اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر41

 


مقوقس اور اس کا جرنیل تھیوڈور قلعہ بابلیون میں بیٹھے ہرقل کی موت کی اطلاع کا انتظار بڑی ہی بے تابی سے کر رہے تھے، ان کے اندازے کے مطابق کتنے دن گزر گئے تھے کہ اب تک اطلاع آ جانی چاہیے تھی ،دن پر دن گزرتے جا رہے تھے اور ان دونوں کی بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔

ان دونوں نے یہاں تک سوچ رکھا تھا کہ حالات سازگار ہوئے تو ہرقل کی موت کی اطلاع کے فوراً بعد مصر میں اپنی خودمختاری کا اعلان کر دیں گے۔ یہ دونوں دراصل قبطی عیسائی تھے انہوں نے ہرقل کی عیسائیت کو قبول نہیں کیا تھا ،ان کا یہ عقیدہ ہرقل نے صرف اس لیے برداشت کر لیا تھا کہ مقوقس مصر کا فرمانروا تھا، اور جرنیل تھیوڈور ، اطربون کے بعد دوسرا بڑا ہی قابل اور تجربہ کار جرنیل تھا ۔ اس حیثیت کے علاوہ ہرقل کو معلوم تھا کہ تھیوڈور کو مصر کے قبطی عیسائیوں میں خصوصی مقبولیت حاصل ہے ہرقل مقوقس اور تھیوڈور کی دوستی سے بھی آگاہ تھا ان دونوں کی ناراضگی سے ہرقل ڈرتا تھا۔

اب تو بہت ہی زیادہ دن گزر گئے تھے ان دونوں کو شک ہونے لگا کہ ان کی سازش ناکام ہو گئی ہے۔

یہ مت بھولیں۔۔۔ تھیوڈور نے کہا۔۔۔جس لڑکی کو ہم نے اتنی خطرناک مہم پر بھیجا ہے وہ اصل میں ایک طوائف زادی ہے ، مجھے  شک ہے کہ اسے ہرقل کا حرم پسند آگیا ہے ،اور چونکہ وہ بہت ہی خوبصورت ہے اس لیے ہرقل اس پر فریفتہ ہوا جا رہا ہوگا ،اور لڑکی اس دھوکے میں آگئی ہوگی کہ روم اور مصر کا بادشاہ ہمیشہ کے لئے اس کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور اب وہ ملکہ بنے گی۔

یہ شک مجھے بھی ہوتا ہے۔۔۔ مقوقس نے کہا۔۔۔ لیکن یہ خیال بھی آتا ہے کہ لڑکی کو موقع ہی نہیں ملا ہوگا۔

دونوں نے اس مسئلے پر غور کرنا شروع کیا تو اس فیصلے پر پہنچے کہ اپنا کوئی جاسوس اسکندریہ بھیجا جائے جو یہ معلوم کرے کہ ایک لڑکی دو آدمیوں کے ساتھ کس جہاز پر اور کب بحرہ روم کے پار جانے کے لیے روانہ ہوئی تھی ۔

تھیوڈور نے اس یقین کا اظہار کیا کہ لڑکی نے ان کا راز فاش نہیں کیا،،،،،، اگر ایسا ہوتا تو اب تک مقوقس اور تھیوڈور ہرقل کے قیدی ہوتے یا اب تک انہیں جلاد کے حوالے کیا جا چکا ہوتا۔

جب یہ طے کر لیا کہ کوئی جاسوس استعمال کیا جائے تو یہ مسئلہ سامنے آیا کہ ایسا کونسا جاسوس ہے جسے اعتماد میں لیا جا سکتا ہے، جاسوس بھی ایسا درکار تھا جو بزنطیہ میں ہرقل کے محل کے اندر کے حالات بھی معلوم کرنے کی اہلیت اور اثر و رسوخ رکھتا ہو، ایک تو عام قسم کے جاسوس تھے، اور دوسرا گروہ ان جاسوسوں کے افسروں کا تھا جو بادشاہ اور جرنیل وغیرہ جاسوس افسروں کے ساتھ دوستی کا ماحول پیدا کیے رکھتے تھے، مقوقس اور تھیوڈور نے سوچ سوچ کر ایک افسر کو منتخب کرلیا ۔

وہ بھی درپردہ قبطی عیسائی تھا۔ ان دونوں نے اس جاسوس افسر کو بلایا دونوں نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ اس جاسوس کو کیا بتانا ہے۔

انہوں نے اس جاسوس کو یہ بتایا کہ ایک لڑکی کو بزنطیہ جاسوسی کے لئے بھیجا تھا معلوم یہ کرنا تھا کہ ہرقل مصر کی مخدوش صورتحال جانتے ہوئے بھی کمک کیوں نہیں بھیج رہا، اور کیا وہ کمک بھیجے گا بھی یا نہیں؟،،،، جاسوس کو یہ بھی بتایا گیا کہ لڑکی کے ساتھ دو آدمی بھیجے گئے تھے انہوں نے لڑکی کو ہرقل کے پیش کرنا تھا اور یہ کہنا تھا کہ یہ مقوقس نے بطور تحفہ بھیجی ہے۔

جاسوس افسر کے لئے یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ مقو اس ہرقل کی جاسوسی کر رہا تھا ، جاسوس جانتا تھا کہ ہرقل نے اپنے جاسوس مصر میں بھیج رکھے ہیں جو یہ دیکھتے رہتے اور ہرقل کو پیغام اور اطلاعات بھیجتے ہیں کہ مقوقس اور جرنیل یہاں کیا کر رہے ہیں، اور ان کی نیت اور ان کے ارادے کیا ہیں، اگر مقوقس اور تھیوڈور ہرقل کی نیت اور ارادے معلوم کرنا چاہتے تھے تو یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی۔

 جاسوس نے کہا کہ یہ کام اگر اسے بتایا جاتا تو وہ بہتر طریقے سے کسی تجربے کار جاسوس سے کروا لیتا۔

اگر ہمارا یہ کام نہیں ہوا تو کوئی افسوس نہیں۔۔۔۔ مقوقس نے کہا ۔۔۔خطرہ یہ نظر آتا ہے کہ لڑکی نے ہرقل کے یہاں جاکر اور محل کی شان و شوکت سے متاثر ہوکر راز ہی فاش نہ کر دیا ہو ،،،،،،، ہمارے دونوں آدمیوں کو تو واپس آ جانا چاہیے تھا۔

جاسوس کو ہر ایک بات اچھی طرح سمجھا دی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ اسکندریہ جاکر معلوم کرے اور اگر اسے پتہ چل جائے کہ لڑکی اور یہ دو آدمی فلاں دن اور فلاح جہاز سے گئے تھے تو جاسوس بزنطیہ چلا جائے اور وہاں سے ان کا سراغ لگائے ،جاسوس کو یہ بھی بتایا دیا گیا کہ یہ دونوں آدمی اور لڑکی کس لباس میں اور کس حلیے میں گئے تھے، جاسوس اسی شام بابلیون سے اسکندریہ روانہ ہو گیا۔

*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*

یہ جاسوس جو اچھی خاصی حیثیت کا افسر تھا بادبانی کشتی کے ذریعے اسکندریہ پہنچا، کشتی ہی اسے پہچانے کا تیز ذریعہ تھی۔ دریائے نیل کا بہاؤ اسی طرف تھا اور کشتی بادبانی تھی اسکندریہ میں ایک ہی ایسی بڑی سرائے تھی جہاں بحیرہ روم کے پار جانے والے مسافر جہاز کی روانگی کا انتظار کرتے تھے، جاسوس مسافر کے بھیس میں اسی سرائے میں ٹھہرا۔

جاسوس کو بتا دیا گیا تھا کہ لڑکی اور وہ دو آدمی کن دنوں اسکندریہ پہنچے تھے، جاسوس نے اسکندریہ کے سرائے میں سرائے کے مالک اور نوکر وغیرہ سے پوچھنا شروع کردیا وہ بڑا ہی قابل اور تجربہ کار جاسوس تھا، اسے ہر کسی سے یہی ایک جواب ملا کہ اس سرائے میں تو مسافر آتے جاتے ہی رہتے ہیں اور کئی ایک کے ساتھ عورتیں بھی ہوتی ہیں کسی کے لئے یہ بتانا ممکن نہیں تھا کہ کوئی خاص قسم کی لڑکی خاص قسم کے آدمیوں کے ساتھ یہاں ٹھہری تھی۔

آخر ایک ذہین سے نوکر کو کچھ یاد آیا جاسوس نے اس کے ساتھ کچھ باتیں کی اور اسے ان تینوں کا لباس اور حلیہ بتایا تو نوکر نے کہا کہ اگر یہی لڑکی تھی تو اسے اس نے دیکھا تھا۔

نوکر نے کہا کہ وہ حیران اس لئے ہوا تھا کہ وہ لباس سے تو بالکل معمولی سے لوگ لگتے تھے لیکن انہوں نے سرائے میں الگ کمرہ لیا تھا ،وہاں تو اچھے اچھے لوگ آتے اور دو چار دن گزارنے کے لئے بڑے کمرے میں رہتے تھے تاکہ خرچہ زیادہ نہ ہو، یہ تینوں یعنی دو آدمی اور ایک لڑکی ایسے کمرے میں ٹھہرے تھے جو امیرکبیر لوگوں کے لئے ہی بنائے گئے تھے، نوکر ان کے ساتھ کمرے تک گیا تھا، اس کے بعد بھی وہ چند مرتبہ کمرے میں کچھ لے کر گیا اور ایک بار لڑکی جو ہر وقت چہرے پر نقاب رکھتی تھی بے خیالی میں نقاب ہٹا بیٹھی اور نوکر کی نظر اس کے چہرے پر پڑی وہ تو بہت ہی حسین لڑکی تھی۔

مختصر یہ کہ جاسوس کو بہت حد تک یقین ہو گیا کہ نوکر نے اسی لڑکی کو دیکھا تھا اور اس کے ساتھ وہی دو آدمی تھے جن کو مقوقس اور تھیوڈور نے لڑکی کے ساتھ بھیجا تھا۔ جاسوس کو پتہ چل گیا کہ وہ دو تین دن رک کر فلاں جہاز سے گئے تھے ،اسے جہاز کا نام بھی معلوم ہو گیا اور جہاز کے کپتان کا نام بھی۔

جاسوس نے بزنطیہ جانے کا فیصلہ کر لیا دوسرے مسافروں کو تو اگلے جہاز کا انتظار کرنا پڑتا تھا لیکن اس جاسوس کے لئے سرکاری انتظام کردیا گیا تھا، بڑی بادبانی کشتیاں تیار رہتی تھیں، جاسوس نے بندرگاہ پر جاکر اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر جارہا ہے اور اسے فوراً بحیرہ روم عبور کرایا جائے، اسے اسی وقت ایک کشتی دے دی گئی جس میں تربیت یافتہ ملاح موجود تھے۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*

جاسوس بزنطیہ پہنچا اور وہاں جاسوسی کے محکمے کے جو افسر تھے انہیں ملا ، وہ اسے بڑی اچھی طرح جانتے تھے اس نے انہیں بتایا کہ اسے پتہ چلا ہے کہ مسلمانوں کے دو تین جاسوس یہاں آگئے ہیں وہ انہیں پکڑنے کے لیے آیا ہے۔

ان افسروں کے ساتھ وہ ادھرآدھر کی باتیں کرتا رہا قدرتی بات تھی کہ وہاں کے افسروں نے اس سے مصری کی جنگی صورتحال کے متعلق پوچھا جاسوس نے کہا کہ شاہ ہرقل نے قبطی عیسائیوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے تھے اس کا نتیجہ اب یہ سامنے آ رہا ہے کہ قبطی فوج کو تعاون دیتے ہیں نہ اپنے ملک کے دفاع کے لئے کچھ کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اسقف اعظم بنیامین نے انہیں کہہ دیا ہے کہ وہ اسلام کے اس طوفان کو روکنے میں اپنی فوج کی مدد کریں۔

جاسوسی کے محکمے کے یہ سارے افسر رومی تھے انہیں بجا طور پر افسوس ہو رہا تھا کہ مصر سلطنت روم سے نکلتا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے ہرقل کے ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کی باتیں شروع کر دیں ، باتوں باتوں میں ایک نے کہا کہ ڈیڑھ دو مہینے گزرے ہرقل نے ایک نوخیز اور خوبصورت لڑکی کو اور اس کے ساتھ دو آدمیوں کو جلاد کے حوالے کرکے ان کے سر قلم کروا دیے ہیں کسی کو بھی معلوم نہیں وجہ کیا تھی۔

مقوقس کے جاسوس نے یہ سنا تو وہ چونکا اور کرید کرید کر پوچھنے لگا کے وہ آدمی کون تھے اور لڑکی کو کہاں سے لائے تھے؟ اسے جواب ملا کہ مصر سے ایک بحری جہاز آیا تھا سنا ہے اس جہاز کا کپتان ان تینوں کو لایا تھا اور اس حالت میں لایا کہ دونوں آدمیوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں تھیں۔یہ بھی بتایا گیا کہ ہرقل نے جہاز کے کپتان کو بہت سا انعام و اکرام دیا تھا۔

ہو سکتا ہے وہ مسلمان جاسوس ہوں۔۔۔ ہرقل کے ایک جاسوس افسر نے کہا ۔۔۔اور ہوسکتا ہے وہ یہی مسلمان جاسوس ہوں جن کے پیچھے تم آئے ہو۔

میں اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔۔۔ ایک اور بولا اگر وہ جاسوس ہوتے تو شاہ ہرقل انہیں ہمارے حوالے کرتا تاکہ ہم ان سے معلوم کر سکتے کہ انہوں نے یہاں سے کیا کیا معلومات حاصل کی ہے۔

مقوقس کے جاسوس نے اور بھی کئی ایک باتیں معلوم کرلیں اور اسے یقین ہوگیا کہ یہی تھی وہ لڑکی اور یہی تھے وہ دو آدمی جنھیں مقوقس نے بھیجا تھا ، وہ وہاں سے واپس مصر کو روانہ ہو گیا۔

کئی دنوں کی خشکی کا اور پھر  سمندر کا سفر کرکے یہ جاسوس واپس مقوقس کے پاس پہنچا اور اسے ساری رپورٹ دی ،مقوقس اور جرنیل تھیوڈور پھر بھی حیرت زدہ رہے کہ ہرقل نے ان تینوں کو قتل کیوں کروایا تھا؟،،،،، ان دونوں کو یہ افسوس تو ہوا کہ ان کی قتل کی سازش ناکام رہی ہے لیکن اطمینان یہ جان کر ہوا کہ ان کا راز فاش نہیں ہوا اگر ہوجاتا تو اب تک ہرقل ان دونوں کو قتل کروا چکا ہوتا۔

مقوقس کے سامنے صرف یہی ایک مسئلہ نہیں تھا کہ ہرقل کو قتل کروانا ہے اس کے دماغ پر تو عرب کے مسلمان غالب آئے ہوئے تھے جو مصر میں ہر قلعے پر قابض ہوتے چلے آرہے تھے، انہوں نے دریائے نیل بھی پار کر لیا تھا اور پھر فیوم کے پورے کا پورا صوبہ اپنی تحویل میں لے کر محصولات اور دیگر ٹیکس وصول کرنے شروع کر دیے تھے ، وہ حیران ہوتا رہا تھا کہ ہرقل کمک کیوں نہیں بھیج رہا؟،،،،، شام کی جنگ میں جب ہرقل کی فوج کاٹ رہی تھی اور پیچھے ہی پیچھے ہٹتی چلی آرہی تھی تو ہرقل نے مصر سے اچھی خاصی کمک منگوالی تھی جس کا کمانڈر اس کا اپنا بیٹا قسطنطین تھا ،مگر اب ہرقل نے اپنے اس بیٹے کو بزنطیہ میں بٹھا رکھا تھا آخر کیوں؟ ۔۔۔۔مقوقس کو اس سوال کا جواب اس جاسوس افسر سے مل گیا۔

جاسوس نے مقوقس کو بتایا کہ وہ ہرقل کے شاہی محلات کے اندر کے احوال و کوائف بھی معلوم کر لایا ہے ہرقل بوڑھا ہو گیا تھا اور اب اس کی جانشینی کا تنازع سر اٹھا رہا تھا ۔ 

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جو اس جاسوس نے بیان کی تھی، ہرقل کو اپنے بیٹے قسطنطین کے ساتھ بہت پیار تھا اور اسی کو اہمیت دیتا تھا اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ قسطنطین جرنیل اور فوج کی قیادت میں خصوصی مہارت اور اہلیت رکھتا تھا ، ہر کسی کے ذہن میں یہی ایک یقین تھا کہ ہرقل کا جانشین قسطنطین ہی ہوگا لیکن ایک دعوے دار اور بھی تھا۔

یہ دعویدار ہرقل کی ایک اور بیوی کا بیٹا تھا، یہ بیوی صرف بیوی نہیں بلکہ ملکہ تھی، اور ملکہ بھی ایسی کے سلطنت روم پر اس کا حکم چلتا تھا بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ وہ ہرقل پر بھی اپنا حکم چلایا کرتی تھی ، بہت ہی چالاک اور عیار عورت تھی اس کا نام ملکہ مرتینا تھا۔

 اس کا ایک جوان بیٹا تھا جس کا نام ہرقلیوناس  تھا ۔ ملکہ مرتینا اپنے اس بیٹے کو ہرقل کا جانشین اور سلطنت روم کا وارث بنانا چاہتی تھی، لیکن ہرقلیوناس قسطنطین جیسا جنگجو طبع نہیں تھا ۔ وہ محض شہزادہ تھا اور اس میں خوبی یہی تھی کہ وہ ملکہ کا بیٹا تھا۔ بلکہ اسے میدان جنگ سے بچائے رکھتی تھی۔ اس کا میدان جنگ میں جانے کا امکان ہی نہیں تھا کیونکہ وہ لڑنے والا آدمی تھا ہی نہیں

تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہرقل ملکہ مرتینا سے کچھ ڈرتا بھی تھا شاید اس کی وجہ ہرقل کا بڑھاپا تھا ،ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مرتینا نے رومی فوج کے بڑے بڑے جرنیلوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا اور انہیں اس قدر عیش و عشرت کرواتی تھی کہ وہ اس کی مٹھی میں ہی رہنے کو بے تاب رہتے تھے۔ بظاہر ان جرنیلوں کی وفاداری ہرقل کے ساتھ تھی لیکن وہ ملکہ مرتینا کی خوشنودی کے حصول کے لئے کوشاں رہتے تھے۔

ہرقل بڑا ہی ظالم بادشاہ تھا وہ چاہتا تو مرتینا کو قتل کروا سکتا تھا یا اسے غائب ہی کروا دیتا، لیکن اسے معلوم تھا کہ کسی نہ کسی طرف سے اس پر انتقامی وار پڑے گا جس سے وہ سنبھل نہیں سکے گا ،انتقام کا خطرہ اس کے اپنے بیٹے سے بھی تھا اس صورتحال کو وہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا اور اس نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔

معروف مصری تاریخ داں محمد حسنین ہیکل نے یورپی اور عرب تاریخ نویسوں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ ملکہ مرتینا نے پوری کوشش کر ڈالی تھی کہ ہرقل کو بڑھاپے کے بہانے تخت و تاج سے لاتعلق کر دے لیکن کامیاب نہ ہوسکی ۔ تاریخ میں تفصیلات نہیں ملتی کہ یہ کوشش کس نوعیت کی تھی لیکن یہ واضح ہے کہ جب مصر پر مجاہدین اسلام نے حملہ کیا تھا اس وقت ملکہ مرتینا ہرقل پر زور دیا تھا کہ قسطنطین کو فوج دے کر مصر بھیج دیں ورنہ مصر کا ہاتھ سے نکل جانا کوئی حیرت والا واقعہ نہیں ہوگا۔ مرتینا نے قسطنطین کی بہت ہی تعریفیں کی تھی اور کہا تھا کہ مصر کو عربوں سے قسطنطین بچا سکتا ہے۔

مرتینا تو چالاک اور ہوشیار تھی ہی ۔ہرقل بھی کچھ کم عیار نہیں تھا وہ جان گیا کہ اس کی ملکہ قسطنطین کی شجاعت کے جو قصیدے سنا رہی ہے اس میں اصل نیت یہ کار فرما ہے کہ قسطنطین مصر جائے اور مارا جائے ہرقل کوئی جواز پیش کرکے مرتینا کی یہ بات نہ مانی۔

اس کے بعد مصر سے جنگ کی صورتحال کی جو بھی اطلاع گئی وہ حوصلہ شکن اور انتہائی مایوس کن تھی، مرتینا نے ہرقل پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ خود فوج ساتھ لے کر مصر چلا جائے ورنہ مقوقس مصر عربوں کو دے بیٹھے گا۔ یہاں بھی مرتینا کی نیت یہی تھی کہ قسطنطین نہ مرے ہرقل ہی مارا جائے یا ہرقل مصر میں ایسا الجھ کر رہ جائے کہ مرتینا تخت پر بیٹھ کر روم کی شہنشاہیت کا دعوی کر دے ،،،،،،،،ہرقل نے اس کی یہ بات بھی نہ مانی۔

مقوقس کے جاسوس نے بتایا کہ ہرقل اپنی ملکہ سے تخت و تاج کو بچانے کے لئے اور پھر قسطنطین کو اپنا جانشین مقرر کرنے کے لئے نہ خود مصر آ رہا ہے نہ قسطنطین کو بھیج رہا ہے، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہرقل نے مصر کی تمام تر ذمہ داری مقوقس پر ڈال دی تھی،،،،،،،،،، مقوقس نے اس جاسوس افسر کو انعام دے کر رخصت کردیا وہ اپنا جاسوسی کا کام بڑی ہی خوش اسلوبی سے جا کر پورا کر آیا تھا۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷=*

ہرقل کو اب یہ یقین بھی ہو گیا تھا کہ مقوقس، اور اس کا بنایا ہوا اسقف اعظم قیرس بھی اس کے دشمن ہو گئے ہیں۔ مقوقس کو جب یہ یقین ہوگیا کہ ہرقل اس کی مدد کے لئے کچھ بھی نہیں کرے گا تو اس نے اپنے جرنیل تھیوڈور سے گفتگو کی تھیوڈور نے اسے حتمی طور پر کہہ دیا کہ مصر کا دفاع اب انہیں کے ذمہ داری ہے، اور ہرقل کی طرف دیکھنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔

  آخر دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ہرقل کو بدلتی ہوئی صورتحال کی اطلاع دیتے رہیں گے لیکن مصر میں اپنی پالیسی اور اپنی سہولت کے مطابق لڑیں گے اور ہرقل کا کوئی حکم نہیں مانیں گے، لیکن اسے یہ احساس نہیں ہونے دیں گے کہ اس کی حکم عدولی دانستہ کی جا رہی ہے، اس نے کبھی بازپرس کی تو یہ جواز پیش کریں گے کہ اس کا حکم جب مصر میں پہنچا تو یہاں کی صورتحال بہت ہی بدل چکی تھی۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ مقوقس کا اسلام کے بارے میں رویہ دوسرے غیر مسلم بادشاہوں کی طرح جارحانہ اور حقارت آمیز نہیں تھا۔ دین اسلام کے متعلق اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی رسالت کے متعلق مقوقس کا اپنا ہی ایک نظریہ تھا۔ جس کا ذکر پہلے آچکا ہے ۔یہاں مختصراً ایک بار پھر پیش کیا جا رہا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک بار کسریٰ ایران، قیصر روم ، حیرہ، اور غسان کے بادشاہوں، عرب کے جنوبی علاقے کے حکمران ،اور فرمانروائے مصر مقوقس کے نام پیغام بھیجے تھے۔ جن میں ان سب کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی ۔

محمد يحيٰ سندھو


کسریٰ ایران نے بڑی رعونت سے یہ پیغام پھاڑ کر اس کے پرزے اڑا دیے تھے، اور پیغام لے جانے والے ایلچی کی بےعزتی کر کے دربار سے نکال دیا تھا۔

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسریٰ کی سلطنت کے ٹکڑے اسی طرح بکھر جائیں گے اور یہ سلطنت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔

دوسروں کا رویّہ حقارت آمیز تھا ۔ لیکن مقوقس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کا باقاعدہ جواب دیا اور ایسے نظریے کا اظہار کیا تھا جس سے سب حیران رہ گئے تھے، اس کے پاس حضرت حاطب رضی اللہ تعالی عنہ پیغام لے کر گئے تھے، مقوقس نے حضرت حاطب کا استقبال پورے احترام سے کیا اور حضور صلی اللہ وسلم کا پیغام پوری توجہ سے پڑھا تھا، تاریخ گواہ ہے کہ مقوقس نے حضرت حاطب رضی اللہ تعالی عنہ کو الگ بیٹھا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کچھ باتیں پوچھی اور پھر پیغام کا جواب لکھا تھا۔

مقوقس نے پیغام میں لکھا تھا کہ میں جانتا تھا کہ ابھی ایک نبی کا آنا باقی ہے میرا خیال تھا کہ یہ نبی شام میں ظہور پذیر ہو گا لیکن یہ عرب کی انتہائی کٹھن اور صبر آزما زمین پر ظاہر ہوا ہے ۔ مقوقس نے اپنے پیغام میں ایسا اشارہ تک نہیں دیا کہ اسے رسالت پر اعتراض ہے بلکہ اس نے یہ لکھا کہ وہ قبطی عیسائیوں سے اس بارے میں کچھ نہیں کہے گا، البتہ یہ صاف طور پر کہا کہ عرب کے مسلمان مصر کے میدانوں میں اتریں گے اور مصر پر ان کا غلبہ ہو جائے گا۔

مقوقس نے پیغام کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو نوخیز اور خوبصورت لڑکیاں بطور تحفہ بھیجی تھی اور ایک نہایت اعلی نسل کا خچر بھی بھیجا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو لڑکیوں میں سے ایک کو اپنی ازواج مطہرات میں شامل کر لیا تھا، یہ تھیں حضرت ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا ،انکے بطن سے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے تھے۔

اسلام کے بارے میں ایسا قابل احترام رویّہ رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ مقوقس پورا مصر یا اس کا کچھ حصہ مجاہدین اسلام کے حوالے کردیتا۔ اس کے باوجود کے اس نے خود پیشن گوئی کی تھی کہ عرب کے مسلمان مصر پر غالب آجائیں گے، وہ عرب کے مجاہدین کا مقابلہ اپنی پوری طاقت اور تمام تر وسائل کے ساتھ کرنے کو تیار تھا اور کر بھی رہا تھا، اس نے اپنی فوج کو یہی ایک پیغام دیا تھا کہ اسلام کے اس سیلاب کو روکنا ہے البتہ اس نے اپنے رویے میں یہ ایک نرم گوشہ رکھا ہوا تھا کہ مسلمان کے ساتھ صلح صفائی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا تھا، لیکن ساتھ یہ کہتا تھا کہ مسلمان مصر سے نکل جائیں۔

اب اس نے مسلمانوں کی اس قدر برق رفتار اور قیامت خیز پیشقدمی اور فتوحات کا سلسلہ دیکھا، اور پھر ہرقل کی نیت کا اسے پتہ چلا تو اس نے تھیوڈور اور دیگر جرنیلوں سے کہہ دیا کہ اب وہ اپنی پالیسی کے مطابق لڑے گا اور جو کارروائی بہتر سمجھے گا وہی کرے گا۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*

مجاہدین اسلام کی کامیابی صرف یہ نہیں تھی کہ وہ فتوحات حاصل کرتے بڑھے ہی چلے جا رہے تھے، بلکہ ان کی فتح یہ تھی کہ ان کی قیامت خیزی نے ہرقل کے شاہی نظام میں ایسا زلزلہ بپا کر دیا تھا کہ اس کا اپنا فرمانروا مقوقس، اور اس کے جرنیل، اور اس کا مقرر کیا ہوا اسقف اعظم اس کے دشمن ہو گئے تھے، وہ ہرقل جو فرعونِ ثانی تھا اپنے گھر میں اپنی ملکہ سے ڈرنے لگا تھا۔ اس کے گھر میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی کہ وہ خود مصر جانے کا خطرہ مول لیتا تھا نہ اپنے بیٹے قسطنطین کو کمک دے کر بھیجتا تھا ۔

تاریخ آج تک حیران ہے کہ صحیح معنوں میں مٹھی بھر مجاہدین کو ایسی کامیابیاں اور وہ بھی اتنی بڑی جنگی طاقت کے مقابلے میں کس طرح حاصل ہوئی، تاریخ لکھنے والے صرف یہ لکھ گئے ہیں کہ یہ ایک معجزہ تھا لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ معجزہ بیٹھے بٹھائے تو رونما نہیں ہو جایا کرتا۔

اللہ اپنے کرم و فضل سے صرف انہیں نوازا کرتا ہے جو اپنی جان اور اپنا مال اور اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کر دیا کرتے ہیں، یہ ایمان کی مضبوطی کی ایک دلیل تھی اور یہ فتح دراصل اسلام کی صداقت کی فتح تھی۔

ہرقل کس انجام کو پہنچ رہا تھا اسے اللہ کی لعنت کہا جائے تو صحیح ہوگا ،قرآن میں کئی آیات میں آیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں پر کفار جو ظلم و ستم کرتے ہیں ان کفار کا انجام بہت ہی برا اور قابل نفرت ہو گا، اس کے ساتھ ہی اللہ نے یہ بھی بشارت دی ہے کہ جو اہل ایمان کفار کے ان مظالم کا مقابلہ ثابت قدم رہ کر کریں گے اللہ انہیں بہترین اور ہمیشہ رہنے والا اجر عطا کرے گا اور ظالموں سے انتقام لے گا۔

ہرقل اگر اسلام قبول نہ کرتا اور حضرت عیسی علیہ السلام کی عیسائیت کے ساتھ ہی وفادار رہتا ،اور اپنے دل میں بنی نوع انسان کی وہی محبت رکھتا جو حضرت عیسی علیہ سلام کے دل میں تھی ،اور جس کی تعلیم آپ علیہ السلام نے کی تھی، تو شاید ہرقل کا انجام اتنا برا نہ ہوتا لیکن اس نے عیسائیت کو بھی مسخ کرکے اپنا ہی ایک مذہب بنا ڈالا تھا۔ اس پر تو لعنت برسنی ہی تھی۔

مقوقس کے لیے بابلیون کے اردگرد اور دور دور تک جو صورتحال پیدا ہو چکی تھی اس سے اس کی نیندیں حرام ہو گئی تھی۔

اسے ہرقل کی طرف سے بھی خطرہ تھا کہ ہرقل کو پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ لڑکی اسے قتل کرنے کے لئے بھیجی گئی تھی، مقوقس نے اپنے جاسوس کی پوری رپورٹ سنکر جرنیل تھیوڈور سے کہا کہ اس جہاز کے کپتان کو اغوا کروا کر بابلیون بلایا جائے کیونکہ صحیح بات اسی سے معلوم ہو سکتی ہے۔ چنانچہ تھیوڈور نے دو ایسے فوجی منتخب کیے جو کپتان کو اغوا کرنے کی ہمت اور مہارت رکھتے تھے، ان آدمیوں کو بحری جہاز کا نام اور کپتان کا نام بھی بتا دیا گیا اور بڑی سختی سے کہا گیا کہ اسے اسکندریہ سے اس طرح لانا ہے کہ کسی کو شک نہ ہو کہ اسے کسی بری نیت سے اغوا کیا جا رہا ہے،،،،، دونوں آدمی اسی روز اسکندریہ کو روانہ ہوگئے مقوقس مصر کا بادشاہ تھا کسی بھی بادشاہ کے لئے رعایا میں سے کسی شخص کو اغوا کروانا کوئی کام ہی نہیں تھا۔

اس بادشاہ کا اصل کام تو ایک بہت بڑا خطرہ بن کر اسے نرغے میں لئے ہوئے تھا ، وہ قلعہ بابلیون میں تھا اور اس قلعے میں فوج کی کمی نہیں تھی لیکن اس کے لئے یہ مشکل پیدا ہو گئی تھی کہ بابلیون کے قریب سے ہی شروع ہونے والا علاقہ جو اس دور میں فیوم کے نام سے مشہور تھا مجاہدین اسلام کے قبضے میں آ گیا تھا ،اور وہاں جو رومی فوج تھی کچھ تو بابلیون میں جا پناہ گزین ہوئی تھی، اور باقی قلعہ نقیوس میں جا بیٹھی تھی۔ مقوقس اس پر تکیہ کیے ہوئے تھا کہ صوبہ فیوم کے قبطی عیسائی مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور بغاوت کر دیں گے ،مجاہدین اسلام نے صرف اس صوبے پر ہی نہیں بلکہ اس سے ملحقہ دوسرے صوبے کے بھی دو بڑے شہر اپنی عمل داری میں شامل کر لئے تھے۔

یہ علاقے قبطی عیسائیوں کی اکثریت کے علاقے تھے مجاہدین اسلام کی تعداد اس قدر کم تھی کہ عمرو بن عاص نے بہت ہی تھوڑے مجاہدین کو ان مفتوحہ اور اتنے وسیع علاقوں میں چھوڑا تھا، ان مجاہدین کے ذمے ایک کام تو نظم و نسق صحیح رکھنا تھا ،اور امن وامان بھی قائم کرنا تھا، اگر قبطی بغاوت کر دیتے یعنی محصولات وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کردیتے تو مجاہدین ان پر قابو نہیں پا سکتے تھے ،پھر کیا وجہ ہوئی کہ ان لوگوں نے بغاوت نہ کی؟،،،،،،،، ان کے اسقف اعظم بنیامین نے تو انہیں کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے سیلاب کو روکنا ہے اور رومی فوج کے ساتھ تعاون کیا جائے۔

یہاں پر وہی عظیم نام سامنے آتا ہے،،،،،، اللہ،،،،،، یہ اللہ کا کرم تھا لیکن اللہ ایسا معجزہ نما کرم صرف ان پر کیا کرتا ہے جو اپنے دین اپنے ایمان اور اللہ کی راہ میں اپنے عزیز کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں، اور جن کے دلوں میں بنی نوع انسان کی محبت ہوتی ہے۔ یہ قلعے فتح ہوئے تھے ،اور رومی فوج آخری سپاہی تک بھاگ گئی تھی تو شہریوں میں بھگدڑ اور افراتفری کا بپا ہونا ایک قدرتی امر تھا لوگ جانتے تھے کہ فاتحین مفتوحہ لوگوں پر رحم نہیں کیا کرتے، لوٹ مار ہوتی ہے قتل و غارت ہوتی ہے، اور جواں سال عورتوں کو فاتحین اپنی ملکیت سمجھ لیتے ہیں، لیکن مسلمان فاتحین نے وہاں کے لوگوں کوحیران کردیا ،کتنی دلچسپ بات ہے کہ مجاہدین کے ساتھ ان کی مستورات بھی تھیں، ان مستورات نے وہ مہم سر کی جو بڑے بڑے لشکر بھی ذرا مشکل سے سر کیا کرتے ہیں۔

ان مستورات نے مفتوحہ بستیوں میں جا جا کر وہاں کی عورتوں اور ان کے آدمیوں کو یقین دلایا کہ وہ بھاگے نہیں اور اس طرح گھروں میں بیٹھے رہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مجاہدین نے کسی گھر کی طرف دیکھا تک نہیں سوائے اس کے کہ اعلان کرتے پھرے کے کسی شخص کو بلا وجہ پریشان نہیں کیا جائے گا، اور عورتیں اپنے معمول کے مطابق باہر جائیں آئیں اور فاتحین کو اپنے بھائی اور محافظ سمجھیں۔

تاریخ دان ابن الحکم اور تغری نے "النجوم الزاہرہ " میں لکھا ہے کہ مقوقس کی توقعات کے خلاف صوبہ فیوم کے لوگوں نے مسلمانوں کے احکام کی خلاف ورزی کی بجائے انھیں دل و جان سے قبول کرلیا ،اور ان میں ان کے اپنے ہی بزرگوں کی یہ آواز پھیلتی چلی گئی کہ آخر فتح اہل اسلام کی ہی ہونی تھی ،اس فاتح کو قبول کر لو ۔ قبطیوں کی طرف سے یہ آواز بھی سنائی دی کہ ہرقل کی درندگی آج سے ختم ہے اور اب امن و امان کا دور شروع ہو گیا ہے۔

توپھر یہ سب کیا تھا؟،،،،،،، وہ یہ تھا کہ مجاہدین کو لوگوں کے مال و اموال اور سونے چاندی اور انکی حسین لڑکیوں کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں تھی ،انہوں نے اپنی مستورات کو ساتھ لے کر لوگوں کے دل فتح کرلئے تھے، انہوں نے حقوق العباد کو سامنے رکھا کیونکہ یہ حکم الہی تھا۔

خطرہ ان مصری بدوؤں کی طرف سے تھا جو مجاہدین اسلام کے لشکر میں شامل ہوئے تھے، لیکن انہوں نے بھی کسی شہری کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہ کی وجہ یہ تھی کہ انہیں مال غنیمت کا پورا پورا حصہ مل جاتا تھا، اور انھیں ذہن نشین کرا دیا گیا تھا کہ مال وہی اچھا جو حلال کا ہو

، یہ بدو پسماندہ ذہن کے لوگ تھے اور توہم پرست بھی، انھیں بات سمجھانے کے لئے بتایا گیا کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے اور کسی کی لڑکی پر ہاتھ اٹھاتا ہے وہ میدان جنگ میں مارا جاتا ہے، اور اس کی لاش چیل کوّے اور گیدڑ کھاتے ہیں، انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ہرقل جیسا فرعون بادشاہ مصر میں آنے سے کیوں ڈرتا ہے اور اسے کیوں شکست ہو رہی ہے صرف اس لئے کہ وہ نہتّے اور کمزور لوگوں پر ظلم وستم توڑتا تھا،،،،،،،، یہ ایسی دلیل تھی جو بدوؤں کے دلوں میں بیٹھ گئی۔

اب وہاں صورت یہ پیدا ہو گئی تھی کہ رومی فوج کے دلوں میں مجاہدین اسلام کی دہشت اتر گئی تھی اور وہاں کے لوگوں کے دلوں میں مجاہدین کی محبت اور ان کا خلوص ایمان گھر کر گیا تھا، وہ تو جیسے مسلمانوں کے پیار اور ان کی شفقت کے اسیر ہوگئے تھے۔ اب سپہ سالار عمرو بن عاص کا ہدف قلعہ بابلیون تھا ،جسے انہوں نے محاصرے میں لے لیا تھا لیکن اس قلعے کو سر کرنا بظاہر ناممکن نظر آتا تھا، اس لئے نہیں کہ مجاہدین کی تعداد بہت تھوڑی تھی بلکہ قلعہ بلا شک و شبہ نا قابل تسخیر تھا۔

عمرو بن عاص اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ قلعہ سر کرنا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ، پھر بھی انہوں نے محاصرہ کر لیا جس کی وجہ انھوں نے اپنے سالاروں کو یہ بتائیں کہ محاصرہ اس لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر جو فوج ہے اسے پریشانی میں مبتلا رکھا جائے، دوسری وجہ یہ کہ رومی یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان اس قلعے کو ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں، مطلب یہ کہ عمروبن عاص دشمن کے سر پر سوار رہنا چاہتے تھے۔

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس قلعے کی مضبوطی کو تھوڑا سا بیان کر دیا جائے، آج بھی قدیم مصر میں گھوم پھر کر دیکھیں تو قلعہ بابلیون کی چند دیواریں اور دو برجیاں کھڑی نظر آتی ہیں، ان کھنڈرات کے اندر چلے جائیں اور دھیان اللہ کی طرف کر لیں اور پھر ان مجاہدین کو تصور میں لائیں جن کے دور میں یہ قلعہ ایک بہت بڑا چیلنج بن کر شان و شوکت سے کھڑا تھا، اور ان مجاہدین نے کفر کے اس چیلنج کو اللہ کا نام لے کر قبول کر لیا تھا۔

اس تصور سے آپ کو سرگوشیاں سے سنائی دیں گی یوں جیسے ان مجاہدین اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائیوں کی روحیں سرگوشیوں میں داستان جہاد سنا رہی ہوں۔

روحوں کی سرگوشیاں وہی سن سکتا ہے جس کی اپنی روح بیدار ہو اور اس روح میں اللہ کا وجود رچا بسا ہوا ہو، آج تو وہاں یہ عالم ہے کہ فرعون تو نہیں ہیں لیکن آج کے حکمرانوں میں فرعونیت زندہ وہ بیدار ہے، اللہ کا نام لینے والوں اور جہاد کی باتیں کرنے والوں کو عسکریت پسند مسلمان یا بنیاد پرست کہہ کر قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے، اور بعض کو تو قتل ہی کر دیتے ہیں، ویسے نام کو یہ اسلامی ملک ہے اور اس پر جو حکمران ہیں وہ بھی مسلمان ہیں مگر ان کے دلوں میں اللہ کی نہیں اسرائیل کی خوشنودی غالب ہے۔

 بابلیون کا قلعہ جب چودہ صدیاں پہلے اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا تو اس کی دیواریں اتنی بلند اور برجیاں اتنی مضبوط تھی کہ ان تک پہنچنا ممکن ہی نہیں تھا اس کی دیواریں ساٹھ قدم اونچی اور اٹھارہ قدم چوڑی تھیں، یہ دیوار ایسی ٹھوس تھیں کہ ان میں شگاف ڈالا ہی نہیں جاسکتا تھا ۔

ان دیواروں کے اوپر جو برجیاں تھی وہ مضبوطی کے علاوہ بلند بھی تھی ان کے ساتھ زینے لگے ہوئے تھے اور ان کے اوپر چڑھ کر دیکھو تو دور دور تک علاقہ نظر آتا تھا دریائے نیل کا نظارہ تو دیکھنے والوں کو مسحور کردیتا تھا۔

قلعے کے ایک پہلو سے نیل گزرتا تھا ۔ جیسے اس طرف کی دیوار دریا میں کھڑی ہو، صدر دروازہ دریا کی طرف کھلتا تھا اور یہ دروازہ لوہے کا بنا ہوا تھا یا اس پر لوہے کی چادریں ڈالی گئی تھیں، اس طرف کشتیوں کا ایک بیڑا ہر وقت تیار رہتا تھا، وہاں سے بالکل سامنے نیل بہت چوڑا ہو کر دور دور تک پھیل جاتا تھا، پھیلاؤ کی وجہ سے دریا کے عین وسط میں ایک وسیع خطہ خشکی کا رہ گیا تھا ،جہاں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس قلعے کا نام روضہ تھا ،اس قلعے میں فوج ہر وقت موجود اور تیار رہتی تھی، بوقت ضرورت یہ فوج کشتیوں میں بیٹھ کر فورا بابلیون میں پہنچ جاتی تھی اور محاصرہ کرنے والے اس کمک کو روک بھی نہیں سکتے تھے، اور آخر ناکام رہتے تھے۔

قلعہ بابلیون میں اتنے زیادہ کنوئیں موجود تھے کہ پانی کی قلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، دیوار کے باہر سے کھیت اور پھلوں کے باغات شروع ہو جاتے تھے جو لقعے کے ارد گرد تھے ان کی وجہ سے قلعے میں خوراک کی بھی قلت پیدا نہیں ہوتی تھی۔ قلعے کو اور زیادہ مستحکم اور ناقابل تسخیر بنانے کے لئے کھیتوں اور باغات کے ارد گرد ایک بڑی چوڑی اور گہری خندق کھودی ہوئی تھی، جس میں دریا کا پانی آتا رہتا تھا ، دریا کی طرف والے دروازے کے علاوہ ایک اور بڑا دروازہ تھا ،وہاں رسوں اور زنجیروں کی مدد سے ایسا انتظام کیا گیا تھا کہ اپنی فوجوں کو خندق سے گزرنے کے لئے ایک پل تھا جسے بوقت ضرورت خندق پر ڈال دیا جاتا تھا گزرنے کے بعد یہ پل اٹھا دیا جاتا اور دشمن کے لیے خندق عبور کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔

بابلیون کے اندر اپنے جو جاسوس گئے ہوئے تھے وہ محاصرے سے پہلے نکل آئے تھے انہوں نے سپہ سالار عمرو بن عاص کو بتایا تھا کی قلعے کے اندر بہت ہی زیادہ فوج موجود ہے اور دریا کے جزیرے والے قلعے میں بھی فوج کی کمی نہیں یہ ساری فوج میدان جنگ سے اس حالت میں بھاگی تھی کہ اس پر خوفزدگی طاری تھی لیکن فوج اتنی زیادہ تھی کہ ہجوم کی صورت میں، اور قلعے کی دیواروں کی پناہ میں دفاعی جنگ لڑ سکتی تھی۔

*=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*

مجاہدین اسلام نے اس قلعے کا محاصرہ کر لیا۔

 چند دنوں بعد مقوقس کو اطلاع دی گئی کہ جہاز کے کپتان کو پکڑ کر لے آئے ہیں ،مقوقس نے اسی وقت کپتان کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔

زندہ رہنے کا ارادہ ہے تو سچ بول دو۔۔۔ مقوقس نے کپتان سے کہا۔۔۔ تم ایک لڑکی اور دو آدمیوں کو اسکندریہ سے بزنطیہ لے گئے تھے اور انھیں ہرقل کے پیش کیا تھا ،ان آدمیوں کو تم نے ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کیوں ڈالی تھیں۔

کپتان گھبراہٹ کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا اور یوں پتہ چلتا تھا جیسے اس کی زبان گنگ ہو گئی ہو، اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا، جو اس کے لئے جرم کا ثبوت تھا۔

میں تمہیں قتل نہیں کرواؤں گا ۔۔۔مقوقس نے کہا۔۔۔ تمہارے اتنی بڑے جہاز کو آگ لگوا دو گا اور تمہارے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر کھلا چھوڑ دوں گا اور پھر بھیک مانگتے پھرنا۔

کپتان جان گیا کہ ساری بات کھل گئی ہے اسے یہ احساس بھی تھا کہ وہ کسی معمولی سے حاکم کے سامنے نہیں بلکہ اس ملک کے فرمانروا کے سامنے کھڑا ہے جو اسے کھڑے کھڑے قتل کروا سکتا ہے، وہ مقوقس کے پاؤں پر گر پڑا اور ماتھا رگڑنے لگا اس نے ساری بات سنا ڈالی اور کہا کہ یہ اس نے ایک تو انعام کے لالچ سے کیا اور دوسری وجہ یہ کہ وہ ہرقل کے مداحوں میں سے تھا۔

مقوقس صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ ہرقل کو پتہ چل چکا ہے یا نہیں کہ اس نے ہرقل کے قتل کا انتظام کیا تھا، یہ اسے اس کپتان سے پتہ چلا ۔

 مقوقس اور جرنیل تھیوڈور جو اس وقت اس کے پاس بیٹھے تھے حیران ہونے لگے کہ ہرقل نے اس کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی، کپتان کو یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہرقل نے اس کی غیر حاضری میں کیا سوچا اور کیا کہا تھا۔

 کپتان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے مقوقس نے اسے باہر بھیج دیا اور تھیوڈور کے ساتھ صلح مشورہ کرنے لگا اس نے کہا کہ اس شخص نے سچ بولا ہے اس لئے اس کی جان بخشی کردی جائے۔

 نہیں،،،،،، تھیوڈور نے کہا۔۔۔۔ اسے آزاد کردیا تو یہ سب سے پہلا کام یہ کرے گا کہ بزنطیہ جا کر ہرقل کو بتائے گا کہ ہم نے اسے سے اندر کی بات معلوم کر لی ہے ،اس کے بعد ہرقل ہمارے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا،،،،،،،،،،، اس کپتان کا زندہ رہنا ہمارے لئے ٹھیک نہیں۔

مقوقس نے حکم دے دیا کہ اس کپتان کو جلاد کے حوالے کردیاجائے باہر سے کپتان کی آہ و بکا سنائی دینے لگی جو دور ہی دور ہٹتی گئی اور جلاد کے ہاں جا کر بالکل خاموش ہو گئی۔

*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷=÷*

محاصرے کے دوران ایک جاسوس مجاہد جو ابھی قلعہ بابلیون کے اندر ہی تھا باہر نکل آیا یہ اس کا ایک کارنامہ تھا جو اس نے کر دکھایا تھا ،وہ بابلیون میں کسی مخصوص بھیس میں تھا وہاں سے وہ کشتی میں دریا کے پار قلعہ روضہ تک چلا گیا ،وہ شہر کے چند آدمیوں کے ساتھ گیا تھا غالبا سرکاری طور پر قلعہ روضہ کے جزیرے میں کوئی کام تھا جس کے لیے اس مجاہد نے اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔

رات کے وقت یہ مجاہد چوری چھپے وہاں سے نکلا اور دریا میں اتر گیا ان دنوں دریا میں طغیانی کے آثار پائے جاتے تھے ویسے بھی وہاں سے دریا خاصہ چوڑا تھا جسے تیر کر پار کرنا کسی کسی کا ہی کام ہو سکتا تھا ،اس جاسوس نے دریا پار کر لیا اور پھر کنارے کنارے پر چلتا وہاں تک چلا گیا جہاں لشکر مجاہدین کا محاصرہ تھا ،اس لشکر میں پہنچ کر وہ گر پڑا تھا اور کچھ دیر بعد اس کے ہوش و حواس ٹھکانے آئے تھے۔

اس نے سپہ سالار عمرو بن عاص کو یہ خبر دی کہ قلعے کے اندر کتنی زیادہ فوج ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ مقوقس نے اس ساری فوج کو اکٹھا کرکے خطاب کیا ہے۔

مقوقس نے اپنے اس خطاب میں اپنی فوج سے کہا تھا کہ دریا میں طغیانی شروع ہو چکی ہے اور ایک یا ڈیڑھ مہینے تک دریا میں اتنی طغیانی آجائے گی کہ اس میں کوئی اترنے کی جرات نہیں کرے گا ۔اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ دریا کی طرف سے قلعہ بالکل محفوظ ہوجائے گا، باقی اطراف خندق پانی سے اتنی بھری رہے گی کہ عرب کے یہ مسلمان اسے پار نہیں کر سکیں گے۔

مقوقس نے یہ بھی کہا کہ طغیانی مہینہ ڈیڑھ مہینہ رہے گی اور پھر اترنے لگے گی ایک مہینے تک دریا کا بہاؤ معمول پر آجائے گا اور پھر اسکندریہ سے کمک آ جائے گی۔

نیل اسکندریہ کی طرف بہتا تھا وہاں سے کمک دریائی راستے سے ہی آسانی سے اور کم وقت میں آ سکتی تھی لیکن طغیانی کی صورت میں کشتیاں الٹے رخ چلانا بہت ہی مشکل اور دقت طلب تھا۔ مقوقس نے کہا کہ اتنا عرصہ گزر جانے تک مسلمانوں کا حوصلہ پشت ہو چکا ہوگا اور انہیں آسانی سے پسپا کیا جا سکے گا۔

جاسوس مجاہد نے یہ بھی بتایا کہ مقوقس نے اپنی فوج کو انعام کا لالچ بھی دیا ہے، یہ تنخواہ دار فوج تھی مقوقس نے فوجیوں سے وعدہ کیا کہ مسلمانوں کو پسپا کردیا گیا تو ہر فوجی کو تین مہینوں کی دگنی تنخواہ دی جائے گی، اور جو فوجی زیادہ بہادری کر دکھائیں گے انہیں انعام واکرام سے مالا مال کر دیا جائے گا۔

جاسوس نے اپنی رائے یہ دی کہ رومی فوج کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن اس فوج کا حوصلہ اتنا مضبوط نظر نہیں آتا جتنا ہونا چاہیے، اس نے مزید یہ بتایا کہ جو فوجی مسلمانوں کے مقابلے میں آئے اور بھاگ گئے تھے وہ تو مسلمانوں کا نام سنتے ہی چپ ہو جاتے ہیں، رومی فوجیوں کی یہ کیفیت تاریخ میں بھی صاف الفاظ میں آئی ہے وہ اپنی بزدلی اور کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے مجاہدین اسلام کے متعلق بڑی دہشت ناک باتیں سناتے تھے، ان میں سے بعض کی باتوں سے یوں ظاہر ہوتا تھا جیسے عرب کے یہ مسلمان جنات یا بھوت پریت ہوں۔

جاسوس مجاہد کی اس خبر کا جہاں تک تعلق تھا کہ نیل میں طغیانی آ رہی ہے سپہ سالار عمرو بن عاص کے لیے کوئی نئی خبر نہیں تھی، پھر بھی کچھ باتیں انہیں معلوم ہو گئی۔ عمرو بن عاص جانتے تھے کہ طغیانی کا موسم شروع ہوگیا ہے اور دریا چڑھنے لگا ہے۔ مقوقس نے کہا تھا کہ اتنے مہینوں کے انتظار سے مسلمان مایوس ہو جائیں گے لیکن عمرو بن عاص نے اپنے زاویہ نگاہ سے بات کی انہوں نے محاصرے میں گھوم پھر کر جگہ جگہ مجاہدین سے خطاب کیا۔

انہوں نے مجاہدین کو دریائے نیل اور اس کی طغیانی کے متعلق وہی بات بتائی جو جاسوس نے مقوقس کی زبانی سنائی تھی ۔

عمرو بن عاص نے کہا۔۔۔۔ کہ اتنا عرصہ قلعے والوں کو کہیں سے بھی مدد نہیں ملےگی اس دوران اس قلعے کے اندر کی فوج کو پریشان کئے رکھیں گے اس کے بعد قلعے پر باقاعدہ یلغار کی جائے گی۔

دین اسلام کے علمبردارو !،،،،،عمرو بن عاص نے اس موقع پر یہ تاریخی الفاظ کہے یہ خندق اس سےزیادہ چوڑی اور زیادہ گہری ہوتی تو بھی تمہارا راستہ نہیں روک سکتی تھی، رومی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا یہ قلعہ اتنا مضبوط ہے کہ اسے کوئی سر نہیں کرسکتا۔ اسلام کے شیدائیوں!،،،،،، دنیا کا کوئی قلعہ تمہارے ایمان اور جذبہ جہاد سے زیادہ مضبوط نہیں۔

اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھو کہ کوشش تم کرو گے میں اس کا ثمر دوں گا میری راہ میں حرکت تم کرو برکت میں دوں گا۔

قلعہ بابلیون میں تھیوڈور کے علاوہ ایک مشہور جرنیل اور بھی تھا جس کا نام عربی مؤرخین نے اعیرج لکھا ہے، لیکن بٹلر نے کہا ہے کہ یہ نام دراصل جارج ہے، اور بگڑ کر اعیرج بنا ہے،،،،،، نیل چڑھتا جا رہا تھا قلعے کے اردگرد والی خندق پانی سے لبریز کر دی گئی تھی ،قلعے کی دیواروں سے مجاہدین پر منجیقوں سے پھینکے ہوئے پتھر آنے لگے۔

اس سنگ باری کے جواب میں مجاہدین نے بھی منجیقوں و سے قلعے پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے مجاہدین نے تیر دور تک پہنچانے کے لیے بڑی کمانیں بھی تیار کر لی تھیں۔

 ان کمانوں کے تیرانداز خندق کے کنارے تک چلے گئے اور وہاں سے دیواروں کے اوپر رومیوں پر تیر پھینکنے لگے۔

 نیل میں طغیانی بڑھتی گئی اور ادھر ایک دوسرے پر تیر اور پتھر پھینکے جاتے رہے شب و روز گزرتے چلے جا رہے تھے۔

قلعے کی دیواروں سے آنے والے پتھر تو مجاہدین کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے لیکن مجاہدین کی منجیقوں سے نکلے ہوئے پتھر شہر کے اندر گرتے تھے، انہوں نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا ہر گھر پر یہ خوف طاری تھا کہ ابھی پتھر ان کی چھت پر گرے گا اور چھت گر پڑے گی۔

محمد يحيٰ سندھو


 رومی فوج کا حوصلہ پہلے ہی متزلزل تھا پتھراؤ سے حوصلہ اور زیادہ کمزور ہونے لگا۔

ڈیڑھ پونے دو مہینے گزر گئے اور نیل میں طغیانی کے آثار ختم ہوگئے۔

*=÷=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*

ماہ اکتوبر 640 عیسوی کے پہلے ہفتے کی بات ہے کہ مقوقس نے اپنی فوج اور بابلیون کے شہریوں کے حوصلے اور جذبے کا جائزہ لیا تو اسے کچھ ایسا شک ہونے لگا کہ مسلمانوں نے اگر اپنے مخصوص انداز سے قلعے پر ہلّہ بول دیا تو عین ممکن ہے کہ یہ فوج مقابلے میں ٹھہر نہ سکے اور شہر کے لوگوں میں ایسی افراتفری اور نفسانفسی پیدا ہو جائے، جو اپنی فوج کے لیے رکاوٹ بن جائے، اس کے علاوہ مقوقس کی شروع ہی سے یہ خواہش اور کوشش تھی کہ عرب کے ان مسلمانوں کو کسی طرح قائل کیا جائے کہ وہ کچھ لے لیں اور مصر سے واپس چلے جائیں اب ایک بار پھر اس کے دماغ میں یہی بات آگئی۔

اس نے ایک خفیہ اجلاس بلایا جس میں جنریل تھیوڈور اور جرنیل جارج شامل تھے اور اس کے علاوہ مقوقس کے صرف دو مشیر شامل کیے گئے۔

میری بات تحمل سے سنو اور مجھے مشورہ دو ۔۔۔۔مقوقس نے کہا ۔۔۔اپنی فوج کو بھی تم نے دیکھ لیا ہے اور شہر کے لوگوں کی حالت بھی تم دیکھ رہے ہو ہم کمک کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن یہ سوچوں کہ ہمارے پاس فوج کی کمی نہیں ، کمک صرف اس صورت میں ہمارے کام آسکتی ہے کہ یہ کمک مسلمانوں پر عقب سے حملہ کرے، جو ممکن نہیں نیل کے دونوں کناروں پر مسلمانوں کا قبضہ ہے،،،،،، 

عرب کے یہ مسلمان جب خندق عبور کرنے پر آگئے تو عبور کر ہی لیں گے کیا تم ابھی ان کے جذبے اور ہمت و استقلال سے واقف نہیں ہوئے؟ 

یہ بھی دیکھ لو کہ یہ مسلمان کتنی جلدی مصر کے اندر کتنی دور تک پہنچ گئے ہیں میں بغیر لڑے محاصرہ اٹھانا چاہتا ہوں کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم ایک بار پھر ان عربوں سے صلح سمجھوتہ کی بات کریں اور کہیں کہ جو کچھ مانگتے ہو لے لو اور مصر سے نکل جاؤ۔

مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مقوقس اپنے دلائل ایسے پر اثر انداز سے دیئے کہ اجلاس کے چاروں شرکاء نے اس کی تائید کی اور کہا کہ اس تجویز پر عمل درآمد فوراً ہو جائے تو اچھا ہے۔

میں صرف ایک مشورہ دوں گا۔۔۔۔ تھیوڈور نے کہا ۔۔۔یہ اجلاس اور یہ ساری کاروائی سختی سے خفیہ رکھی جائے ،فوج کو تو اس کا علم ہی نہیں ہونا چاہیے ورنہ فوج صلح سمجھوتے کی آس لگا کر ہاتھ پاؤں چھوڑ بیٹھے گی۔

جرنیل جارج نے یہ مشورہ دیا کہ مقوقس خود اس کارروائی کی قیادت کرے اور ذاتی طور پر اس کوشش میں شامل ہو،،،،،، مقوقس نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔

اس اجلاس کو خفیہ تو رکھا گیا لیکن تاریخ سے خفیہ نہ رکھا جا سکا بہت سے مسلم اور غیر مسلم اور ان کے حوالے سے بات کی تاریخ دانوں نے یہ واقعہ پوری تفصیل سے لکھا ہے،،،،،، اسی اجلاس میں ایک مراسلہ بنام سپہ سالار عمرو بن عاص لکھا گیا جو مقوقس کی طرف سے تھا۔

اگلی رات کی تاریکی میں مقوقس ان دونوں جرنیلوں اور دونوں مشیروں کو ساتھ لے کر قلعے سے نکلا کشتی میں بیٹھا اور نیل کے وسط میں جزیرے تک پہنچ گیا جہاں قلعہ روضہ تھا ۔ اس قلعے میں ایک بڑا گرجا تھا جس کا پادری بھی موجود تھا آدھی رات کے وقت پادری کو جگایا گیا ظاہر ہے پادری بہت گھبرایا ہو گا کہ اس وقت فرمانروائے مصر اپنے جرنیلوں کے ساتھ کیوں آیا ہے؟ 

مقوقس نے پادری کو یہ مراسلہ دیا اور کہا کہ وہ صبح کشتی میں بیٹھے اور مسلمانوں کے سپہ سالار کے پاس چلا جائے اور اپنے ساتھ اپنے اعتماد کے تین چار آدمی لے جائے لیکن یہ ساری کارروائی خفیہ رکھنی ہے یعنی کسی کو پتہ نہ چلے کہ مقوقس نے مسلمانوں کے سپہ سالار کو پیغام بھیجا ہے۔

تاریخ میں مقوقس کے اس مراسلے کے الفاظ آتے ہیں لیکن اس میں درخواست نہیں بلکہ دھمکی کا تاثر ہے ۔

مراسلہ یوں تھا۔

تم ہمارے ملک میں یوں آ گھسے ہو جیسے یہ تمہارا ملک ہو یا جیسے اس ملک کا کا کوئی حکمران ہی نہ ہو، اور یہاں کے لوگ بھیڑ بکریاں ہو، تم نے ہم پر جنگ ٹھونسی ہے اور دونوں طرف جو خون خرابہ ہوا ہے اس کے ذمہ دار تم ہو ،اور یہ بہت بڑا جرم ہے ،ہمارے ملک میں تمہارا قیام طویل ہو گیا ہے جو ہماری برداشت سے باہر ہے، ہماری فوج کے مقابلے میں تم مٹھی بھر بھی نہیں ہو، میں خود چاہتا تھا کہ تم نیل تک پہنچ جاؤ اب میں تمہیں موقع دیتا ہوں کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ ورنہ تمہارا ایک بھی آدمی زندہ واپس نہیں جا سکے گا،،،،،،،، 

تم سمجھتے ہو کہ فتح پر فتح حاصل کرتے آ رہے ہو لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ ان فتوحات نے تمہارا دماغ خراب کر دیا ہے، اور تم یہ سمجھنے کے قابل بھی نہیں رہے کہ

اس وقت تم کہاں اور کس صورت حال میں بیٹھے ہو، دریائے نیل نے تمہیں گھیرے میں لے رکھا ہے، سمجھ جاؤ کے نیل بھی تمہارا دشمن ہے، پیشتر اس کے کہ تمہارا یہ چھوٹا سا لشکر میری اتنی بڑی فوج کے قدموں تلے روندا جائے میں تمہیں ایک موقع دیتا ہوں اپنا کوئی ایلچی یا وفد میرے پاس بھیجو ، جو میرے ساتھ صلح سمجھوتہ کی بات کر سکے ہو سکتا ہے کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ یہ خون خرابہ ختم ہوجائے، اور تم تباہی سے بچ جاؤں میں اب بھی کہتا ہوں کہ تم واپس چلے جاؤ اور جتنا معاوضہ مانگو گے میں دونگا تمہارے ایلچی یا وفد کا انتظار کروں گا۔


*جاری ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023