٹ مار ہوگی نہ کسی عورت پر ہاتھ اٹھایا جائے گا۔

یہ بدبخت مسلمان ہمارے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔۔ ماتحت جرنیل نے کہا۔۔۔ یہ جانتے ہیں کہ بھاگنے والے لوگ سونا چاندی اور رقم اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں ان کی نظر انہیں چیزوں پر ہے۔

دھوکا نہیں دے رہے ۔۔۔جرنیل نے کہا۔۔۔ یہی ان مسلمانوں میں خوبی ہے مفتوحہ شہر میں کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتے یہی خوبی ہماری فوج میں بھی ہوتی تو نہ یہ شام سے بھاگتے نہ آج اتنا مضبوط قلعہ بند شہر ان کے حوالے کر دیتے۔ ہمارے فوجی تو اپنے ہی لوگوں کے گھروں میں گھس کر لوٹ مار شروع کردیتے ہیں۔

اتنے میں مجاہدین دیوار پر آ گئے اور ان تیر اندازوں پر ٹوٹ پڑے جو نیچے شہر کے اندر مجاہدین پر تیر چلا رہے تھے۔ جرنیل ایک طرف کو بھاگ اٹھا اس کا لباس اس کی بڑے واضح پہچان تھی کہ یہ شخص جرنیل ہے اسے توقع نہیں تھی کہ وہ زندہ دیوار سے اتر جائے گا۔ اور اگر زندہ اتر بھی گیا تو مسلمانوں کے قیدی کی حیثیت سے اترے گا۔ لیکن دیوار پر جو اس کے سپاہیوں میں ہڑبونگ اور افراتفری پیدا ہو گئی تھی اس سے اس نے یہ فائدہ اٹھایا کہ جھکا جھکا چلتا دیوار سے اتر ہی گیا۔

نیچے بھی وہی خونریزی کا اور بھاگ دوڑ کا عالم تھا ۔ جرنیل کو اپنا آپ بچانا مشکل نظر آ رہا تھا لیکن اس کی خوش قسمتی یہ تھی کہ قریب ہی ایک گلی تھی جس میں وہ چلا گیا اور پہلے ہی مکان کے دروازے پر ہاتھ رکھا۔ دروازہ اندر سے بند تھا اس نے بڑی زور سے دستک دی لیکن دروازہ نہ کھلا گھر والوں کو یہ خوف آیا ہوگا کہ یہ مسلمان ہے جو اندر آکر ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو فاتحین مفتوحہ لوگوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں ۔

جرنیل نے اپنا نام لے کر کہا دروازہ فوراً کھولو۔

 دروازہ ذرا سا کھلا جس میں سے جرنیل کی کو ایک آنکھ نظر آئی، جرنیل نے دروازے کو زور سے دھکیلا اور اندر چلا گیا وہ ایک آدمی تھا جس نے ایک کواڑ ذرا سا کھول کر باہر جھانکا تھا ۔ دروازہ فوراً بند ہوگیا اس آدمی نے اپنے جرنیل کو پہچان لیا اور پوچھا کہ لڑائی کی صورتحال کیا ہے؟ 

جرنیل نے صورتحال بتانے کی بجائے ہانپتے کانپتے لہجے میں کہا کہ اسے فوراً اپنے کپڑے دے دے۔ وہ آدمی جرنیل کے اس اندازے سے ہی سمجھ گیا ہوگا کہ لڑائی کی صورتحال کیا ہے صورت حال اچھی ہوتی تو یہ جرنیل اس طرح گھبراہٹ اور خوفزدگی کے حالت میں ایک عام گھر میں نہ جا گھستا پھر بھی وہ آدمی کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

سنا نہیں تم نے!،،،،، جرنیل نے حکم اور رعب کے لہجے میں کہا ۔۔۔مجھے اپنے کپڑے اور چغہ دے دو مجھے پہچانتے نہیں تم؟ میں تمہارا جرنیل ہوں۔

پہچانتا ہوں۔۔۔ اس آدمی نے طنزیہ سے لہجے میں کہا۔۔۔ لیکن ایک غریب آدمی کے کپڑے پہن کر آپ کو کون پہچانے گا۔

وہ آخر جرنیل تھا اور شاہی خاندان کا فرد تھا اور جلدی میں بھی تھا اس لئے اس نے اس شخص کی طنزیہ کلامی کا جواب زبان سے دینے کی بجائے تلوار نکالی اور اپنا حکم دہرایا۔ کمرے سے ایک عورت نکل آئی شاید اس شخص کی بیوی تھی اسے کہنے لگی کہ یہ جو مانگتا ہے اسے فوراً دے دو۔

جرنیل نے اس شخص کے دیئے ہوئے کپڑے اپنے پہنے ہوئے لباس پر ہی چڑھالئے۔

محمد یحيٰ سندھو


 ایک غریبانہ سا چغہ بھی پہنا جو اس کے کندھوں سے ٹخنوں تک لمبا تھا ۔ میلی اور خستہ حالت ایک چادر تھی جو اس نے اپنے سر پر لپیٹ لی اور کچھ لٹکا لی اب وہ جرنیل نہیں بلکہ ایک غریب آدمی تھا باہر نکلتے ہوئے وہ صحن سے گزرا تو ایک ٹیڑھی میڑھی لاٹھی سی پڑی نظر آئی اس نے لاٹھی اٹھا لی اور ذرا سا کبڑا ہو کر اور لاٹھی ٹیک کر چلنے لگا دروازے کے قریب پہنچ کر رکا اور مڑ کر دیکھا۔

اتنا مت ڈرو!،،،،، اس نے گھر کے اس آدمی اور اس کی بیوی سے کہا۔۔۔ دروازہ کھلا رہا تو بھی کوئی خطرہ نہیں مسلمان گھروں میں داخل نہیں ہوتے اور وہ لوٹ مار نہیں کرتے۔

تم جاؤ اس شخص نے کہا۔۔۔ اب ہم جانیں مسلمان جانیں۔ میں تمہاری جرنیلی سے نہیں تمہاری تلوار سے ڈر گیا تھا۔ اگر تمہیں ہماری بیٹیوں کا خیال نہیں تو اپنی ہی بیٹی کا خیال کیا ہوتا اور لڑتے ہوئے مر جاتے ۔۔۔۔جاؤ اب تمہیں کوئی نہیں پہچان سکے گا۔

اگر اسے بھاگنے کی جلدی نہ ہوتی تو وہ غریب سے ایک آدمی کی یہ گستاخی معاف نہ کرتا اور اس کا سر اس کے بدن سے جدا کر دیتا لیکن اس نے اس آدمی کو قہر اور غضب کی نگاہوں سے دیکھا اور باہر نکل گیا۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*

رومی فوج کا یہ جرنیل لاٹھی ٹیکتا ذرا جھکا ہوا آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا شہر کی گلیوں میں اسے اپنی فوج کے سپاہی بھاگتے دوڑتے جان بچاتے نظر آ رہے تھے۔ مسلمان بھی ان کے قریب سے گزرے اور اس نے ان کی خون آلود تلواریں دیکھیں چار پانچ مرتبہ ایسا ہوا کہ وہ گلی کا موڑ مڑ رہا تھا کہ گھروں سے بھاگنے والے آدمی اس سے ٹکرائے اور بھاگ گئے۔

اسے تین مسلمان نظر آئے جو بڑی ہی بلند آواز سے اعلان کرتے پھر رہے تھے کہ لوگ گھروں کے اندر رہیں بھاگے نہیں کسی گھر میں کوئی لوٹ مار کے لیے داخل نہیں ہوگا۔ ایک مسلمان کہتا پھر رہا تھا کہ باہر نہ نکلنا بڑی زبردست لڑائی ہو رہی ہے گھوڑوں تلے آکر مارے جاؤ گے ۔پھر بھی شہریوں میں افراتفری بپا تھی اور کچھ لوگوں نے دروازہ اندر سے بند کر لیے تھے۔

جرنیل بہت جلدی میں تھا لیکن ڈر سے تیز نہیں چلتا تھا کہ پہچانا جائے گا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اسے بوڑھا اور کمزور یا بیمار سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے۔ اس کا گھر شہر سے الگ تھلگ تھا ۔وہ گھر نہیں ایک محل تھا وہاں تک پہنچنے میں خاصا وقت گزر گیا۔ اسے یہ خطرہ نظر آ رہا تھا کہ اس کے گھر والے بروقت نکل نا گئے تو پکڑے جائیں گے۔ زیادہ خیال بیٹی کا تھا جو نوجوان اور غیرشادی شدہ تھی وہ بہت ہی زیادہ خوبصورت بھی تھی۔

وہ گھر کے قریب پہنچا تو اسے ایسے آثار نظر آنے لگے جیسے محل کے مکین بھاگ گئے ہوں۔ مسلمان گھوڑسوار محل کے احاطے میں داخل ہو رہے تھے کچھ محل کے اندر چلے گئے تھے وہ احاطے کے باہر والے گیٹ پر جا روکا اور اس محل کو حسرت بھری نظروں سے دیکھنے لگا جس میں وہ شاہی خاندان کا جرنیل تھا لیکن اب اس محل کے درودیوار جیسے اس کے دشمن ہو گئے تھے۔

 ایک مسلمان محل میں سے نکلا اور بلند آواز سے کہا کہ سب بھاگ گئے ہیں محل بالکل خالی ہے۔

جرنیل وہیں کھڑا رہا اسے یہ اطمینان ہو گیا کہ اس کے گھر کے تمام افراد نکل گئے ہیں۔

وہ وہیں کھڑا اپنے محل کو دیکھتا رہا تصور میں لایا جاسکتا ہے کہ اس کے سینے پر کیسے سانپ اور کیسے کیسے زہریلے ناگ لَوٹے ہوں گے۔

 وہ اس شہر کا حاکم اور جرنیل نہیں بلکہ بادشاہ تھا یہاں کے لوگوں کی قسمت اس اکیلے شخص کے ہاتھ میں تھی اور وہ ان کا روزی رساں بنا ہوا تھا۔

اس محل میں اس نے جو عیش و عشرت کی تھی وہ بھی اسے یاد آئی ہوگی۔

 محل کے سامنے بڑا ہی خوب صورت باغ تھا اس باغ میں اور اس محل میں اس نے معصوم نوجوانیاں اور ان کی عصمتیں پامال کی تھی۔ آج اسے اپنی بیٹی کا غم کھا رہا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ یہاں سے نکل گئی تھی یا کسی فاتح کے ہاتھ چڑھ گئی ہے۔

سپہ سالار آرہے ہیں اسے اپنے پیچھے ایک آواز سنائی دی۔

اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا لشکر مجاہدین کے فاتح سپہ سالار عمرو بن عاص آ رہے تھے۔ ان کے پیچھے چند ایک گھوڑسوار محافظ تھے اس رومی جرنیل نے ایک بار پھر محل کی طرف دیکھا یہاں تو اس کے محافظوں کا ایک دستہ چاک و چوبند اور ہر دم تیار موجود رہا کرتا تھا لیکن اب ان کا نام و نشان نہ تھا۔

اس نے وہاں سے کھسک جانے کی یا بھاگ نکلنے کی سوچ ہی نہیں عمروبن عاص اسکے قریب پہنچ چکے تھے ۔ جرنیل نے اپنا آپ چھپائے رکھنے کے لئے یوں کیا کہ عمرو بن عاص کا گھوڑا اس کے قریب آیا تو اس نے جھک کر اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا سپہ سالار اور ان کے محافظ ان کے قریب سے گزر گئے اور محل میں جا داخل ہوئے۔

یہاں کھڑے کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔رومی جرنیل کے کانوں میں ہلکی سی آواز پڑی۔

اس نے چونک کر ادھر دیکھا ایک بوڑھی عورت اس کے پاس کھڑی تھی ۔ وہ اس بڑھیا کو نہیں جانتا تھا ۔اس کے کسی ملازم کی ماں تھی جس نے اسے غریبانہ بہروپ میں بھی پہچان لیا تھا۔ اس نے جرنیل کو بتایا کہ اس کے گھر کے تمام افراد اسی وقت نکل گئے تھے جس وقت انہیں یہ اطلاع ملی تھی کہ مسلمان کھلےدروازوں سے شہر میں داخل ہو رہے ہیں ۔ شہر کے دو دروازے خاص طور پر چھوٹے بنوائے گئے تھے اور یہ بہت ہی مضبوط تھے ان دونوں دروازوں کی چابیاں شاہی محافظ دستے کے کمانڈر کے پاس رہتی تھی ۔ یہ دروازے فوج کے اندر یا باہر آنے جانے کے لیے استعمال نہیں ہوتے تھے۔ یہ کبھی بھی نہیں کھولے تھے یہ دروازے شاہی خاندان کے لئے مخصوص تھے لیکن انہیں بند اور مقفل ہی رکھا جاتا تھا۔ ان کا استعمال یہی تھا جو اب کیا گیا یعنی یہ شاہی خاندان کے فرار کے لیے مخصوص تھا ۔

بڑھیا نے جرنیل کو بتایا کہ جب مسلمان شہر میں داخل ہو رہے تھے اس وقت ان دونوں میں سے ایک دروازہ کھولا گیا اور تمام افراد اس سے نکل گئے اس طرف کوئی لڑائی نہیں تھی۔

اور میری بیٹی؟ 

وہ بھی ساتھ ہی گئی ہے۔۔۔ بڑھیا نے جواب دیا۔۔۔ آپ کی بیٹی کا منگیتر آگیا تھا وہی سب کو اپنے ساتھ لے گیا ہے آپ بھی چلے جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پہچانے جائیں پھر مسلمان آپ کو گرفتار کرلیں گے۔

وہ اپنے ساتھ گھوڑوں پر کچھ سامان لے گئے ہیں؟ 

کچھ بھی نہیں ۔۔۔بڑھیا نے جواب دیا۔۔۔ اتنی مہلت ہی نہیں تھی کہ قیمتی چیزیں اکٹھی کر سکتے۔

جرنیل نے اب جو محل کی طرف دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے ایک تیر اس کے دل میں اتر گیا ہو اسے معلوم تھا کہ اس محل میں زروجواہرات کا کتنا خزانہ موجود تھا۔

آپ بہت مغموم نظر آتے ہیں۔۔۔ بڑھیا نے کہا۔۔۔ آپ کی جان سلامت ہے خاندان کا ہر فرد زندہ نکل گیا ہے آپ بھی چلے جائیں اور تیار ہو کر واپس آئیں اس شہر پر حملہ کریں اور یہ شہر آپ کا ہی ہوگا۔

جرنیل کے ہونٹوں پر اداس سی مسکراہٹ آ گئی۔ اسے بڑھیا کی یہ بات اچھی لگی لیکن وہ جانتا تھا کہ مسلمانوں سے وہ شہر واپس لینا عموماً ممکن نہیں ہوتا جو وہ فتح کرلیتے ہیں،،،،،،، وہ وہاں سے ہٹا اور محل پر الوداعی نگاہ ڈالتا چلا گیا ۔اسے معلوم تھا کہ اس کا خاندان کہاں گیا ہے ۔ کم و بیش تیس میل دور ایک اور بڑا شہر تھا جس کا اس دور میں نام بلبیس ہوا کرتا تھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے خاندان کے افراد کس راستے سے گئے ہونگے ۔وہ اس چھوٹے سے دروازے سے نکلا جو شاہی خاندان کے فرار کے لیے مخصوص تھا اس طرف سے کوئی حملہ آور نہیں آ سکتا تھا کیونکہ دیوار کے ساتھ ہی پہاڑی کی ڈھلان تھی جس پر بڑا ہی تنگ راستہ تھا یہ راستہ اتنا ہی تھا کہ ایک آدمی یا ایک گھوڑا اس راستے سے چڑھ یا اتر سکتا تھا۔ اس طرف کوئی لڑائی نہیں تھی بالکل خاموشی تھی وہ نیچے چلا گیا زخمی وہ ہو کر گرنے والے رومی گھوڑ سواروں کے گھوڑے بھاگتے دوڑتے دور دور تک پھیل گئے تھے۔ جرنیل نے دیکھا کہ تین چار گھوڑے اس پہاڑی سے نیچے چلے گئے تھے جس پہاڑی پر فرما کا شہر آباد تھا ۔اس نے ایک گھوڑا پکڑا اس پر سوار ہوا اور ایڑ لگا دی۔

یہ تمام علاقہ سرسبز تھا اور جنگل کہیں کہیں گھنا بھی تھا اور چھوٹی بڑی پہاڑیاں بھی تھی وہاں جاکر انسان اور گھوڑے گم ہو جاتے تھے۔


جاری ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023