اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر29
اس رومی جرنیل نے خاصی دور جا کر گھوڑا روکا اور جو غریبانہ کپڑے اس نے اپنے جنگی لباس پر پہنے تھے وہ اتار کر پھینک دئیے اور آگے کو چل پڑا ۔ اب اسے پکڑے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا ۔ اگر علاقہ میدانی ہوتا تو وہ بہت دور نکل گیا ہوتا لیکن پہاڑی علاقے میں اسے دائیں بائیں بہت مڑنا پڑتا تھا اس لئے وقت زیادہ گزر رہا تھا اور فاصلہ کم نہ ہو رہا تھا اتنے میں سورج غروب ہو گیا۔
پیچھے فرما میں اس کے محل سے تمام مال غنیمت برآمد کرکے اکٹھا کر لیا گیا تھا وہ تو زر و جواہرات کا ایک خزانہ تھا دیگر ساز و سامان اور کپڑے وغیرہ بھی بیش قیمت تھے۔ مجاہدین نے بھاگ دوڑ کر شہریوں میں امن و امان قائم کر دیا بدوؤں پر خاص طور پر نظر رکھی گئی تھی کہ وہ کسی شہری کے گھر میں داخل نہ ہوں ،انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کونسی اشیاء ہوتی ہے جیسے مال غنیمت میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ اشیاء کہاں کہاں ہوتی ہیں ۔
رومی جرنیل سورج غروب ہونے کے بعد بھی روکا نہیں اس نے گھوڑے کی رفتار خاصی تیز رکھی تھی اور اسے امید تھی کہ اپنے خاندان کو راستے میں ہی جا لے گا،،،،،، اور اس نے انہیں راستے میں ہی جا لیا۔ وہ جگہ بڑی خوبصورت اور خوش نما تھی جہاں اس کا خاندان کچھ دیر کے لئے رک گیا تھا۔ وہ سب لوگ گھوڑے پر گئے تھے وہ جگہ فرما سے دس گیارہ میل دور تھی۔ گھوڑوں کے ہنہنانے سے ان لوگوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔ جرنیل اپنے خاندان سے جا ملا اور اس نے سب سے پہلے اپنی نوجوان بیٹی کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟
وہ اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔
پاگل ہو گئی ہے۔۔۔ جرنیل کی بیوی نے کہا۔۔۔ پاگل پن میں کہیں غائب ہو گئی ہے۔
جرنیل تو پہلے سُن ہو کر رہ گیا ۔اور خاندان کے ہر فرد پر سناٹا طاری ہو گیا ۔
یک لخت جرنیل نے گرج کر کہا کہ اسے صحیح بات بتائی جائے پھر اس نے اپنی بیٹی کے منگیتر کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ جرنیل کی بڑھیا نے بتایا تھا کہ نوشی کا منگیتر آگیا تھا اور وہ سب کو ساتھ لے گیا ہے۔
نوشی کے متعلق یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ اپنے شاہی وقار کے متعلق بہت ہی جذباتی اور حساس تھی۔ جرنیل کی یہی ایک بیٹی جوان ہوئی تھی دو بیٹے اس سے ابھی چھوٹے تھے ۔ جرنیل نے اپنی اس بیٹی نوشی کو جنگی تربیت دینے کے لئے ایک استاد مقرر کر رکھا تھا جس نے اس لڑکی کو شہسوار بنا دیا تھا پھر اسے تیغ زنی، برچھی بازی، اور تیراندازی کی ایسی تربیت دی تھی کہ وہ تجربے کار فوجی کی طرح دشمن کے مقابلے میں اتر سکتی تھی۔ نوشی تھی تو نوجوان اور بڑی ہی خوبصورت لڑکی لیکن اس نے اپنے آپ میں مردانہ صفات پیدا کر لی تھی۔ اور اس کی فطرت جنگجو مردوں جیسی ہوگئی تھی۔ اپنے آپ سے اکثر کہا کرتی تھی کہ وہ اپنی زندگی میں ملک شام کو رومی سلطنت میں شامل کر لی گئی۔
اس کا جو استاد تھا اس نے نوشی کے دل میں مسلمانوں کے خلاف ایسی نفرت بھر دی تھی کہ وہ مسلمانوں کا نام سنتے ہی اس نفرت کا اظہار کرنے لگتی تھی۔ اس کے اس جرنیل باپ کے دوغلے پن کا یہ حال تھا کہ ایک طرف تو مسلمانوں کے اخلاق کی تعریف کیا کرتا تھا لیکن اپنی اولاد کے دلوں میں مسلمانوں کا تاثر کچھ ایسا پیدا کردیا تھا جیسے اس سے زیادہ کوئی اور حقیر اور قابل نفرت قوم ہو ہی نہیں سکتی۔ مسلمانوں نے رومیوں سے شام چھین کر انھیں مصر کی طرف بھاگا دیا تو نوشی کی جزباتی حالت ایسی ہو گئی جیسے وہ ہر اس مسلمان کو قتل کر دے گی جو اس کے سامنے آئے گا اب مسلمانوں نے اسے پورے خاندان سمیت فرما سے بھی بھاگ جانے پر مجبور کردیا اور وہ اپنا محل اور زر جواہرات کا انبار وہیں چھوڑ کر بھاگ نکلی۔
جرنیل کو بتایا گیا کہ فرما سے نکلتے ہی نوشی بگڑ گئی تھی کہتی تھی کہ یہ تھوڑے سے مسلمان کبھی فرما فتح نہیں کر سکتے تھے یہ کامیابی انھیں صرف اس لیے حاصل ہوئی ہے کہ بدو ان کے ساتھ مل گئے تھے۔ یہ بات اسے فرما پر حملے سے پہلے ہی معلوم ہو گئی تھی۔ لیکن اس نے اس طرف دھیان نہیں دیا تھا اب اس کے منگیتر نے بتایا کہ بدوّ مسلمانوں کے ساتھ نہ ہوتے تو ان مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ واپس نہ جا سکتا تھا۔
نوشی کی ماں نے جرنیل کو جو بات سنائی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ محل کا ایک ادھیڑ عمر ملازم مصری بدو تھا اور عیسائی تھا۔
نوشی کو یہ بدوّ اتنا اچھا لگتا تھا کہ اسے اس نے اپنا خاص معتمد ملازم بنا لیا تھا ،اس بدوّ ملازم کا ایک جوان بیٹا بدوؤں کے لشکر میں چلا گیا تھا جو مسلمانوں سے جا ملا تھا۔ اس بیٹے نے اپنے باپ کو تفصیل سے بتایا تھا کہ بدوّ کس طرح مسلمانوں کے پاس گئے تھے اس نے بتایا تھا کہ آسمان سے فرشتے اترے تھے اور انہوں نے خدا کا پیغام دیا تھا۔
بیٹے کا تو یہ حال کے وہ مسلمانوں سے جا ملا لیکن باپ کٹر عیسائی تھا اور مسلمانوں کا ویسا ہی دشمن جیسی نوشی تھی۔
یہ ایک ہم خیالی بھی تھی جس کی وجہ سے یہ ملازم نوشی کو اچھا لگتا تھا۔
اب مسلمانوں نے فرما بھی فتح کرلیا تو اس ملازم نے نوشی کو بتایا کہ بدوّ اپنی قوم اور مذہب سے غداری نہ کرتے تو مسلمان اتنا مضبوط قلعہ بند شہر کبھی فتح نہ کرسکتے۔ نوشی تو جل اٹھی اور اس ملازم نے جلتی پر تیل چھڑکا۔
یہ خاندان جب فرما سے نکلا تو نوشی نے اس بدوّ ملازم سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ چلے اس ملازم کو بھی نوشی سے کچھ ایسا پیار ہوگیا تھا کہ وہ ساتھ چل پڑا اور اب نوشی کے ساتھ وہ بھی لاپتہ ہو گیا تھا۔
رومی جرنیل نے جب اپنی بیوی کی زبانی یہ بات سنی تو اس نے فوراً کہا کہ یہ بدوّ بھی غداری کر گیا ہے، جرنیل کا مطلب یہ تھا کہ وہ نوشی کو ورغلا کر اپنے ساتھ لے گیا ہے اور مسلمانوں کے پاس جاکر لڑکی سالار کے حوالے کردے گا اور اس کے عوض مال غنیمت وصول کر لے گا۔
جرنیل کا یہ شک محذ ایک وہم تھا اصل بات جو بعد میں معلوم ہوئی وہ یوں تھی کہ لڑکی نے فرما سے نکلتے ہی کہنا شروع کردیا تھا کہ وہ ان بدوؤں کے ہاں جائے گی جو ابھی مسلمانوں کے ساتھ نہیں ملے اور ان کے سرداروں سے کہے گی کہ وہ کسی طرح غدار بدوؤں کو واپس لائیں، یہ مہم کوئی آسان مہم نہیں تھیں نوشی شاید اپنے آپ کو شاہی خاندان کی لڑکی اور بدوؤں کو اپنی رعایا سمجھ کر حکم چلانا چاہتی تھی، لیکن بعد میں یہ راز کھلا کہ اس بدوّ ملازم نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ ایک ایسے بدوّ کے پاس لے جائے گا جس کے ہاتھ میں غیبی طاقت ہے اور وہ جو چاہے کرسکتا ہے ،وہ شخص کوئی جادو چلانے کا علم رکھتا تھا اور لوگ اس سے غیب کا اور آنے والے وقت کا حال پوچھنے جاتے تھے اور وہ پراسرار بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا۔
بدوّ ملازم نے نوشی کو یقین دلایا تھا کہ یہ شخص جسے سب جادوگر کہتے ہیں اگر حکم دے دے یا بدوؤں کو ڈرا دے تو کوئی اور بدوّ مسلمانوں کے لشکر میں شامل نہیں ہوگا اور جو شامل ہو چکے ہیں وہ واپس آ جائیں گے۔
نوشی کی ماں نے جرنیل کو بتایا کہ نوشی کی جزباتی حالت بہت ہی بری ہو گئی تھی اور وہ فرما سے کچھ دور آ کر گھوڑا روک لیتی اور کہتی کی وہ جا رہی ہے اسے زبردستی آگے لے جاتے تھے وہ علاقہ ایسا تھا کہ چٹانوں اور ٹیکریوں کی وجہ سے ہر چند قدم بعد دائیں یا بائیں مڑنا پڑتا تھا اور جگہ اتنی تنگ تھی کہ گھوڑے ایک دوسرے کے پیچھے قطار کی صورت میں ہی چلائے جا سکتے تھے نوشی کی کوشش یہ تھی کہ وہ سب سے آخر میں رہے۔
خاصی دور آ کر ایسی جگہ آگئی کہ پیچھے والے کو اپنے آگے جانے والے گھوڑے کی بھی خبر نہیں رہتی تھی یہ قافلہ اصل راستے سے ہٹ کر دشوار گزار راستے سے جا رہا تھا تاکہ مسلمان تعاقب میں آئیں تو انھیں کچھ نہ ملے۔
ایک جگہ ذرا کشادہ آئی تو دیکھا نوشی اس قافلے کے ساتھ نہیں تھی اور بدوّ ملازم بھی نہیں تھا۔
نوشی کے منگیتر نے کہا کہ وہ اس کے پیچھے جا رہا ہے اس نے یہ بھی کہا کہ اس کا انتظار نہ کیا جائے ، سب چلتے چلیں کیونکہ ہوسکتا ہے نوشی اسے نہ ملے، اور وہ اسے ڈھونڈ کر ساتھ لے ہی آئے گا ۔ اس طرح جرنیل کا خاندان بلبیس کی طرف بڑھتا گیا اور منگیتر نوشی کے پیچھے چلا گیا۔
جرنیل غصے سے اٹھ کھڑا ہوا کہنے لگا کے وہ بھی اس کے پیچھے جاتا ہے لیکن بیوی نے اسے پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا کہ اتنا وقت گزر چکا ہے اب اس کے پیچھے جانا محض حماقت ہے۔
مجھے اس کے پیچھے نہیں جانا چاہیے ۔۔۔جرنیل نے کہا۔۔۔ مجھے فوراً بلبیس پہنچنا ہے ورنہ وہاں فوج میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ میں شکست کھا کر کہیں اور فرار ہو گیا ہوں۔ اپنی بیٹی کے متعلق یہ پریشانی ہے کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھ چڑھ جائے گی اور کوئی عربی بدوّ اسے اپنی بیوی یا داشتہ بنالے گا ۔ یہ ڈر بھی ہے کہ یہ مصری بدوّ ہی لڑکی کو اپنے قبضے میں رکھ لے گا۔
میں غلط نہیں کہہ رہی۔۔۔ جرنیل کی بیوی نے کہا۔۔۔ لڑکی پاگل ہو چکی ہے ۔ وہ آ بھی گئی تو اسکا دماغ ٹھکانے نہیں آئے گا۔ میں اسے بتاتی رہتی تھی کہ عقل پر جذبات کو غالب کرنے والے تباہی کی طرف ہی جایا کرتے ہیں، لیکن میں نے دیکھا کہ لڑکی جذبات کے رنگ میں سوچتی تھی اور عقل استعمال نہیں کرتی تھی، ہم نے بھی کبھی خیال نہ کیا کہ اس کا یہ ملازم بھی اور استاد بھی اسے بڑی گھٹیا اور جذباتی کہانیاں سناتے رہتے تھے، اور ہم یہ سمجھتے رہے کہ لڑکی میں قومی وقار اور جنگی جذبہ ہے جو سلطنت روم کو مضبوط بنائے گا۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*
بدوّ ملازم دیانتدار تھا یا بددیانت یہ ایک الگ بات ہے اسے یہ معلوم تھا کہ بدؤوں کا علاقہ کونسا ہے جس کے پاس وہ نوشی کو لے جارہا ہے ۔ وہ کہاں رہتا ہے۔ یہ بدوّ نہایت اچھا رہنما تھا کیونکہ وہ خود بدوّ تھا اور اپنے علاقے سے پوری طرح واقف تھا۔
بدوؤں کا علاقہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا ایک تو وہ علاقہ تھا جہاں کے بدو مسلمانوں کے ساتھ جاملے تھے۔ اور ایک علاقہ فرما سے ذرا آگے اور الگ ہٹ کر تھا جو زیادہ سرسبز اور شاداب تھا یہاں بھی بد دور رہتے تھے۔
اس سرسبز و شاداب علاقے کے بدوّ صحرائی بدوؤں سے یعنی ان بدوؤں سے جو مسلمانوں کے پاس چلے گئے تھے کچھ مختلف تھے۔ تھے تو یہ بھی توہم پرست لیکن ان کے عقائد دوسروں سے مختلف تھے یہ بھی عیسائی تھے۔ لیکن انھیں ایک اور ہی فرقے کے عیسائی کہا جاسکتا ہے۔
اصل خطرے والی بات یہ تھی کہ بدوّ ملازم کوئی دانشمند اور دوراندیش آدمی نہیں تھا وہ نوشی کی وفاداری کی وجہ سے اس کا ساتھ دے رہا تھا ۔اسے مسلمانوں کے خلاف کہانیاں سنا سکتا تھا لیکن کوئی دانشمندانہ مشورہ دینے کے قابل نہیں تھا۔ نوشی پر تو جذبات ہی غالب تھے ۔اور وہ اگر پوری طرح پاگل نہیں ہو گئی تھی تو نیم پاگل ضرور ہو گئی تھی ۔عمر بھی تو جوانی کی تھی جب جذبات ہی ذہن پر غالب آتے ہیں۔
سورج اوپر آگیا تو نوشی اپنے ملازم کی رہنمائی میں بدوؤں کے علاقے میں داخل ہو گئی۔
انہیں اپنے پیچھے دوڑتے گھوڑے کی ٹاپ سنائی دی دونوں نے پیچھے دیکھا ایک گھوڑسوار ان کی طرف گھوڑا دوڑاتا آ رہا تھا۔ وہاں جنگل تو گھنا تھا لیکن کوئی ایسی ٹیکریاں، چٹان، یا کوئی اوٹ نہیں تھی کہ وہ چھپ جاتے اس سوار نے انہیں دیکھ بھی لیا تھا اس لئے وہ چلتے گئے اور نوشی نے ملازم سے کہا کہ یہ جو کوئی بھی ہے اسے نہیں بتانا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اور اگر خطرہ ہوا تو اس سوار کو دونوں مل کر قتل کردیں گے ان دونوں کے پاس تلواریں بھی تھی اور خنجر بھی۔
گھوڑ سوار قریب آ گیا نوشی کو اس کی پکار سنائی دی۔
نوشی!،،،، گھوڑ سوار نے پکارا۔۔۔ رک جاؤ میں تمہارے پیچھے آیا ہوں۔
نوشی نے گھوڑا روک لیا اور پیچھے دیکھا اس کا منگیتر آ رہا تھا۔
کہاں جا رہی ہو نوشی؟،،،، منگیتر نے پوچھا۔
ہرقل کی غیرت کو جگانے کے لئے۔۔۔ نوشی نے جواب دیا ۔۔۔اگر اسکی غیرت نہ جاگی تو روم کے وقار کو ہمیشہ کے لئے دفن کر آؤں گی۔
منگیتر جس کے نام کا کچھ علم نہیں ۔نوشی کی اتنی سی بات سے سمجھ گیا کہ یہ لڑکی دماغی طور پر ٹھیک نہیں رہی اس نے اپنا گھوڑا نوشی کے گھوڑے کے آگے کر کے اس گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور بولا کے میرے ساتھ واپس چلو۔
میرے راستے کی رکاوٹ نہ بنو۔۔۔ نوشی نے تلوار نکال کر کہا۔۔۔ میں تم سے بھی توقع رکھتی ہوں کہ میرا ساتھ دو گے، ساتھ کے بجائے تم رکاوٹ بن رہے ہو میں تمہیں مسلمانوں سے بدتر دشمن سمجھو گی،،،،، میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔
میں تمہیں اپنی محبت کا واسطہ دیتا ہوں۔۔۔ منگیتر نے کہا۔۔۔ تم پر زبردستی نہیں کروں گا میں بھی رومی ہوں مر نہیں گیا،،،،،،
میرے دل میں تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ لیکن میں اس دل سے سلطنت روم کی محبت نہیں نکال سکتی میری پہلی محبت روم ہے اس کے بعد تم ہو ،اگر تم میرا ساتھ دیتے ہو تو میرے ساتھ آؤ اگر نہیں تو تم میرے ہاتھ سے مارے جاؤ گے۔
مجھے آخر مرنا ہی ہے۔۔۔ منگیتر نے کہا۔۔۔ لیکن میں روم کی ان پر کسی مسلمان کے ہاتھوں مرنا زیادہ پسند کروں گا ۔میں جانتا ہوں تم بدوؤں کے سردار سے ملنے جا رہی ہو۔ لیکن یہ کام ایک عورت کا نہیں یہ جرنیلوں کی سطح کا معاملہ ہے یہ بدوّ تمہیں کمسن لڑکی سمجھ کر ٹال دیں گے۔
کون سے مردوں کی بات کر رہے ہو۔۔۔ روشی نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔ ہرقل کی، مقوقس کی، اس اطربون کی جو اپنے آپ کو دنیا کا سب سے زیادہ بہادر اور دانشمند جرنیل سمجھتا ہے ۔کہاں ہیں وہ سب ۔ سب اپنی اپنی جگہوں پر آرام سے بیٹھے عیش و عشرت میں پڑے ہیں اور میرے باپ کو آگے کر رکھا ہے۔ میرے باپ نے مقوقس اور اطربون کو اطلاع بھیج دی تھی کہ تین چار ہزار بدوّ مسلمانوں کے ساتھ مل گئے ہیں اور یہ بدوّ دیہات میں جاکر اناج اکٹھا کرکے مسلمانوں کو دے رہے ہیں ۔لیکن کسی نے نہ سوچا کہ اسکا کوئی تدارک کیا جائے اب یہ کام میں کروں گی۔
سلطنت روم فرما پر ختم نہیں ہو جاتی نوشی! ۔۔۔۔منگیتر نے کہا۔۔۔ یہ آخری قلعہ ہے جو مسلمانوں نے فتح کر لیا ہے اس سے آگے ان کے لئے موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہمارے جاسوس انہیں بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کو کوئی کمک نہیں مل رہی فرما میں ان کا جانی نقصان اچھا خاصا ہوا ہے اور بدوّ زیادہ مارے گئے ہیں۔ ان کی طاقت کم ہوتی جا رہی ہے ان کی کمک کے لیے راستہ اور لمبا ہو گیا ہے ۔ہم نے انتظام کرلیا ہے کہ ان کی کماک کو اسی راستے میں ہی روک کر ختم نہ کیا جاسکا تو اسے اتنا کمزور ضرور کردیں گے کہ بیکار ہوکر رہ جائے گی۔
تم اگر جرنیل ہوتے تو شاید میں تمہاری یہ بات مان لیتی۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ تم چھوٹے سے عہدے دار ہو سنی سنائی باتیں کرتے ہو لیکن بالائی سطح پر مجھے کوئی ایسی سرگرمی نظر نہیں آرہی میں ان مصری بدوؤں کو مسلمانوں سے الگ کرنا چاہتی ہوں۔ نہ ہوئے تو ابھی ہزاروں بدوّ موجود ہیں جو نہ ہمارے ساتھ ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ، میں انہیں اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہوں ان کی ایک الگ فوج تیار کروں گی اور پھر میں مسلمانوں کا راستہ روکو گی، یہ میرا عزم ہے اور اس پر میں تمہاری محبت کو بڑی آسانی سے قربان کر سکتی ہوں۔
اس دور کی تاریخ کا ذرا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس رومی لڑکی کا یہ عزم عجیب نہیں لگتا اس دور میں کئی ایسے جنگی واقعات ملتے ہیں جن میں فوج کی قیادت کسی عورت نے کی، اور بڑے بڑے لشکروں کے منہ موڑ دیئے تھے۔ رومیوں میں فوجی جذبہ موجود تھا اور وہ بلاشک و شبہ جنگجو بھی تھے ان میں سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ ان کی قیادت پر شہنشاہیت غالب تھی۔ جس نے اپنی فوج کو یہ تاثر دے رکھا تھا کہ وہ بادشاہ اور جرنیلوں کی غلام ہیں یا یہ کہ تنخواہ دار ملازم ہیں۔ اس فوج میں جہاد نام کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا تھا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ یہ فوج لڑتی ہیں نہیں تھی۔ رومی تو فطرتاً اور جنگجو تھے اور ان کے پیچھے شجاعت اور جنگجو ہی کی بڑی لمبی تاریخ تھی۔
یہاں بات عورت کی ہورہی ہے عورت نے متعدد جنگوں کی قیادت کی ہے اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ دیکھتے ہوئے نوشی کی بات عجیب نہیں لگتی لیکن اس میں کمزوری یہ تھی کہ یہ نوجوانی کی عمر میں تھی اور اس کی سوچوں پر جذباتیت غالب تھی۔ دوسری کمزوری یہ کہ وہ غیر معمولی طور پر خوبصورت اور بڑی ہی دلکش لڑکی تھی ۔اور بدوؤں پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ اس کے جذبے سے متاثر ہونگے یا اس کے حسن سے،،،،، حسن سے متاثر ہونے میں بہت بڑا خطرہ چھپا ہوا تھا۔
*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*
منگیتر نے دیکھ لیا کہ نوشی کو زبردستی پیچھے نہیں لے جایا جاسکتا اور وہ کوئی استدلال قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہی۔ منگیتر اسے تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا وہ اپنے آپ کو آمادہ کر ہی نہیں سکتا تھا کہ اتنی حسین اور نوجوان لڑکی کو بدوؤں کے پاس جانے دے اس نے اس ادھیڑ عمر بدوّ ملازم سے پوچھا کہ وہ اسے کہاں لے جا رہا ہے؟،،،، جو ملازم نوشی کے ساتھ جا رہا تھا۔
مجھ پر کوئی الزام نہیں آنا چاہیے۔۔۔ ملازم نے ڈرے سہمے ہوئے غلامانہ لہجے میں کہا۔۔۔ شہزادی کے ساتھ آپ نے خود بات کر کے دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے آپ کی بات ماننے کی بجائے تلوار نکال لی ہے خود ہی سوچیں کہ میں ان کے ساتھ آنے سے کس طرح انکار کرسکتا تھا۔
منگیتر نے ملازم کو ڈانٹ کر کہا کہ وہ اس کے سوال کا جواب دے کہ وہ نوشی کو کہاں لے جا رہا ہے؟
ہامون کے پاس ۔۔۔ملازم نے جواب دیا۔
کون ہے ہامون؟،،،، منگیتر نے پوچھا۔
اسے سب جادوگر کہتے ہیں۔۔۔ ملازم بدوّ نے جواب دیا ۔۔۔وہ جادوگر ہے یا نہیں میں یہ جانتا ہو کہ اس کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جس سے وہ ہر اس سوال کا جواب دے دیتاہے جس کا جواب کہیں سے بھی نہیں مل سکتا۔ خواہ یہ سوال آنے والے وقت کے متعلق ہی ہو اس کی اس غیبی طاقت کی وجہ سے تمام بدوّ اس کی ہر بات مانتے ہیں ۔ ہمارے صرف مذہبی پیشوا ہیں جو ہامون کو اچھا نہیں سمجھتے۔ کچھ سردار ایسے ہیں جو ہامون کی بات مانتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو مذہبی پیشواؤں کا ساتھ دیتے ہیں۔ میں انہیں ہامون کے پاس لے جا رہا ہوں یہ اچھا ہے کہ آپ بھی آ گئے ہیں آپ ساتھ چلیں اور خود ہامون کے ساتھ بات کریں۔
ہامون کیا کرے گا ؟،،،منگیتر نے پوچھا۔
میں یہ بات شہزادی کو پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔ ملازم نے جواب دیا ۔۔۔سب سے پہلے تو وہ دیکھے گا کہ شہزادی کا مطلب پورا ہو سکتا ہے یا نہیں اگر یہ بات بننے والی نہ ہوئی تو وہ صاف بتا دے گا کہ شہزادی یہیں سے واپس چلی جائے۔
مجھے امید ہے وہ بات بنا دے گا۔۔۔ نوشی نے کہا ۔۔۔اور اگر اس کے پاس واقعی جادو ہے تو وہ میرا مطلب پورا کر دے گا۔
منگیتر نے اس ادھیڑ عمر بدوّ ملازم سے کچھ اور سوال و جواب کئے تو اسے ملازم کی باتیں کچھ کچّی کچّی سی لگی اور محسوس کیا کہ یہ شخص توہم پرست ہے، اور نوشی کو اس جادو گر کے پاس نہیں جانا چاہیے، ہو سکتا ہے وہ کوئ شعبدہ باز ہو بدوؤں میں کچھ ایسے آدمی موجود تھے جو دراصل شعبدہ باز تھے اور لوگ انہیں خدا کے ایلچی سمجھتے تھے ۔
منگیتر نے نوشی کو ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنے قومی جذبے کو یوں رسوا نہ کرے اور واپس چلی جائے نوشی اس کے ہاتھ آ ہی نہیں رہی تھی۔
منگیتر نے ایک بار پھر نوشی کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور اسے پیچھے کو موڑنے لگا۔ نوشی گھوڑے سے کود گئی اور تلوار لہرا کر منگیتر کو للکارا کے وہ گھوڑے سے اتر آئے۔
منگیتر گھوڑے سے تو اتر آیا لیکن تلوار نہ نکالی۔ یہ تو ہو نہیں سکتا تھا کہ وہ تلوار نکال کر نوشی کے مقابلے میں آ جاتا وہ نوشی کے قریب گیا تو نوشی نے تلوار دائیں بائیں ھوا میں بڑی زور سے مار کر اس کی نوک منگیتر کے سینے پر رکھ دی۔
تلوار نکالو۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ مجھ سے دور رہو۔
یہ تلوار میرے سینے میں اتار دو۔۔۔ منگیتر نے کہا۔۔۔ پھر جہاں جی چاہے چلی جانا جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا۔
بدوّ ملازم ان کے درمیان آگیا۔ نوشی اسے ڈانٹنے اور دھمکانے لگی کہ وہ درمیان سے ہٹ جائے لیکن وہ ہٹ نہیں رہا تھا وہ دیکھ رہا تھا کہ نوشی پر ایسی کیفیت طاری ہے کہ اپنے منگیتر کے سینے میں تلوار اتار ہی دے گی ۔نوشی منگیتر کو مقابلے کے لیے للکار رہی تھی لیکن منگیتر تلوار نیام سے نکال ہی نہیں رہا تھا۔ ملازم نے ایک طرف ہو کر نوشی کی تلوار والے ہاتھ کی کلائی پکڑ لی وہ کلائی چھوڑ آنے لگی تو منگیتر کو اس پر قابو پانے کا موقع مل گیا اس نے پیچھے ہوکر نوشی کی کمر میں بازو ڈالے اور اسے جکڑ لیا نوشی آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔
چھوڑ دو اسے۔۔۔ ایک آواز گرجی۔
تینوں بے حس و حرکت ہو گئے اور جہاں تھے وہیں رہے پھر آہستہ آہستہ سیدھے ہوکر اس طرف دیکھنے لگے جدھر سے آواز آئی تھی۔
*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*
وہ ایک گھوڑ سوار تھا کالی داڑھی سلیقے سے تراشی ہوئی تھی عمر میں تیس سال کے لگ بھگ اور وہ تنومند دراز قد آدمی تھا۔ اس کا لباس ایسا تھا جیسا بدوؤں کے سردار اور سرکردہ افراد پہنا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ دیکھنے والے پر اثر انداز ہوتے تھے۔
اس کی شخصیت نوشی اور اس کے منگیتر پر کچھ ایسی اثر انداز ہوئی کے نوشی نے تلوار نیچے کر لی اور اسے کچھ حیرت سے دیکھنے لگی ۔اس کے منگیتر پر بھی ایسا ہی اثر ہوا تھا وہ بھی چپ چاپ اس شخص کو دیکھنے لگا۔ صاف پتا چلتا تھا کہ ان دونوں پر اس شخص کا رعب طاری ہو گیا ہے۔ بدوّ بیچارا تو تھا ہی ملازم اس لئے وہ الگ ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
گھوڑ سوار ان کے قریب آیا اور ان کے اردگرد خاموشی سے گھوما اور انہیں دیکھتا رہا آخر اس نے گھوڑا روکا اور نوشی سے پوچھا کہ وہ کون ہے؟
نوشی جیسے اچانک بیدار ہو گئی ہو اس نے فخریہ لہجے میں اسے بتایا کہ وہ ایک جرنیل کی بیٹی ہے اور اس کا تعلق ہرقل کے شاہی خاندان سے ہے.
یہ میرا منگیتر ہے ۔۔۔نوشی نے جواب دیا ۔۔۔یہ فوج میں عہدیدار ہے اور یہ ہمارا ملازم ہے۔
مجھے تمہارے معاملات میں دخل دینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اس شخص نے گھوڑا روک کر کہا۔۔۔۔ لیکن میں نے کچھ اور دیکھا تھا میں اس لئے دخل دے رہا ہوں کے تم لوگ میرے علاقے میں ہو اور میرا فرض ہے کہ جو کوئی مصیبت میں ہو اس کی مدد کروں،،،،، اے لڑکی!،،،،،،،، تم شاہی خاندان کی لڑکی ہو یا کسی غریب آدمی کی بیٹی مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں تم پر یہ دونوں زبردستی کر رہے تھے کیا تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے؟
ہوسکتا ہے تم میری کچھ مدد کرسکوں۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔۔۔ یہ دونوں مجھ پر ویسی زبردستی نہیں کر رہے تھے جو تم سمجھ رہے ہو یہ مجھے واپس اپنے ماں باپ کے پاس لے جانا چاہتے ہیں یہ میرے دشمن نہیں۔
پہلے میری بات کا جواب دو نوشی کے منگیتر نے اس آدمی سے پوچھا تم کون ہو؟،،،،،، میں تمہیں اس قابل سمجھتا ہوں کہ تمہاری عزت کروں میں تمہارے اس جذبے کی قدر کرتا ہوں کہ تم اس لڑکی کی مدد کے لیے رک گئے ہو۔
کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم بیٹھ کر اور آرام سے بات کریں۔۔۔۔ اس آدمی نے کہا۔۔۔۔ یہ تینوں اور وہ آدمی اپنے گھوڑے کھلے چھوڑ کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔
میرا نام سیلی نوش ہے۔۔۔ اس اجنبی نے کہا۔۔۔ میں اصل مصری بدوّ ہوں۔ اور عیسائیت میرا مذہب ہے۔ میں اپنے قبیلے کا سردار تو نہیں ہوں لیکن تمام قبیلوں کے سردار میری عزت اس طرح کرتے ہیں جیسے میں سب کا سردار ہوں۔
تم کس کے وفادار ہو۔۔۔ نوشی نے پوچھا ۔۔۔اپنے بدوؤں کے ،یا شاہ روم کے۔
شاہ روم کو میں اپنا بادشاہ سمجھتا ہوں۔۔۔ سیلی نوش نے جواب دیا ۔۔۔یہ نہ سمجھنا کہ تم نے کہا ہے کہ تم شاہی خاندان کی لڑکی ہو تو میں نے تمہارے ڈر سے اپنی وفاداری بتائی ہے میں شاہ روم ہرقل کا وفادار ہو اور اس کی عیسائیت کو مانتا ہوں۔
محمد يحيٰ سندھو
میں نہیں مانتی۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔۔ تم شاہ روم کے وفادار ہوتے تو تمہارے قبیلے کے تمام جوان آدمی شاہ روم کی فوج میں ہوتے۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں نے عریش کے بعد فرما پر بھی قبضہ کر لیا ہے؟،،، میں تمہیں یہ بھی بتا دیتی ہوں کہ فرما کی فوج کی کمان میرے باپ کے ہاتھ میں تھی یہ بھی سن لو کہ میں اپنے باپ اور اپنے اس منگیتر کو بزدل اور بھگوڑا سمجھتی ہوں۔
میں نے اپنی وفاداری کی بات کی ہے۔۔۔ سیلی نوش نے کہا۔۔۔ بدوؤں کے قبائل کی اپنی اپنی سوچ ہے بہت عرصہ پہلے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ فوج میں شامل ہو جائیں لیکن بدؤوں نے انکار کردیا وہ آزاد لوگ ہیں کسی کا حکم نہیں مانتے انہیں تم اپنے راستے پر چلانا چا ہو گی تو اس طریقے سے بات کروں گی جو ان کے دلوں کو اچھی لگے گی، اگر انہیں اپنی رعایا سمجھ کر مویشیوں کی طرح ہانکنا چاہو گی تو وہ تمہارے پیچھے نہیں چلیں گے۔
کیا تمہیں معلوم ہے نوشی نے پوچھا کہ ساڑھے تین چار ہزار بدوّ مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو گئے ہیں,,,,,,
مجھے معلوم ہے سیلی نوش نے نوشی کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کوئی ایسا آدمی بات کرو جو مسلمانوں کی طرح بات کرنا جانتے ہوں اور ان کا رویہ مسلمانوں جیسا ہو,,,,,,,, پہلے یہ بتاؤ تم کہنا کیا چاہتی ہو ؟ اور یہ بتاؤ کہ تمہارا یہ منگیتر بات کیوں نہیں کرتا؟
یہ بھی بات کرے گا۔۔۔ نوشی نے اپنے منگیتر کے متعلق کہا ۔۔۔پہلے مجھ سے سن لو کے میں کیا چاہتی ہوں,,,,,,,, میں بدوؤں کی ایک فوج بنانا چاہتی ہوں میرا یہ ملازم مجھے اپنے ساتھ لایا ہے یہ انہیں بدوؤں کے ایک قبیلے کا فرد ہے ۔ یہ مجھے ایک جادوگر ہامون کے پاس لے جارہا ہے اور کہتا ہے کہ بدوّ اسے مانتے ہیں ۔کیا اس مسئلے میں میری کچھ مدد کر سکتے ہو؟
میں ہامون کو جانتا ہوں ۔۔۔سیلی نوش نے کہا۔۔۔ کہو گی تو میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا میں اس لئے تمہارے ساتھ چلوں گا کہ میری وفاداری رومیوں سے ہے۔
نوشی ن نے سیلی نوش کے ساتھ وہ ساری باتیں کی جو وہ اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ اور پھر منگیتر کے ساتھ اور بدو ملازم کے ساتھ بھی کر چکی تھی۔ اس نے بتایا کہ
وہ کس طرح اس ملازم کو ساتھ لے کر اپنے خاندان سے نظر بچا کر الگ ہوئی اور چھپتی چھپاتی اس طرف آ گئی۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ منگیتر کس طرح اس کے پیچھے آیا اور یہاں آکر اسے آن لیا۔
یہ لوگ مجھے پاگل سمجھتے ہیں۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ یہ بیچارہ تو میرا ملازم ہے اس لئے میرا ساتھ دے رہا ہے لیکن منگیتر مجھے واپس لے جانے آیا تھا میں سلطنت روم کی ان پر اپنی محبت ہی نہیں اپنی جان بھی قربان کردوں گی۔ تم سوچو ملک شام ہم سے چھن گیا ہے اور مسلمان مصر کا دوسرا بڑا شہر بھی ہم سے لے چکے ہیں۔ ہم جب تک قومی جذبے کی شدت سے پاگل نہیں ہو جائیں گے ان مسلمانوں کو جو دراصل عرب کے بدو ہیں پیچھے نہیں دھکیل سکیں گے ان سے ہمیں ملک شام بھی لینا ہے۔
آفرین!،،،،، سیلی نوش نے کہا۔۔۔۔ تمہارے اس جذبے کی قدر صرف میں کرسکتا ہوں مجھے امید ہے کہ بددوؤں کی ایک فوج تیار ہوجائے گی لیکن پہلے ہامون کے ساتھ بات کرنی ہو گی۔
میں پہلے زبردستی والی بات صاف کر دو۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ میرے قومی جذبے کی شدت کا یہ عالم ہے کہ میں نے تلوار نکالی تھی اور تم نہ آجاتے تو میں منگیتر کو قتل کر دیتی یا اس کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ان دونوں نے مجھ سے تلوار چھیننے کے لئے مجھے جکڑ لیا تھا اور تم آگئے۔
دیکھ شہزادی!،،،،،، سیلی نوش نے کہا ۔۔۔ان کا تم پر یہ جبر غلط نہیں تھا جس کام کےلیئے تم آۓ ہو یہ تم جیسی ایک لڑکی کے بس کی بات نہیں تمہاری عمر اور تمہارا حسن ایسا ہے کہ ہمارے کسی مذہبی پیشوا کی نیت بھی خراب ہوسکتی ہے قبیلوں کے سردار آسمان سے اترے ہوئے فرشتے نہیں,,,,,,,, اب تمہارا منگیتر بھی آگیا ہے اور میں بھی آگیا ہوں میں جا تو کہیں اور رہا تھا لیکن مجھ میں بھی وہ جذبہ ہے جو تمہیں پاگل کیے ہوئے ہے میں تمہارا ساتھ دوں گا۔
کام دو ہیں۔۔۔ نوشی نے کہا۔۔۔ ایک یہ کہ ان بدوؤں کو رومی فوج میں لانا ہے۔ اور دوسرا کام یہ کہ جو بدو مسلمانوں کے پاس چلے گئے ہیں انہیں مسلمانوں کے خلاف بدظن کرکے واپس لانا ہے۔
یہ دوسرا کام آسان نہیں سیلی نوش نے کہا۔۔۔ اس کے لیے ہمیں اپنے کچھ آدمی وہاں بھیجنے پڑے گے جو یہ ظاہر کرینگے کہ وہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے آئے ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کے کردار سے بہت ہی متاثر ہیں پھر یہ آدمی درپردہ ایسے حالات پیدا کرلیں گے جو بدوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بدظن کریں گے۔
اس کے بعد سیلی نوش نے ایسی دانشمندانہ باتیں کی کہ نوشی اور اس کا منگیتر اس سے پوری طرح متاثر ہوگئے اور منگیتر نے نوشی کو واپس لے جانے کا ارادہ ترک کردیا اور سیلی نوش کے ساتھ جانے پر تیار ہو گیا۔
تم فوج میں عہدیدار ہو اور شاہی خاندان کے فرد بھی ہو۔۔۔۔ سیلی نوش نے نوشی کے منگیتر سے کہا۔۔۔ تم وہ باتیں بھی جانتے ہوں گے جو فوج کے بعض بڑے افسروں کو بھی معلوم نہیں ہوتی میں تم سے کچھ معلوم کرنا چاہتا ہوں میں حیران ہوں کے عریش کے بعد مسلمانوں نے فرما جیسا شہر بھی فتح کرلیا ہے جس کے متعلق اب تک یہی سنا جا رہا تھا کہ اس شہر کو کوئی طاقت فتح نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پہاڑی پر آباد کیا گیا ہے۔ اور اس کی ایک نہیں کئی قلعہ بندیاں ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے اور اگر تین ساڑھے تین ہزار بدوّ ان سے جا ملے ہیں ۔ پھر بھی رومی فوج کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں کی یہ تھوڑی سی فوج رومی فوج کے سائے میں گم ہو جاتی ہے۔
اس شکست کی ایک وجہ ہے۔۔۔ منگیتر نے کہا۔۔۔مقوقس اور اطربون نے یہ سوچا کہ مسلمانوں کو اور آگے آنے دیا جائے اس سے یہ حملہ آور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ مصر کو فتح کر لینا کوئی مشکل کام نہیں،،،،، نوشیی کے منگیتر نے وہ تمام وجوہات تفصیل سے بیان کیں جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اس نے ایک بات یہ بھی بتائیں کہ رومی فوج کو ایک ذمہ داری یہ بھی سونپی گئی ہے کہ وہ قبطی عیسائیوں پر نظر رکھیں کیونکہ خطرہ ہے کہ وہ بغاوت کر دیں گے۔ اس طرح رومی فوج سارے ملک میں بکھر گئی ہے جو ایک کمزوری ہے۔
اس سے آگے بلبیس ایک اور بڑا شہر ہے۔۔۔ سیلی نوش نے کہا ۔۔۔کیا اس شہر کا دفاع بھی کمزور رکھا جائے گا تاکہ مسلمان اور آگے آجائیں؟
شاید نہیں!،،،،، منگیتر نے جواب دیا۔۔۔ جہاں تک میں جانتا ہوں بلبیس مسلمانوں کے لئے ایک پھندہ ہو گا جس میں وہ آکر نہیں نکل نہیں سکیں گے۔ وہاں مقوقس یا اطربون فوج کی قیادت سنبھالے گا،،،،،،،، مسلمانوں کو پیچھے سے کمک نہیں مل رہی وجہ معلوم نہیں۔ ہم مدینہ تک اپنے جاسوس بھیج رہے ہیں جو وہاں کی کمزوریاں بھی بتائیں گے۔
نوشی کا منگیتر سیلی نوش سے اس قدر متاثر ہو گیا تھا کہ اس نے کچھ گہرے راز کی فوجی باتیں بھی اسے بتا دیں۔ سیلی نوش کا اندازہ ایسا تھا جیسے وہ جنگی اور سیاسی امور کو بڑی اچھی طرح سمجھتا ہے۔
بہت سی باتیں کہہ سن کر سیلی نوش نے انھیں کہا۔۔۔۔ کہ چلو اب ہامون کے پاس چلتے ہیں اب انہیں بدوّ ملازم کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن ہامون کا ٹھکانہ صحیح طور پر اسے ہی معلوم تھا۔
*جاری ہے-*
.jpeg)
Comments
Post a Comment