اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر58



میں یہ پیغام پڑھ کر ذرا سا بھی حیران نہیں ہوا ۔۔۔جنرل اقلینوس نے کہا۔۔۔ مرتینا سے یہی توقع رکھی جا سکتی ہے، اگر میں اس کا یہ پیغام نہ پڑھتا تو بھی مجھے معلوم ہے کہ یہ کس ذہنیت کی عورت ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں، ہم اس کے خلاف کچھ بھی نہیں کریں گے ،میں یہ پیغام اپنے پاس محفوظ رکھوں گا اور ہم خاموشی اختیار کیے رکھیں گے، آپ بھی بالکل خاموش رہیں جیسے آپ کو کچھ بھی علم نہیں۔

کونستانس خاموش تو ہوگیا لیکن اس کے چہرے کا تاثر بتا رہا تھا جیسے وہ اس خیال میں کھو گیا ہوکہ مرتینا بڑی ہی خطرناک عورت ہے،اور نہ جانے اس نے کیسی کیسی خوفناک سازشیں تیار کر رکھی ہوں گی، اگر کونستانس کو یہی خیال پریشان کررہا تھا تو یہ غلط نہ تھا چھوٹی چھوٹی تفصیلات لکھنےوالے مورخوں نےمرتینا کی زمین دوز سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے،جن میں سے ایک تو بےحد خطرناک اور ہیبت ناک تھی اس کا تفصیلی بیان آگے چل کر آئے گا۔ جنرل تھیوڈور کریون سے بھاگ کر سیدھا اسکندریہ پہنچا، اس شکست کو تو وہ اپنی ذاتی شکست سمجھتا تھا اسکے ذہن میں اب سلطنت روم نہیں بلکہ مرتینا تھی۔ مرتینا نے اسے لالچ دے رکھا تھا کہ وہ مسلمانوں کو مصر سے نکالے تو اسے مصر کے کچھ حصے کا یا تمام تر مصر کا فرمانروا بنا دیا جائے گا۔

جنرل تھیوڈور اسکندریہ اکیلا نہیں پہنچاتھا، کریون سے آگے نیل کے ڈیلٹا کا علاقہ شروع ہوجاتا تھا جو کچھ دشوار گزار تھا اس وسیع وعریض علاقے میں چند ایک چھوٹےبڑے شہر اور قصبے تھے ان میں چند ایک قلعہ بند تھے تھیوڈور نے ان شہروں اور قصبوں میں فوج رکھی ہوئی تھی کہ ان مقامات سے تھوڑی تھوڑی اپنے ساتھ لیتا گیا اور اسکندریہ پہنچا، یہ نفری ملا کر (تاریخ کے مطابق) اسکندریہ میں پچاس ہزار سے زیادہ فوج اکٹھی کر لی گئی۔

خاص طور پر ذہن میں رکھیں کہ مجاہدین اسلام کی تعداد پوری بارہ ہزار نہیں رہ گئی تھی ، ہر مفتوحہ جگہ پر کچھ نفری چھوڑنی پڑتی تھی ایسے ہی کریون کے انتظامات سنبھالنے کےلئے اور امن وامان بحال کرنے کےلیےخاصی نفری رکھی گئی، تاریخ میں صحیح اعداد و شمار نہیں ملتے کہ مجاہدین اسلام کی تعداد کیا تھی، اگر پہلے آئی ہوئی کمک اور سپہ سالار عمرو بن عاص کےساتھ آئےہوئےلشکر کی تعداد سامنےرکھی جائے اور پھر شہیدوں اور شدید زخمیوں کا اور پھر پیچھے رکھے جانے والے مجاہدین کا حساب کیا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ مجاہدین جب اسکندریہ کیطرف پیش قدمی کرنے لگے اس وقت ان کی تعداد پوری دس ہزار نہیں تھی ، یہ مجاہدین کا شوق شہادت اور جذبہ جہاد تھا کہ وہ اپنی تعداد کو نہیں بلکہ باطل کی ان چٹانوں کو دیکھ رہے تھے جو ان کے راستے کی رکاوٹ بن رہی تھی۔

اللہ کی رحمت کا کوئی حساب نہیں اس کی ذات باری جسے چاہے رحمت عطا کر دے اور جسے چاہے اسے محروم رکھے، لیکن یہ اللہ کا فرمان ہے کہ رحمت الہی کے لیے اپنے آپ کو حقدار ثابت کرنا ضروری ہے، معجزہ رونما نہیں ہوا کرتے بلکہ کیے جاتے ہیں، اس کے لیے ایمان کی قوت کی ضرورت ہے مجاہدین اسلام نے اپنی جان اللہ کے حوالے کر دی تھی اور اپنی جانوں کے صلے میں باطل کی شکست اور اسلام کی سربلندی چاہتے تھے۔

کریون فتح کرنے والے مجاہدین کو معلوم نہیں تھا کہ اسکندریہ کس قدر مضبوط قلعہ ہے، اسے اگر ناقابل تسخیر کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، اسکندریہ کا شہر ایسی جگہ آباد کیا گیا تھا جہاں اسے تین اطراف سے قدرتی دفاع میسر آگیا تھا۔

مجاہدین تو اسکندریہ سے واقف نہیں تھے لیکن سپہ سالار عمرو بن عاص نے یہ شہر اچھی طرح دیکھا بھالا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب عمرو بن عاص نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، ان کے اسکندریہ آنے کا واقعہ اس سلسلے کی ابتدا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ عمرو بن عاص کو اچھی طرح احساس تھا کہ اب وہ ناممکن کو ممکن بنانے جارہے ہیں، لیکن وہ اسکندریہ کو سر کرلینے کا دعوی نہیں کر رہے تھے، کچھ جاسوس مجاہدین آگے جا کر پورے اسکندریہ کو بھی دیکھ آئےتھے۔ چند ایک قبطی بھی جاسوسی کا کام کر رہے تھے ان میں جو کوئی آگےجاکر جو کچھ بھی دیکھتا وہ واپس آکر سپہ سالار عمرو بن عاص کو تفصیل سے بتاتا تھا، عمرو بن عاص کو اسکے راستے اور راستے کے علاقے اور اس علاقے کے خطرات سے واقفیت حاصل ہو گئی تھی۔

یہاں موزوں معلوم ہوتا ہے کہ اسکندریہ کا محل وقوع اور اس کا دفاع بیان کردیا جائے تاکہ اندازہ ہوجائے کہ مجاہدین اسلام صحیح معنوں میں آتش نمرود میں کود جانے کو چلے جا رہے تھے۔اس شہر کے شمال میں بحیرہ روم تھا لہذا اس طرف سے حملے یا محاصرے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ جنوب میں ایک وسیع و عریض جھیل جیسا بحیرہ مریوط تھا جو اسطرف سے اسکندریہ کو قدرتی دفاع مہیا کرتا تھا۔ اور بلاشبہ یہ ایک ناقابل تسخیر دفاعی انتظام تھا۔ مغرب میں ایک چوڑا اور گہرا نالہ گزرتا تھا جس کا نام ثعبان تھا۔ یہ کہنا تو صحیح نہیں ہو سکتا کہ اس نالے کو عبور نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ عام حالات میں لوگ اسے کشتیوں سے بھی پار کرتےتھے اور اس پر پل بھی تھے البتہ محاصرے اور جنگ کی صورت میں حملہ آور اسےعبور نہیں کرسکتے تھےکیونکہ سامنے سے تیر آتے تھے اور برچھیاں بھی آتی تھیں اور پلوں کی حفاظت کا ایسا ہی مہلک انتظام تھا۔

صرف مشرق کی ایک سمت رہ جاتی تھی جدھر سے اسکندریہ پر حملہ کیا جاسکتا تھا۔ یہی وہ راستہ تھا جو کریون سے اسکندریہ کی طرف جاتا تھا اس راستے کے دائیں بائیں دور دور تک چھوٹی بڑی قلعہ بندیاں تھیں، جنہوں نے اس راستے کو حملہ آوروں کے لیے پرخطر بنا رکھا تھا ،صرف یہی ایک سمت تھی جدھر سےاسکندریہ پر حملہ کیا جاسکتا تھا۔ جنرل تھیوڈور نے شہر کے اندر پچاس ہزار فوج اکٹھی کر لی تھی اور رسد اور کمک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، سمندر رومیوں کے قبضے میں تھا بزنطیہ سے سمندر کے راستے کمک بھی آ سکتی تھی اور رسد بھی، رسد ادھر سے نہ آتی تو رومیوں کا جس علاقے پر قبضہ تھا وہاں کی بستیوں سے اور کھیتوں سے رسد بڑی آسانی سے آسکتی تھی۔

سپہ سالار عمرو بن عاص کی قیادت میں مجاہدین اسلام کا لشکر ابھی راستےمیں تھاکہ ایک قبطی جاسوس نے آکر بتایا کہ جنرل تھیوڈور نے اسکندریہ کےاندر کی فوج کو مجاہدین کے خلاف ایسا بھڑکایا ہے کہ یہ فوج آگ بگولہ ہوکر مجاہدین کا انتظار کر رہی ہے۔ جنرل تھیوڈور نے فوج کو اکٹھا کرکے بتایاتھا کہ مسلمانوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی ہےاور وہ اس لئےکامیاب ہوتےچلے آرہےہیں کہ مصر کےاندر سے انہیں تعاون مل رہا ہے، اور مصر میں کچھ غدار موجود ہیں۔ تھیوڈور نے قبطیوں کا نام تو نہ لیا لیکن اس کا اشارہ قبطیوں کی طرف ہی تھا وہ قبطیوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتاتھا اس نے فوج سےکہاکہ سوچ لو کہ اسکندریہ ہاتھ سےنکل گیا تو پورا مصر مسلمانوں کےقبضے میں آجائےگا اور یہ دیکھ لو کہ اسکندریہ عیسائیت کا مرکز ہے اور اتنے گرجے کسی اور شہر میں نہیں جتنے اسکندریہ میں ہیں۔

اس دوران بزنطیہ کاپیغام اسکندریہ پہنچ گیا،جنرل تھیوڈور نے یہ پیغام جرنیلوں کو قیرس کو اور پوری فوج کو پڑھ کر سنایا، اس نے کہا کہ مسلمانوں کو اگر اسکندریہ میں ہی شکست دے دی گئی تو ان کا تعاقب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی انہیں یہیں قتل اور قید کردیا جائے گا۔

رومی فوج دراصل بزنطیہ کےشاہی محل کے پیغام سے بھڑک گئی تھی اور اب ہر ایک سپاہی نے جان کی بازی لگا دینے کا عہد کرلیا تھا،رومی فوجی اسکندریہ میں اپنے آپکو محفوظ سمجھتے تھے پھر جنرل تھیوڈور نے اپنی فوج کا کام یوں آسان کردیا کہ اسکندریہ کی دیواروں پر چھوٹی منجنیقیں لگا دیں اور ان کے قریب پتھروں کے ڈھیر لگا دیے۔

محاصرے کو ناکام اور پسپا کرنے کےلیے دیواروں پر تیرانداز اور برچھی باز مورچہ بند کر دیے تھے جو حملہ آوروں کو دروازوں اور دیواروں کے قریب نہیں آنے دیتے تھے، حملہ آور اگر قلعے پر یلغار کرتے تو اوپر سے ان پر تیروں کی بوچھاڑ اور برچھیاں آتی تھیں، ان سے وہی بچتا تھا جو پیچھے کو بھاگ آتا تھا۔ لیکن تھیوڈور نے دیواروں پر منجنیقیں لگا دیں جن کے پھینکے ہوئے پتھروں نے حملہ آوروں کو دور ہی رکھا تھا۔

اسقف اعظم قیرس نے اپنا محاذ کھول لیا تھا جس کا تعلق مذہب کی تبلیغ کے ساتھ تھا ۔

اس کی تفصیلات پچھلے سلسلے میں بیان ہوچکی ہیں۔ تمام بستیوں میں اس نےپادری بھیج دیےتھےلیکن مجاہدین اسلام کی پیش قدمی اور حملےایسے طوفانی تھےکہ قیرس کےاس محاذ کو خشک و خاشاک کی طرح اڑاتے چلے گئے۔

قیرس نے ایک انتظام یہ کر لیا تھا کہ دوسرے اسقف اعظم بنیامین کو جلاوطنی سے اپنے پاس اسکندریہ بلا لیا تھا ۔اسے قیرس قائل کر رہا تھا کہ وہ قبطیوں کو آمادہ کرے کہ وہ فوج میں شامل ہو جائیں، یا مسلمانوں کے دوست بن کر ان کی پیٹھ پر وار کریں۔

بنیامین اسے وہ قتل عام یاد دلا رہا تھا جو اس نے ہرقل کی شہ پر قبطیوں کا کیا تھا۔

ہرقل مر گیا ہے۔  قیرس نے بنیامین سے کہا ۔۔۔اس کا بیٹا قسطنطین بھی مرگیا ہے، سمجھو کہ ہرقل کی عیسائیت مر گئی ہے اور اب ہم دونوں اصل عیسائیت کی تبلیغ کریں اور قبطیوں کو بتائیں کہ اسلام سے عیسائیت کو بچائیں، مصر ہاتھ سے جارہا ہے اور ہم مصر کو ہی عیسائیت کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔

مصر جا نہیں رہا بلکہ ہاتھ سے نکل گیا ہے۔۔ بنیامین نے کہا۔۔ تم لوگوں نے مذہب کو کھلونا بنا لیا ہے۔

میرے بھائی بنیامین! قیرس نے جھنجلا کر کہا,  مذہب کو الگ رکھ دو مصر کا خیال کرو جو ہمارا اپنا وطن ہے۔

یہی تمہاری بھول ہے۔۔۔ بنیامین نے کہا۔۔۔ ہماری شکست اور مسلمانوں کی فتح کی بڑی وجہ یہی ہے کہ تم لوگوں نے مذہب کو الگ رکھ دیا تھا ،بلکہ مذہب کو اپنے ذاتی مفادات اور شہنشاہیت کو مزید تقویت دینے کے لیے اپنے سانچے میں ڈھال لیا تھا. 

حیران مت ہوں قیرس بھائی !،،، اتنے تھوڑے مسلمان فتحیاب ہوئے تو اس میں کوئی حیرت والی بات نہیں تم مذہبی پیشوا اور عالم ہو حیران ہونے والی بات تو یہ ہے کہ تم سمجھ نہیں سکے کہ مسلمان صرف اس لئے فتحیاب ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ انہوں نے مذہب کو الگ نہیں رکھا بلکہ اپنی ذات اپنے دنیاوی مفادات اور اپنی جانوں کو الگ رکھ کر مذہب کو سینے سے لگائے رکھا ہے، اس جنگ کو وہ اپنے مذہب کی جنگ کہتے ہیں ،یہ انکے مذہب کا ایک فریضہ ہے جو جہاد کہلاتا ہے، ان کے مذہب میں نماز قضا ہو سکتی ہے جہاد کو قضا نہیں کیا جاسکتا، پھر ان کے مذہب کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ مفتوحہ لوگوں کو اپنا غلام نہ سمجھو اور انہیں بحیثیت انسان پورے حقوق اور تعظیم دو، ان مسلمانوں نے یہاں اپنے اس مذہبی اصول کی پابندی کی اور لوگ ان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے ان کے مقابلے میں تم لوگوں نے قتل اور جبر و تشدد سے اپنی غلط عیسائیت منوائی اور ان کی آہوں اور فریادوں کیطرف توجہ ہی نہ دی تم ہی بتاؤ کہ یہ لوگ کسےاپنا اور کسے پرایا سمجھیں۔

اس وقت جو صورتحال ہے اس کی طرف دھیان دیں۔۔۔۔ قیرس نے ہاری ہوئی سی آواز میں کہا۔۔۔۔ قبطیوں کو میدان میں لاؤ۔انہیں بتاؤ کہ مصر تمہارا ہےاور تمہارا اپنا ایک مذہب ہے۔مسلمان اس ملک پر قابض ہوگئے تو تم انکے غلام بنے رہو گے اور تمھارا کوئی مذہب نہیں ہوگا۔

قبطی میدان میں نہیں آئیں گے۔۔۔ بنیامین نے کہا ۔۔۔اگر رومی مصر سے دستبردار ہو جائیں پھر دیکھو قبطی کس طرح مصر کے دفاع میں لڑتے ہیں۔

اگر یہ نہیں تو ایک اور کام کرو۔۔ قیرس نے کہا۔۔ قبطیوں سے کہو کہ مسلمانوں کے ساتھ تعاون کرنا چھوڑ دیں۔میں نے کہا تھاکہ قبطی مسلمانوں کی پیش قدمی کو آسان اور تیز کرنے کے لیے ان کے راستے کی رکاوٹیں صاف کرتے ہیں اور ان کی رہنمائی بھی کرتے ہیں، جہاں پل بنانے کی ضرورت پڑتی ہے وہاں پل بنا دیتے ہیں۔

میری آخری بات سن لو قیرس بھائی!،،،،،، بنیامین نے کہا۔۔۔۔ میں نے تم سے یہ گلہ شکوہ تو کیا ہی نہیں کہ مجھے لوگوں نے اسقف اعظم بنایا تھا ،لیکن تم نے خود اسقف آعظم بن کر مجھے شاہی حکم سے جلا وطن کر دیا ،بلکہ میری گرفتاری کا حکم نامہ لیا اور میں صحراؤں میں جا روپوش ہوا، یہ معاملہ تو میں نے خدا کے سپرد کردیا ہے ،قبطیوں کے متعلق میں تمہیں آخری فیصلہ سنا دیتا ہوں کہ انہوں نے یہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے کہ جہاں رومی قابض ہیں وہاں قبطی رومیوں کے وفادار ہیں، اور جو علاقہ مسلمانوں کے قبضے میں آگئے ہیں وہاں قبطی مسلمانوں کے وفادار بن گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ان دونوں طاقتوں میں سے کسی کے خلاف دشمنی پیدا کی اور وہی طاقت مصر پر قابض ہوگئی تو پھر انکے لیے زندگی جہنم بنا دی جائےگی، میں تمہیں یہ ضمانت دیتا ہوں کہ قبطی عیسائی روم کی بادشاہی کے خلاف بغاوت نہیں کریں گے ۔

ہم دونو چونکےمذہبی پیشوا ہیں اور مذہب سےزیادہ واقفیت رکھتے ہیں اس لیے میں یہ بات کہنا چاہوں گا کہ جس مذہب میں فرقے پیدا ہوجاتے ہیں وہ مذہب کھیل تماشا بن جاتا ہے، اور اس مذہب کی قسمت میں غیروں کی غلامی لکھ دی جاتی ہے،تم نے ہرقل کےساتھ مل کر عیسائیت کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور آج اسکی سزا بھگت رہےہو، اپنے مقابلے میں مسلمانوں کو دیکھو ان میں کوئی فرقہ نہیں وہ ایک جماعت ہے اپنے سپہ سالار کو اپنا فوجی قائد ہی نہیں بلکہ اپنے مذہب کا امام بھی کہتے ہیں۔

یہاں تاریخ کا ایک اور پہلو سامنے لانا ضروری ہے مصر کی فتح ایک معجزاتی فتح سمجھی جاتی ہے لیکن یہ معجزہ اپنے آپ ہی رونما نہیں ہو گیا تھا ،مجاہدین نے اپنی جانیں اللہ کے سپرد اور اپنے جسم اپنے سالاروں کے سپرد کر دیے تھے،انہیں جتنا بھروسہ اپنے اللہ پر تھا اتنا ہی اعتماد قیادت پر تھا، مصر کی فتح میں ایمان کی پختگی اور سپہ سالار عمرو بن عاص کی غیرمعمولی عسکری ذہانت کا کرشمہ تھا ، لیکن غیرمسلم مؤرّخوں نے اس حقیقت کو اسطرح جھٹلانے کی کوشش کی ہےکہ مصر کےتمام قبطیی عیسائی مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے اور مسلمانوں کی فتح کا باعث بنے تھے۔

یہ مورخ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ رومی جرنیلوں کی کمزوری تھی کہ وہ ہر شہر میں مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کرکے ہتھیار ڈال دیتے تھے۔

یہ دونوں باتیں بالکل غلط ہیں، قبطی عیسائیوں کی جو پالیسی تھی وہ قیرس اور بنیامین کی گفتگو میں واضح ہوجاتی ہے، یہ صحیح ہے کہ ہر شہر میں جرنیل مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کر لیتے تھے لیکن وہ اس وقت ایسا کرتے تھے جب دیکھ لیتے تھے کہ اب اس شہر کو مسلمانوں سے بچانا ممکن نہیں رہا تو کم از کم اپنی جانیں ہی بچا لی جائیں اور بچی کھچی فوج کو یہاں سے نکال لیا جائے ،اس مقصد کے لیے وہ معاہدہ کرتے اور شہر مسلمانوں کے حوالے کر کے رخصت ہو جاتے تھے۔

کریون کی فتح کے بعد سپہ سالار عمرو بن عاص نے وہاں زیادہ انتظار مناسب نہ سمجھا، ان کا اصول تھا کہ بھاگے ہوئے دشمن کےتعاقب میں رہا جائے تاکہ وہ کہیں سنبھل اور سستا نہ سکے، لیکن عمرو بن عاص کو پھر بھی کچھ دن انتظار کرناپڑا وہ اس لئےکہ مجاہدین کےلشکر کو ذرا سستانے کی شدید ضرورت تھی اور وہ زخمی جو لڑنے کے قابل نہیں رہے اتنے صحت یاب ہو جائیں کہ پیش قدمی کرسکیں اسکے علاوہ کریون جیسے بڑے شہر میں امن و امان بحال کرنا تھا اور وہاں کے سرکاری انتظامات کو بھی رواں کرنا ضروری تھا۔

عمرو بن عاص پر تو جیسے دیوانگی طاری ہو گئی تھی لیکن وہ حقیقت پسندی سے دستبردار نہ ہوئے، اور عقل و ہوش کو ٹھکانے رکھا ۔

مقریزی اور ابن الحکم جیسے مستند تاریخ دان لکھتے ہیں کہ مجاہدین کی جسمانی کیفیت اس قابل رہی ہی نہیں تھی کہ وہ چند قدم بھی پیش قدمی کرسکتے ،لیکن روحانی طور پر وہ اس قدر تروتازہ اور مسرور تھے کہ وہ کریون میں زیادہ انتظار کےحق میں تھےہی نہیں،سالاروں کے جذبے کی کیفیت تو اور ہی زیادہ پرجوش تھی، سپہ سالار عمرو بن عاص اپنے لشکر کی اور اپنے سالاروں کی یہ کیفیت دیکھ رہے تھے لیکن انہیں یہ احساس بھی تھا کہ لشکر پر جذباتیت طاری ہوگئی تو یہ شکست کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے پہلے دو تین موقعوں پر مجاہدین سےخطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فتح کے نشے سے سرشار ہو کر اگلی لڑائی نہیں لڑنی چاہیے، کیونکہ فتح کا نشہ خوش فہمی میں مبتلا کرسکتا ہے اور خوش فہمیاں شکست کا باعث بن جایا کرتی ہیں۔

اب عمرو بن عاص نے کریون سے اسکندریہ کی طرف پیش قدمی کےوقت ضروری سمجھا کے لشکر سے خطاب کیا جائے ایک تو وہ لشکر کو جذباتیت اور خوش فہمی سے نکالنا چاہتےتھے،اور دوسرےیہ کہ لشکر کو یہ بتانا بہت ہی ضروری تھا کہ اب وہ جس ہدف پر جارہے ہیں وہ ایسے ہی ہے جیسے پہاڑ کو جڑوں سے اکھاڑنے کی کوشش ہو۔

چنانچہ انہوں نے لشکر کو اکٹھا کیا اور کچھ وقت لگا کر خطاب کیا پہلے تو لشکر کو یہ ذہن نشین کرایا کے حقیقت کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں، اور اس خوش فہمی کو بھی دل ودماغ پر طاری نہ ہونےدیں کہ وہ جہاں بھی جائیں گے انہیں فتح ہی حاصل ہوگی۔

پھر لشکر کو بتایا کہ اب وہ جس شہر پر حملہ کرنے جا رہے ہیں وہ صحیح معنوں میں ناقابل تسخیر ہے اور اس کا زیادہ تر دفاع قدرتی ہے۔ عمرو بن عاص نے اسکندریہ کے دفاع کے تمام انتظامات وغیرہ لشکر کو تفصیل سے بتائے اور بتایا کہ ہم نے اسکندریہ کا شہر فتح کرلیا تو سمجھو پورا مصر فتح کر لیا ہے رومیوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں رہےگی، ان کے پاس بحری بیڑہ ہے جو انہیں سمندر پار پہنچا دے گا۔

اسلام کے علمبردارو !،،،،،عمرو بن عاص نے کہا ۔۔۔جب کوئی لشکر لڑنے کےلئے نکلتا ہے تو نتیجہ فتح کی صورت میں بھی سامنےآسکتا ہے، اور شکست کی صورت میں بھی، لڑنے والوں کےلئے فتح اور شکست پہلو بہ پہلو چلا کرتی ہے لیکن ہمارے معاملے میں صورت کچھ اور بھی ہے اگر اسکندریہ میں ہم شکست کھا گئے تو پھر ہمارے قدم شاید کہیں بھی نہ جم سکیں، تم میں سے بہت کم جانتے ہوں گے کہ ہماری شکست کی صورت کچھ اور ہو گی ،وہ یہ کہ ہم مدینہ واپس جا کر اپنی قوم کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے،تمہیں نہیں لوگ مجھےطعنہ دیں گے کہ تمہیں بزرگ صحابہ نے منع کیا تھا کہ مصر پر فوج کشی نہ کرو اور تم باز نہ آئے اب اتنی زیادہ ماؤں کے جوان بیٹے مروا کر اور پرائی زمین پر ان کی لاشیں پھینک کر آ گئے ہو،،،،،،،

تمہیں شاید معلوم نہ ہو کہ میں نے امیرالمومنین سے مصر پر فوج کشی کی اجازت مانگی تھی تو تقریباً تمام صحابہ کرام نے مخالفت کی تھی جن میں سب سے زیادہ محترم بزرگ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ خاص طور پر شامل ہیں اب یہ سوچو کہ میں نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا ہے ،اس میں میری یا تم میں سے کسی کی کوئی ذاتی غرض نہیں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہم باطل کے خلاف اللہ کی راہ پر جہاد میں نکلے ہیں،،،،،، 

دین اسلام کے مجاہدو!،،،،،، مصر کے متعلق یہ ذہن میں رکھو کہ یہ فرعونوں کا ملک ہے یہاں حضرت موسی علیہ السلام ایک فرعون کو دعوت حق دینے آئے تھے لیکن اس فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زیر کرنے کے لیے اپنے جادوگر کو بلایا اللہ تبارک و تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے عصا میں اتنی خدائی طاقت ڈال دی جس کےسامنے ہر جادو بے کار ہو کے رہ گیا ،یہ تو بڑی لمبی کہانی ہے میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس نیل نے حضرت موسی علیہ السلام کو راستہ دے دیا تھا اور پھر اسی نیل نے فرعون کو غرق کردیا، آج اللہ نے تمہیں یہ اعجاز بخشا ہے کہ فرعون کی زمین سے باطل کا نام و نشان مٹا دو ،تم سوچو گے کہ فرعون تو کبھی کے دفن ہو چکے ہیں حقیقت یہ ہے کہ فرعون صدیاں گزریں ختم ہوگئے ہیں، لیکن مصر میں فرعونیت ابھی تک باقی ہے اللہ نےیہ فرض تمہیں سونپا ہےکہ اس فرعونیت کو اس ملک سے ختم کرو، تم نے رومیوں کی فرعونیت کے قصے سنے ہوں گے ہمیں اس سرزمین کو پاک اور مقدس بنانا ہے کیونکہ یہ ہمارے نبیوں اور پیغمبروں کی سرزمین ہے۔

عمرو بن عاص نے ایسی باتیں کیں اور ایسے پردے اٹھائے کے اپنے لشکر کو جذباتیت اور خوش فہمیوں سے نکال کر حقیقت کا صحیح روپ دکھا دیا اسکے بعد کریون سے لشکر روانہ ہوا۔

پیش قدمی کا راستہ خطروں سے خالی نہیں تھا اس علاقے میں کئی ایک چھوٹی بڑی بستیاں تھیں ان میں قصبے بھی تھے اور درمیانہ درجے کے شہر بھی، ان میں سے بعض میں رومی فوج موجود تھی، فوج کی کچھ نفری جنرل تھیوڈور اپنے ساتھ اسکندریہ لے گیا تھا اور جو نفری پیچھے رہ گئی تھی اسے تھیوڈور نے یہ حکم دیا تھا کہ مسلمانوں پر دائیں بائیں اور پیچھےسے حملےکرتے رہیں تاکہ ان کی پیش قدمی سست رہے اور ان کا جانی نقصان ہوتا رہے۔

سپہ سالار عمرو بن عاص میں یہی تو بنیادی خوبی تھی کہ وہ اس قسم کے خطرات کو پہلے ہی بھانپ لیا کرتے تھے انہوں نے اپنے جاسوس آگے بھیج رکھے تھے جو انہیں اطلاع دیتے جا رہے تھے کہ کہاں سے حملے کا خطرہ ہے۔ عمرو بن عاص اس خطرے کا سدباب یہ کرتے کے مجاہدین کے کچھ دستے لے کر اس جگہ کو محاصرے میں لے لیتے اور ایسی غضبناک یلغار کرتے کے رومی فوج ہتھیار ڈال دیتے تھے۔

اسطرح پیش قدمی کی رفتار کچھ کم تو رہی لیکن خطرے ٹلتےجارہے تھے۔تاریخ میں آیا ہے کہ بعض مقامات پر رومیوں نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے اس کی وجہ وہی تھی جو پہلے کئی موقعوں پر بیان ہو چکی ہے، وہ یہ کہ کریون سے بھاگے ہوئے فوجی ان مقامات پر چلے گئے اور وہاں کے فوجیوں کو مسلمانوں کی بے جگری اور شجاعت کی باتیں بڑھا چڑھا کر سنا کر ان پر بھی دہشت طاری کردی۔وہاں کے فوجی یہ بھی تو ضرور سوچتے ہونگے کہ جنہوں نے اتنے قلیل تعداد میں کریون جیسا مستحکم قلعہ لے لیا ہے انکے آگےیہ چھوٹی سی قلعہ بندی کیا حیثیت رکھتی ہے، بعض بستیوں کو عمرو بن عاص نے نظر انداز کردیا کیوں کہ وہاں سے کوئی خطرہ نہیں تھا ،اس طرح مجاہدین کا لشکر آگے ہی آگے بڑھتا گیا اور منزل قریب آتی گئی۔ دانشمندوں نے کہا ہے کہ تاریخ بہترین استاد ہے ،جس قوم نے تاریخ سے سبق سیکھا وہ قوم تاریخ میں زندہ اور پائندہ رہی اور رہتی صدیوں تک نام پایا، اور جن قوموں نے تاریخ کے عبرتناک واقعات سے عبرت حاصل نہ کی وہ دوسروں کے لئے عبرت کا باعث بن کر تاریخ سے ہمیشہ کے لئے لاپتہ ہوگئیں۔

تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں کہ جس مذہب میں تفرقہ بازی پیدا ہوئی وہ مذہب زندہ نہ رہ سکا ،اور اگر زندہ رہا بھی تو اس کے پیروکار غیروں کے غلام رہے اور انکا مذھب غیروں کے لئے تماشا بنا رہا ،یہ بھی کہ جس قوم کی قیادت میں ذاتی مفادات آگئے اور اقتدار کی کشمکش شروع ہوگئی وہ قومیں اگر زندہ رہیں بھی تو دوسروں کے محتاج بن کر زندہ رہیں،،،،، نہ اس قوم کی کوئی عزت رہی، نہ وقار اور نہ کوئی پہچان،،،،،،، مجاہدین اسلام کے جذبہ جہاد اور ایمان کی پختگی نےرومیوں کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا۔

پہلے گزر چکا ہےکہ مرتینا کے بیٹے ہرقلیوناس کو کونستانس کے ساتھ شریک حکمران بنا دیا گیا تھا، یہ مرتینا کےسازشی اور ابلیسی ذہن کا حاصل تھا، ورنہ ہرقلیوناس اس قابل ہی نہیں کہ اس میں شریک کیاجاتا۔ اس نے دیکھا کہ کریون کی شکست کے معاملے میں ہر کوئی کونستانس کے ساتھ بات کرتا ہے اور اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا ،معلوم نہیں اس کی ماں نے اسے اپنی اہمیت جتانے کا یہ طریقہ بتایا تھا یا اس کے اپنے دماغ میں یہ بات آئی تھی کہ ایک روز اس نے بزنطیہ کی ساری فوج کو گھوڑ دوڑ کے میدان میں اکٹھا کر لیا فوج کے ساتھ تین چار جرنیل بھی تھے۔

ہرقلیوناس گھوڑےپر سوار تھا اس نے فوج کو یہ خبر سنائی کےمصر میں مسلمانوں نے کریون نام کا ایک اور بڑا شہر فتح کرلیا ہے، اور اب وہ اسکندریہ کیطرف بڑھ رہے ہیں جو مصر کا دارالحکومت ہے اور اگر مسلمانوں نے اسکندریہ بھی فتح کرلیا تو پورا مصر مسلمانوں کے قبضے میں چلا جائے گا ،،،،، ہرقلیوناس نےیہ پیغام سناکر کہا کہ اپنی فوج مسلمانوں کے آگےبھاگی بھاگی پھررہی ہے ،اگر پورا مصر ہاتھ سے نکل گیا تو مسلمان بحیرہ روم پار کرکے بزنطیہ پر حملہ کریں گے،اور پھر تم بھی مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دو گے۔

بزنطیہ کی فوج کو یہ خبر دینے کا کوئی جواز نہیں تھا اگر اس فوج کو یہ خبر سنانی ہی تھی تو اس فوج کی حوصلہ افزائی کرنی تھی کہ وہ فوجی اپنے ان فوجی ساتھیوں جیسے نہ ہو جائیں جو مصر میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالتے چلے آ رہے ہیں اور پورا مصر دے بیٹھے ہیں ،لیکن ہرقلیوناس نے اس فوج کو بزدل اور حرام خور کہا جو ابھی مصر گئی ہی نہیں تھی۔ اس نے یہاں تک کہہ دیا کہ تم لوگ تنخواہ حرام کررہے ہو،اور اپنا فرض دیانتداری سے پورا نہیں کر رہے، پھر اس نے جرنیلوں کو بھی توہین آمیز الفاظ کہہ دیے، اور اس کا بولنے کا انداز طنزیہ اور غصیلا ہوتا چلا گیا۔ اس نے کہا کہ یہاں سے جو کمک بھیجی گئی تھی وہ بھی مصر کی فوج جیسی بزدل نکلی،،،،، ہرقلیوناس کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کمک کا بہت تھوڑا حصہ کریون بھیجا گیا تھا اور باقی ساری کمک ابھی اسکندریہ میں ہے اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں آئی ہی نہیں۔ وہ دراصل جرنیلوں اور فوج پر یہ رعب جھاڑ رہا تھا کہ وہ بھی سلطنت روم کا ایک بادشاہ ہے اور جو چاہے کر اور کہہ سکتا ہے۔

آخر ایک جرنیل بول پڑا ۔۔۔۔اس نے کہا کہ انہیں وہ بلاجواز بزدل اور حرام خور نہ کہے ابھی تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں بھیجے ہی نہیں گئے اگر مصر کی فوج نے مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالے ہیں تو بزنطیہ کی فوج بزدل کس طرح قرار دے دی گئ ہیں۔؟؟؟

ہرقلیوناس نے کوئی تسلی بخش یا حوصلہ افزا جواب دینے کی بجائےاس جرنیل کو یوں ڈانٹ دیا جیسےوہ جرنیل نہ ہو کوئی ادنی سپاہی ہوں، ایک جرنیل کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر ایک اور جرنیل بول پڑا اور اس نے بھی احتجاج کیا اور کہا کہ ہرقلیوناس بادشاہ ہی کیوں نہ ہو وہ فوج کے سامنے کسی جرنیل کی اس طرح توہین نہ کریں۔

ہرقلیوناس میں تدبر کا تو نام و نشان نہ تھا وہ بگڑا ہوا شہزادہ تھا اس میں کونستانس جیسی ذہانت تھی ہی نہیں کونستانس کی تربیت اس کے باپ قسطنطین نے کی تھی جس میں عسکری ٹریننگ بھی شامل تھی اور سلطنت کے امور و مسائل کی تعلیم و تربیت بھی، ہرقلیوناس اپنی ماں کے زیراثر رہا تھا اور مرتینا ایک انتہائی خوبصورت اور بے حد سازشی ذہن والی عورت تھی۔

جب ہرقلیوناس نے دوسرے جرنیل کو پہلے جرنیل سے بھی زیادہ ڈانٹ پلا دی تو باقی جرنیل غصے اور احتجاج سے بھرے ہوئے ایسے بولے کے ہرقلیوناس کو ایک دو تلخ باتیں کہہ ڈالیں، اس کے ساتھ ہی پوری کی پوری فوج نے شور و غل برپا کردیا اور کچھ نے ترتیب ہی توڑ ڈالی اور ایک منظم فوج نے غم و غصے سے بھرے ہوئے ہجوم کی صورت اختیار کرلی، ہرقلیوناس تحکمانہ لہجے میں چیخ چلا رہا تھا لیکن اسکی کوئی سنتا ہی نہیں تھا، نہ اس کی آواز اس قدر زیادہ شور و غل میں سنائی دے رہی تھی۔

ہرقلیوناس فوج سے خطاب کرنے کے لیے پورے شاہانہ کروفر سے گیا تھا اس کے ساتھ شاہی باڈی گارڈز کا دستہ بھی تھا اور ایک باڈی گارڈ نے شاہی پرچم اٹھا رکھا تھا۔۔ وہاں صورتحال ایسی پیدا ہو گئی تھی کہ ہرقلیوناس کی جان خطرے میں نظر آنے لگی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے فوجی اس پر حملہ کر کے اسے تلواروں سے چیر پھاڑ ڈالیں گے۔

حفاظتی دستے کے کمانڈر نے اپنے دستے کو اشارہ دے کر ہرقلیوناس کو حفاظتی حصار میں لے لیا۔

حفاظتی دستے کے کمانڈر نے اپنا دماغ حاضر رکھا اور عقلمندی یہ کی کہ تلواریں نیاموں سے نہ نکلنے دیں، تلوار بےنیام کرنے کا مطلب چیلنج ہوتا تھا ،حفاظتی دستے کے فرائض کا تقاضا کچھ اور تھا لیکن اس کے کمانڈر نے صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر اپنی ہی فوج کے مقابلے میں آنے سے گریز کیا اور ساتھ ہی یہ دانشمندی کی کہ ایک باڈی گارڈ کو کان میں کہا کہ وہ بہت ہی تیزی سے جائے اور جنرل اقلینوس کو اطلاع دے کہ گھوڑ دوڑ کے میدان میں بغاوت کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ محافظ گھوڑے کو ایڑ لگا کر ہوا سے باتیں کرتا جنرل اقلینوس کے پاس جا پہنچا ، اس جرنیل نے کونستانس کو اطلاع دی اور دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر گھوڑے سرپٹ دوڑاتے گھوڑ دوڑ میدان میں جا پہنچے، دیکھا کہ فوج ان کی اپنی فوج لگتی ہی نہیں تھی، وہاں شاہی خاندان کے خلاف نعرے لگ رہےتھے، اور بار بار ایسی آوازیں اٹھتی تھی کہ ہم بزدل نہیں بزدل شاہی خاندان ہے وغیرہ۔

کونستانس اور سپریم کمانڈر جنرل اقلینوس کے لیے یہ صورتحال کوئی نئی نہیں تھی اس سے پہلے باقاعدہ بغاوت ہو چکی تھی جو بہت حد تک خانہ جنگی کی صورت اختیار کرگئی تھی، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب قسطنطین کی موت پر پتہ چلا تھا کہ مرتینا نے شاہی طبیب کے ہاتھوں اسے زہر دلوایا ہے۔ روم کے تخت و تاج کی وراثت پر جرنیل اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ یہ حکام دو حصوں میں بٹ گئے تھے،اور پھر جرنیلوں نے آپس میں بٹ کر فوج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ بظاہر فوج ایک تھی لیکن انکے دل بٹ کر دو ہو گئے تھے، بڑی مشکل سے وہ خانہ جنگی قابو میں آئی اور امن وامان بحال کیاگیا تھا۔اسی کے نتیجے میں تخت کی وراثت کونستانس اور ہرقلیوناس کو دی گئی تھی ۔

اب صورتحال خانہ جنگی والی نہیں رہی تھی کیونکہ زیادہ تر حمایت کونستانس کو حاصل تھی اور تقریباً تمام جرنیل سمجھ گئے تھے کہ مرتینا شیطان صفت عورت ہے اور اس کا بیٹا ہرقلیوناس عیاش اور بگڑا ہوا شہزادہ ہے۔ اور اس میں حکمرانی کی ذرا سی بھی رمق نہیں تھی۔

جنرل اقلینوس نےکونستانس اور ہرقلیوناس کو پیچھےکردیا اور خود فوج کو ٹھنڈا کرنے کے لئے چیخنے چلّانے لگا، آدمی جہاندیدہ اور دانشمند تھا اس لئے اس کا اندازہ اب جھاڑنے والا نہیں تھا بلکہ بڑے ہی دوستانہ اور صلح جو انداز سے فوج سے مخاطب ہورہا تھا۔اس نے کہا کہ پہلے فوج اپنی ترتیب میں ہو جائے پھر بات ہو سکے گی کہ فوجیوں کو کیا شکایت پیدا ہوئی ہے۔ فوج فوراً ترتیب میں ہوکر خاموش ہو گئی اقلینوس نے ایک سینیئر جرنیل سے کہا کہ وہ سب کی نمائندگی کرتے ہوئے بتائے کہ یہ فساد کس طرح شروع ہوا ہے۔

ہمیں بزدل اور حرام خور کہا گیا ہے۔۔۔۔ اس جرنیل نے کہا۔۔۔ ہم بزنطیہ میں ہیں مصر میں نہیں مصر کی شکست کے ذمہ دار ہم نہیں۔

ہمارا ایک مطالبہ پورا کیا جائے۔ ایک اور جرنیل بیچ میں بول پڑا۔۔۔ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتی ہم نے ایک بادشاہی کے دو بادشاہ کبھی نہیں سنے، ہم شاہ ہرقل اور قسطنطین کی قاتلہ کے بیٹے کا حکم نہیں مانیں گے۔

ہم صرف کونستانس کو شاہ روم مانتے ہیں۔۔ ایک اور جرنیل نے کہا۔۔۔ہرقلیوناس پوری فوج کو مروا دے گا یا ایک بار پھر آپس میں لڑوا دے گا۔

فوج نے ایک بار پھر شور شرابہ شروع کردیا فوجی ایک ہی بات کہےچلے جارہے تھے کہ وہ کونستانس کو شاہ روم مانتے ہیں اور اسی کا حکم مانیں گے۔

مرتینا کو بھی اطلاع پہنچ گئی تھی وہ بھاگی بھاگی وہاں آپہنچی اور اپنے بیٹے کے پاس کھڑی اور احتجاجی مظاہرہ دیکھ رہی تھی۔ کونستانس فوج کے قریب اور بالکل سامنے کھڑا تھا اس نے اپنے دونوں بازو بلند کئے جو اشارہ تھا کہ فوجی خاموش ہو جائیں فوجی آہستہ آہستہ خاموش ہو گئے۔

تم لوگ کہتے ہو کہ صرف میرا حکم مانو گے۔۔ کونستانس نے کہا۔۔۔ میرا حکم یہ ہے کہ خاموشی سے اپنے ٹھکانوں پر چلے جاؤ تمہاری جو توہین کی گئی ہے اسے میں نظر انداز نہیں کروں گا ،اگر تمہیں بزدل کہا گیا تو اس کا مطلب یہ نہ لو کہ میں بھی اور جنرل اقلینوس بھی تمہیں بزدل سمجھتے ہیں۔ ہماری نظر میں تمہاری عزت اور وقار قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اپنے آپ کو بالکل ٹھنڈا کر لو اور واپس اپنی جگہ چلے جاؤ۔

کونستانس نےجرنیلوں کو اشارہ کیاکہ وہ یہیں موجود رہیں، فوج خاموشی سے بارکوں میں چلی گئی۔

مرتینا اور ہرقلیوناس آہستہ آہستہ چلتےکونستانس اور جنرل اقلینوس اور دوسرے جرنیلوں کے قریب ہو گئے۔

قابل احترام خاتون!،،،،،، جنرل اقلینوس نے کہا۔۔۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہےکہ آپ کے بیٹے نےکیا صورتحال پیدا کردی تھی ،کیا آپ پہلی بغاوت اور خانہ جنگی کو بھول گئی ہیں، اب صورت کچھ اور ہے،محترمہ اب آپ کے حمایتی اتنے تھوڑے رہ گئے ہیں کہ ان کی آواز کسی کو سنائی نہیں دیتی نہ انکی آواز میں کوئی اثر رہ گیا ہے۔ میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ اب آپ دونوں کی جان خطرے میں ہے، ادھر مصر ہاتھ سے جارہا ہے ادھر فوج کو آپ کا بیٹا بغاوت کے لیے بھڑکا رہا ہے، مت بھولیں کے مسلمان بزنطیہ آ سکتے ہیں روم کی سلطنت ہی نہ رہی تو اپنے بیٹے کو کونسے تخت پر بٹھائیں گی۔

میری بات پر کبھی کسی نے غور نہیں کیا۔مرتینا نے دبی دبی زبان سے کہا۔ میں کہتی تھی کہ تخت و تاج میرے حوالے کر دیں لیکن مجھ پر الزامات لگائے گئے، میرا مطلب یہی تھا کہ حکمرانی ایک انسان کےہاتھ میں رہے،اب کونستانس کا کچھ اور خیال ہوتا ہے، اور ہرقلیوناس کچھ اور سوچتا ہے،اگر آپ میری بادشاہی تسلیم کریں،،،،،، میں پھر بھی وہی بات کہوں گا جو پہلے  کہہ چکا ہوں۔۔ جنرل اقلینوس نے مرتینا کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔ ادھر مصر ہاتھ سے جارہا ہے اور ادھر دارالحکومت میں آپ نے تخت و تاج کو مسئلہ کھڑا کر رکھا ہے، پہلے ہمیں اس عظیم سلطنت کو بچا تو لینے دیں۔

مرتینا خاموش ہو گئی اس کا بیٹا ہرقلیوناس اس کے منہ کی طرف احمقوں کی طرح دیکھ رہا تھا ،مرتینا چپ چاپ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر وہاں سے چلی گئی سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو یہی سوچ رہے ہوں گے کہ اس عورت کی خاموشی بڑی ہی تیز و تند اور تباہ کن طوفان کے پہلےکی خاموشی ہے۔ کوئی بھی اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں تھا کہ اس عورت کو کچھ کھری کھری باتیں کہہ کر لاجواب کردیا گیا ہے۔ مجاہدین اسلام کا لشکر اسکندریہ تک پہنچ گیا لیکن اس شہر کو محاصرے میں لینا ممکن ہی نہیں تھا، اس کا محل وقوع پہلے بیان ہوچکا ہے ۔

سپہ سالار عمرو بن عاص نے دو مقامات حلوہ اور قصر فاروس کے درمیان اپنے لشکر کو روک کر خیمہ زن کردیا ، خیمہ گاہ کےلئے وہ علاقہ موزوں تھا لیکن وہاں مسئلہ صرف خیمہ زن ہونےکا نہیں بلکہ اسکندریہ کو سر کرنا اصل مقصد تھا جو پورا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا۔ لشکر نے شہر کے سامنے والی دیوار پر بےشمار منجنیقیں دیکھیں۔

عمرو بن عاص ان منجنیقوں کی زد سے دور رہے۔

بڑے مضبوط اور مشہور قلعوں کو دیکھا گیا تھا جن پر برجیاں اتنی زیادہ نہیں تھیں جتنی اسکندریہ کی دیواروں پر تھیں ان برجوں میں تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے بالکل محفوظ تھے۔

عمرو بن عاص نے سالاروں کو اکٹھا کیا اور ان کے سامنے یہ سوال رکھے کہ کیا رومی باہر آکر لڑیں گے؟ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار نہ کیا تو اس شہر کو لینے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے ،اور کیا اسکندریہ نہ لینے کی صورت میں مسلمان پورے مصر پر قبضہ برقرار رکھ سکیں گے۔

سالاروں نے اپنے اپنے مشورے دیے اور تجاویز پیش کیں۔ عمرو بن عاص نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،اس اجلاس میں یہ طے پایا کہ اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہونا چاہیے محاصرے کو طول دینا پڑا تو دینگے، اور روکنے کی کوشش کریں گے، اس طرح ہو سکتا ہے کہ رومی جرنیل اسے اپنی ذلت سمجھ لیں اور باہر آکر لڑیں۔

مجاہدین کو پورے دو مہینے رکنا پڑا کوئی رومی باہر نہ آیا، پہلے جتنے بھی قلعوں کو مجاہدین نے محاصرے میں لیا تھا وہاں رومیوں کی جنگی پالیسی یہ رہی تھی کہ باہر آکر محاصرے پر حملہ کرتے تھے اور ان کی یہی پالیسی ان کی شکست کا باعث تھی، سپہ سالار عمرو بن عاص نے اپنے سالاروں سے کہا کہ اب رومیوں نے اپنا وہ طریقہ جنگ بدل دیا ہے لیکن یہ سوچ کر کے یہ شہر ناقابل تسخیر ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ مسلمانوں کو رسد کی جو ضرورت رہتی تھی وہ انہوں نے اردگرد کی بستیوں سے حاصل کرنی شروع کردی تھی۔...

جاری ہے....

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023