اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر57

 



نالہ چوڑا بھی تھا اور گہرا بھی، اس وقت یہ پانی سے لبریز تھا اس پر لکڑی کے دو پل تھے جو ایک دوسرے سے دور دور تھے،چند ایک مجاہدین اس پلان کے مطابق جو سپہ سالار کے سامنے زبیر بن العوام نے بنایا تھا تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نالے میں اتر گئے ان کے پاس لکڑی کاٹنے والے اوزار تھے۔ انہوں نے نالے کے اپنی طرف والے کنارے سے پل کے ستونوں کو کاٹنا شروع کر دیا لیکن پورے کا پورا نہ کاٹا بلکہ بہت کمزور کردیا پھر درمیان والے دو ستونوں کو اسی طرح کاٹ کر بہت کمزور کردیا ، یہ کام آسان نہیں تھا پانی کے بہاؤ میں اپنے آپ کو ایک جگہ رکھنا محال ہو رہا تھا۔ بہرحال مجاہدین نے وہ کام کردیا جو زبیر بن العوام نے بتایا تھا۔

مجاہدین نالے سے نکل آئے۔

گزشتہ رات مجاہدین نے رومیوں کے باہر رہنے والے دستوں پر پتھراؤ کیا تھا اور تیر بھی برسائے تھے اس لئے رومی اس صبح جلدی باہر آگئے اور ان کے انداز سے صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ غصے میں ہیں، مجاہدین تو فجر کی نماز کے بعد ہی تیار تھے انہیں معلوم تھا کہ آج صبح کی تیاری پہلے دنوں سے بہت ہی مختلف ہوگی۔

رومی فوج ہر صبح باہر آتی تھی اور نالے کے پاس آکر مجاہدین پر حملہ کر دیتی تھی، اس صبح رومیوں نے پہلی بار یہ حرکت کی کہ وہ للکارتے ہوئے اور طعنہ آمیز نعرے لگاتے ہوئے آرہے تھے، ان میں گھوڑ سوار بھی تھے اور پیادے بھی، وہ تو بڑے جوش و خروش سے دونوں پلوں سے گزرتے آرہے تھے، تمام دستوں کو نالے کے پار آکر لڑائی کی ترتیب میں ہونا تھا اور پھر لڑائی شروع ہونی تھی۔ سالار زبیر بن العوام اور ان کے ساتھ چند ایک مجاہدین ایک طرف چھپے ہوئے پلوں کو دیکھ رہے تھے ، پل ابھی سلامت کھڑے تھے۔

کم و بیش تین ہزار رومی گھوڑ سوار اور پیادے پلوں سے گزر آئے اور پل ابھی تک کھڑے تھے۔

سالار زبیر پریشان ہونےلگے انہوں نےیہ سوچا تھا کہ تین ہزار رومی ادھر آ جائیں اور پھر ان کی تجویز زیر عمل آئے، لیکن رومی چلے ہی آ رہے تھے اچانک پلوں پر جو سوار اور پیادے گزر رہےتھے وہ رکنےلگے اور کچھ گھبرانے بھی لگے،ایک شور سنائی دیا کہ پل ہل رہا ہے، وہ سوچ ہی رہے تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے کیا زلزلہ آیا ہے ، پل وزن سے بڑی زور سے ہلا اور بیٹھ گیا ، جتنے سوار اور پیادے پل کے اوپر تھے وہ نالے میں جا پڑے، پیچھے رومی ہجوم کی صورت میں آگے والوں کو دھکیلتے آ رہے تھے ۔ان میں سے بھی کئی نالے میں گرے اور گہرے پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔

سالار زبیر کی اسکیم کامیاب ہوگئی تین ہزار یا اس سےکچھ زیادہ جو رومی فوجی آگے آگئےتھے وہ اپنے پیچھے شور سن کر مڑ مڑکر دیکھنےلگے اور ان میں سے کئی ایک نے مجاہدین کیطرف بیٹھے کردیں اور نالے میں اپنے ساتھیوں کو بہتا اور تیرتا دیکھنے لگے۔ مجاہدین اسی موقع کے انتظار میں تھے سپہ سالار کےاشارے پر مجاہدین ان پر ٹوٹ پڑے ان رومیوں کو انہوں نے سنبھلنے کا موقع نہ دیا، یوں سمجھیں کہ رومیوں کا قتل عام ہو رہا تھا۔

نالے کے پاس جو رومی دستے رہ گئے تھے وہ اپنے کٹتے اور گرتے ہوئے ساتھیوں کی کچھ مدد نہ کرسکتے تھے سوائے تیر اندازی کے یا برچھیاں پھینکنے کے، لیکن وہاں تو گتھم گتھا قسم کی لڑائی ہورہی تھی اس لئے رومیوں نے تیر اندازی اور برچھی بازی کی نہ سوچی ،وہ رومی سوار اور پیادے جو نالے میں گر کر تیر رہے تھے اور دوسرے کنارے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے ان پر مجاہدین نے تیر چلانے شروع کر دیے اور شاید ہی ان میں سے کوئی نالے سے زندہ نکلا ہوگا۔

زیادہ تر دستے تو ابھی نالے کےپاس تھے انکےساتھ دو جرنیل بھی تھے ،لیکن وہ بوکھلا گئے تھے کہ یہ ہوا کیا ہے، انہیں فوراً سوچ لینا چاہیے تھا کہ نالے کے پار آنا ان کے لیے مشکل نہیں کیونکہ یہ نالا شہر کے اردگرد نہیں بہتا تھا بلکہ صرف صدر دروازے والی طرف سے شہر کے ساتھ ساتھ گزرتا آگے نکل جاتا تھا ،کچھ دور پیچھے اور کچھ دور آگے لکڑی ہی کے دو پل اور تھے رومی فوراً ادھر چلے جاتے اور پلوں سے گزر آتے لیکن وہ تو جیسےسوچنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے۔ آخر کسی کو ان پلوں کا خیال آ ہی گیا، رومی دستے دو حصوں میں بٹ کر ان دونوں محفوظ پلوں کی طرف چل پڑے ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ ان پر منجنیقوں سے پھینکے ہوئے پتھر آنے لگے۔

گزشتہ رات کی اسکیم میں عمرو بن عاص اور زبیر بن العوام نے یہ بھی شامل کیا تھا کہ ان محفوظ پلوں کے قریب منجنیقیں لگا دی جائیں گی ،ان دونوں پلوں کو سلامت کھڑا رکھنا تھا کہ کامیابی کی صورت میں مجاہدین کو نالے کے پار جانا اور شہر میں داخل ہونا تھا ،رومی ان پلوں کیطرف چلےتو ان پر سنگ باری شروع ہو گئی، پتھر زیادہ وزنی نہیں پھینکے جارہے تھے کیونکہ اس طرح ایک کے بعد دوسرا پتھر پھینکنے میں زیادہ وقت لگ جاتا تھا، ذرا کم وزن کے پتھر زیادہ تیزی سے پیچھے جا رہے تھے ایک پتھر کسی ایک آدمی یا ایک گھوڑے کو لگتا تھا لیکن دہشت اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ رومی فوج ان پتھروں سے بچنے کے لئے ایک دوسرے کے پیچھے ہو رہے تھے۔

پتھر دائیں اور بائیں سے آرہے تھےپیچھے شہر کی دیوار تھی اور آگے نالا تھا اس لئے رومی دستے ایک دوسرے کو اسطرح دبانے لگے جیسے سر کے گھنے بال آپس میں الجھ جاتے ہیں ۔اگر انسان انسانوں کو دباتےتو اتنا نقصان نہ ہوتا وہاں گھوڑے بھی تھے اور ان پر ان کے سوار تھے اس قیامت خیز ہڑبونگ میں گھوڑے پیچھے بھی ہٹتے اور دائیں بائیں بھی سرکتے تھے۔ اس طرح پیادے گھوڑوں کے درمیان آ کر کچلے گئے اور بعض دم گھٹنے سے مر گئے۔ وہاں کوئی اچھا بھلا آدمی گرا تو وہ گھوڑوں اور پیادوں کے پاؤں کے تلے کچلا مسلا گیا۔

مجاہدین نے اپنے کنارے پر کھڑے ہوکر اس ہجوم پر تیروں کی بوچھاڑ پھینکنی شروع کردی ،شہر کے لوگ سامنے دیوار پر کھڑےاپنی فوج کا یہ حشر دیکھ رہےتھے یہ محض بھگدڑ کا مظاہرہ تھا ،شہر کے اندر ابھی فوج موجود تھی اگر اسکے کمانڈر اپنے دماغ حاضر رکھتے تو پچھلے دروازے سے اپنے دستوں کو نکال کر باہر لے آتے اور دور کے پلوں سے گزر کر مجاہدین پر پہلوؤں سے حملہ کرسکتے تھے، لیکن وہ تو جیسے عقل کے اندھے ہو گئے تھے اور یہ اللہ کی ایک خاص مدد تھی جو اسکی ذات باری ایمان والوں کو دے رہی تھی۔

اندر والوں نے صرف یہ کیا کہ نالے کی طرف والا ایک دروازہ کھول دیا تا کہ باہر کے فوجی اندر آ سکیں۔ اس دروازے کے سامنےنالےکا موڑ آتا تھا جس سےنالا دیوار کےکچھ اور قریب ہوگیا تھا ،اس سے مجاہدین نے یہ فائدہ اٹھایا کہ اس موڑ پر اپنی طرف والےکنارے پر چلے گئے اور جو رومی اس دروازے سے اندر جانے لگتے تھے، مجاہدین ان پر تیر پھینکتے تھے، اسی طرح انہوں نے بہت سے رومیوں کو اس دروازے پر ہی رکھا کچھ تو تیر کھا کر اندر جا گرے اور کچھ تڑپتے ہوئے باہر ہی رہے اور گرتے رہے ۔

سپہ سالار عمرو بن عاص نے حکم دیا کہ دو تین منجنیقوں کو نالے کے قریب لے جا کر اس طرح پتھر پھینکے جائیں کہ دیوار کے اوپر سے شہر کے اندر گرے۔ اس حکم پر فوری طور پر عمل شروع ہو گیا بعض پتھر دیوار پر اس جگہ بھی لگتے تھےجہاں شہر کےلوگ اور فوجی کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے، اس سنگ باری سے کچھ زخمی ہوئے اور باقی وہاں سے اتر گئے ،ان لوگوں نے اور شہر پر سنگ باری نے شہر کے لوگوں میں بھگدڑ مچادی اور لوگ دوسری طرف کے دروازوں سے بھاگنے لگے۔

ایک طرف سے سالار زبیر بن العوام مجاہدین کی ایک بڑی جماعت کو ساتھ لے کر دور کے پل سے نالے سے گزر گئے۔ دوسری طرف سے سالار عبادہ بن صامت نے مجاہدین کی ایک جماعت ساتھ لی اور وہ اس طرف والے پل سے گزرے، انھوں نے اس چال کے لئے موقع موضوع دیکھ لیا تھا ،دونوں سالار بڑی ہی تیزی سے اس دروازے کی طرف آ گئے جو بعد میں کھلا تھا، مجاہدین نے اس طرف تیر اندازی روک دی اور سالار زبیر اپنے مجاہدین کے ساتھ اس دروازے سے اندر چلے گئے۔

سالار عبادہ بن صامت بھی اسی دروازے سے اندر گئے لیکن انکے کچھ مجاہدین نے دیکھا کہ صدر دروازے سے بھی اندر جا سکتے ہیں وہ ادھر سے اندر گئے ،ان مجاہدین نے بھاگ کے اندر والےدہشت زدہ رومی فوجیوں پر حملہ کردیا اسکےساتھ ہی مجاہدین نے شہر کے دروازے کھولنے شروع کردیئے ،شہر خاصا وسیع و عریض تھا، فاصلے زیادہ تھے پھر بھی کچھ وقت بعد تین چار دروازے کھل چکے تھے۔

عمرو بن عاص نے مجاہدین کی ایک اور جماعت کو شہر میں داخل ہونے کے لئے بھیج دیا اندر گئے ہوئے دونوں سالاروں نے اعلان کروانے شروع کر دیے کہ شہری بھاگنے کی کوشش نہ کریں، انکی جان و مال کی اور گھروں کی حفاظت کی جائے گی ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ کوئی شہری اپنے فوجیوں کی مدد نہ کرے ورنہ اسے قتل کرکے اس کے گھر کو آ گ لگا دی جائے گی۔

اس لڑائی کا تفصیلی ذکر کرنے والے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مصر کے قبطی عیسائی پہلے ہی کہتے تھے کہ مسلمان جس طرح فتح پر فتح حاصل کرتے آرہے ہیں اس سے یہی نظر آتا ہے کہ یہ سارے مصر پر قبضہ کرلیں گے، بہتر یہی ہے کہ مسلمانوں کا ساتھ دیا جائے۔

یہ باتیں کرتے وہ ہرقل اور قیرس کے ظلم و ستم کو ضرور یاد کرتے تھے۔ کریون کے اندر قبطی عیسائیوں نے رومیوں کا ساتھ چھوڑ دیا، اور مجاہدین کے ساتھ تعاون شروع کردیا۔تاریخ میں ایسا واضح اشارہ بھی ملتا ہے کہ بعض شہریوں نے تلواروں اور برچھیوں سے رومی سپاہیوں کو مارنا شروع کردیا تھا۔

جنرل تھیوڈور اور دوسرے جرنیل کہیں نظر نہیں آ رہے تھے، ایک طرف سے آواز آئی کے ہمارے جرنیل پچھلے دروازے سے بھاگ گئےہیں،یہ ایک اواز کئی آوازیں بن گئیں اور سارے شہر میں خبر پھیل گئی کہ جرنیل اور دوسرے کمانڈر اپنی فوج کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، اس خبر کا یہ اثر ہوا کہ ان کے فوجی بھی بھاگنے لگے، لیکن انہیں بھاگنے نہ دیا گیا اب تمام مجاہدین اندر آ چکے تھے، انہوں نے رومیوں کو کاٹنا شروع کر دیا۔

آخر کریون پوری طرح مجاہدین اسلام کے قبضے میں آگیا ، یہ فتح ایک معجزے سے کم نہ تھی ،خود مجاہدین اور انکے سالار بھی حیران تھے کہ انہوں نے یہ فتح کس طرح حاصل کرلی ہے، رومیوں پر تو اس کا بہت ہی برا اثر پڑا جرنیل تھیوڈور نے اپنی فوج کے جو حوصلے اور جو جذبہ بڑی مشکل سے زندہ بیدار کیا تھا وہ پھر دم توڑ گیا ۔

اب اسکندریہ مجاہدین کی آخری منزل تھی لیکن بہت ہی دشوار اور خطرناک۔  مدینہ منورہ میں خوشیاں منائی جارہی تھیں ،اور بزنطیہ میں صف ماتم بچھ گئی تھی، کریون کی فتح کی اطلاع مدینہ منورہ اور بزنطیہ تقریباً ایک ھی وقت پہنچی تھی۔

مدینہ میں امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اعلان کیا تھا کہ مسجد میں اکٹھے ہوجائیں مصر کے محاذ کی خبر آئی ہے۔

لوگوں کے کان محاذوں کی خبر کی طرف ہی لگے رہتے تھے اس وقت مصر ایک ایسا محاذ تھا جو لوگوں کی دعاؤں کا مرکز بنا ہوا تھا۔ سب جانتے تھے کہ مجاہدین کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہے اور رومیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے، مدینہ کے لوگوں کو یہ بھی معلوم تھا کہ تمام بزرگ صحابہ کرام مصر پر فوج کشی کےخلاف تھے، امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سپہ سالار عمرو بن عاص کو اجازت دے دی تھی لیکن انکا ذہن بھی ایک مقام پر آکر بٹ گیا تھا۔ یہ تو اللہ کا خاص کرم تھا اور سپہ سالار عمرو بن عاص کی غیر معمولی قوت ارادی اور عسکری قابلیت کا کرشمہ تھا کہ مصر سے پیش قدمی اور فتح کی ہی خبریں آرہی تھیں۔

مصر سے جب قاصد کوئی اطلاع لے کر آتا تھا تو یہ اطلاع اگر فتح کی ہوتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو مسجد میں اکٹھا کرکے قاصد سے کہتے تھے کہ وہ پیغام سنائے۔ کریون کی فتح کا پیغام بھی لوگوں کو سنایاگیا، پھر قاصد نے زبانی بتایا کہ کریون کسطرح غیر معمولی کارنامے کرکے فتح کیا گیا ہے۔

یا اللہ میرے سارے خدشے غلط ثابت کرے۔۔۔ یہ آواز حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی۔ انہوں نے مصر پر فوج کشی کی سب سے زیادہ مخالفت کی تھی وہ کہتے تھے کہ اپنے پاس نفری بہت تھوڑی ہے اور اصل خطرہ یہ ہے کہ عمرو بن عاص ،خالد بن ولید سے زیادہ خطرہ مول لینے والے خود سر سپہ سالار ہیں، یہ سپہ سالار کہیں جاکر پورے لشکر کو یقینی موت کےمنہ میں لے جائےگا، لیکن اب حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ایک اور انتہائی مضبوط قلعےکی فتح کی خبر سنی تو دونوں ہاتھ پھیلا کر بلند آواز سے بولے۔ یا اللہ میرےسارے خدشے غلط ثابت کردے، اور میری یہ دعا بھی سن اور قبول کرلے کہ عمرو بن عاص اسکندریہ بھی فتح کر لے۔

امیرالمومنین حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ شکرانے کےنفل باجماعت ادا کیے اور پھر سب سے کہا کہ روح کی گہرائیوں سے مجاہدین کی کامیابی کی دعا کریں۔

مصر کے دارالحکومت اسکندریہ سے جب کریون کی شکست کا پیغام سلطنت روم کے دارالحکومت بزنطیہ پہنچا تو کونستانس تڑپ اٹھا، اس کے جواں سال چہرے کا اتنا اچھا رنگ پھیکا پڑ گیا، ہرقل کی بیوہ مرتینا کا بیٹا ہرقلیوناس بھی وہاں موجود تھا۔

مرتینا کو پتہ چلا کہ مصر سے قاصد کوئی پیغام لایا ہے تو وہ بھی دوڑی دوڑی پہنچ گئی تھی۔

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ کونستانس اور ہرقلیوناس مل کر حکمرانی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے ،مرتینا اب ملکہ نہیں تھی اور نہ ہی حکومت کے کاموں میں اسکا کوئی عمل دخل تھا، کریون کی شکست کی اطلاع پر مرتینا اور اس کے بیٹے ہرقلیوناس کا ردعمل ٹھنڈا ٹھنڈا سا تھا ،کونستانس کا ردعمل تو سب کو صاف نظر آ گیا تھا اس نے جرنیلوں اور مشیروں کو فوراً بلوا لیا۔

اب صرف اسکندریہ رہ گیا ہے۔۔۔ کونستانس نے جرنیلوں اور مشیروں کو پیغام سنا کر کہا۔۔۔ آپ کہیں گے کہ اسکندریہ تو بڑا ہی مضبوط قلعہ ہے اور مسلمانوں کی نفری اتنی تھوڑی ہے کہ وہ اسکندریہ نہیں لے سکیں گے، اگر آپ ایسا کہیں گے تو میں اسے ایک خوش فہمی سمجھوں گا،جنہوں نے بابلیون اور کریون جیسے مضبوط قلعہ بند شہر فتح کرلیے ہیں وہ اسکندریہ کو بھی فتح کرسکتے ہیں،اسکندریہ سے وہ بحیرہ روم عبور کر کے سیدھے بزنطیہ پر آئیں گے ۔

ایسا نہیں ہوگا۔۔۔ ایک جنرل نے کہا۔۔۔ مسلمان جہاز رانی میں صفر ہیں، انھیں جہاز رانی کا ذرا سا بھی تجربہ نہیں۔

شاہ کونستانس کا یہ خدشہ بجا ہے۔ افواج کے سپریم کمانڈر جنرل اقلینوس نےکہا۔عرب کےیہ بدوّ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں کوئی کم عقل لوگ نہیں وہ ہمارے ہی جہاز رانوں کو استعمال کریں گے قبطی بھی ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، ان میں جہاز ران بھی ہونگے وہ مسلمانوں کو بحیرہ روم پار کرا دیں گے، ہمیں اب یہ سوچنا ہے کہ اسکندریہ مسلمانوں سے کس طرح بچایا جائے، اس پیغام میں صاف لکھا ہے کہ مسلمانوں کا رخ اسکندریہ کی طرف ہے ۔

مزید کمک دی جائے۔۔۔ مرتینا نے کہا۔

تمام جرنیلوں اور مشیروں نے مرتینا کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھا جیسے انہیں وہاں مرتینا کی موجودگی پسند نہ ہو، لیکن وہ چپ رہے۔ 

مزید کمک نہیں بھیجی جاسکتی۔۔ کونستانس نے کہا۔۔ ہمیں بزنطیہ کا دفاع مضبوط کرناہے۔اور جو کمک بھیجی جاچکی ہےوہ کچھ کم نہیں۔۔جنرل اقلینوس نے کہا۔۔ ہمیں یہ حقیقت قبول کرلینی چاہیےکہ ہماری فوج لڑنے کا جذبہ کھوچکی ہے اور ہم مصر مسلمانوں کے حوالے کر چکے ہیں، پھر بھی ہمیں اس صورتحال کا سامنا کرنا، اور اس کا کوئی علاج سوچنا پڑے گا۔

میرا ایک مشورہ ہے ۔۔ہرقلیوناس بولا۔۔ کونستانس اسکندریہ چلا جائے اور خود نگرانی کرے۔

جسطرح مرتینا کا بولنا کسی کو اچھا نہیں لگاتھا اسی طرح ہرقلیوناس کے اس مشورے پر سب کے چہروں پر بیزاری کا تاثر آگیا اور کسی ایک نے بھی اس مشورے کے خلاف یا حق میں بات نہ کی،سب جانتےتھے کہ مرتینا اپنےبیٹے ہرقلیوناس کو سلطنت روم کے تخت پر بٹھانے کے جتن کر رہی تھی، اپنی اسی خواہش کی تکمیل کی خاطر اس نے ہرقل کو زہر دے کر مارا تھا اور قسطنطین کو بھی اس نے اس حکیم سے زہر دلوایا تھا جو اس کا بیماری کے دوران علاج کر رہا تھا ، وہ اب چاہتی تھی کہ کونستانس بزنطیہ سے چلا جائے اور ہرقلیوناس بزطیہ میں تخت نشین رہے۔

پہلے گزر چکا ہے کہ یہ فیصلہ بڑوں نے مل کر کیا تھا کہ کونستانس اور ہرقلیوناس ملکر حکمرانی کےفرائض سرانجام دیں، ہرقلیوناس کے اس مشورے کے پیچھے کہ کونستانس مصر چلا جائے جو ذہنیت کارفرما تھی اسے سب سمجھتے تھے اسی لئے کسی نے بھی اس کو توجہ نہ دی۔

جنرل اقلینوس نے مشورہ دیا کہ ابھی پیغام لکھوا کر اسی قاصد کے ہاتھ اسکندریہ بھیج دیا جائے، مصر میں جو رومی فوج تھی اس کا کمانڈر انچیف جنرل تھیوڈور تھا۔ 

ہرقل کا بنایا ہوا اسقف آعظم قیرس بھی یہ ذمہ داری لے کر اسکندریہ گیا تھا کہ وہ مصر کی جنگ کی نگرانی کرے گا اور کمک کی تقسیم خود کرتا رہےگا، آخر یہ طےپایا کہ جنرل تھیوڈور اور قیرس کے نام مشترکہ پیغام لکھا جائے۔

پیغام اسی وقت لکھوایا جانے لگا ۔

مختلف مؤرخوں نے اس پیغام کے مختلف حصے لکھے ہیں اور باقی پیغام کا لب لباب تاریخ کے حوالے کیا ہے، تاریخ میں اس پیغام کے جو الفاظ آج تک محفوظ ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں۔

شہنشاہ روم جنرل تھیوڈور اور اسقف اعظم قیرس سے اور دیگر تمام جرنیلوں سے مخاطب ہیں۔ کیا تم سب مر گئے ہو؟ یا زندہ لاشیں بن گئے ہو، صاف نظر آ رہا ہے کہ جس طرح تم نے بابلیون اور کریون جیسے قلعے مسلمانوں کو دے دیے اور پسپا ہوگئے،اسی طرح اسکندریہ بھی دے دو گے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتے کہ اسکندریہ گیا تو پورا مصر ہاتھ سے نکل جائے گا ،اور پھر مسلمان سیدھے بزنطیہ پر آئینگے، اسکندریہ مصر کا دل ہے اس میں بھی مسلمانوں کا خنجر اتر گیا تو نتیجہ صاف ظاہر ہے،،،،،،،،،، 

کریون سے اسکندریہ تک نیل کے ڈیلٹا کے وسیع علاقے میں اپنی فوج جگہ جگہ موجود ہے ،اور اس کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ ہے، اگر تم لوگ جانوں کی بازی لگا کر اسکندریہ کا دفاع کرو تو ان دس بارہ ہزار عربی مسلمانوں کو ڈیلٹا کی دلدل میں گم کر سکتے ہو ،یہ ذہن میں رکھ لو کہ اب مزید کمک نہیں ملے گی، یہ اس لئے کہ تم لوگوں پر اعتبار نہیں، تم اسکندریہ بھی دے بیٹھے تو بزنطیہ کے دفاع کے لئے فوج کی ضرورت ہوگی مسلمان یہاں تک آسکتےہیں، اگر اسکندریہ ہاتھ سے جاتا نظر آیا تو بندرگاہ میں اور ساحل پر جہاں کہیں بھی اپنے بحری جہاز بڑی کشتیاں اور چھوٹی کشتیاں بھی موجود ہیں سب کو آگ لگا دینا تاکہ مسلمانوں کے کام نہ آئے، یہ بھی سن لو کہ اسکندریہ سے بھاگ کر یہاں نہ آنا، یہاں کوئی تمہاری صورت دیکھنا گوارا نہیں کرے گا ،سمندر میں ڈوب مرنا،،،،،،،، اسقف اعظم قیرس کو واضح ہو کہ آپ مذہبی پیشوا ہیں آپ بلند بانگ دعویٰ کرکے یہاں سے روانہ ہوئےتھے،آپ کےلئے اور فوج کے لئے بہتر یہ ہے کہ آپ صحیح عیسائیت رائج کریں ،بنیامین کو ساتھ لیں اور قبطیوں کو فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں، انہیں بتائیں کہ شاہ ہرقل نے عیسائیت کو فرقوں میں بٹنے سے بچانے کےلئے اپنی عیسائیت رائج کی تھی، انکا اپنا ذاتی کوئی مقصد نہیں تھا، فوج کو مذہب سے ڈرائیں اور مسلمانوں کی غلامی سے بھی ڈرائیں، دس بارہ ہزار مسلمانوں کو شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں، یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ مسلمان مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں اور لڑائیاں بھی لڑرہے ہیں اور وہ بری طرح تھک چکے ہونگے ان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھائیں۔

یہ پیغام اسی وقت اسی قاصد کو دے کر روانہ کردیا گیا جو مصر سے کریون کی شکست کا پیغام لایا تھا۔ جس وقت یہ پیغام لکھوایا جا رہا تھا مرتینا اٹھ کر چلی گئی تھی، ظاہر تو یہ ہوتا تھا کہ وہ دیکھ کر چلی گئی ہے کہ اسے کوئی ذرا سی اہمیت اور توجہ ہی نہیں دے رہا، لیکن اس کے جانے کا مقصد کچھ اور تھا ،اس قاصد کو جو پیغام لایا اور پیغام کا جواب لے جا رہا تھا مرتینا بڑی اچھی طرح جانتی تھی۔ پیغام لانے لے جانے والے قاصد چند ایک ہی تھے جنہیں یہ تجربہ حاصل تھا، تقریباً تمام قاصدوں کو مرتینا نے اپنے جال میں لے رکھا تھا ،انہیں وہ بے دریغ انعام و اکرام دیا کرتی اور چوری چھپے اپنے پیغام بھیجا کرتی تھی۔

مرتینا نے بڑی تیزی سے قیرس کے نام پیغام لکھا اور ایک کپڑے میں لپیٹ کر ہاتھ میں رکھ لیا۔

قاصد پیغام کا جواب لے کر رخصت ہوا تو وہ شاہی محل سے نکلنے والے سیدھے راستے سے ہٹ کر اس طرف چلا گیا جسطرف مرتینا کا کمرہ تھا،اسے معلوم تھاکہ مرتینا قیرس کےنام کوئی نہ کوئی پیغام ضرور دے گی، وہ جب مرتینا کے دروازے کےقریب پہنچا تو مرتینا نےسرگوشی میں اسے پکارا وہ ادھر ادھر دیکھ کر بڑی تیزی سے کمرے میں چلا گیا ۔مرتینا نے اسے کپڑے میں لپٹا ہوا پیغام دے دیا جو قاصد نے اپنے کپڑوں کے نیچے چھپا لیا پھر مرتینا نے اسے انعام دیا اور وہ کمرے سے نکل گیا ۔

قاصد شہر سے کچھ دور چلا گیا تو درختوں کے ایک جھنڈ کے قریب سے اس کا راستہ جاتا تھا وہاں جا کر اس نے اپنے گھوڑے کی رفتار کم کردی اور درختوں کے جھنڈ میں چلا گیا، وہاں ایک آدمی ایک درخت کےپیچھے کھڑا تھا قاصد نے مرتینا کا پیغام اپنے کپڑوں کے نیچے سے نکال کر اس آدمی کو دے دیا اور رخصت ہو گیا۔

مرتینا اپنے خفیہ پیغام بھیجتی رہتی تھی لیکن کسی وقت کسی طرح اس کا یہ راز کھل گیا اور جنرل اقلینوس تک جا پہنچا ،پیغام لے جانے والے یہ قاصد آخر فوج کے ملازم تھے اور اقلینوس اپنی فوج کا سپریم کمانڈر تھا ،اس نے تمام قاصدوں کو خفیہ طور پر بڑی سختی سے کہا کہ جب کبھی مرتینا کسی کو قیرس یا جنرل تھیوڈور کے نام پیغام دے تو وہ اس سے لے لے اور شہر سے باہر اسے ایک آدمی ملے گا یہ پیغام اسکے حوالے کر دیں، اور پھر کبھی مرتینا سے ملاقات ہو تو اسے بتا دیں کہ اس کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ مرتینا کا یہ پہلا ایسا پیغام تھا جو راستے میں سے ہی واپس آگیا تھا قاصد خوش تھا کے اسے مرتینا سے انعام مل گیا تھا، اور اس کا سپریم کمانڈر بھی اس پر خوش ہو گیا تھا۔

اس طرح مرتینا کا پیغام بنام قیرس راستے سے ہی واپس آگیا اور جنرل اقلینوس تک پہنچ گیا۔

جنرل اقلینوس نے پیغام پڑھا ۔ 

قیرس آخر اسقف اعظم تھا اور اسکا کردار جیسا کیسا بھی تھا پھر بھی اس کا احترام لازم تھا لیکن مرتینا نے اسے یوں مخاطب کیا تھا جیسے اسکا کوئی ہم جولی بے تکلف دوست ہو۔ مرتینا نےلکھا تھا کہ تمہیں میں نے بڑی امیدوں سے مصر بھیجا تھا، اور تم بڑےاچھے وعدے کرکے گئےتھے لیکن میرے خواب ٹوٹے پھوٹے نظر آرہے ہیں،میرے لئے بزنطیہ میں حالات ٹھیک نہیں رہے ،مخالفت بڑھ رہی ہے مجھے تو صاف نظر آنے لگا ہےکہ مصر ہاتھ سے نکل گیا ہے،کیا تم ایسا نہیں کر سکتے کہ مصر کے کچھ حصےپر قبضہ کرلو اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی صلح سمجھوتہ کرلو اور مجھے بلا لو، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مجھے بتاؤ کہ کونستانس کا کیا کیا جائے۔ تقریباً تمام جرنیل اس کی حمایت میں ہو گئے ہیں اور میں تنہا رہ گئی ہوں، کوشش کرو اسکندریہ ہاتھ سے نہ جائے اور مسلمانوں کو پسپا کر دو پھر میں تمہارے پاس ہی آ جاؤں گی، جنرل تھیوڈور کو اپنے اعتماد میں رکھنا، ہم نے آخر مصر میں خودمختاری کا اعلان کرنا ہے۔

مرتینا نے اتنے کھلے اور واضح الفاظ میں یہ پیغام اس یقین اور بھروسے پر بھیجا تھا کہ کوئی قاصد اسے دھوکا نہیں دے سکتا ۔ جنرل اقلینوس نے یہ پیغام پڑھا اور کونستانس کے پاس چلا گیا، پیغام کونستانس کو دیا اس جواں سال شاہ روم نے پیغام پڑھا تو غصے اور جذبات کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔

میں آپ کے سامنے ایک نادان بچہ ہوں۔۔۔ کونستانس نے کہا۔۔۔آپ جہاندیدہ اور تجربےکار ہیں کچھ بتائیں یہ پیغام پڑھ کر کیا کیا جائے۔

جاری ہے...

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023