اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر43
نہ جانے کتنے دنوں بعد مقوقس بزنطیہ پہنچا اور ہرقل سے ملا ہرقل نے رسمی طور پر بھی مقوقس کو شاہی احترام نہ دیا ۔
مقوقس آخر اتنے بڑے ملک کا فرمانروا تھا لیکن ہرقل کا رویہ ایسا تھا جیسے مقوقس اس کا غلام ہو۔
ہرقل نے اس سے پہلی بات یہ پوچھی کہ اس معاہدے کے بعد مسلمان مصر سے چلے جائیں گے یا نہیں ؟
ہاں !،،،،، مقوقس نے بھی قدرے بے رخی سے جواب دیا۔۔۔ وہ مصر سے چلے جائیں گے۔
تم مجھے دھوکا دے رہے ہو۔۔۔ ہرقل نے کہا۔۔۔ معاہدے میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کی کوئی بھی جماعت جہاں چاہے گی جاسکے گی، اور جہاں چاہے گی قیام کرے گی، اور دو چار مسلمان کسی مجبوری کے تحت کسی مصری کے گھر روکیں گے تو اس مصری پر ان کی میزبانی فرض ہوگی، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان نہیں جائیں گے۔
اس کے بعد ہرقل نے مقوقس سے اتنے زیادہ سوال پوچھے اور اتنی وضاحت مانگی کے مقوقس پریشان ہو گیا اور ( مورخین کے مطابق) اس نے سوچا کہ ہرقل کو حقیقت سے آگاہ کر ہی دیا جائے۔
قیصر روم !،،،،،،مقوقس نے کہا۔۔۔ آپ ان عربوں کی جوانمردی ،شجاعت اور کٹ مرنے کے عزم سے ناواقف نہیں ، آپ کا ان کے ساتھ مقابلہ ہو چکا ہے اور آپ نے اس کا انجام بھی دیکھا ہے ،کیا آپ مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے کہ ان مسلمانوں کو شکست دینا کم از کم ہماری اس فوج کے لیے ناممکن نہیں، میرے سامنے سوائے صلح کے اس معاہدے کے کوئی اور راستہ نہیں تھا ، میں نے قلعہ بابلیون کو ان سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ اگر مسلمانوں نے بزور شمشیر بابلیوں لے لیا تو پھر سارا مصر ان کے قدموں میں پڑا ہو گا۔
دیکھو مقوقس!،،،،، ہرقل نے کہا۔۔۔ تم پہلے بھی مجھے شام کی شکست اور وہاں سے پسپائی کا طعنہ دے چکے ہو، اب تم مسلمانوں کی اطاعت قبول کرچکے ہو انہیں جزیہ ادا کرنے کا فیصلہ کرچکے ہو اور مصر میں ان کی موجودگی اور حکومت کو بھی برداشت کر رہے ہو ،پھر بھی تم مجھے شام کی شکست کا طعنہ دے رہے ہو؟
مقوقس نے اس کا یہ وہم رفع کرنے کے لیے بہت کچھ کہا کہ وہ اس پر طنز نہیں کر رہا بلکہ ایک حقیقت بیان کر رہا ہے، لیکن ہرقل اس کی کوئی دلیل قبول نہیں کر رہا تھا ۔
کیا تم یہ سمجھتے رہے کہ میں مصر سے اتنی دور ہوں اور مجھے وہاں کی حالات کی کچھ خبر ہی نہیں ۔۔۔ہرقل نے کہا۔۔۔ مجھے پل پل کی خبر ملتی رہی ہے ۔ شام کے حالات کچھ اور تھے اور مصر کے حالات کچھ اور ہیں۔ مصر میں ہماری ایک لاکھ فوج موجود ہے اور اس میں صرف ساڑھے بارہ ہزار فوج ہی لڑی ہے، اگر اس فوج کی قیادت عقلمندی سے کی جائے تو ان مٹھی بھر مسلمانوں کو مصر کے ریگستان میں روندا اور مسئلہ جا سکتا ہے یا انہیں نیل میں ڈوبو دیا جائے اور نیل بہتا رہے گا,,,,,,,,,,,, مصر میں ہماری فوج بڑے مضبوط قلعوں میں محفوظ ہے، یہ ذرا جتنے مسلمان اس فوج کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے، مجھے یقین ہے مقوقس کوئی ایسا راز ہے جو تم مجھے نہیں بتا رہے؟
مقوقس کو بھی غصہ آ گیا اور اس نے ایک دو جلی کٹی سے کہہ دیں، تم اپنا سب سے بڑا اور شرمناک جرم سن لو،،،،،، ہرقل نے کہا۔۔۔ جنہیں تم نے میرے قتل کے لیے بھیجا تھا وہ میرے ہاتھوں قتل ہوگئے اب تم غداری کے مرتکب ہو رہے ہو ،تم نے بزدلی کا مظاہرہ کیا، اور مصر عربوں کے لئے خالی چھوڑ دیا ہے۔
ہرقل نے جب اس لڑکی کو اور اس کے ساتھ جانے والے دونوں آدمیوں کو جو اسے قتل کرنے گئے تھے جلاد سے قتل کروادیا تھا تو اس نے اپنے مشیروں اور دو جرنیلوں کو بلا کر یہ واقعہ سنایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس سازش کے جواب میں مقوقس کو قتل کروا سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں کرے گا ،اور انتقام اس طرح لے گا کہ مقوقس کو رعایا کے سامنے ذلیل و خوار ہونے کے لئے چھوڑ دے گا۔
اب ہرقل کو وہ موقع مل گیا۔ اس نے تو جیسے تیسے کر لیا تھا کہ مقوقس کی بات اور کوئی دلیل نہیں سنے گا ،وہ جانتا تھا کہ روم کی فوج جو مصر میں ہے وہ نفسیاتی لحاظ سے اور حوصلے کے لحاظ سے لڑنے کے قابل نہیں ،لیکن اس نے مقوقس سے انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
ہرقل نے اسی وقت حاکم شہر اور کوتوال کو بلایا وہ دوڑتے ہوئے پہنچے ۔
ہرقل نے حکم دیا کہ اس کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈال دی جائیں اور اسے بستی یا شہر میں گھما پھرا کر اور پھر ایک جگہ رک کر لوگوں کو اکٹھا کیا جائے، اور اعلان کیا جائے کہ یہ شخص غدار ہے اور اس نے مصر مسلمانوں کے مٹھی بھر لشکر کے حوالے کردیا ہے ،اس کے بعد اسے سلطنت روم سے نکال دیا جائے، اس کی ہتھکڑیاں کھول دی جائیں لیکن بیڑیاں پاؤں میں رہے، اور اسے اور زیادہ ذلیل و خوار کر کے سلطنت بدر کردیا جائے۔
ہرقل کے حکم کی تعمیل ہوئی مقوقس کو ہرقل کے حکم کے مطابق ذلیل و خوار کر کے سلطنت بدر کردیا گیا,,,,,,,, ہرقل نے انتقام لے لیا۔
ہرقل نے صلح کا معاہدہ منسوخ کردیا اور اس کی اطلاع سپہ سالار عمرو بن عاص کو بھیج دی گئی جو دسمبر 640 عیسوی میں بھیجی گئی تھی۔
عمرو بن عاص نے قلعہ بابلیون پر یلغار کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا جو بظاہر ناممکن تھا۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
کوتوال اور حاکم شہر جب ہرقل کے حکم کی تعمیل کے لیے مقوقس کو ہتھکڑیاں اور بیڑیاں لگانے کے لئے باہر لے گئے تو ہرقل کی ملکہ مرتینا تقریباً دوڑتی ہوئی اس کمرے میں گئی جہاں ہرقل اپنی عدالت یا دربار لگایا کرتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ہرقل نڈھال بیٹھا ہے اور اس کے چہرے کا رنگ زرد تھا ۔چوبدار اور دو محافظ بت بنے چاک و چوبند کھڑے تھے۔ ملکہ کے سر کے اشارے سے وہ بڑی تیزی سے باہر نکل گئے۔
آفرین شہنشاہ ہرقل!،،،،،،،، ملکہ مرتینا نے اپنا ایک بازو ہرقل کے گلے میں ڈال کر اور پھر اس کا ایک رخسار چوم کر کہا۔۔۔ زندہ باد!،،،،، غدار کو یہی سزا ملنی چاہیے تھی ۔ موت تو کوئی سزا ہی نہیں ہوتی۔ انسان دنیا کے جھنجٹ سے آزاد ہو جاتا ہے، یہ شخص مقوقس مصر کا بادشاہ بنا ہوا تھا اب ذلیل و خوار ہوتا پھرے گا، اس کے چہرے پر لکھا نظر آئے گا کہ یہ غدار ہے۔
مرتینا!،،،،،،، ہرقل نے آہ لے کر کہا۔۔۔ اسے اتنی کڑی سزا دے کر مجھے خوشی نہیں ہوئی۔ روم کی سرزمین نے کبھی غدار پیدا نہیں کیا تھا۔
لعنت بھیجو اس پر!،،،،، ملکہ مرتینا نے کہا۔۔۔۔ اس نے آپ کو نہیں سلطنت روم کو دھوکا دیا ہے، دل پر غم اور افسوس کا اتنا بوجھ نہ ڈالیں آپ کا تو رنگ ہی پیلا پڑ گیا ہے، اگر آپ اجازت دیں تو میں ہرقلیوناس کو مصر بھیج دیتی ہوں۔
وہ وہاں جا کر کیا کرے گا ؟،،،،،،ہرقل نے نحیف سی آواز میں کہا ۔۔۔وہاں میرے آزمائے ہوئے جرنیل بھی گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔
میں جانتی ہوں آپ کا مطلب کیا ہے ۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔۔ وہ لڑ نہیں سکے گا، لڑا بھی تو نہیں سکے گا، لیکن جرنیلوں پر نظر رکھے گا کہ کوئی کھلم کھلا یا درپردہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح صلح سمجھوتہ نہ کرے جس طرح مقوقس نے کیا تھا ۔
میرا بیٹا ہرقلیوناس یہ کام خوش اسلوبی سے کرے گا۔
مجھے جانا چاہیے۔۔۔ ہرقل نے کہا۔۔۔ یا قسطنطین وہاں جائے۔ تم جانتی ہو قسطنطین تجربے کار جرنیل ہے لیکن میری صحت اتنی بگڑی گئی ہے کہ نہ میں جا سکتا ہوں نہ میں قسطنطین کو بھیجنا چاہتا ہوں ،یہاں کے معاملات اور امور قسطنطین ہی چلا رہا ہے ،اور میں چاہتا بھی یہی ہو کہ میرا یہی بیٹا سلطنت روم کی باغ ڈور سنبھالے ۔
ملکہ مرتینا کے چہرے پر ناگواری اور بیزاری کا تاثر آگیا لیکن وہ کوشش کر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آئی۔
یہ آپ نے ٹھیک کہا ۔۔۔مرتینا نے بظاہر خوشگوار لہجے میں کہا۔۔۔ آپ کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب معلوم ہوتی ہے میں طبیب کو بلواتی ہوں، مصر کا غم دل سے اتار دیں۔ وہاں تھیوڈور اور وہاں جارج بھی ہیں۔
پہلے ملکہ مرتینا کا تفصیلی ذکر آچکا ہے۔ مرتینا غیرمعمولی طورپر حسین و جمیل عورت تھی وہ جتنی حسین تھی اس سے کہیں زیادہ مکار اور عیار تھی، ہرقل کے حرم میں ایک سے بڑھ کر ایک حسین عورت موجود تھی ، لیکن حسن کے استعمال کی جو صلاحیت خدا نے مرتینا کو عطا کی تھی وہ کسی اور عورت میں نہیں تھی، کسی بھی تاریخ میں یہ نہیں لکھا کہ حرم کی عورتوں کے علاوہ ہرقل کی باقاعدہ بیویاں کتنی تھیں۔ ان میں ایک مرتینا تھی جس کی حیثیت سورج جیسی تھی باقی سب چاند اور ستاروں جیسی تھیں، جب سورج طلوع ہوتا تھا تو چاند اور ستارے آسمان کی وسعتوں سے ہی ناپید ہو جاتے تھے۔
ہرقل کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مرتینا اس پر غالب آ گئی ہے، اور اسے یعنی ہرقل کو اس غلبے سے نکلنا ہے، لیکن اس کی ہر کوشش ناکام رہتی تھی یہاں تک کہ ہرقل کے دل میں مرتینا کا خوف سا بیٹھ گیا تھا ،ایک ہسپانوی تاریخ نویس فرڈیننیڈ نے یہاں تک لکھا ہے کہ مرتینا نے ہرقل پر کوئی آسیبی اثر پیدا کروارکھا تھا۔
ہرقلیوناس مرتینا کا بیٹا تھا۔ وہ اسے ہرقل کا جانشین بنانے کی کوشش میں لگی رہتی تھی، لیکن ہرقل کی ایک اور بیوی سے قسطنطین اس کا بیٹا تھا، جو ہرقلیوناس سے عمر میں خاصا بڑا تھا۔ ہرقل قسطنطین کو جانشین بنانا چاہتا تھا اب ہرقل نے دیکھا کہ ملکہ مرتینا اس کے اس فیصلے پر اسے خراج تحسین پیش کررہی ہے کہ اس نے مقوقس کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں باندھ کر سلطنت بدر کردیا ہے۔ مرتینا ہرقل کی صحت کے متعلق بھی پریشان نظر آتی تھی۔ لیکن ہرقل اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ محض دکھاوے کی ہمدردی ہے۔ مرتینا نے کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے ہرقلیوناس کو مصر بھیج دے گی، ،،،،،،ہرقل نے کہا کہ وہ قسطنطین کو بھیجنا چاہتا ہے لیکن اپنی صحت کے پیش نظر نہیں بھیج سکتا۔
ہرقل سمجھ گیا تھا کہ مرتینا اس صورتحال سے اپنا مطلب پورا کرنا چاہتی ہے جو مقوقس کی جلاوطنی سے پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن ہرقل نے قسطنطین کا نام لے کر مرتینا کی خواہش رد کر دی ۔
مرتینا طبیب کو بلوانے کے لئے باہر نکل گئی تھی۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*
ہرقل کی صحت مسلسل اور تیزی سے گرتی جا رہی تھی وہ بوڑھا تو ہو ہی گیا تھا، لیکن ایسا بھی نہیں کہ بڑھاپا اسے اس قدر معزور کردیتا ۔
بڑھاپا جسم کو لاغر کر دیا کرتا ہے لیکن ذہن کا کچھ نہیں بگاڑتا دماغی صلاحیتیں اچھے برے تجربات کی بدولت اور زیادہ تیز اور کارآمد ہو جاتی ہیں، انسان دانشمند بن جاتا ہے، لیکن ہرقل ذہنی طور پر بھی کمزور ہو گیا تھا۔
یہ بھی ایک وجہ تھی کہ وہ اپنی ملکہ مرتینا اور اس کے بیٹے ہرقلیوناس سے ڈرتا تھا۔
تمام مورخین نے ہرقل کو خراج تحسین پیش کیا ہے ان مورخین میں مسلمان بھی شامل ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ ہرقل سورج بن کر سلطنت روم کے افق سے ابھرا تھا اور اس نے رومی سلطنت کو بڑی دور دور تک پھیلا دیا تھا، یہاں تک کہ پورے کا پورا ملک شام بھی اپنی سلطنت میں شامل کرلیا اور اس کی نظریں عرب پر لگی ہوئی تھیں، یہ ہرقل ہی تھا جس نے کسریٰ ایران کی ہیبت ناک جنگی قوت کو شکست دے کر پہلے مصر سے بےدخل کیا اور پھر شام سے بھی ایرانیوں کو بھگایا، اور ان کی سلطنت عراق تک محدود کر دی تھی۔
وہی ہرقل جو عزت و عظمت اور شہنشاہیت کا آفتاب بن کر چمک رہا تھا اب اس کی عزت وعظمت ننگ و ہزیمت میں بدل گئی تھی۔
کسریٰ ایران کی ڈیڑھ پونے دو لاکھ نفری کی فوج کو گھٹنوں بٹھانے والا ہرقل چند ہزار مسلمانوں کے لشکر کے آگے بے بس اور مجبور ہوگیا تھا ،ان قلیل تعداد مجاہدین نے اسے شام سے بھگایا اور اب مصر بھی اس سے چھین رہے تھے، ہرقل بزنطیہ میں حسرت و ایاس کا بت بنا بیٹھا تھا۔
عام خیال یہی تھا کہ ہرقل کو سلطنت روم کے سکڑنے کا غم کھا گیا ہے، مصر کے قبطی عیسائی کہتے تھے کہ ہرقل نے جس بے دردی اور بہیمانہ انداز سے قبطیوں کا قتل عام کیا ہے اس کی سزا اسے دنیا میں ہی مل رہی ہے۔ غیرجانبدار دانشمند کہتے تھے کہ کمال اور زوال کا چولی دامن کا ساتھ ہے، جیسے ہر چمکتا سورج افق سے ابھر کر افق میں غروب ہو جاتا ہے اور پیچھے رات کی تاریکی چھوڑ جاتا ہے ۔ لیکن پس منظر دیکھیں تو مؤرخین کوئی اور ہی کہانی سناتے ہیں۔
ملکہ مرتینا نے طبیب کو بلوایا تھا طبیب تو ہر لمحہ شاہی حکم کا منتظر رہتا تھا، ملکہ کا حکم پہنچتے ہیں وہ دوڑا آیا لیکن مرتینا اسے سیدھا ہرقل کے پاس لے جانے کی بجائے اپنے کمرے میں لے گئی، یہ طبیب اور اس طرح کے اور سب آدمی جو محل میں مختلف کاموں پر مامور تھے شاہی خاندان کے غلام بنے رہتے تھے۔ وہ اشارے کے منتظر رہتے تھے۔ اور بادشاہ، ملکہ، کسی شہزادے، یا شہزادی کے بلاوے پر دم ہلاتے دوڑتے پہنچتے اور ان لوگوں کے حکم بجا لا کر فخر محسوس کرتے تھے ۔ بات بات پر جھک جاتے اور پھر کام میں جت جاتے تھے۔ اس طبیب کا انداز بھی ایسا ہی تھا لیکن جونہی وہ مرتینا کے کمرے میں داخل ہوا اس کا انداز بالکل بدل گیا یوں لگتا تھا جیسے یہ شخص ملک مرتینا کا کوئی قریبی عزیز ہو، یا بے تکلف دوست۔
کیا حال ہے؟،،،،،،، طبیب نے مرتینا کے کہے بغیر بیٹھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔دماغ ٹھکانے آیا یا نہیں۔
نہیں !،،،،،مرتینا نے جواب دیا ۔۔۔وہیں کا وہیں ہے میں نے ابھی ابھی ایک موقع دیکھ کر کہا کہ ہرقلیوناس کو مصر بھیج دیتے ہیں کہ جرنیلوں کی نگرانی کرے اور اس طرح غداری کا خطرہ ٹل جائے گا، لیکن ہرقل نے صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ خود جائے ،یا قسطنطین کو بھیجا جائے، ہرقلیوناس کسی کام کے قابل نہیں۔
پھر میرے لئے کیا حکم ہے؟۔۔۔۔ طبیب نے پوچھا۔
تم اپنا کام جاری رکھو۔۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔ اب یہی ایک علاج رہ گیا ہے مجھے کچھ ایسا نظر آرہا ہے جیسے یہ شخص اپنی زندگی میں ہی قسطنطین کو تخت پر بٹھا دے گا، آج اسے دیکھ کر بتاؤ کہ یہ کتنے دن اور زندہ رہے گا اب میں جلدی میں ہوں۔
ملکہ محترمہ!،،،،،، طبیب نے کہا۔۔۔ ایک بات جو شروع سے ہی کہتا چلا آ رہا ہوں آج پھر وہی بات کہوں گا آپ کا مقصد دوچار لمحوں میں پورا کرسکتا ہوں لیکن میں تو پکڑا جاؤں گا ہی میرے ساتھ آپ بھی پکڑی جاسکتی ہیں، یہ کام آہستہ آہستہ ہونے دیں۔ کیا آپ اسکے اثرات دیکھ نہیں رہیں؟ کسی کو شک نہیں ہو رہا میں نے اچھے اچھے دانشمندوں کی زبان سے سنا ہے کہ ہرقل کو پے در پے شکستوں کا غم کھا رہا ہے، کہیں سے کوئی بہت ہی قابل طبیب لے آئیں اسے بھی پتہ نہیں چلے گا کہ شاہ ہرقل کو غم نہیں بلکہ کچھ اور کھا رہا ہے ۔ ہر طبیب یہی کہے گا کہ شاہ ہرقل کی جو ذلت و خواری ہوئی ہے اور ہو رہی ہے اس کا اثر اس کی صحت پر بہت برا پڑا ہے۔
اٹھو!،،،،، زیادہ وقت نہ لگے مرتینا نے کہا۔۔۔ وہ یہ نہ کہہ بیٹھے کے طبیب اتنی دیر سے کیوں پہنچا ہے۔
یہ طبیب ادھیڑ عمر آدمی تھا چہرے مہرے ڈیل ڈول اور انداز سے دانشمند طبیب لگتا تھا۔ مرتینا اس سے تین چار سال ہی بڑی ہو گی لیکن وہ طبیب سے چھوٹی لگتی تھی، طبیب اٹھا اور مرتینا کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا۔ مرتینا نے ذرا سی بھی مزاحمت نہ کی بلکہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا اور اتنا کہا کہ پہلے اپنا کام کر لو۔
پہلے مرتینا ہرقل کے کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے پیچھے طبیب اندر گیا رک کر پہلے جھکا سیدھا ہوا اور دایاں بازو آگے کرکے رومی انداز سے ہرقل کو سلام کیا پھر تیزی سے آگے بڑھا اور ہرقل کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا ۔نبض چھوڑ کر اس کے پپوٹے دونوں انگوٹھوں سے اوپر کیے اور اس کی آنکھوں میں جھانکا اس طرح ہرقل کا معائنہ کرکے اس کے قریب ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔
قیصر روم !،،،،،،،طبیب نے کہا ۔۔۔سلطنت روم آپ کے دم سے قائم ہے فتح و شکست انسان کے ساتھ ساتھ لگی آرہی ہے، آپ مجھ سے زیادہ عقل اور دانش رکھتے ہیں، اگر آپ نے اس طرح ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے تو شکست آپ کے مقدر میں لکھ دی جائے گی، حوصلہ کریں اس تخت پر بیٹھے بیٹھے ہی آپ اس عارضی شکست کو فتح میں بدل سکتے ہیں، میں قیافہ شناس بھی ہوں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جو علاقے سلطنت روم سے نکل گئے ہیں ان سے کچھ زیادہ ہی علاقے واپس سلطنت روم میں آئیں گے۔ ملکہ معظمہ آپ کو دیکھ دیکھ کر اکیلی بیٹھی روتی رہتی ہیں میں انھیں بھی یہ یقین دلاتا ہوں کہ سلطنت روم مزید سکڑے گی نہیں بلکہ اب اس کی وسعت شروع ہوجائے گی۔
باتیں کم کرو۔۔۔۔۔ مرتینا نے ذرا غصے سے طبیب کو کہا ۔۔۔۔اگر تم ان کا علاج نہیں کرسکتے تو صاف بتا دو ہم تمہیں اس کی سزا نہیں دیں گے، دیکھو ان کی حالت کیا ہو گئی ہے ،یہ نہ رہے تو میں بھی نہیں رہوں گی۔
آج میں تم سے صاف جواب چاہتی ہوں۔
میں غم کھانے والا آدمی نہیں تھا۔۔۔ ہرقل نے کہا ۔۔۔میں اتنی کمزور فطرت کا آدمی ہوتا تو روم کے بادشاہ کا تختہ الٹ کر سلطنت روم کو اتنی وسعت نہ دے سکتا، اب ایک دکھ میرے دل پر اثر کیا ہے۔ دکھ یہ ہے کہ رومیوں میں بھی غدار موجود ہیں، پھر بھی تم اور اچھی طرح دیکھو، کوئی اور ہی روگ لگ گیا ہے ۔
میں دیکھ چکا ہوں قیصر روم !،،،،،طبیب نے کہا ۔۔۔میں آج دوائیاں بدل رہا ہوں ۔
میں تمہیں پورا موقع دے رہا ہوں۔۔۔ ہرقل نے کہا ۔۔۔جاؤ اور فوراً دوائیاں بھیجو۔
طبیب فوراً اٹھا اور رومی طریقہ ادب سے ہرقل کو سلام کرکے الٹے قدم دروازے تک گیا اور پھر باہر نکل گیا۔ مرتینا ہرقل کو یہ کہہ کر کمرے سے نکلی کے وہ طبیب کے ساتھ ایک آدمی کو بھیجے گی جو فوراً دوائیاں لے آئے گا ۔
مرتینا ایک بار پھر طبیب کو اپنے کمرے میں لے گئی اور پوچھا کہ اب اس کا کیا خیال ہے۔ کام جلدی ہوجائے گا ۔۔۔طبیب نے کہا ۔۔۔۔میرا اندازہ ہے کہ ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو مہینے اور لگیں گے پھر اس تخت پر آپ کا بیٹا ہرقلیوناس بیٹھا ہوگا۔
میں اُس وقت تمہیں وہ انعام دونگی کہ تمہاری نسلیں بھی مجھے یاد کیا کریں گی ۔۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔۔۔ میں تمہیں زیادہ دیر روکوں گی نہیں۔ دوائیاں جلدی بھیجو اور بتاؤ کیا چاہیے۔
آپ کا کام ہو رہا ہے۔۔۔۔ طبیب نے کہا۔۔۔ مجھ سے نہ پوچھا کریں کہ مجھے کیا چاہیے، اس کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ مرتینا دوسرے کمرے میں چلی گئی واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا جسے سونے کی اینٹ کہا جاتا ہے ۔
آج کے حساب کے مطابق اس ٹکڑے کا وزن کم و بیش تیس تولے تھا۔
یہ پہلا ہی انعام نہیں تھا مرتینا اسے ایسے ہی انعامات سے نوازتی رہتی تھی ،طبیب جانے کے بجائے رکا رہا اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاکر ملکہ کو ایسی نگاہوں سے دیکھنے لگا جن نگاہوں کو مرتینا سمجھتی تھی، منہ سے بولو کیا چاہیے مرتینا نے پوچھا۔ آج کی رات کو ذرا رنگین بنانے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔طبیب نے کہا ۔۔۔۔کوئی ادھ کھلی شام کے بعد بھیج دو تو تمہیں دعائیں دوں گا۔
آجائے گی۔۔۔۔ مرتینا نے کہا۔۔۔ اس کلی کو دیکھ کر کہو گے کہ یہ تو ہمیشہ تمہارے پاس ہی رہے لیکن صبح کا اجالا نکلنے سے پہلے اسے بھیج دینا۔
مرتینا نے ایک آدمی کو بلایا اور اسے کہا کہ وہ طبیب کے ساتھ جائے اور دوائیاں لے آئے۔
ہسپانوی مؤرخ فرڈنینڈ نے لکھا ہے کہ یہ ایسا راز تھا جو ملکہ مرتینا اور طبیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں تھا، کسی کو شک نہ ہوا کہ ہرقل کو دوائیوں میں کوئی ایسی زہریلی دوائی دی جارہی ہے جو اسے اندر ہی اندر کھا رہی ہے، وہ بڑی ہی تیزی سے مرجھاتا اور معذور ہوتا چلا جا رہا تھا۔
مرتینا ہرقل کو مارنے کا فیصلہ کچھ عرصہ پہلے کیا تھا جب اسے یقین ہو گیا تھا کہ ہرقل اپنے دوسرے بیٹے قسطنطین کو ہی اپنا جانشین بنائے گا ۔
مرتینا کے بیٹے ہرقلیوناس کے ساتھ تو ہرقل نے کبھی بات بھی نہیں کی تھی۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
اسی رات طبیب کے اس خاص کمرے میں ایک نوخیز لڑکی داخل ہوئی جس کمرے میں طبیب کے گھر کا کوئی اپنا فرد بھی نہیں جاسکتا تھا، کوئی چلا بھی جاتا طبیب کو کسی غیر عورت کے ساتھ شراب پیتے یا رنگ رلیاں مناتے دیکھ بھی لیتا تو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، یہ عیش و عشرت اور یہ رنگین بدکاریاں رومی معاشرے کا ایک لازمی حصہ تھیں۔ اس طبیب کو تو اس کے گھر کا کوئی فرد اس لیے بھی روک ٹوک نہیں کر سکتا تھا کہ وہ ملکہ مرتینا کا منظور نظر تھا ،اور اس سے بیش قیمت انعامات لا کر گھر والوں کو دیتا تھا ۔
یہ لڑکی بھی انعام کے طور پر طبیب کے پاس آئی تھی اور یہ طبیب کا ذاتی انعام تھا۔
مرتینا نے طبیب کو ایسے ہی حسین اور دلکش انعام پہلے بھی بھیجے تھے، لیکن اس روز اس نے مرتینا سے کہا تھا کہ آج رات کوئی ادھ کھلی کلی بھیجے، طبیب نے جب اس لڑکی کو دیکھا تو کچھ دیر دیکھتا ہی رہا ، وہ صحیح معنوں میں ادھ کھلی کلی تھی، وہ حرم کی لڑکی تھی ایسی لڑکیاں عموماً ساقی کے طور پر کام کرتی تھیں، شاہی محفلوں میں یہ لڑکیاں نیم برہنہ لباس میں شراب پیش کیا کرتی تھیں اور انہیں خصوصی ٹریننگ دی ہوئی تھی ، اُس رات مرتینا نے طبیب کو خوش کرنے کے لیے ایسی ہی ایک لڑکی بھیج دی، حالانکہ ان لڑکیوں کو اس طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔
مرتینا طبیب سے یہ بات سن کر بہت خوش ہوئی تھی کہ ڈیڑھ دو مہینے بعد اس کا بیٹا ہرقلیوناس ہرقل کے تخت پر بیٹھا ہوگا ، بات بڑی صاف تھی ہرقل کی زندگی ہی ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو مہینے رہ گئی تھی، ملکہ مرتینا بڑی ہی خوبصورت ڈائن تھی۔
تمہارا نام؟،،، طبیب نے پوچھا۔
میریاقس !،،،،لڑکی نے جواب دیا ۔۔۔مجھے میری بھی کہتے ہیں، اور میریا بھی۔
شاہی حرم میں بڑی ہی خوبصورت اور نوخیز لڑکیاں موجود تھیں اور ان میں سے دو چار طبیب کے پاس آئی بھی تھیں، لیکن اس لڑکی سے زیادہ حسین لڑکی اس نے نہیں دیکھی تھی ، طبیب پر تو نشے کی سی کیفیت طاری ہونے لگی، اس کی تو جیسے عقل ہی مغلوب ہو گئی ہو، اس نے مخمور سی آواز میں کہا۔۔۔ تمہارا سراپا ہی اتنا نشہ آور ہے کہ اس کی موجودگی میں روم کی بہترین شراب بھی بیکار لگتی ہے۔
شراب تو میں آپ کو اپنے ہاتھوں پلاؤں گی۔۔۔ میریا نے جذباتی لہجے میں کہا ۔۔۔میرے ہاتھ سے جو پیتا ہے وہ بادلوں کے سفید سفید ٹکڑوں پر اڑنے لگتا ہے۔
ملکہ مرتینا نے اس لڑکی کو اپنے کمرے میں بلا کر خاص طور پر کہا تھا کہ وہ اسے نہیں بھیجنا چاہتی تھی، لیکن طبیب کو خوش کرنا بہت ضروری ہے، اس لئے وہ جائے اور طبیب کو اپنے ہاتھ میں لے لے ،مرتینا نے وجہ یہ بتائی تھی کہ قیصر روم ہرقل بیمار ہیں اور یہ طبیب ان کا علاج کر رہا ہے، لڑکی سمجھ گئی تھی کہ اس طبیب کو آسمان تک پہنچانا ہے۔
طبیب کے ہاں جا کر میریا نے فوراً بھانپ لیا کہ یہ طبیب ذہنی طور پر کمزور اور ڈھیلا آدمی ہے ۔
میریا نے اپنی تربیت کے مطابق طبیب کے ساتھ ایسی حرکتیں اور باتیں شروع کردیں کہ طبیب احمقوں جیسی حرکتیں کرنے لگا ۔
میریا نے اسے شراب پلانی شروع کی اور پلاتی ہی چلی گئی پھر یوں لگتا تھا جیسے طبیب نہیں بلکہ میریا اس ادھیڑ عمر کے ساتھ کھیل رہی ہو۔
طبیب نے بہکی بہکی باتیں شروع کردی اس نے ملکہ مرتینا کی بات چھیڑ دی اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ چاہے تو ملکہ کو یہاں بلا کر پوری رات اپنے کمرے میں رکھ سکتا ہے۔
ملکہ مرتینا جب میرے پاس ہوتی ہے تو وہ ملکہ نہیں بلکہ صرف مرتینا ہوتی ہے ۔۔۔طبیب نے میریا پر اپنا رعب گانٹھنے کے لئے اور شراب کے زیراثر کہا ۔۔۔آج اس نے تمھیں میرے پاس بھیجا ہے یہ حرم ہے تو شاہ ہرقل کا لیکن اصل میں یہ میرا حرم ہے۔
میریا پر طبیب کا رعب بیٹھا تھا یا نہیں یہ الگ بات ہے، لیکن میریا کے لیے یہ بات عجیب تھی کہ ملکہ مرتینا طبیب کے پاس آتی ہے ، میریا کو یہ شک بھی ہوا کہ طبیب اپنا رعب جمانے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔ میریا میں تجسس بیدار ہو گیا اور وہ اصلیت معلوم کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگی۔
اب میریا کا رویہ ایسا جذباتی اور اشتعال انگیز ہوگیا کہ طبیب کی اگر کچھ عقل صحیح رہ گئی تھی وہ بھی میریا کے قبضے میں آ گئی۔
تخت کے جانشین کے سلسلے میں شاہی محل میں جو کشمکش چل رہی تھی باہر کے کچھ لوگ اس سے واقف ہوگئے تھے اور شاہی محل کے اندر تو ادنیٰ درجے کے ملازموں کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ ملکہ مرتینا اپنے بیٹے ہرقلیوناس کو ہرقل کا جانشین بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اور ہرقل اس لڑکے کو قبول نہیں کر رہا ،اور اس کی جگہ بڑے بیٹے قسطنطین کو تخت پر بٹھانا چاہتا ہے،،،،،،، میریا کو تو یہ سب چکر پوری طرح معلوم تھا اس نے دیکھا کہ طبیب مرتینا کے ساتھ دوستانہ بے تکلفی کی باتیں کر رہا ہے تو میریا نے سوچا کہ اس سے معلوم کیا جائے کہ ہرقلیوناس جانشین ہو گا؟،،،، یا قسطنطین، میریا نے یہ بات چھیڑ دی۔
آپ کو تو بالکل صحیح معلوم ہوگا۔۔۔ میریا نے کہا ۔۔۔آپ کی عظمت کا اندازہ تو اس سے ہی ہوجاتا ہے کہ ملکہ مرتینا کے ساتھ آپ کی اتنی گہری دوستی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے شاہ ہرقل کا جانشین کون ہوگا؟
جسے میں چاہوں گا۔۔۔ طبیب نے لڑکھڑاتی زبان سے کہا۔۔۔ مرتینا کے بیٹے کے سوا اس تخت پر اور کوئی نہیں بیٹھ سکتا۔
اگر شاہ ہرقل کا حکم کچھ اور ہوا تو؟
شاہ ہرقل!،،،، طبیب نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔ اس شہنشاہ کی جان میری مٹھی میں ہے، چاہو تو کل اس کے جسم سے نکال لوں لیکن جو کام آہستہ آہستہ ہو جائے وہ زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
میریا نے اپنی تربیت اور پھر اپنے تجسس کی تسکین کے مطابق طبیب پر اپنے حسن اور اپنے ریشم جیسے ملائم بالوں اور گالوں کا سحر طاری کر دیا، اس کے ساتھ ہی شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا دیا ،پھر جانشین کا مسئلہ چھیڑ دیا۔
طبیب نے بات صاف تو نہ کی لیکن میریا کو شک ہو گیا کہ شاہ ہرقل کو جو روگ کھا رہا ہے اس میں ملکہ مرتینا اور اس طبیب کا بھی ہاتھ ہے۔ طبیب پر ایک تو شراب کا اور پھر اس نوخیز لڑکی کے حسن کا خمار طاری تھا ۔اس لئے وہ غیر محتاط ہو کر اتنی نازک بات کر رہا تھا لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ حرم کی ایک لڑکی میں اتنی جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ بات کسی اور کے کانوں میں ڈال دے۔ بہرحال یہ حقیقت اپنی جگہ موجود تھی کہ میریا اس طبیب کے ذہن اور اعصاب پر ایک بڑا ھی حسین آسیب بن کر طاری ہو گئی تھی۔
رات گزر گئی میریا کی آنکھ اس وقت کھلی جب صبح ابھی تاریک تھی۔
طبیب سانس لیتی ہوئی لاش کی طرح بے سود پڑا خراٹے لے رہا تھا ،میریا آہستہ آہستہ اٹھی اور باہر نکل گئی اس کی ڈیوٹی پوری ہو چکی تھی ،وہاں سے وہ اپنے حرم میں جا پہنچی۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
اگلی رات میریا حرم سے پھر غیر حاضر تھی، گزشتہ رات تو ملکہ مرتینا کے حکم سے غیر حاضر ہوئی اور طبیب کے پاس گئی تھی، لیکن اگلی رات وہ چوری چھپے غیر حاضر ہوئی تھی وہ شاہی محل کے ساتھ ہی ایک بڑے ہی خوشنما اور روح افزا باغ میں ایسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی جہاں اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک شہزادہ بیٹھا تھا جس کا نام کونستانس تھا۔
کونستانس ہرقل کے بیٹے قسطنطین کا بیٹا تھا یعنی ہرقل کا پوتا چونکہ ہرقل قسطنطین کو زیادہ عزیز رکھتا تھا اس لئے کونستانس سے بھی ہرقل بہت پیار کرتا تھا۔
قسطنطین ادھیڑ عمری میں پہنچ گیا تھا اور کوننستانس کی عمر تیئس چوبیس سال تھی۔
یہ نوجوان انہیں شہزادوں میں سے تھا جو اپنے آپ کو شرم حجاب اور اخلاقیات کی پابندیوں سے آزاد سمجھا کرتے تھے، اپنے باپ کی حرم کو وہ اپنے اوپر حلال سمجھتے تھے، اورباپ کی پسند کی لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے تھے۔
کونستانس بھی کچھ اسی قماش کا شہزادہ تھا عیش و عشرت کے دوران اس کی نظر میریا پر پڑی تو اس کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔
محمد يحيٰ سندھو
بادشاہ کے حرم میں اسکے بیٹوں بھتیجوں وغیرہ کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، لیکن شہزادے حرم کی نوکرانیوں اور ہیجڑوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے انہیں چوری چھپے اس خدمت کا بڑا اچھا معاوضہ مل جاتا تھا، کوئی شہزادہ کسی نوکرانی کو انعام و اکرام دے کر کہتا کہ رات فلاں لڑکی کو باہر لے آنا تو نوکرانی خطرہ مول لے کر اس لڑکی کو لے آتی تھی ۔
کونستانس بھی ایسی ایک دو عورتوں کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا تھا اور وہ اس کی فرمائش پوری کرتی رہتی تھیں۔
اب کونستانس نے میریا کو ایک محفل میں دیکھا تو ایک عورت سے کہا کہ اس لڑکی کو کسی طرح مجھ سے ملواؤں اس نے اس عورت کو اچھا خاصہ انعام دیا اور عورت نے ایک رات میریا کو باہر نکال کر اس کے حوالے کر دیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ میریا اس طرح کسی شہزادے کی فرمائش پر چوری چھپے نکلی تھی۔ وہ بڑی قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی اس لیے کوئی ملازمہ اسے باہر لانے کی جرات نہیں کر تی تھی، میریا کو معلوم تھا کہ وہاں درپردہ یہ کاروبار بھی چلتا ہے لیکن اس نے کبھی ایسی خواہش کی ہی نہیں تھی۔
اب ایک پرانی اور بہت ہی چالاک ملازمہ نے اسے کہا کہ قسطنطین کا بیٹا کونستانس اس کی ملاقات کا خواہشمند ہے تو اس نے کچھ پس و پیش کی۔
ملازمہ نے اسے بتایا کہ وہ انکار کا خطرہ مول نہ لے کیونکہ یہ شہزادے کسی بھی طرح انتہائی ذلیل انتقام لے سکتے ہیں ، اور اگر وہ چلی جائے گی تو اس شہزادے سے منہ مانگا انعام لے سکتی ہے۔
وہ رضا مند ہوگئی اور رات ملازمہ اسے کسی طرف سے باہر لے گئی اور کونستانس کے حوالے کردیا۔
یہ کوئی چھ سات مہینے پہلے کا واقعہ ہے کہ ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی میریا نے کونستانس کو بتایا کہ وہ باہر آنے سے ڈرتی تھی اور وہ اس زمین دوز کاروبار کو اچھا نہیں سمجھتی اس نے یہ بھی بتایا کہ شہنشاہ ہرقل نے صرف دو راتیں اسے اپنے پاس رکھا تھا اور پھر اسے شاہی محفلوں میں مہمانوں کو شراب پیش کرنے کا کام سونپ دیا اور اس کی تربیت بھی کی مختصر یہ کہ وہ اپنے آپ کو مردوں سے بچا کر رکھنا چاہتی تھی۔
تمہاری یہ بات سن کر مجھے خوشی ہوئی ہے میریا!،،،،، کونستانس نے کہا۔۔۔ میں نے تمہیں اس مقصد کے لئے نہیں بلایا جو تم سمجھ رہی ہوں میرے دل میں تمہاری محبت پیدا ہوگئی ہے میں تمہیں مجبور نہیں کرسکتا کہ تم اپنے دل میں میری محبت پیدا کرو محبت جبر سے پیدا نہیں ہوا کرتی نہ ہی محبت کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔
میں نے اپنے دل کی بات کہہ دی ہے ۔۔۔میریا نے کہا ۔۔۔اور یہ صرف اس لئے کہی ہے کہ میں تمہیں ان شہزادوں جیسا شہزادہ سمجھتی ہوں جو حرم میں اسی طرح کی ڈاکہ زنی کرتے رہتے ہیں تم محبت کی بات کرتے ہو محبت کسے عزیز نہیں مجھے میرے ماں باپ سے نوچ کر یا جبراً خرید کر قید میں ڈالا گیا ہے، میں تو محبت اور پیار کو ترس گئی ہوں، اگر تم نے مجھے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے بلایا ہے تو میں تمہارے لئے گوشت اور ہڈیوں کا بنا ہوا ایک بت ہوں جو تمہارے سامنے موجود ہے، اور اگر بات اس محبت کی کرتے ہو جس کا تعلق جسمانی ہوس کے ساتھ ہوتا ہی نہیں تو مجھے آزماء کر دیکھ لو تمہاری محبت پر جان بھی قربان کر دوں گی۔
یہاں سے ان کی محبت کا آغاز ہوا دونوں بہت دیر شاہی باغ کے ایک کونے میں بیٹھے رہے تھے، جب میریا جانے لگی تو کونستانس نے اسے کچھ نقد معاوضہ پیش کیا۔
میریا نے یہ نقدی دیکھی پھر کونستانس کے چہرے پر نظریں جماۓ اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
کونستانس نے اسے بازوؤں میں لے کر ساتھ لگا لیا۔
اس محبت کو یوں توہین نہ کرو۔۔۔ میریا نے کہا۔۔۔ جب تمہارا اشارہ ملے گا میں آجایا کرو گی۔
اور میں ایک خاص انتظام کر دوں گا ۔۔۔۔۔کونستانس نے کہا ۔۔۔۔میں حرم کی تمام عورتوں اور ہیجڑوں کو کہہ دوں گا کہ کوئی شہزادہ تمھاری فرمائش کرے تو صاف انکار کر دینا، البتہ تمھیں شاہ ہرقل اور ملکہ مرتینا کے حکم سے کسی کے حوالے کیا گیا تو یہ میرے بس سے باہر ہوگا۔
اگلے ہی روز کونستانس نے یہ انتظام کردیا حرم کی تمام عورتوں اور ہجڑوں کو شدید نتائج کی دھمکی دے کر کہا کہ میریا کو اس درپردہ کاروبار میں استعمال کیا گیا تو اسے باہر لے جانے والی کو زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا۔
اس کے اس حکم پر عمل ہوتا رہا میریا اور کونستانس اسی باغ میں ملتے رہے، اور وہ ایک دوسرے میں اتنے جذب اور تحلیل ہو گئے تھے کہ انہیں بعض ملاقاتوں میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ رات گزر گئی ہے ،اور پرندوں کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں ،اس محبت کا ایک اثر تو یہ دیکھا کہ میریا کو کوئی اور اپنی فرمائش پر نہیں بلاتا تھا ،اور دوسرا اثر یہ کہ کونستانس کا دھیان کبھی کسی اور لڑکی کی طرف نہ گیا۔
کونستانس قسطنطین کا بیٹا تھا اور قسطنطین کو ہرقل نے تجربہ کار جرنیل بنا دیا تھا اس نے لڑائیاں لڑی تھی اور میدان جنگ میں قیادت میں مہارت حاصل کر لی تھی اس نے ایسی ہی تربیت بیٹے کونتانس کی بھی کی ۔ یہ نوجوان فن حرب و ضرب میں بھی طاق ہو گیا تھا اور شاہی معملات و امور کو بھی بڑی اچھی طرح سمجھتا تھا اور انتظامی امور میں تو اچھی خاصی سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔
اس تعلیم و تربیت کا یہ اثر تھا کہ کونتانس کا شمار آوارہ شہزادوں میں نہیں ہوتا تھا۔
پہلی ملاقات کے چھ سات مہینے بعد کونتانس اور میریا ایک بار پھر باغ کے اسی ڈھکے چھپے کونے میں بیٹھے ایک دوسرے میں گم تھے۔
آج تمہیں ایک بات بتاتی ہوں میریا نے کہا ۔۔۔۔لیکن ابھی یہ دل میں ہی رکھنا میری گزشتہ رات اس طبیب کے ہاں گزری ہے جو شہنشاہ ہرقل کا علاج کر رہا ہے ،وہ ہے تو طبیب لیکن اس سے زیادہ احمق آدمی اور شاید کوئی نہ ہو مجھے ملکہ مرتینا نے اس کے یہاں جانے کا حکم دیا تھا ،طبیب تو مجھے دیکھ کر آپے سے باہر ہوگیا میں نے اسے شراب پلائی اور وہ پیتا ہی گیا ،اور جو اس نے باتیں کیں اس سے پتہ چلا کہ اس شخص کے اندر سے میں کوئی بھی راز نکال سکتی ہوں، اور اس کے ہوس پوری کئے بغیر رات بھی گزار سکتی ہوں،،،،،،،،،،، یہ سن کر تم کیا کرو گے کہ میری یہ رات کس طرح گزری یہ سن لو کہ وہ مجھ سے اتنا مرعوب اور مغلوب ھوا کہ اس کے دل میں سے ایک دو ایسی باتیں نکل گئیں جن سے میں ایک شک میں مبتلا ہو گئی ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ وہ اس کوشش میں ہے کہ ہرقلیوناس ہرقل کا جانشین بنے، ملکہ کے متعلق اس نے ایسی باتیں کیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ملکہ کے ساتھ اس کی کوئی اور ہی بے تکلفی ہے۔
اسمیں کوئی شک والی بات نہیں ۔۔۔۔۔کونتانس نے کہا۔۔۔۔ملکہ چاہتی ہے کہ شاہ ہرقل صحت یاب ہوجائیں، اسی لئے اسے خوش کررہی ہے ۔وہ دراصل شاہ ہرقل کو خوش رکھنے کی کوشش میں ہے کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو انکا جانشین بنانا چاہتی ہے ۔
میرا شک پھر بھی وہیں قائم ہے ۔۔۔۔میریا نے کہا۔۔۔۔شک یہ ھیکہ ملکہ کی رضامندی سے طبیب شاہ ہرقل کو غلط یا زہریلی دوائیاں دے رہا ہے جن سے انکی صحت بڑی تیزی سے گرتی چلی جارہی ہے ۔
میرا خیال ہے طبیب ایسی جرات نہیں کر سکتا ۔۔۔کونتانس نے کہا۔۔۔۔ہمیں یہ بات ابھی کسی سے کرنی نہیں چاہئے ۔اگر کی تو بتانا پڑے گا یہ بات تمہاری زبان سے نکلی ہے ۔میں جانتا ہوں اسوقت سلطنت روم پر حکومت ملکہ مرتینا کی ہے اس تک تمہارا نام پہونچا تو تمہیں قتل کروا دے گی ۔اگر ملکہ پھر کبھی تمہیں طبیب کے ہاں بھیجے تو پھر یہ راز نکلوانے کی کوشش کرنا ۔وہ اگر تمہارے حسن اور تمہاری نوجوانی سے مرعوب ہے تو وہ راز اگل دے گا ۔
میں راز اگلوانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔میریا نے کہا۔
دونوں نوجوان تھے ان پر رومانی جزبات کا غلبہ تھا اور ایسی کیفیت طاری تھی کہ میریا کی بتائی ہوئی بات جیسے اوپر سے گزر گئی ہو لیکن اتنا ضرور ہوا کہ ملکہ مرتینا اور طبیب کے درمیان جو راز تھا، اس سے پردہ اٹھ گیا تھا
ہرقل کی صحت پہلے ہی گر گئی تھی اب اسے احساس ہوا کہ مقوقس غداری کر گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا اور گرتی ہوئی صحت پر اس کا اثر بہت برا پڑا ،اس نے اس مسئلے پر غور کیا ہی نہیں کہ مقوقس نے غداری کی تھی یا دانشمندی کا ثبوت دیا تھا، مقوقس کا موقف یہ تھا کہ اب رومی فوج اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی اس نے سوچا تھا کہ بجائے اس کے کہ مسلمان پورے کا پورا مصر لے لیں ان کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں وہیں تک رکھا جائے جہاں تک وہ آ گئے تھے ،وہ قلعی بابلیون کو مسلمانوں سے بچانے کی فکر میں تھا، بابلیون اور قلعہ روضہ جو نیل کے وسط میں ایک جزیرے میں تھا بہت ہی اہم اور مستحکم مقام تھا۔ مقوقس یہ دونوں قلعے اور گردونواح کا علاقہ مسلمانوں سے بچا کر رکھنا چاہتا تھا اور اسی کے پیش نظر اس نے عمرو بن عاص کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا ۔
لیکن ہرقل نے اس کا یہ استدلال سنا ہی نہیں یا مانا ہی نہیں، وہ تو مقوقس سے اس سازش کا انتقام لے رہا تھا جس کے تحت مقوقس نے ہرقل کو قتل کروانے کی کوشش کی تھی۔
مقوقس کی قسمت کا فیصلہ کرکے ہرقل کی جسمانی اور ذہنی حالت بہت ہی بگڑ گئی یہ اس کا ذہنی ردعمل تھا ،طبیب اسے دیکھ لیا اور پھر طبیب کی بھیجی ہوئی دوائی کھا لیں تو اس نے پیغام لکھنے والے آدمی کو بلوایا اور سپہ سالار عمرو بن عاص کے نام پیغام لکھوایا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اس نے مقوقس کا کیا ہوا معاہدہ منسوخ کردیا اور مسلمانوں کو بڑے ہی برے نتائج کی دھمکیاں لکھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان کسی معاہدے کے بغیر مصر سے نکل جائیں ۔
پیغام لکھا جا چکا تو ھرقل نے قاصد کے بجائے ایک ایلچی کو بلوایا اور پیغام اسے دے کر کہا کہ بہت تیزی سے بابلیون پہنچے اور یہ پیغام مسلمانوں کے سپہ سالار تک پہنچائے۔
کاتب جب پیغام لکھ کر ہرقل کے حکم سے باہر نکلا تو ایک ملازمہ نے اس کے کان میں کہا کہ اسے ملکہ مرتینا بلا رہی ہے، کاتب اس کمرے میں چلا گیا جہاں ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ ملکہ اندر بیٹھی انتظار کر رہی ہے۔
بیٹھو اور ایک پیغام اور لکھو۔۔۔ مرتینا نے کاتب سے کہا۔۔۔ اس پیغام کا ذکر کسی کے ساتھ نہ ہو ، ذرا سا بھی شک ہوا کہ تم نے کسی کو بتایا ہے تو اس کے فورا بعد تم اس دنیا میں نہیں ہوں گے، میں تمہیں اس راز داری کا انعام دوں گی ،،،،،،،،لکھو!،،
وہ آدمی بیٹھ گیا اور مرتینا جنرل تھیوڈور کے نام پیغام لکھوانے لگی اس وقت تھیوڈور مصر کے قلعہ بند شہر بابلیون میں تھا۔
کاتب پیغام لکھ چکا تو طبیب کی طرح اس کاتب کو بھی ملکہ مرتینا نے سونے کا ایک ٹکڑا دیا کاتب نے سونے کا ٹکڑا ہاتھ میں لیا تو اس کے چہرے پر حیرت زدگی کا تاثر آ گیا اسے اتنے زیادہ معاوضے کی توقع نہیں تھی۔
مرتینا نے دیکھا کہ یہ شخص سونے کے ٹکڑے کو دیکھے ہی جا رہا ہے تو اس نے اسے کچھ خوشگوار سے لہجے میں ڈانٹ کر کہا کہ اسے جیب میں ڈال دو اور کسی کو یہ نہ بتانا کہ یہ میں نے تمہیں دیا ہے،،،،، یہ سن کر کاتب نے بڑی تیزی سے ٹکڑا جیب میں ڈال لیا۔
روم کے اس شاہی خاندان کے پاس اس قدر کثیر خزانہ تھا جس کا حساب کتاب ان کے پاس بھی نہیں تھا ،ایک کاتب کے لیے صرف ایک ٹکڑا ایک خزانہ تھا لیکن ملکہ مرتینا کے لئے اتنا سونا ایسے ہی تھا جیسے ایک تنکا اٹھا کر باہر پھینک دیا ہو۔
کاتب باہر نکلا تو ملازمہ نے اندر آکر مرتینا کو بتایا کہ ایلچی آگیا ہے، مرتینا نے ایلچی اندر بلایا۔
ایک پیغام میرا بھی لیتے جاؤ ۔۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔۔ تم جانتے ہو کہ میرے پیغام کسی اور کو نہیں دکھائے جاتے مصر پہنچو گے تو جنرل تھیوڈور کو تنہائی میں میرا یہ پیغام دینا کسی اور کو پتہ چل گیا تو تم جانتے ہو اس کی سزا کیا ہے۔
مرتینا نے ایلچی کو بھی سونے کا ایک ٹکڑا دیا جو ایلچی نے لے کر فوراً جیب میں ڈال لیا۔ اسی وقت الچی ہرقل کا الگ اور مرتینا کا الگ پیغام لے کر مصر کو روانہ ہو گیا اس کا سفر خشکی کا بھی تھا اور پھر اسے بحیرہ روم بادبانی جہاز میں پار کرنا تھا۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
سپہ سالار عمرو بن عاص کے نام ہرقل کا یہ پیغام دسمبر 640 عیسوی کے ابتدائی دنوں میں بزنطیہ سے چلا ہوگا، یہ دسمبر کے آخری ہفتے کے وسط میں منزل پر پہنچا ،مجاہدین کا لشکر بابلیون کا محاصرہ کیے ہوئے تھا اس لیے سپہ سالار عمرو بن عاص اسے باہر ملے۔ انہیں پیغام دے کر ایلچی دریا کی طرف چلا گیا اسے اس دروازے سے اندر جانا تھا جو دروازہ دریا میں کھلتا تھا۔
عمرو بن عاص نے ہرقل کا پیغام پڑھا اور اپنے سپہ سالار کو اس طرح بلایا جیسے انہیں کوئی خوشخبری ملی ہو۔
سالار دوڑے آئے ۔عمرو بن عاص نے انہیں ہرقل کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہے اور اب مسلمانوں کا مقابلہ مقوقس کی بجائے دوسرے جرنیلوں سے ہوگا ۔ ہرقل نے کچھ ایسے الفاظ بھی لکھے تھے کہ کوئی حکمران اپنی قوم کے کسی غدار کا طے کیا ہوا معاہدہ تسلیم نہیں کیا کرتا ، ہرقل نے یہ بھی لکھا تھا کہ پیشتر اس کے کہ تمہاری ہڈیاں مصری کی مٹی میں مل جائیں تو زندہ و سلامت مصر سے نکل جاؤں بابلیون کو فتح کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔
اللہ کے شیروں !،،،،،،عمرو بن عاص نے سالاروں سے کہا ۔۔۔۔ہرقل کی یہ دھمکی ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں، مقوقس نے یہی دھمکیاں دیتے دیتے معاہدے پر آمادہ ہوگیا تھا ،کیا تم سمجھتے نہیں کہ رومیوں کے پاس سوائے دھمکیوں کے اور کچھ بھی نہیں رہا ،بابلیون کا معاملہ صرف اس لئے کچھ مختلف ہے کہ یہ بہت ہی مضبوط قلعہ ہے۔ اسے ایک طرف سے نیل کا تحفظ حاصل ہے اور یہ خندق بڑا ہی کارآمد دفاعی انتظام ہے۔ ہمارے مجاہدین کو نیل بھی نہیں روک سکا اور صحرا بھی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان شاءاللہ تم بابلیون کو بھی سر کر لو گے خدا کی قسم میں ہرقل کو اس کی دھمکی کا جواب دینا چاہتا ہوں۔
سپہ سالار عمرو بن عاص نے بابلیون کو سر کرنے کا پالان سالاروں سے صلح مشورہ کرکے بنا رکھا تھا وہ منتظر تھے کہ ہرقل معاہدہ منظور کرتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ہوگیا تو سپہ سالار نے بابلیون پر حملے کا حکم دے دیا اور کہا کہ چند ثانیے وقت بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
سالار دوڑے گئے اور اپنے اپنے دستوں کو اکٹھا کر کے سپہ سالار کا حکم سنایا اور جوش بھی دلایا ہر مجاہد کے کانوں میں ہرقل کی دھمکی ڈالی گئی اور کہا گیا کہ اس دھمکی کا جواب زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر دیں گے۔
پہلے یہ گزر چکا ہے کہ مجاہدین کس طرح خندق پھاند کر قلعے کی دیواروں تک پہنچ گئے تھے، لیکن مقوقس نے صلح کا پیغام بھیج دیا اس لیے لڑائی روکنی پڑی پھر معاہدہ ہوگیا۔ سپہ سالار عمرو بن عاص نے دیکھا کہ ان کا لشکر خندق اور قلعے کے درمیان آ گیا تھا ۔قلعے اور خندق کا درمیانی فاصلہ خاصا زیادہ تھا معاہدہ تو ہو گیا تھا لیکن عمرو بن عاص دور اندیش سپہ سالار تھے ،انہوں نے پہلے ہی اپنے سالاروں سے کہہ دیا تھا کہ مقوقس نے وقت حاصل کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس معاہدے کی منظوری ھرقل سے لینا ضروری ہے دراصل مقوقس کمک کا منتظر تھا عمرو بن عاص کو خیال آیا کہ پہلے ہی وقت زیادہ گزر گیا ہے اور ابھی تک معاہدے کی منظوری نہیں آئی ہو سکتا ہے معاہدے کی منظوری کی بجائے اسکندریہ سے یا بزنطیہ سے زیادہ نفری کی کمک آجائے پھر مجاہدین کے لئے بڑی ہی مشکل پیدا ہوجائے گی۔
اس خدشے کے پیش نظر سپہ سالار نے اپنے لشکر کی پوزیشن کا جائزہ لیا ،لشکر قلعہ اور خندق کے درمیان تھا سپہ سالار عمرو بن عاص کو یہ خطرہ نظر آنے لگا کے کمک دریا کے راستے سے آئے گی اور اس طرف کے دروازے سے اندر چلی جائے گی ایسا ہوسکتا ہے کہ رومی خندق میں پانی چھوڑ دیں اور اندر سے فوج باہر نکال کر حملہ کر دیں، اس صورت میں مجاہدین کے لئے پیچھے ہٹنا خطرناک ہوجائے گا ،وہ خندق اور زیادہ نفری کی رومی فوج کے درمیان ایسی صورتحال میں پھنس جائیں گے کہ سالار کوئی چال کوئی پینترہ نہیں بدل سکیں گے۔
مجاہدین نے یہ خندق اس صورت میں پار کی تھی کہ نیل کے اتر جانے سے خندق کا پانی بھی دریا میں واپس چلا گیا تھا، سپہ سالار کو معلوم نہیں تھا کہ خندق میں پانی چھوڑنے کا کوئی اور انتظام ہے یا نہیں، خطرہ یہ نظر آ رہا تھا کہ کوئی اور انتظام ضرور ہوگا ان خطروں اور خدشے کے پیش نظر سپہ سالار نے یہ احتیاطی تدبیر اختیار کی کہ معاہدے کی منظوری یا نامنظوری آنے سے پہلے ہی تمام لشکر کو حصار خندق سے باہر لائے۔ محاصرہ برقرار رکھا گیا سپہ سالار نے سالاروں سے کہہ دیا تھا کہ ضندق کسی اور طریقے سے عبور کر لیں گے۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
قلعہ بند رومیوں نے جب دیکھا کہ مسلمان پھر خندق میں سے گزر کر پیچھے چلے گئے ہیں تو ان کے جرنیلوں نے ایک اور چال چلی وہ فوج کو تو باہر نہ لائے یوں کیا کہ منجیقیں باہر لے آئے اور شہر کے چاروں طرف نصب کرلیں ،ان کے ساتھ تیر اندازوں کی ایک فوج باہر آگئی جسے آگے بڑھ کر حملہ نہیں کرنا تھا بلکہ ایک مقام پر رک کر مجاہدین کے لشکر پر تیر پھینکنے تھے۔
رومیوں کو ایک سہولت یہ حاصل تھی کہ خندق اور قلعے کے درمیان پھلوں کے باغات تھے اور پھلوں کے درخت گھنے جھنڈ چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے یہ درخت خاص گھنے تھے، رومی تیرانداز ان درختوں پر چڑھ گئے اور مجاہدین کے لشکر پر تیر پھینکنے لگے ساتھ ہی منجیقوں سے پتھر آنے لگے۔
مسلمانوں کے پاس بھی منجیقیں تھیں اور تیر دور پھینکن والی کمانیں بھی۔
تیروں کے جواب میں بے تحاشا تیراندازی کی لیکن رومی تیرانداز جو کے درختوں پر چڑھ گئے تھے اس لئے نظر نہیں آتے تھے، درختوں کی آڑ اور سہولت ملنے کی وجہ سے رومی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے تھے، سپہ سالار نے اپنے لشکر کو تیروں سے بچانے کے لئے اور پیچھے ہٹا لیا۔
شام کے بعد جب رات تاریک ہو جاتی تھی تو صاف پتہ چلتا تھا کہ رومی خندق میں کچھ کر رہے ہیں ،رات کو تیراندازی رک جاتی تھی پھر بھی کوئی مجاہد آگے نہیں جاتا تھا کہ ذرا سے شک پر رومی تیروں کی بوچھاڑ پھینکنے لگے گے ، رومی اپنے آپ کو اس قدر آزاد اور محفوظ سمجھنے لگے تھے کہ انہوں نے دروازے کھلے رکھے تھے ،تیرانداز آزادی سے اندر باہر آتے جاتے تھے ایک تیرا انداز دستہ دن بھر تیر اندازی کرتا اور شام کو اندر چلا جاتا اور اس کی جگہ تازہ دم دستہ آجاتا تھا۔
سپہ سالار عمرو بن عاص ہر طرف گھوڑا دوڑاتے پھرتے اور لڑائی کی صورت حال دیکھ کر ہدایات جاری کرتے تھے۔
سنگ باری اور تیر اندازی کے جواب میں سنگباری اور تیر اندازی میں ہی جنوری 641 عیسوی کا مہینہ گزر گیا اور ماہ فروری کا آغاز ہوا، مجاہدین کا لشکر ابھی تک خندق سے باہر کچھ دور تھا اور رومی خندق اور قلعے کے مستحکم دفاعی انتظام میں بالکل محفوظ اور خوش و خرم تھے۔ عمرو بن عاص نے لڑائی جاری رکھی ان کی مجبوری یہ تھی کہ مجاہدین کی نفری رومیوں کے مقابلے میں اور بابلیون کے دفاعی انتظامات کو توڑنے کے لئے بہت ہی تھوڑی تھی، سپہ سالار کا دماغ بڑی تیزی سے کام کر رہا تھا لیکن انھیں کوئی راستہ یلغار کے لئے نظر نہیں آرہا تھا۔
سپہ سالار نے ایک انتظام یہ بھی کر رکھا تھا کہ کئی ایک مجاہدین کو نیل کے کنارے اسکندریہ کی طرف خاصی دور تک بھیج دیا تھا ان کے ذمہ کام یہ تھا کہ ادھر سے کمک آئے تو فورا اطلاع دیں ۔ان مجاہدین میں تیر انداز زیادہ تھے ان کے لئے حکم یہ تھا کہ وہ بحری جہازوں اور کشتیوں پر جن میں کمک آرہی ہوگی، تیر پھینکیں اور انکی رفتار سست کریں ۔سپہ سالار کا ایک حکم یہ بھی تھا کہ کمک سے لدی کشتیاں ندی کے کنارے کنارے آ رہی ہو تو مشعلیں جلا کر انکے بادبانوں پر پھینکیں۔ تاکہ بادبان جل اٹھے لیکن کمک کے آنے کی اطلاع سپہ سالار تک فوراً پہنچائیں۔
قرآن میں اللہ تعالی نے جہاد کو افضل ترین قرار فرمایا اور اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کے ساتھ کچھ وعدے کیے ہیں، مثلا سورہ العنکبوت میں اللہ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے جہاد کرتے ہیں انہیں اللہ ضرور اپنے راستے (فتح کے) دیکھا دیتا ہے اور اللہ نیکوکار لوگوں کے ساتھ ہے۔
اللہ نے بابلیون کے محاصرے میں مجاہدین سے اپنا وعدہ پورا کیا کہ ایک روز ان مجاہدین میں سے ایک جنہیں نیل کے کنارے دور تک بھیجا گیا تھا گھوڑا دوڑاتا آیا اور سیدھا سپہ سالار عمرو بن عاص کے پاس جا رکا اسے دیکھ کر یہی توقع کی جاسکتی تھی کہ کمک آ گئی ہے اور یہ اس کی خبر لایا ہے۔
کیا رومیوں کی کمک آرہی ہے۔۔۔ سپہ سالار نے اس مجاہد سے پوچھا ۔
نہیں سپہ سالار!،،،،، مجاہد نے جواب دیا ۔۔۔اچھی خبر لایا ہوں ایک خبر یہ کہ شہر میں کوئی ایسی بیماری پھیل گئی ہے جس سے آبادی کا خاصا حصہ بیمار پڑا ہے اور لوگ مررہے ہیں، یہ بیماری اس فوج میں بھی پھیل رہی ہے جو شہر میں موجود ہے، دوسری خبر یہ کہ ہرقل مر گیا ہے ،تیسری خبر یہ کہ کمک کا دور دور تک نام و نشان نہیں اور فوج کے لوگ برجیوں پر چڑھ چڑھ کر اس طرف دیکھتے رہتے ہیں جس طرف سے انھیں کمک کے آنے کی توقع ہے۔
سپہ سالار کو یہ خبر سن کر بڑی ہی خوشگوار حیرت ہوئی یہ خبریں باہر اس طرح نکلی اور سپہ سالار تک پہنچی کہ ایک کشتی قلعے کے دروازے کی طرف آئی جو دریا میں کھلتا تھا یہ ماہی گیروں کی کشتی تھی جو اتفاق سے نیل کے مغربی کنارے کے قریب آ گئی وہاں جو مجاہدین موجود تھے انہوں نے کشتی کو روک لیا اور پوچھا کہ شہر کے اندر کیا حال ہے؟ ماہی گیروں نے انہیں یہ خبر سنا دی اور مجاہدین نے انہیں چھوڑ دیا۔
سپہ سالار نے اسی وقت تمام سالاروں کو بلایا اور انہیں یہ خبر سنا کر کہا کہ اب توقع رکھی جا سکتی ہے کہ رومی فوج کا حوصلہ مزید کمزور ہوجائے گا ،رومی فوج کے جرنیل اپنے بادشاہ کی خوشنودی کی خاطر ہی لڑا کرتے تھے اور ان کا بادشاہ مر گیا تھا اس کے برے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے۔۔۔ عمرو بن عاص نے سالاروں سے کہا۔۔۔ کہ کمک آئے گی ہی نہیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ہرقل کو مصر کی یہ خبر پہنچے کے مسلمان بابلیوں تک پہنچ گئے ہیں اور وہ کمک نہ بھیجے۔
مرنے سے پہلے اس نے کمک بھیجنے کا حکم دے دیا ہوگا لہذا ہمیں بابلیون سر کرنے میں مزید جوش و خروش پیدا کرنا ہوگا۔
ہرقل کی موت کے متعلق بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مارچ 641عیسوی میں مرا تھا، لیکن مستند تاریخ 11 فروری 641عیسوی ہے۔
ہرقل سلطنت روم کا آخری جنگجو اور جابر بادشاہ تھا وہ زندہ و سلامت تھا تو روم کی طاقت بھی سلامت تھی یہ تو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا جوش ایمان تھا کہ ہرقل کو پے در پے شکست دی تھی لیکن سپہ سالار عمرو بن عاص اور امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے کہ رومی کسی بھی وقت قدم جماکر جوابی یلغار کر سکتے ہیں۔ یہ تو وہ سانپ تھا جو مرتے مرتے بھی ڈس جاتا تھا۔
بہرحال اللہ تعالی نے مجاہدین کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کی کامیابی کے راستے کھول دیے تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ نیکو کار بندوں کے ساتھ ہے۔
عمرو بن عاص کو تو یہ اطلاع ملی تھی کہ ہرقل مر گیا ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کی موت کے بعد بزنطیہ میں کیا صورتحال پیدا ہوگئی تھی ،انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملکہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو الگ اور خفیہ پیغام بھیجا ہے اور یہ پیغام اپنا اثر دکھائے گا۔
پہلے اس پیغام کی بات ہو جائے تو بابلیون کے اندر کی کیفیت کا پتہ چل جائے گا ،کسی بھی مورخ نے ملکہ مرتینا کے پیغام کا پورا متن نہیں لکھا اس کا لب لباب یا اختصار لکھا ہے۔ اس پیغام سے صاف پتہ چلتا تھا کہ ملکہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو اپنے حسن کا اور انعام واکرام کا اسیر بنا رکھا تھا، تھیوڈور اس کا مدح سرا ہی نہیں اس کا غلام بنا ہوا تھا۔
مرتینا نے اسے لکھا تھا کہ شاہ ہرقل کی زندگی کا اب کچھ پتہ نہیں کیونکہ اس کی صحت تیزی سے گزر رہی ہے اور وہ روز بروز نڈھال ہوتا جا رہا ہے، اس نے لکھا کہ تم جانتے ہو کہ میں اپنے بیٹے ہوقلیوناس کو سلطنت کے تخت پر بٹھا کر تاج اس کے سر پر رکھونگی ۔
ضروری ہے کہ عرب کے ان مسلمانوں کو مصر سے نکالو پھر میں یہ کہنے کے قابل ہو جاؤں گی کہ شاہ ہرقل نے تو شکست تسلیم کر لی تھی لیکن میرے بیٹے نے شکست کو فتح میں بدل دیا ہے ۔ یہ خیال رکھنا کسی قیمت پر بابلیون مسلمانوں کے ہاتھ نہ چلے جائے ۔ تم جانتے ہو کہ میں اس کے عوض تمہیں کیا دونگی، بتانے کی ضرورت نہیں اتنا بتا دیتی ہوں کہ تم حیران رہ جاؤ گے، یہ بھی بتا دیتی ہوں کہ میری یہ بات اور یہ خواہش پوری کر دو تو تمہیں سلطنت روم کی ساری فوج کا کمانڈر بنا دوں گی اور مصر میں تمہیں وہی حیثیت حاصل ہوگی جو مقوقس کی تھی تم مصر کے حکمران ہو گے۔
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مرتینا نے اس پیغام میں کچھ رومانی باتیں بھی لکھی تھی، اور یہ بھی کہ مرتینا تھیوڈور کے لیے بزنطیہ سے حسین ترین اور نوخیز دو تین لڑکیاں بھیجے گی ۔ مختصر یہ کہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو یہ کہا تھا کہ وہ مصر سے مسلمانوں کو نکالے اور اس کے عوض مرتینا نے تھیوڈور کے لئے ایسی کشش اور دلکشی پیدا کردی تھی جو انسان کو دنیا میں ہی جنت دکھا دیا کرتی ہے۔
یہ پیغام ملتے ہی تھیوڈور میں بے پناہ جوش اور جذبہ پیدا ہو گیا تھا اس نے اپنے ماتحت جرنیلوں اور دیگر کمانڈروں کو بلا کر ایک تو جذباتی انداز سے بھڑکایا پھر فوجی نقطہ نگاہ سے انہیں بڑے سخت احکام دیے اور کہا کہ یہ روم کی عزت و آبرو کا سوال نہیں بلکہ ہر رومی کے ذاتی وقار کا مسئلہ ہے۔ تصور میں لایا جاسکتا ہے کہ تھیوڈور نے بابلیون کو مجاہدین اسلام سے بچانے کے لیے کیا کیا جتن کئے ہونگے۔
جب ہرقل کی موت کی اطلاع بابلیون پہنچی تو اس کے ردعمل کے طور پر یہ توقع تھی کہ سب کے حوصلے پست ہوجائیں گے لیکن تھیوڈور نے ساری فوج کو اکٹھا کرکے ایسے پرجوش طریقے سے خطاب کیا کہ ہر فوجی کو بھڑکا دیا اس نے کہا کہ شکست کا ذمہ دار سب سے پہلے مقوقس تھا ،اس کے بعد ہرقل اب دونوں نہیں ہیں تو یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ جن شکستوں کی ذمہ دار وہ دونوں تھے انہیں ہم فتح میں بدل دے سلطنت روم ہرقل کی نہیں بلکہ تمہاری ہے۔
تھیوڈور کے اس خطاب کے صحیح الفاظ تاریخ میں نہیں ملتے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے فوجیوں اور شہریوں میں بےپناہ ولولہ اور جذبہ پیدا کردیا تھا اب وہ اس جنگ کو ذاتی جنگ سمجھنے لگا تھا۔
مستند مؤرخوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بزنطیہ میں ہرقل کی موت کے بعد کیا صورتحال پیدا ہوگئی تھی پہلی بات تو یہ تھی کہ ہرقل کو مرتینا نے طبیب کے ہاتھوں زہریلی دوائیاں دلوا دلوا کر مروایا تھا ۔
طبیب نے صحیح اندازہ لگایا تھا کہ ہرقل ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو مہینوں بعد مر جائے گا اس کا اندازہ صحیح نکلا۔
بزنطیہ میں صورتحال کچھ اس طرح بن گئی کہ جونہی ہرقل مرا ملکہ مرتینا نے اعلان کردیا کہ اس کا بیٹا ہرقلیوناس ہرقل کا جانشین ہے اور یہ فیصلہ ہرقل نے مرنے سے پہلے کر دیا تھا ۔حقیقت یہ تھی کہ ہرقل نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا مرنے سے پہلے مسلسل تین یا چار دن وہ بے ہوشی میں پڑا رہا تھا اور ایک رات ملکہ نے دیکھا کہ وہ مرا پڑا ہے ،وہ رات بے ہوشی یا نیند میں مر گیا تھا۔
ملکہ مرتینا کے اس اعلان کو سنتے ہی ہرقل کے بڑے بیٹے قسطنطین نے ہنگامہ برپا کردیا وہ کہتا تھا کہ ہرقل نے اسے کہہ دیا تھا کہ اس کی موت کے بعد وہ یعنی قسطنطین جانشین ہو گا ۔ وہ کہتا تھا کہ ہرقلیوناس نوعمر ،ناتجربہ کار، اور سلطنت روم کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے بالکل ہی نا اہل ہے، اس صورتحال میں جب مسلمانوں نے رومیوں کو شام سے دھکیل باہر کیا ہے اور مصر کے اتنے بڑے حصے پر قابض ہوگئے ہیں کوئی ایسا حکمران ہونا چاہیے جو فوجی امور کی سوجھ بوجھ ہی نہیں بلکہ تجربہ رکھتا ہو اور انتظامی امور کو بھی سنبھال سکے۔
فوج کے جرنیل اور شہری انتظامیہ کے حاکم جانتے تھے کہ ہرقلیوناس کو اس صورتحال میں تخت پر بٹھانا بہت بڑی اور بڑی ہی خطرناک غلطی ہے، اس کے لئے قسطنطین ہی موزوں تھا لیکن یہ جرنیل اور انتظامیہ کے چھوٹے بڑے حاکم دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ ملکہ مرتینا کے حامی تھے اور باقی قسطنطین کی حمایت کرتے تھے، اس طرح فوج اور شاہی محل میں دھڑے پیدا ہوگئے جو جانشینی کے مسئلے پر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے، قسطنطین تو کسی قیمت پر تخت و تاج نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ چونکہ بڑا بیٹا تھا اس لیے بھی تخت کا وارث وہی تھا۔ ملکہ مرتینا اسے قبول نہیں کر رہی تھی۔
تاریخ میں یہ بھی واضح ہے کہ ھرقل زیادہ نفری کی تازہ دم کمک تیار کرنے اور فوراً مصر بھیجنے کا حکم دے دیا تھا ،کمک بالکل تیار ہو گئی تھی لیکن ابھی روانہ ہوئی تھی کہ ہرقل مر گیا قسطنطین نے فوراً حکم دیا کہ کمک کو مصر بھیجنے کے لئے جہاز تیار کیے جائیں۔ ملکہ مرتینا نے اس حکم پر یہ اعتراض کیا کہ قسطنطین خود اس کمک کے ساتھ جائے وہ جواز یہ پیش کرتی تھی کہ قسطنطین چونکہ میدان میں قیادت کا تجربہ رکھتا ہے اس لیے وہ کمک کا صحیح استعمال کرے گا ورنہ پہلے والے جرنیل اس کمک کو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مروا دیں گے۔
قسطنطین جانتا تھا کہ اس وقت ملکہ مرتینا کو مصر کا کوئی خیال نہیں اس کی تمام تر دلچسپیاں اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھانے پر مرکوز ہے وہ بزنطیہ سے غیر حاضر نہیں ہونا چاہتا تھا۔
حکم میرا چلے گا۔۔۔ملکہ مرتینا نے اعلان کردیا۔۔۔۔یا میرے بیٹے کا چلے گا۔ قسطنطین فوج کا کمانڈر ہے وہ مجھ سے یا میرے بیٹے سے حکم لے اس کے لیے شاہی حکم یہ ہے کہ کمک لے کر مصر کو روانہ ہوجائے جانشینی کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
قسطنطین جانتا تھا کہ اس کی پشت پناہی میں جو لوگ ہیں وہ ایک محاذ پر متحد ہوچکے ہیں اور اسے یہ پشت پناہی ملتی رہے گی۔
ہوا بھی یہی اس کے حامی جرنیل اور اس سے نیچے کے عہدوں کے فوجی افسر اور شہری انتظامیہ کے بڑے حاکم اور شاہی خاندان کے کچھ افراد اس کی حمایت میں سامنے آگئے۔ اور صحیح معنوں میں انھوں نے متحد محاذ بنا لیا یہاں تک کہ مصر کی شکست کو اور مجاہدین اسلام کی پیش قدمیوں کو نظرانداز کردیا اور اولیت اور اہمیت صرف اس مسئلہ کو دینے لگے کہ تخت کا وارث قسطنطین کو ہی بنانا ہے۔
یہ تو وہ فوجی اور شہری حاکم تھے جو حقیقت پسند تھے اور سلطنت روم کا وقار بحال کرنا چاہتے تھے اور سلطنت کی توسیع بھی ان کے پیش نظر تھی بجا طور پر وہ قسطنطین کو ہی اس قابل سمجھتے تھے کہ اس صورتحال کو وہ سنبھالنے کی اہلیت اور تجربہ رکھتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے قسطنطین ادھیڑ عمری کی آخری اسٹیج تک پہنچ چکا تھا جہاں انسان کی عقل و دانش مزید تیز ہوجاتی ہے اور وہ گزشتہ زندگی کے اچھے برے تجربات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
دوسری طرف ملکہ مرتینا نے اپنے بیٹے کے حامی خرید رکھے تھے خزانہ اس کے ہاتھ میں تھا اور شاہی حرم پر اس کا حکم چلتا تھا اس لئے اس نے یہ دونوں چیزیں یعنی زرو جواہرات اور حسین و جمیل لڑکیاں بے دریغ استعمال کر کے چند ایک جرنیلوں اور شہری حاکموں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا اب وقت آگیا تھا کہ یہ فوجی اور شہری حاکم انعام و اکرام کا حق ادا کریں، جو انہوں نے کیا اور محاذ بنا کر قسطنطین کے حامیوں کے خلاف مورچہ بند ہوگئے۔
شاہی حکم تو معطل ہی ہو گئے ،کمک روانگی کے حکم کے انتظار میں ہی بارکوں میں بیٹھی رہی دونوں دھڑوں کے جرنیلوں نے اپنے اپنے دستوں کو الگ کر لیا اور صورتحال خانہ جنگی والی پیدا ہو گئی۔
اس صورتحال میں کمک کو بھی جرنیلوں نے تقسیم کرلیا اور یہ بات ہی ختم ہو گئی کہ مصر کو کمک بھیجنی ہے ۔
کون نہیں سمجھ سکتا کہ جہاں اس طرح دھڑے بندی شروع ہوجائے اور یہ کشمکش اور چپقلش دونوں دھڑوں کو مرنے مارنے تک پہنچا دے تو وہاں کیسی تباہی آتی ہے۔ سارا سرکاری نظام ہی جام ہو کر رہ گیا ملکہ مرتینا کی عیاریاں عروج پر پہنچ گئی۔
قسطنطین سلطنت روم کے معاملے میں مخلص تھا وہ دل و جان سے چاہتا تھا کہ یہ کشمکش ختم ہوجائے ۔ ملکہ مرتینا نے یہ چال بھی چلی کے تین چار بڑے پادریوں کو قسطنطین کے پاس بھیجا کہ اسے قائل کرے کہ وہ تمام تر فوج کا کمانڈر انچیف بن جائے اور تخت پر ہرقلیوناس بیٹھے، بے شک تمام امور قسطنطین اپنے ہاتھ میں رکھے۔
پادری قسطنطین کے پاس گئے اور مذہب کے نام پر اسے قائل کرنے لگے، قسطنطین نے کہا کہ اسے اگر یقین ہوتا کہ ہرقلیوناس کو تخت کا وارث قرار دینے سے سلطنت روم کے استحکام کو فائدہ پہنچے گا تو وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائے گا ۔ پادریوں نے مزید دباؤ ڈالنا شروع کردیا اور غالبا کسی پادری نے اسے کوئی توہین آمیز بات کہہ دی۔
میں آپ لوگوں کا احترام کر رہا ہوں۔۔۔ قسطنطین نے کہا۔۔۔ لیکن آپ مجھے ڈرا رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں کیا آپ میں اتنی سی بھی عقل و دانش نہیں کہ ہرقلیوناس کے اخلاق اور عقل کو جانتے ہوئے اسے تخت کا وارث بنا رہے ہیں، لیکن آپ مجبور ہیں کیونکہ آپ کے اندر مرتینا کا دیا ہوا خزانہ بول رہا ہے۔ اور آپ سب پر ان حسین و جمیل لڑکیوں کا سحر طاری ہے جو مرتینا آپ کو پیش کرتی رہی ہے۔ پیشتر اس کے کہ میں آپ کو کلیسا سے بے دخل کردوں یہاں سے چلے جائیں۔
ان پادریوں کے ضمیر مجرم تھے اس لیے وہ خاموشی سے چلے گئے۔
قسطنطین نے اب ایک بادشاہ کی حیثیت سے حکم دیا کہ کمک فوراً تیار کرکے مصر بھیجی جائے ،لیکن اس کے حکم کا وہی حشر ہوا جو ہوا میں چلائے تیر کا ہوتا ہے ،اس کے حامی جرنیلوں نے اسے بتایا کہ کمک تقسیم ہوچکی ہے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جو فوج قسطنطین کے حق میں ہے اس میں سے کمک بھیجی جائے ورنہ حامی فوج کی نفری بہت کم رہ جائے گی اور مرتینا کی حامی فوج اپنی طاقت سے تخت پر قابض ہو کر ہرقلیوناس کو روم کا بادشاہ بنا دے گی۔
یہ ایک بہت بڑا کرم تھا جسے اللہ تعالی نے مجاہدین اسلام کو نوازا تھا ،اور یہ بہت بڑی لعنت تھی جو اللہ تعالی نے رومیوں پر نازل کی تھی ،اللہ تبارک وتعالی اپنا یہ وعدہ بھی پورا کر رہا تھا کہ تم میں سے صرف دس ثابت قدم رہنے والے اور ایمان والے ہوئے تو ایک سو پر غالب آئیں گے اور سو ہوئے تو ایک ہزار پر غلبہ حاصل کریں گے ، مطلب یہ کہ اللہ ثابت قدم رہنے والے مومنین کی اتنی مدد کرتا ہے کہ معجزہ رونما ہوتے ہیں۔
رومی شہنشاہیت کے ایوانوں میں جو صورت حال پیدا ہوگئی تھی یہ مجاہدین کے لئے ایک معجزے سے کم نہ تھی ، وہاں تو مجاہدین کو مصر سے نکالنے والے رومی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*
سپہ سالار عمرو بن عاص کو بالکل ہی معلوم نہ تھا کہ بزنطیہ میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور کمک کا خطرہ بالکل ہی ختم ہوگیا ہے۔ سپہ سالار تو یہ پلان بنا رھے تھے کہ کس طرح خندق عبور کر کے قلعے پر یلغار کی جائے ،لیکن ممکن نظر نہیں آتا تھا رومیوں نے منجیقیں باہر لگا رکھی تھیں اور تیرانداز درختوں میں چھپے ہوئے تیروں کی بوچھاڑ پھینک رہے تھے۔
ملکہ مرتینا نے (تاریخ کے مطابق) جنرل تھیوڈور کو ایک پیغام اور بھیجا اس میں مرتینا نے شاہی محل کی تمام صورت حال لکھی اور اسے بتایا کہ کسی بھی وقت یہاں خانہ جنگی ہو سکتی ہے، خانہ جنگی ہو یا نہ ہو یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ہرقلیوناس کو تخت کی وراثت نہیں مل سکے گی ،مرتینا نے لکھا کہ اپنے تمام ذرائع اور وسائل ہوشمندی سے استعمال کرو اور مسلمانوں کو وہاں سے نکالو، مرتینا کا مطلب یہ تھا کہ ہو سکتا ہے ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ لوگ اس کے اور اس کے بیٹے کے خلاف ہو جائیں تو اسے اپنے بیٹے کے ساتھ پناہ لینے کے لیے مصر آنا پڑے۔
اس صورت میں وہ مصر سے خودمختاری کا اعلان کردی گی۔ اس نے تھیوڈور کو پرزور الفاظ میں لکھا تھا کہ مصر محفوظ رہنا چاہیے اور وہاں سے ہماری بادشاہی کی ابتدا ہوگی اور جو فوج وہاں موجود ہے وہ ہماری اپنی ہوگی۔
محمد يحيٰ سندھو
ہرقل نے بزنطیہ میں مقوقس پر غداری کا الزام لگا کر بالکل ٹھیک کہا تھا کہ مصر میں ایک لاکھ رومی فوج موجود ہے، جس میں سے صرف بارہ ہزار کو لڑایا گیا ہے، اگر عقل مندی اور دیانتداری سے اس فوج کو استعمال کیا جاتا تو آٹھ دس ہزار نفری کے لشکر کو مصر میں ہی کچلا اور مسلا جاسکتا تھا۔
یہ صحیح ہے کہ مصر میں ایک لاکھ رومی فوج موجود تھی لیکن یہ فوج مختلف مقامات پر بکھری ہوئی تھی اور ان میں جو مجاہدین اسلام کے مقابلے میں آئی تھی اس میں سے ہزاروں کی تعداد میں کٹ گئی تھی۔ تھیوڈور نے مرتینا کے اس دوسرے پیغام کے مطابق اپنے دفاعی پالان میں رد و بدل کیا ایک تو اسے یہ پتہ چل گیا کہ بزنطیہ سے کمک نہیں آئے گی۔ وہ کسی دوسرے مقام سے کمک نہیں منگوا سکتا تھا کیونکہ بابلیون مجاہدین کے محاصرے میں تھا دریائی راستہ بھی مجاہدین کی موجودگی میں محفوظ نہیں تھا۔
ایک روز مجاہدین نے دیکھا کہ رومی منجیقیں قلعے کے اندر لے جارہے ہیں اور تیرانداز دستے بھی قلعے کے اندر چلے گئے ہیں۔ دروازے بند ہوگئے سپہ سالار عمرو بن عاص دیکھتے رہے اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے منجیقیں قلعے کی دیواروں پر پہنچا دی گئیں اور وہاں سے پھر سنگ باری شروع ہوگئی۔
ایک بات جو پہلے بتا دینے والی تھی وہ اب بتائی جا رہی ہے، چونکہ قسطنطین سلطنت روم کے حق میں مخلص تھا اور اپنے شاہی خاندان اور سلطنت کا وقار بحال کرنے کی کوشش میں مصروف تھا ،اس لئے وہ دیکھ رہا تھا کہ اس صورتحال پر کس طرح قابو پایا جاسکتاہے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ہرقل کا بنایا ہوا اسقف اعظم قیرس قسطنطین کو یاد آیا لیکن ہرقل نے اس پر بھی بے وفائی اور مقوقس کا ساتھ دینے کا الزام لگا کر جلا وطن کر دیا تھا ۔اس کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اسے بیڑیاں اور ہتھکڑیاں لگاکر جلاوطن کیا جائے بلکہ اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ سلطنت روم سے نکل جائے۔
تاریخ میں یہ واضح نہیں کہ قسطنطین کو معلوم تھا یا نہیں کہ جلاوطنی کے بعد قیرس کہاں چلا گیا ہے؟
تاریخ میں لکھا ہے کہ قسطنطین نے اپنا ایک دانشمند ایلچی قیرس کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ شاہ ہرقل مر چکا ہے اور وہ یعنی قسطنطین اس کی جلاوطنی منسوخ کرتا ہے ،اور وہ فوراً بزنطیہ آ پہنچے۔
قسطنطین نے ایلچی کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ قیرس کو قائل کر کے واپس لانا ہے۔ پھر آگے مورخ لکھتے ہیں کہ قیرس کا سراغ مل گیا تھا اوروہ بزنطیہ آ گیا تھا ،لیکن یہ بعد کی بات ہے، پہلے ہم اس سے پہلے کے واقعات سناتے ہیں۔
بابلیون کے باہر اب جو کیفیت تھی وہ اس طرح تھی کہ جب رومی منجیقیں اور تیر انداز قلعے کے اندر چلے گئے تو مجاہدین آگے بڑھ کر خندق کو دیکھنے لگے تیر اندازوں کی موجودگی میں وہ خندق کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ تیر موسلا دھار مینہ کی طرح آتے تھے۔
مجاہدین یہ دیکھنے کو آگے بڑھے کہ خندق عبور کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
وہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رومیوں نے خندق کو ناقابل عبور بنا دیا تھا اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا لیکن تمام تر خندق خار دار تاروں کے گچھوں سے سے بھری پڑی تھیں، ان گچھوں کے علاوہ خندق میں لوہے کی نوکیلی سالاخیں گاڑھی ہوئیں تھیں۔ اگر خندق میں پانی ہوتا ، خواہ پانی سے خندق لبریز ہوتی تو تیر کر اسے عبور کیا جا سکتا تھا۔لیکن رومیوں نے خندق کو خار دار تاروں اور نوکیلی سلاخوں سے بھر دیا تھا۔ اور کوئی انسان خندق میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔
محاصرے کو تقریبا آٹھ مہینے گزر گئے تھے مجاہدین کے لشکر میں مایوسی اور بددلی کے کوئی آثار نہیں تھے۔
لیکن سپہ سالار اور دیگر سالار بے تاب و بے قرار ہو تے جا رہے تھے۔ خندق اتنی چوڑی تھی کہ اسے اندرونی رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے عبور کرنے کی سوچی بھی نہیں جاسکتی تھی۔ پھر بھی سب اپنا اپنا دماغ لڑا رہے تھے کہ خندق عبور کرنی ہی کرنی ہے۔
*=÷=÷=÷==÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
اب دیکھئے گوشت پوست کا ایک انسان کیا موجزے کر کے دکھاتا ہے ، یہ تھے زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ اس مرد مجاہد کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے ۔ زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔
ان کا شمار عرب کے بہادر ترین افراد میں ہوتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا تھا ۔ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔
زبیر بن عوام نے بابلیوں کے محاصرے میں جب دیکھا کہ خندق عبور کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تو ایک رات انہوں نے چند مجاہدین کو ساتھ لیا اور چار پانچ درختوں کے بڑے بڑے ٹہنیں کٹوائے پھر یہ ٹہن شاخوں اور پتوں سمیت گھسیٹ کر خندق تک لے گئے اور خندق میں پڑی ہوئی خار دار تاروں کے گچھے اور نوکیلی سلاخوں پر اس طرح پھینکنے شروع کیئے کہ اگلے کنارے تک ٹہن پہنچ گئی۔
اس طرح انھوں نے خندق پر پڑے ہوئے ٹہوں پر چلتے چلتے اور ٹہن پھینکے اور خندق کے اوپر سے گزرنے کا اچھا خاصا راستہ بنالیا۔
اسی رات انہوں نے مجاہدین کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور ان سے یوں خطاب کیا۔۔۔۔۔
یاد کرو خالد بن ولید کے وہ کارنامے جو انہوں نے دمشق میں کر دکھائے تھے ،یاد کرو سعد بن ابی وقاص کی وہ شجاعت جو انہوں نے مدائن میں دکھائی تھی، اور نہاوند میں نعیم بن مقرن کی بہادری یاد کرو، تم میں کون ہے جو شجاعت اور جانبازی میں ان مجاہدین سے پیچھے رہنا چاہتا ہے؟،،،،،،،،،، کیا تم میں کوئی بھی نہیں جو اللہ کی راہ میں سرفروشی کے جذبے سے سرشار نہ ہو؟
ہم ہیں۔۔۔۔ تمام مجاہدین کی آواز اٹھی۔۔۔ ہم اللہ کی راہ کے جانباز اور سرفروش ہیں۔ ہم سے تو کونسا کارنامہ کروانا چاہتا ہے۔
میں اللہ کی راہ میں اپنی جان پیش کرتا ہوں۔۔۔۔ زبیر بن عوام نے کہا۔۔۔ اللہ میری اس قربانی کو مسلمانوں کی فتح کا سبب بنائے۔
زبیر بن عوام نے اتنی سی بات کہہ کر مجاہدین کو جوش اور جذبے کے شعلے بنا دیا۔ وہ اب پوچھ رہے تھے کہ کرنا کیا ہے۔
لشکر میں ڈسپلن ایسا تھا کہ کوئی سالار ایسی کاروائی جو زبیر کرنے لگے تھے اپنے طور پر نہیں کرتا تھا۔ سپہ سالار کو پہلے اپنا پورا پلان بتاتے تھے پھر وہ کارروائی کی جاتی تھی۔
زبیر سپہ سالار عمرو بن عاص کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ انہوں نے قلعے پر یلغار کے لئے مجاہدین کا ایک پورا دستہ تیار کر لیا ہے، اور پھر اپنا پلان بتایا۔
عمرو بن عاص تو خطرہ مول لینے میں ہی شہرت رکھتے تھے ،انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ بابلیون کا قلعہ سر کرنا ہے تو کوئی بہت ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ وہ زبیر بن عوام لے رہے تھے۔
سپہ سالار نے سالار زبیر کو اجازت دے دی۔ زبیر بن العوام جب واپس اس جگہ گئے جہاں انہوں نے خندق پر درختوں کے ٹہن پھینکے تھے، وہاں پہلے سے زیادہ مجاہدین اکٹھے ہوگئے تھے وہ سب اپنی جان پیش کرنے آئے تھے اور بے تاب تھے کہ انھیں بتایا جائے کرنا کیا ہے۔
سالار زبیر نے ایک دستے کی نفری الگ کرلی اور بتایا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اور کیسی قربانی دینی ہوگی۔ ان کا پلان ایسا تھا جس میں شہادت یق#اور_نیل_بہتا_رہا
#عنایت_اللہ_التمش
#قسط_نمبر45
ہرقل کی صحت پہلے ہی گر گئی تھی اب اسے احساس ہوا کہ مقوقس غداری کر گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا اور گرتی ہوئی صحت پر اس کا اثر بہت برا پڑا ،اس نے اس مسئلے پر غور کیا ہی نہیں کہ مقوقس نے غداری کی تھی یا دانشمندی کا ثبوت دیا تھا، مقوقس کا موقف یہ تھا کہ اب رومی فوج اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی اس نے سوچا تھا کہ بجائے اس کے کہ مسلمان پورے کا پورا مصر لے لیں ان کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں وہیں تک رکھا جائے جہاں تک وہ آ گئے تھے ،وہ قلعی بابلیون کو مسلمانوں سے بچانے کی فکر میں تھا، بابلیون اور قلعہ روضہ جو نیل کے وسط میں ایک جزیرے میں تھا بہت ہی اہم اور مستحکم مقام تھا۔ مقوقس یہ دونوں قلعے اور گردونواح کا علاقہ مسلمانوں سے بچا کر رکھنا چاہتا تھا اور اسی کے پیش نظر اس نے عمرو بن عاص کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا ۔
لیکن ہرقل نے اس کا یہ استدلال سنا ہی نہیں یا مانا ہی نہیں، وہ تو مقوقس سے اس سازش کا انتقام لے رہا تھا جس کے تحت مقوقس نے ہرقل کو قتل کروانے کی کوشش کی تھی۔
مقوقس کی قسمت کا فیصلہ کرکے ہرقل کی جسمانی اور ذہنی حالت بہت ہی بگڑ گئی یہ اس کا ذہنی ردعمل تھا ،طبیب اسے دیکھ لیا اور پھر طبیب کی بھیجی ہوئی دوائی کھا لیں تو اس نے پیغام لکھنے والے آدمی کو بلوایا اور سپہ سالار عمرو بن عاص کے نام پیغام لکھوایا جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ اس نے مقوقس کا کیا ہوا معاہدہ منسوخ کردیا اور مسلمانوں کو بڑے ہی برے نتائج کی دھمکیاں لکھی، اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان کسی معاہدے کے بغیر مصر سے نکل جائیں ۔
پیغام لکھا جا چکا تو ھرقل نے قاصد کے بجائے ایک ایلچی کو بلوایا اور پیغام اسے دے کر کہا کہ بہت تیزی سے بابلیون پہنچے اور یہ پیغام مسلمانوں کے سپہ سالار تک پہنچائے۔
کاتب جب پیغام لکھ کر ہرقل کے حکم سے باہر نکلا تو ایک ملازمہ نے اس کے کان میں کہا کہ اسے ملکہ مرتینا بلا رہی ہے، کاتب اس کمرے میں چلا گیا جہاں ملازمہ نے اسے بتایا تھا کہ ملکہ اندر بیٹھی انتظار کر رہی ہے۔
بیٹھو اور ایک پیغام اور لکھو۔۔۔ مرتینا نے کاتب سے کہا۔۔۔ اس پیغام کا ذکر کسی کے ساتھ نہ ہو ، ذرا سا بھی شک ہوا کہ تم نے کسی کو بتایا ہے تو اس کے فورا بعد تم اس دنیا میں نہیں ہوں گے، میں تمہیں اس راز داری کا انعام دوں گی ،،،،،،،،لکھو!،،
وہ آدمی بیٹھ گیا اور مرتینا جنرل تھیوڈور کے نام پیغام لکھوانے لگی اس وقت تھیوڈور مصر کے قلعہ بند شہر بابلیون میں تھا۔
کاتب پیغام لکھ چکا تو طبیب کی طرح اس کاتب کو بھی ملکہ مرتینا نے سونے کا ایک ٹکڑا دیا کاتب نے سونے کا ٹکڑا ہاتھ میں لیا تو اس کے چہرے پر حیرت زدگی کا تاثر آ گیا اسے اتنے زیادہ معاوضے کی توقع نہیں تھی۔
مرتینا نے دیکھا کہ یہ شخص سونے کے ٹکڑے کو دیکھے ہی جا رہا ہے تو اس نے اسے کچھ خوشگوار سے لہجے میں ڈانٹ کر کہا کہ اسے جیب میں ڈال دو اور کسی کو یہ نہ بتانا کہ یہ میں نے تمہیں دیا ہے،،،،، یہ سن کر کاتب نے بڑی تیزی سے ٹکڑا جیب میں ڈال لیا۔
روم کے اس شاہی خاندان کے پاس اس قدر کثیر خزانہ تھا جس کا حساب کتاب ان کے پاس بھی نہیں تھا ،ایک کاتب کے لیے صرف ایک ٹکڑا ایک خزانہ تھا لیکن ملکہ مرتینا کے لئے اتنا سونا ایسے ہی تھا جیسے ایک تنکا اٹھا کر باہر پھینک دیا ہو۔
کاتب باہر نکلا تو ملازمہ نے اندر آکر مرتینا کو بتایا کہ ایلچی آگیا ہے، مرتینا نے ایلچی اندر بلایا۔
ایک پیغام میرا بھی لیتے جاؤ ۔۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔۔ تم جانتے ہو کہ میرے پیغام کسی اور کو نہیں دکھائے جاتے مصر پہنچو گے تو جنرل تھیوڈور کو تنہائی میں میرا یہ پیغام دینا کسی اور کو پتہ چل گیا تو تم جانتے ہو اس کی سزا کیا ہے۔
مرتینا نے ایلچی کو بھی سونے کا ایک ٹکڑا دیا جو ایلچی نے لے کر فوراً جیب میں ڈال لیا۔ اسی وقت الچی ہرقل کا الگ اور مرتینا کا الگ پیغام لے کر مصر کو روانہ ہو گیا اس کا سفر خشکی کا بھی تھا اور پھر اسے بحیرہ روم بادبانی جہاز میں پار کرنا تھا۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
سپہ سالار عمرو بن عاص کے نام ہرقل کا یہ پیغام دسمبر 640 عیسوی کے ابتدائی دنوں میں بزنطیہ سے چلا ہوگا، یہ دسمبر کے آخری ہفتے کے وسط میں منزل پر پہنچا ،مجاہدین کا لشکر بابلیون کا محاصرہ کیے ہوئے تھا اس لیے سپہ سالار عمرو بن عاص اسے باہر ملے۔ انہیں پیغام دے کر ایلچی دریا کی طرف چلا گیا اسے اس دروازے سے اندر جانا تھا جو دروازہ دریا میں کھلتا تھا۔
عمرو بن عاص نے ہرقل کا پیغام پڑھا اور اپنے سپہ سالار کو اس طرح بلایا جیسے انہیں کوئی خوشخبری ملی ہو۔
سالار دوڑے آئے ۔عمرو بن عاص نے انہیں ہرقل کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں لکھا تھا کہ معاہدہ منسوخ کردیا گیا ہے اور اب مسلمانوں کا مقابلہ مقوقس کی بجائے دوسرے جرنیلوں سے ہوگا ۔ ہرقل نے کچھ ایسے الفاظ بھی لکھے تھے کہ کوئی حکمران اپنی قوم کے کسی غدار کا طے کیا ہوا معاہدہ تسلیم نہیں کیا کرتا ، ہرقل نے یہ بھی لکھا تھا کہ پیشتر اس کے کہ تمہاری ہڈیاں مصری کی مٹی میں مل جائیں تو زندہ و سلامت مصر سے نکل جاؤں بابلیون کو فتح کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔
اللہ کے شیروں !،،،،،،عمرو بن عاص نے سالاروں سے کہا ۔۔۔۔ہرقل کی یہ دھمکی ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں، مقوقس نے یہی دھمکیاں دیتے دیتے معاہدے پر آمادہ ہوگیا تھا ،کیا تم سمجھتے نہیں کہ رومیوں کے پاس سوائے دھمکیوں کے اور کچھ بھی نہیں رہا ،بابلیون کا معاملہ صرف اس لئے کچھ مختلف ہے کہ یہ بہت ہی مضبوط قلعہ ہے۔ اسے ایک طرف سے نیل کا تحفظ حاصل ہے اور یہ خندق بڑا ہی کارآمد دفاعی انتظام ہے۔ ہمارے مجاہدین کو نیل بھی نہیں روک سکا اور صحرا بھی روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان شاءاللہ تم بابلیون کو بھی سر کر لو گے خدا کی قسم میں ہرقل کو اس کی دھمکی کا جواب دینا چاہتا ہوں۔
سپہ سالار عمرو بن عاص نے بابلیون کو سر کرنے کا پالان سالاروں سے صلح مشورہ کرکے بنا رکھا تھا وہ منتظر تھے کہ ہرقل معاہدہ منظور کرتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ہوگیا تو سپہ سالار نے بابلیون پر حملے کا حکم دے دیا اور کہا کہ چند ثانیے وقت بھی ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
سالار دوڑے گئے اور اپنے اپنے دستوں کو اکٹھا کر کے سپہ سالار کا حکم سنایا اور جوش بھی دلایا ہر مجاہد کے کانوں میں ہرقل کی دھمکی ڈالی گئی اور کہا گیا کہ اس دھمکی کا جواب زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر دیں گے۔
پہلے یہ گزر چکا ہے کہ مجاہدین کس طرح خندق پھاند کر قلعے کی دیواروں تک پہنچ گئے تھے، لیکن مقوقس نے صلح کا پیغام بھیج دیا اس لیے لڑائی روکنی پڑی پھر معاہدہ ہوگیا۔ سپہ سالار عمرو بن عاص نے دیکھا کہ ان کا لشکر خندق اور قلعے کے درمیان آ گیا تھا ۔قلعے اور خندق کا درمیانی فاصلہ خاصا زیادہ تھا معاہدہ تو ہو گیا تھا لیکن عمرو بن عاص دور اندیش سپہ سالار تھے ،انہوں نے پہلے ہی اپنے سالاروں سے کہہ دیا تھا کہ مقوقس نے وقت حاصل کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ اس معاہدے کی منظوری ھرقل سے لینا ضروری ہے دراصل مقوقس کمک کا منتظر تھا عمرو بن عاص کو خیال آیا کہ پہلے ہی وقت زیادہ گزر گیا ہے اور ابھی تک معاہدے کی منظوری نہیں آئی ہو سکتا ہے معاہدے کی منظوری کی بجائے اسکندریہ سے یا بزنطیہ سے زیادہ نفری کی کمک آجائے پھر مجاہدین کے لئے بڑی ہی مشکل پیدا ہوجائے گی۔
اس خدشے کے پیش نظر سپہ سالار نے اپنے لشکر کی پوزیشن کا جائزہ لیا ،لشکر قلعہ اور خندق کے درمیان تھا سپہ سالار عمرو بن عاص کو یہ خطرہ نظر آنے لگا کے کمک دریا کے راستے سے آئے گی اور اس طرف کے دروازے سے اندر چلی جائے گی ایسا ہوسکتا ہے کہ رومی خندق میں پانی چھوڑ دیں اور اندر سے فوج باہر نکال کر حملہ کر دیں، اس صورت میں مجاہدین کے لئے پیچھے ہٹنا خطرناک ہوجائے گا ،وہ خندق اور زیادہ نفری کی رومی فوج کے درمیان ایسی صورتحال میں پھنس جائیں گے کہ سالار کوئی چال کوئی پینترہ نہیں بدل سکیں گے۔
مجاہدین نے یہ خندق اس صورت میں پار کی تھی کہ نیل کے اتر جانے سے خندق کا پانی بھی دریا میں واپس چلا گیا تھا، سپہ سالار کو معلوم نہیں تھا کہ خندق میں پانی چھوڑنے کا کوئی اور انتظام ہے یا نہیں، خطرہ یہ نظر آ رہا تھا کہ کوئی اور انتظام ضرور ہوگا ان خطروں اور خدشے کے پیش نظر سپہ سالار نے یہ احتیاطی تدبیر اختیار کی کہ معاہدے کی منظوری یا نامنظوری آنے سے پہلے ہی تمام لشکر کو حصار خندق سے باہر لائے۔ محاصرہ برقرار رکھا گیا سپہ سالار نے سالاروں سے کہہ دیا تھا کہ ضندق کسی اور طریقے سے عبور کر لیں گے۔
*=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
قلعہ بند رومیوں نے جب دیکھا کہ مسلمان پھر خندق میں سے گزر کر پیچھے چلے گئے ہیں تو ان کے جرنیلوں نے ایک اور چال چلی وہ فوج کو تو باہر نہ لائے یوں کیا کہ منجیقیں باہر لے آئے اور شہر کے چاروں طرف نصب کرلیں ،ان کے ساتھ تیر اندازوں کی ایک فوج باہر آگئی جسے آگے بڑھ کر حملہ نہیں کرنا تھا بلکہ ایک مقام پر رک کر مجاہدین کے لشکر پر تیر پھینکنے تھے۔
رومیوں کو ایک سہولت یہ حاصل تھی کہ خندق اور قلعے کے درمیان پھلوں کے باغات تھے اور پھلوں کے درخت گھنے جھنڈ چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے یہ درخت خاص گھنے تھے، رومی تیرانداز ان درختوں پر چڑھ گئے اور مجاہدین کے لشکر پر تیر پھینکنے لگے ساتھ ہی منجیقوں سے پتھر آنے لگے۔
مسلمانوں کے پاس بھی منجیقیں تھیں اور تیر دور پھینکن والی کمانیں بھی۔
تیروں کے جواب میں بے تحاشا تیراندازی کی لیکن رومی تیرانداز جو کے درختوں پر چڑھ گئے تھے اس لئے نظر نہیں آتے تھے، درختوں کی آڑ اور سہولت ملنے کی وجہ سے رومی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے تھے، سپہ سالار نے اپنے لشکر کو تیروں سے بچانے کے لئے اور پیچھے ہٹا لیا۔
شام کے بعد جب رات تاریک ہو جاتی تھی تو صاف پتہ چلتا تھا کہ رومی خندق میں کچھ کر رہے ہیں ،رات کو تیراندازی رک جاتی تھی پھر بھی کوئی مجاہد آگے نہیں جاتا تھا کہ ذرا سے شک پر رومی تیروں کی بوچھاڑ پھینکنے لگے گے ، رومی اپنے آپ کو اس قدر آزاد اور محفوظ سمجھنے لگے تھے کہ انہوں نے دروازے کھلے رکھے تھے ،تیرانداز آزادی سے اندر باہر آتے جاتے تھے ایک تیرا انداز دستہ دن بھر تیر اندازی کرتا اور شام کو اندر چلا جاتا اور اس کی جگہ تازہ دم دستہ آجاتا تھا۔
سپہ سالار عمرو بن عاص ہر طرف گھوڑا دوڑاتے پھرتے اور لڑائی کی صورت حال دیکھ کر ہدایات جاری کرتے تھے۔
سنگ باری اور تیر اندازی کے جواب میں سنگباری اور تیر اندازی میں ہی جنوری 641 عیسوی کا مہینہ گزر گیا اور ماہ فروری کا آغاز ہوا، مجاہدین کا لشکر ابھی تک خندق سے باہر کچھ دور تھا اور رومی خندق اور قلعے کے مستحکم دفاعی انتظام میں بالکل محفوظ اور خوش و خرم تھے۔ عمرو بن عاص نے لڑائی جاری رکھی ان کی مجبوری یہ تھی کہ مجاہدین کی نفری رومیوں کے مقابلے میں اور بابلیون کے دفاعی انتظامات کو توڑنے کے لئے بہت ہی تھوڑی تھی، سپہ سالار کا دماغ بڑی تیزی سے کام کر رہا تھا لیکن انھیں کوئی راستہ یلغار کے لئے نظر نہیں آرہا تھا۔
سپہ سالار نے ایک انتظام یہ بھی کر رکھا تھا کہ کئی ایک مجاہدین کو نیل کے کنارے اسکندریہ کی طرف خاصی دور تک بھیج دیا تھا ان کے ذمہ کام یہ تھا کہ ادھر سے کمک آئے تو فورا اطلاع دیں ۔ان مجاہدین میں تیر انداز زیادہ تھے ان کے لئے حکم یہ تھا کہ وہ بحری جہازوں اور کشتیوں پر جن میں کمک آرہی ہوگی، تیر پھینکیں اور انکی رفتار سست کریں ۔سپہ سالار کا ایک حکم یہ بھی تھا کہ کمک سے لدی کشتیاں ندی کے کنارے کنارے آ رہی ہو تو مشعلیں جلا کر انکے بادبانوں پر پھینکیں۔ تاکہ بادبان جل اٹھے لیکن کمک کے آنے کی اطلاع سپہ سالار تک فوراً پہنچائیں۔
قرآن میں اللہ تعالی نے جہاد کو افضل ترین قرار فرمایا اور اللہ کی راہ میں لڑنے والوں کے ساتھ کچھ وعدے کیے ہیں، مثلا سورہ العنکبوت میں اللہ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے جہاد کرتے ہیں انہیں اللہ ضرور اپنے راستے (فتح کے) دیکھا دیتا ہے اور اللہ نیکوکار لوگوں کے ساتھ ہے۔
اللہ نے بابلیون کے محاصرے میں مجاہدین سے اپنا وعدہ پورا کیا کہ ایک روز ان مجاہدین میں سے ایک جنہیں نیل کے کنارے دور تک بھیجا گیا تھا گھوڑا دوڑاتا آیا اور سیدھا سپہ سالار عمرو بن عاص کے پاس جا رکا اسے دیکھ کر یہی توقع کی جاسکتی تھی کہ کمک آ گئی ہے اور یہ اس کی خبر لایا ہے۔
کیا رومیوں کی کمک آرہی ہے۔۔۔ سپہ سالار نے اس مجاہد سے پوچھا ۔
نہیں سپہ سالار!،،،،، مجاہد نے جواب دیا ۔۔۔اچھی خبر لایا ہوں ایک خبر یہ کہ شہر میں کوئی ایسی بیماری پھیل گئی ہے جس سے آبادی کا خاصا حصہ بیمار پڑا ہے اور لوگ مررہے ہیں، یہ بیماری اس فوج میں بھی پھیل رہی ہے جو شہر میں موجود ہے، دوسری خبر یہ کہ ہرقل مر گیا ہے ،تیسری خبر یہ کہ کمک کا دور دور تک نام و نشان نہیں اور فوج کے لوگ برجیوں پر چڑھ چڑھ کر اس طرف دیکھتے رہتے ہیں جس طرف سے انھیں کمک کے آنے کی توقع ہے۔
سپہ سالار کو یہ خبر سن کر بڑی ہی خوشگوار حیرت ہوئی یہ خبریں باہر اس طرح نکلی اور سپہ سالار تک پہنچی کہ ایک کشتی قلعے کے دروازے کی طرف آئی جو دریا میں کھلتا تھا یہ ماہی گیروں کی کشتی تھی جو اتفاق سے نیل کے مغربی کنارے کے قریب آ گئی وہاں جو مجاہدین موجود تھے انہوں نے کشتی کو روک لیا اور پوچھا کہ شہر کے اندر کیا حال ہے؟ ماہی گیروں نے انہیں یہ خبر سنا دی اور مجاہدین نے انہیں چھوڑ دیا۔
سپہ سالار نے اسی وقت تمام سالاروں کو بلایا اور انہیں یہ خبر سنا کر کہا کہ اب توقع رکھی جا سکتی ہے کہ رومی فوج کا حوصلہ مزید کمزور ہوجائے گا ،رومی فوج کے جرنیل اپنے بادشاہ کی خوشنودی کی خاطر ہی لڑا کرتے تھے اور ان کا بادشاہ مر گیا تھا اس کے برے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے۔۔۔ عمرو بن عاص نے سالاروں سے کہا۔۔۔ کہ کمک آئے گی ہی نہیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ہرقل کو مصر کی یہ خبر پہنچے کے مسلمان بابلیوں تک پہنچ گئے ہیں اور وہ کمک نہ بھیجے۔
مرنے سے پہلے اس نے کمک بھیجنے کا حکم دے دیا ہوگا لہذا ہمیں بابلیون سر کرنے میں مزید جوش و خروش پیدا کرنا ہوگا۔
ہرقل کی موت کے متعلق بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مارچ 641عیسوی میں مرا تھا، لیکن مستند تاریخ 11 فروری 641عیسوی ہے۔
ہرقل سلطنت روم کا آخری جنگجو اور جابر بادشاہ تھا وہ زندہ و سلامت تھا تو روم کی طاقت بھی سلامت تھی یہ تو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا جوش ایمان تھا کہ ہرقل کو پے در پے شکست دی تھی لیکن سپہ سالار عمرو بن عاص اور امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہا کرتے تھے کہ رومی کسی بھی وقت قدم جماکر جوابی یلغار کر سکتے ہیں۔ یہ تو وہ سانپ تھا جو مرتے مرتے بھی ڈس جاتا تھا۔
بہرحال اللہ تعالی نے مجاہدین کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کی کامیابی کے راستے کھول دیے تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ اللہ نیکو کار بندوں کے ساتھ ہے۔
عمرو بن عاص کو تو یہ اطلاع ملی تھی کہ ہرقل مر گیا ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کی موت کے بعد بزنطیہ میں کیا صورتحال پیدا ہوگئی تھی ،انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ملکہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو الگ اور خفیہ پیغام بھیجا ہے اور یہ پیغام اپنا اثر دکھائے گا۔
پہلے اس پیغام کی بات ہو جائے تو بابلیون کے اندر کی کیفیت کا پتہ چل جائے گا ،کسی بھی مورخ نے ملکہ مرتینا کے پیغام کا پورا متن نہیں لکھا اس کا لب لباب یا اختصار لکھا ہے۔ اس پیغام سے صاف پتہ چلتا تھا کہ ملکہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو اپنے حسن کا اور انعام واکرام کا اسیر بنا رکھا تھا، تھیوڈور اس کا مدح سرا ہی نہیں اس کا غلام بنا ہوا تھا۔
مرتینا نے اسے لکھا تھا کہ شاہ ہرقل کی زندگی کا اب کچھ پتہ نہیں کیونکہ اس کی صحت تیزی سے گزر رہی ہے اور وہ روز بروز نڈھال ہوتا جا رہا ہے، اس نے لکھا کہ تم جانتے ہو کہ میں اپنے بیٹے ہوقلیوناس کو سلطنت کے تخت پر بٹھا کر تاج اس کے سر پر رکھونگی ۔
ضروری ہے کہ عرب کے ان مسلمانوں کو مصر سے نکالو پھر میں یہ کہنے کے قابل ہو جاؤں گی کہ شاہ ہرقل نے تو شکست تسلیم کر لی تھی لیکن میرے بیٹے نے شکست کو فتح میں بدل دیا ہے ۔ یہ خیال رکھنا کسی قیمت پر بابلیون مسلمانوں کے ہاتھ نہ چلے جائے ۔ تم جانتے ہو کہ میں اس کے عوض تمہیں کیا دونگی، بتانے کی ضرورت نہیں اتنا بتا دیتی ہوں کہ تم حیران رہ جاؤ گے، یہ بھی بتا دیتی ہوں کہ میری یہ بات اور یہ خواہش پوری کر دو تو تمہیں سلطنت روم کی ساری فوج کا کمانڈر بنا دوں گی اور مصر میں تمہیں وہی حیثیت حاصل ہوگی جو مقوقس کی تھی تم مصر کے حکمران ہو گے۔
بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ مرتینا نے اس پیغام میں کچھ رومانی باتیں بھی لکھی تھی، اور یہ بھی کہ مرتینا تھیوڈور کے لیے بزنطیہ سے حسین ترین اور نوخیز دو تین لڑکیاں بھیجے گی ۔ مختصر یہ کہ مرتینا نے جنرل تھیوڈور کو یہ کہا تھا کہ وہ مصر سے مسلمانوں کو نکالے اور اس کے عوض مرتینا نے تھیوڈور کے لئے ایسی کشش اور دلکشی پیدا کردی تھی جو انسان کو دنیا میں ہی جنت دکھا دیا کرتی ہے۔
یہ پیغام ملتے ہی تھیوڈور میں بے پناہ جوش اور جذبہ پیدا ہو گیا تھا اس نے اپنے ماتحت جرنیلوں اور دیگر کمانڈروں کو بلا کر ایک تو جذباتی انداز سے بھڑکایا پھر فوجی نقطہ نگاہ سے انہیں بڑے سخت احکام دیے اور کہا کہ یہ روم کی عزت و آبرو کا سوال نہیں بلکہ ہر رومی کے ذاتی وقار کا مسئلہ ہے۔ تصور میں لایا جاسکتا ہے کہ تھیوڈور نے بابلیون کو مجاہدین اسلام سے بچانے کے لیے کیا کیا جتن کئے ہونگے۔
جب ہرقل کی موت کی اطلاع بابلیون پہنچی تو اس کے ردعمل کے طور پر یہ توقع تھی کہ سب کے حوصلے پست ہوجائیں گے لیکن تھیوڈور نے ساری فوج کو اکٹھا کرکے ایسے پرجوش طریقے سے خطاب کیا کہ ہر فوجی کو بھڑکا دیا اس نے کہا کہ شکست کا ذمہ دار سب سے پہلے مقوقس تھا ،اس کے بعد ہرقل اب دونوں نہیں ہیں تو یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ جن شکستوں کی ذمہ دار وہ دونوں تھے انہیں ہم فتح میں بدل دے سلطنت روم ہرقل کی نہیں بلکہ تمہاری ہے۔
تھیوڈور کے اس خطاب کے صحیح الفاظ تاریخ میں نہیں ملتے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے فوجیوں اور شہریوں میں بےپناہ ولولہ اور جذبہ پیدا کردیا تھا اب وہ اس جنگ کو ذاتی جنگ سمجھنے لگا تھا۔
مستند مؤرخوں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بزنطیہ میں ہرقل کی موت کے بعد کیا صورتحال پیدا ہوگئی تھی پہلی بات تو یہ تھی کہ ہرقل کو مرتینا نے طبیب کے ہاتھوں زہریلی دوائیاں دلوا دلوا کر مروایا تھا ۔
طبیب نے صحیح اندازہ لگایا تھا کہ ہرقل ڈیڑھ یا زیادہ سے زیادہ دو مہینوں بعد مر جائے گا اس کا اندازہ صحیح نکلا۔
بزنطیہ میں صورتحال کچھ اس طرح بن گئی کہ جونہی ہرقل مرا ملکہ مرتینا نے اعلان کردیا کہ اس کا بیٹا ہرقلیوناس ہرقل کا جانشین ہے اور یہ فیصلہ ہرقل نے مرنے سے پہلے کر دیا تھا ۔حقیقت یہ تھی کہ ہرقل نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا مرنے سے پہلے مسلسل تین یا چار دن وہ بے ہوشی میں پڑا رہا تھا اور ایک رات ملکہ نے دیکھا کہ وہ مرا پڑا ہے ،وہ رات بے ہوشی یا نیند میں مر گیا تھا۔
ملکہ مرتینا کے اس اعلان کو سنتے ہی ہرقل کے بڑے بیٹے قسطنطین نے ہنگامہ برپا کردیا وہ کہتا تھا کہ ہرقل نے اسے کہہ دیا تھا کہ اس کی موت کے بعد وہ یعنی قسطنطین جانشین ہو گا ۔ وہ کہتا تھا کہ ہرقلیوناس نوعمر ،ناتجربہ کار، اور سلطنت روم کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لیے بالکل ہی نا اہل ہے، اس صورتحال میں جب مسلمانوں نے رومیوں کو شام سے دھکیل باہر کیا ہے اور مصر کے اتنے بڑے حصے پر قابض ہوگئے ہیں کوئی ایسا حکمران ہونا چاہیے جو فوجی امور کی سوجھ بوجھ ہی نہیں بلکہ تجربہ رکھتا ہو اور انتظامی امور کو بھی سنبھال سکے۔
فوج کے جرنیل اور شہری انتظامیہ کے حاکم جانتے تھے کہ ہرقلیوناس کو اس صورتحال میں تخت پر بٹھانا بہت بڑی اور بڑی ہی خطرناک غلطی ہے، اس کے لئے قسطنطین ہی موزوں تھا لیکن یہ جرنیل اور انتظامیہ کے چھوٹے بڑے حاکم دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ ملکہ مرتینا کے حامی تھے اور باقی قسطنطین کی حمایت کرتے تھے، اس طرح فوج اور شاہی محل میں دھڑے پیدا ہوگئے جو جانشینی کے مسئلے پر ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے، قسطنطین تو کسی قیمت پر تخت و تاج نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ چونکہ بڑا بیٹا تھا اس لیے بھی تخت کا وارث وہی تھا۔ ملکہ مرتینا اسے قبول نہیں کر رہی تھی۔
تاریخ میں یہ بھی واضح ہے کہ ھرقل زیادہ نفری کی تازہ دم کمک تیار کرنے اور فوراً مصر بھیجنے کا حکم دے دیا تھا ،کمک بالکل تیار ہو گئی تھی لیکن ابھی روانہ ہوئی تھی کہ ہرقل مر گیا قسطنطین نے فوراً حکم دیا کہ کمک کو مصر بھیجنے کے لئے جہاز تیار کیے جائیں۔ ملکہ مرتینا نے اس حکم پر یہ اعتراض کیا کہ قسطنطین خود اس کمک کے ساتھ جائے وہ جواز یہ پیش کرتی تھی کہ قسطنطین چونکہ میدان میں قیادت کا تجربہ رکھتا ہے اس لیے وہ کمک کا صحیح استعمال کرے گا ورنہ پہلے والے جرنیل اس کمک کو بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مروا دیں گے۔
قسطنطین جانتا تھا کہ اس وقت ملکہ مرتینا کو مصر کا کوئی خیال نہیں اس کی تمام تر دلچسپیاں اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھانے پر مرکوز ہے وہ بزنطیہ سے غیر حاضر نہیں ہونا چاہتا تھا۔
حکم میرا چلے گا۔۔۔ملکہ مرتینا نے اعلان کردیا۔۔۔۔یا میرے بیٹے کا چلے گا۔ قسطنطین فوج کا کمانڈر ہے وہ مجھ سے یا میرے بیٹے سے حکم لے اس کے لیے شاہی حکم یہ ہے کہ کمک لے کر مصر کو روانہ ہوجائے جانشینی کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
قسطنطین جانتا تھا کہ اس کی پشت پناہی میں جو لوگ ہیں وہ ایک محاذ پر متحد ہوچکے ہیں اور اسے یہ پشت پناہی ملتی رہے گی۔
ہوا بھی یہی اس کے حامی جرنیل اور اس سے نیچے کے عہدوں کے فوجی افسر اور شہری انتظامیہ کے بڑے حاکم اور شاہی خاندان کے کچھ افراد اس کی حمایت میں سامنے آگئے۔ اور صحیح معنوں میں انھوں نے متحد محاذ بنا لیا یہاں تک کہ مصر کی شکست کو اور مجاہدین اسلام کی پیش قدمیوں کو نظرانداز کردیا اور اولیت اور اہمیت صرف اس مسئلہ کو دینے لگے کہ تخت کا وارث قسطنطین کو ہی بنانا ہے۔
یہ تو وہ فوجی اور شہری حاکم تھے جو حقیقت پسند تھے اور سلطنت روم کا وقار بحال کرنا چاہتے تھے اور سلطنت کی توسیع بھی ان کے پیش نظر تھی بجا طور پر وہ قسطنطین کو ہی اس قابل سمجھتے تھے کہ اس صورتحال کو وہ سنبھالنے کی اہلیت اور تجربہ رکھتا ہے۔ عمر کے لحاظ سے قسطنطین ادھیڑ عمری کی آخری اسٹیج تک پہنچ چکا تھا جہاں انسان کی عقل و دانش مزید تیز ہوجاتی ہے اور وہ گزشتہ زندگی کے اچھے برے تجربات سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
دوسری طرف ملکہ مرتینا نے اپنے بیٹے کے حامی خرید رکھے تھے خزانہ اس کے ہاتھ میں تھا اور شاہی حرم پر اس کا حکم چلتا تھا اس لئے اس نے یہ دونوں چیزیں یعنی زرو جواہرات اور حسین و جمیل لڑکیاں بے دریغ استعمال کر کے چند ایک جرنیلوں اور شہری حاکموں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا اب وقت آگیا تھا کہ یہ فوجی اور شہری حاکم انعام و اکرام کا حق ادا کریں، جو انہوں نے کیا اور محاذ بنا کر قسطنطین کے حامیوں کے خلاف مورچہ بند ہوگئے۔
شاہی حکم تو معطل ہی ہو گئے ،کمک روانگی کے حکم کے انتظار میں ہی بارکوں میں بیٹھی رہی دونوں دھڑوں کے جرنیلوں نے اپنے اپنے دستوں کو الگ کر لیا اور صورتحال خانہ جنگی والی پیدا ہو گئی۔
اس صورتحال میں کمک کو بھی جرنیلوں نے تقسیم کرلیا اور یہ بات ہی ختم ہو گئی کہ مصر کو کمک بھیجنی ہے ۔
کون نہیں سمجھ سکتا کہ جہاں اس طرح دھڑے بندی شروع ہوجائے اور یہ کشمکش اور چپقلش دونوں دھڑوں کو مرنے مارنے تک پہنچا دے تو وہاں کیسی تباہی آتی ہے۔ سارا سرکاری نظام ہی جام ہو کر رہ گیا ملکہ مرتینا کی عیاریاں عروج پر پہنچ گئی۔
قسطنطین سلطنت روم کے معاملے میں مخلص تھا وہ دل و جان سے چاہتا تھا کہ یہ کشمکش ختم ہوجائے ۔ ملکہ مرتینا نے یہ چال بھی چلی کے تین چار بڑے پادریوں کو قسطنطین کے پاس بھیجا کہ اسے قائل کرے کہ وہ تمام تر فوج کا کمانڈر انچیف بن جائے اور تخت پر ہرقلیوناس بیٹھے، بے شک تمام امور قسطنطین اپنے ہاتھ میں رکھے۔
پادری قسطنطین کے پاس گئے اور مذہب کے نام پر اسے قائل کرنے لگے، قسطنطین نے کہا کہ اسے اگر یقین ہوتا کہ ہرقلیوناس کو تخت کا وارث قرار دینے سے سلطنت روم کے استحکام کو فائدہ پہنچے گا تو وہ اپنے حق سے دستبردار ہو جائے گا ۔ پادریوں نے مزید دباؤ ڈالنا شروع کردیا اور غالبا کسی پادری نے اسے کوئی توہین آمیز بات کہہ دی۔
میں آپ لوگوں کا احترام کر رہا ہوں۔۔۔ قسطنطین نے کہا۔۔۔ لیکن آپ مجھے ڈرا رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں کیا آپ میں اتنی سی بھی عقل و دانش نہیں کہ ہرقلیوناس کے اخلاق اور عقل کو جانتے ہوئے اسے تخت کا وارث بنا رہے ہیں، لیکن آپ مجبور ہیں کیونکہ آپ کے اندر مرتینا کا دیا ہوا خزانہ بول رہا ہے۔ اور آپ سب پر ان حسین و جمیل لڑکیوں کا سحر طاری ہے جو مرتینا آپ کو پیش کرتی رہی ہے۔ پیشتر اس کے کہ میں آپ کو کلیسا سے بے دخل کردوں یہاں سے چلے جائیں۔
ان پادریوں کے ضمیر مجرم تھے اس لیے وہ خاموشی سے چلے گئے۔
قسطنطین نے اب ایک بادشاہ کی حیثیت سے حکم دیا کہ کمک فوراً تیار کرکے مصر بھیجی جائے ،لیکن اس کے حکم کا وہی حشر ہوا جو ہوا میں چلائے تیر کا ہوتا ہے ،اس کے حامی جرنیلوں نے اسے بتایا کہ کمک تقسیم ہوچکی ہے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جو فوج قسطنطین کے حق میں ہے اس میں سے کمک بھیجی جائے ورنہ حامی فوج کی نفری بہت کم رہ جائے گی اور مرتینا کی حامی فوج اپنی طاقت سے تخت پر قابض ہو کر ہرقلیوناس کو روم کا بادشاہ بنا دے گی۔
یہ ایک بہت بڑا کرم تھا جسے اللہ تعالی نے مجاہدین اسلام کو نوازا تھا ،اور یہ بہت بڑی لعنت تھی جو اللہ تعالی نے رومیوں پر نازل کی تھی ،اللہ تبارک وتعالی اپنا یہ وعدہ بھی پورا کر رہا تھا کہ تم میں سے صرف دس ثابت قدم رہنے والے اور ایمان والے ہوئے تو ایک سو پر غالب آئیں گے اور سو ہوئے تو ایک ہزار پر غلبہ حاصل کریں گے ، مطلب یہ کہ اللہ ثابت قدم رہنے والے مومنین کی اتنی مدد کرتا ہے کہ معجزہ رونما ہوتے ہیں۔
رومی شہنشاہیت کے ایوانوں میں جو صورت حال پیدا ہوگئی تھی یہ مجاہدین کے لئے ایک معجزے سے کم نہ تھی ، وہاں تو مجاہدین کو مصر سے نکالنے والے رومی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔
*=÷=÷=÷=÷=÷=÷۔=÷=÷*
سپہ سالار عمرو بن عاص کو بالکل ہی معلوم نہ تھا کہ بزنطیہ میں یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور کمک کا خطرہ بالکل ہی ختم ہوگیا ہے۔ سپہ سالار تو یہ پلان بنا رھے تھے کہ کس طرح خندق عبور کر کے قلعے پر یلغار کی جائے ،لیکن ممکن نظر نہیں آتا تھا رومیوں نے منجیقیں باہر لگا رکھی تھیں اور تیرانداز درختوں میں چھپے ہوئے تیروں کی بوچھاڑ پھینک رہے تھے۔
ملکہ مرتینا نے (تاریخ کے مطابق) جنرل تھیوڈور کو ایک پیغام اور بھیجا اس میں مرتینا نے شاہی محل کی تمام صورت حال لکھی اور اسے بتایا کہ کسی بھی وقت یہاں خانہ جنگی ہو سکتی ہے، خانہ جنگی ہو یا نہ ہو یہ صاف نظر آرہا ہے کہ ہرقلیوناس کو تخت کی وراثت نہیں مل سکے گی ،مرتینا نے لکھا کہ اپنے تمام ذرائع اور وسائل ہوشمندی سے استعمال کرو اور مسلمانوں کو وہاں سے نکالو، مرتینا کا مطلب یہ تھا کہ ہو سکتا ہے ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ لوگ اس کے اور اس کے بیٹے کے خلاف ہو جائیں تو اسے اپنے بیٹے کے ساتھ پناہ لینے کے لیے مصر آنا پڑے۔
اس صورت میں وہ مصر سے خودمختاری کا اعلان کردی گی۔ اس نے تھیوڈور کو پرزور الفاظ میں لکھا تھا کہ مصر محفوظ رہنا چاہیے اور وہاں سے ہماری بادشاہی کی ابتدا ہوگی اور جو فوج وہاں موجود ہے وہ ہماری اپنی ہوگی۔
محمد يحيٰ سندھو
ہرقل نے بزنطیہ میں مقوقس پر غداری کا الزام لگا کر بالکل ٹھیک کہا تھا کہ مصر میں ایک لاکھ رومی فوج موجود ہے، جس میں سے صرف بارہ ہزار کو لڑایا گیا ہے، اگر عقل مندی اور دیانتداری سے اس فوج کو استعمال کیا جاتا تو آٹھ دس ہزار نفری کے لشکر کو مصر میں ہی کچلا اور مسلا جاسکتا تھا۔
یہ صحیح ہے کہ مصر میں ایک لاکھ رومی فوج موجود تھی لیکن یہ فوج مختلف مقامات پر بکھری ہوئی تھی اور ان میں جو مجاہدین اسلام کے مقابلے میں آئی تھی اس میں سے ہزاروں کی تعداد میں کٹ گئی تھی۔ تھیوڈور نے مرتینا کے اس دوسرے پیغام کے مطابق اپنے دفاعی پالان میں رد و بدل کیا ایک تو اسے یہ پتہ چل گیا کہ بزنطیہ سے کمک نہیں آئے گی۔ وہ کسی دوسرے مقام سے کمک نہیں منگوا سکتا تھا کیونکہ بابلیون مجاہدین کے محاصرے میں تھا دریائی راستہ بھی مجاہدین کی موجودگی میں محفوظ نہیں تھا۔
ایک روز مجاہدین نے دیکھا کہ رومی منجیقیں قلعے کے اندر لے جارہے ہیں اور تیرانداز دستے بھی قلعے کے اندر چلے گئے ہیں۔ دروازے بند ہوگئے سپہ سالار عمرو بن عاص دیکھتے رہے اور ان کے دیکھتے ہی دیکھتے منجیقیں قلعے کی دیواروں پر پہنچا دی گئیں اور وہاں سے پھر سنگ باری شروع ہوگئی۔
ایک بات جو پہلے بتا دینے والی تھی وہ اب بتائی جا رہی ہے، چونکہ قسطنطین سلطنت روم کے حق میں مخلص تھا اور اپنے شاہی خاندان اور سلطنت کا وقار بحال کرنے کی کوشش میں مصروف تھا ،اس لئے وہ دیکھ رہا تھا کہ اس صورتحال پر کس طرح قابو پایا جاسکتاہے ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ ہرقل کا بنایا ہوا اسقف اعظم قیرس قسطنطین کو یاد آیا لیکن ہرقل نے اس پر بھی بے وفائی اور مقوقس کا ساتھ دینے کا الزام لگا کر جلا وطن کر دیا تھا ۔اس کے لئے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اسے بیڑیاں اور ہتھکڑیاں لگاکر جلاوطن کیا جائے بلکہ اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ سلطنت روم سے نکل جائے۔
تاریخ میں یہ واضح نہیں کہ قسطنطین کو معلوم تھا یا نہیں کہ جلاوطنی کے بعد قیرس کہاں چلا گیا ہے؟
تاریخ میں لکھا ہے کہ قسطنطین نے اپنا ایک دانشمند ایلچی قیرس کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ شاہ ہرقل مر چکا ہے اور وہ یعنی قسطنطین اس کی جلاوطنی منسوخ کرتا ہے ،اور وہ فوراً بزنطیہ آ پہنچے۔
قسطنطین نے ایلچی کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ قیرس کو قائل کر کے واپس لانا ہے۔ پھر آگے مورخ لکھتے ہیں کہ قیرس کا سراغ مل گیا تھا اوروہ بزنطیہ آ گیا تھا ،لیکن یہ بعد کی بات ہے، پہلے ہم اس سے پہلے کے واقعات سناتے ہیں۔
بابلیون کے باہر اب جو کیفیت تھی وہ اس طرح تھی کہ جب رومی منجیقیں اور تیر انداز قلعے کے اندر چلے گئے تو مجاہدین آگے بڑھ کر خندق کو دیکھنے لگے تیر اندازوں کی موجودگی میں وہ خندق کو دیکھ ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ تیر موسلا دھار مینہ کی طرح آتے تھے۔
مجاہدین یہ دیکھنے کو آگے بڑھے کہ خندق عبور کی جا سکتی ہے یا نہیں۔
وہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رومیوں نے خندق کو ناقابل عبور بنا دیا تھا اس میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا لیکن تمام تر خندق خار دار تاروں کے گچھوں سے سے بھری پڑی تھیں، ان گچھوں کے علاوہ خندق میں لوہے کی نوکیلی سالاخیں گاڑھی ہوئیں تھیں۔ اگر خندق میں پانی ہوتا ، خواہ پانی سے خندق لبریز ہوتی تو تیر کر اسے عبور کیا جا سکتا تھا۔لیکن رومیوں نے خندق کو خار دار تاروں اور نوکیلی سلاخوں سے بھر دیا تھا۔ اور کوئی انسان خندق میں قدم رکھنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا۔
محاصرے کو تقریبا آٹھ مہینے گزر گئے تھے مجاہدین کے لشکر میں مایوسی اور بددلی کے کوئی آثار نہیں تھے۔
لیکن سپہ سالار اور دیگر سالار بے تاب و بے قرار ہو تے جا رہے تھے۔ خندق اتنی چوڑی تھی کہ اسے اندرونی رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے عبور کرنے کی سوچی بھی نہیں جاسکتی تھی۔ پھر بھی سب اپنا اپنا دماغ لڑا رہے تھے کہ خندق عبور کرنی ہی کرنی ہے۔
*=÷=÷=÷==÷=÷=÷۔=÷=÷=÷*
اب دیکھئے گوشت پوست کا ایک انسان کیا موجزے کر کے دکھاتا ہے ، یہ تھے زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ اس مرد مجاہد کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے ۔ زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔
ان کا شمار عرب کے بہادر ترین افراد میں ہوتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا تھا ۔ ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔
زبیر بن عوام نے بابلیوں کے محاصرے میں جب دیکھا کہ خندق عبور کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تو ایک رات انہوں نے چند مجاہدین کو ساتھ لیا اور چار پانچ درختوں کے بڑے بڑے ٹہنیں کٹوائے پھر یہ ٹہن شاخوں اور پتوں سمیت گھسیٹ کر خندق تک لے گئے اور خندق میں پڑی ہوئی خار دار تاروں کے گچھے اور نوکیلی سلاخوں پر اس طرح پھینکنے شروع کیئے کہ اگلے کنارے تک ٹہن پہنچ گئی۔
اس طرح انھوں نے خندق پر پڑے ہوئے ٹہوں پر چلتے چلتے اور ٹہن پھینکے اور خندق کے اوپر سے گزرنے کا اچھا خاصا راستہ بنالیا۔
اسی رات انہوں نے مجاہدین کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور ان سے یوں خطاب کیا۔۔۔۔۔
یاد کرو خالد بن ولید کے وہ کارنامے جو انہوں نے دمشق میں کر دکھائے تھے ،یاد کرو سعد بن ابی وقاص کی وہ شجاعت جو انہوں نے مدائن میں دکھائی تھی، اور نہاوند میں نعیم بن مقرن کی بہادری یاد کرو، تم میں کون ہے جو شجاعت اور جانبازی میں ان مجاہدین سے پیچھے رہنا چاہتا ہے؟،،،،،،،،،، کیا تم میں کوئی بھی نہیں جو اللہ کی راہ میں سرفروشی کے جذبے سے سرشار نہ ہو؟
ہم ہیں۔۔۔۔ تمام مجاہدین کی آواز اٹھی۔۔۔ ہم اللہ کی راہ کے جانباز اور سرفروش ہیں۔ ہم سے تو کونسا کارنامہ کروانا چاہتا ہے۔
میں اللہ کی راہ میں اپنی جان پیش کرتا ہوں۔۔۔۔ زبیر بن عوام نے کہا۔۔۔ اللہ میری اس قربانی کو مسلمانوں کی فتح کا سبب بنائے۔
زبیر بن عوام نے اتنی سی بات کہہ کر مجاہدین کو جوش اور جذبے کے شعلے بنا دیا۔ وہ اب پوچھ رہے تھے کہ کرنا کیا ہے۔
لشکر میں ڈسپلن ایسا تھا کہ کوئی سالار ایسی کاروائی جو زبیر کرنے لگے تھے اپنے طور پر نہیں کرتا تھا۔ سپہ سالار کو پہلے اپنا پورا پلان بتاتے تھے پھر وہ کارروائی کی جاتی تھی۔
زبیر سپہ سالار عمرو بن عاص کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ انہوں نے قلعے پر یلغار کے لئے مجاہدین کا ایک پورا دستہ تیار کر لیا ہے، اور پھر اپنا پلان بتایا۔
عمرو بن عاص تو خطرہ مول لینے میں ہی شہرت رکھتے تھے ،انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ بابلیون کا قلعہ سر کرنا ہے تو کوئی بہت ہی بڑا خطرہ مول لینا پڑے گا۔ وہ زبیر بن عوام لے رہے تھے۔
سپہ سالار نے سالار زبیر کو اجازت دے دی۔ زبیر بن العوام جب واپس اس جگہ گئے جہاں انہوں نے خندق پر درختوں کے ٹہن پھینکے تھے، وہاں پہلے سے زیادہ مجاہدین اکٹھے ہوگئے تھے وہ سب اپنی جان پیش کرنے آئے تھے اور بے تاب تھے کہ انھیں بتایا جائے کرنا کیا ہے۔
سالار زبیر نے ایک دستے کی نفری الگ کرلی اور بتایا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اور کیسی قربانی دینی ہوگی۔ ان کا پلان ایسا تھا جس میں شہادت یقینی نظر آتی تھی۔
سالار زبیر کی ہدایات کے مطابق مجاہدین نے سیڑھیاں اکٹھا کر لیں اور دو دو
.jpeg)
Comments
Post a Comment