اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر59

 


دو مہینوں بعد عمرو بن عاص نے ایک اور جگہ دیکھ لی جو انہیں خیمہ گاہ کے لئے اور جنگی نقطہ نظر سے بھی زیادہ موزوں نظر آئی، اس جگہ کا نام مقس تھا۔ انہوں نے سارے لشکر کو اس جگہ منتقل کردیا اور یہ نئی خیمہ گاہ بن گئی، یہ ایک وسیع اور غیر ہموار سا میدان تھا جس میں خیمے گاڑے گئے تھے، خیمہ گاہ سے ذرا ہی دور بائیں طرف ہری بھری ٹیکریاں تھیں جن پر درخت بھی تھے اور ان کے نیچے بھی درختوں کی بہتات تھی، اسکندریہ شہر کی طرف سے بھی کوئی حرکت نہیں ہو رہی تھی نہ مجاہدین کوئی سرگرمی دکھا رہے تھے، اگر کچھ ہی رومی باہر آجاتے تو تھوڑی سی ہلچل برپا ہو جاتی لیکن دونوں طرف سکوت طاری تھا اور روز و شب بڑی تیزی سے گزرتے جا رہے تھے۔

چونکہ وہاں دشمن کا خطرہ نہیں تھا اس لئے مجاہدین خیمہ گاہ سے تھوڑی دور گھوم پھر آتے تھے ایک روز بارہ مجاہدین خیمہ گاہ سے نکل کر ٹیکریوں والے علاقے میں چلے گئے وہاں ایسی اوٹ تھی کہ قلعے کے اندر سے کوئی نکل کر اس طرف خیمہ گاہ کیطرف آتا تو وہ نظر نہیں آ سکتا تھا یہ مجاہدین چلے تو گئے لیکن شام تک واپس نہ آئے، کوئی مجاہد کیمپ سے زیادہ غیرحاضر نہیں رہتا تھا، یہ مجاہدین واپس نہ آئے تو ان کے ساتھی ان کے پیچھے گئے۔

کچھ اور آگے گئے جہاں اوٹ زیادہ تھی وہاں مجاہدین کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آئیں ان کے کپڑے خون سے لال تھے ان کے ہاتھوں میں تلواریں نہیں تھی، اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ رومی گھات میں تھے اور ان پر ایسا اچانک حملہ کیا کہ انہیں نیاموں سے تلواریں نکالنے کی بھی مہلت نہ مل سکی، یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ ان کے قاتل کس طرف سے آئے تھے۔

لاشیں کیمپ میں آئیں اور سپہ سالار کو اطلاع دی گئی، سپہ سالار اظہار افسوس کےسوا کر ہی کیا سکتے تھے دشمن سامنے ہوتا تو اس پر حملہ کرکے انتقام لیا جاسکتا تھا۔

سپہ سالار کےحکم کےمطابق ٹکریوں پر پہرےکا انتظام کردیا گیاتھا کہ ایسا نہ ہو کہ رات رومی کہیں ادھر سے آجائیں اور کیمپ پر حملہ کر کے نکل بھاگے ۔

دو مہینوں سے زیادہ عرصہ گزر گیا تھا ایک روز سپہ سالار عمرو بن عاص نے سالاروں کو بلایا۔

میرے رفیقو !،،،عمرو بن عاص نےکہا۔ کیا تم نے اپنے مجاہدین میں بیزاری کا تاثر نہیں دیکھا مجاہدین یہاں لڑنے آئے تھے لیکن اتنے عرصے سے بے کار پڑے ہیں، اب ان کے بارہ ساتھی شہید ہوگئے ہیں تو میں لشکر میں بے چینی اور بے قراری دیکھ رہا ہوں ،اگر ہم نے اسکندریہ کو محاصرے میں لے رکھا ہوتا تو پھر کسی کو اکتاہٹ نہ ہوتی مگر یہاں ہم صرف بے کار بیٹھے ہیں اور محاصرے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

یہ تو ہم بھی محسوس کر رہے ہیں ایک سالار نے کہا ۔۔۔ کیا سپہ سالار بتائیں گے کہ اس کا علاج کیا ہو سکتا ہے ۔

میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ لشکر کو کچھ نہ کچھ مصروفیت ملنی چاہیے۔

میں ایک اور خدشہ محسوس کر رہا ہوں عمرو بن عاص نے کہا۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجاہدین یہ سمجھنے لگیں کہ سالاروں میں لڑنے کی تاب ہی نہیں رہی اور اب یہ زیادہ محتاط ہو گئے ہیں، اگر لشکر کی سوچ یہ ہے تو یہ مجاہدین کے جذبے کو مجروح کر دے گی، میں نے اس کا علاج سوچا ہے کہ اس علاقے میں جو شہر اور قصبے ہیں ان پر حملہ کر کے قبضہ کیا جائے، اس سے ہمیں دو فائدے حاصل ہوں گے ایک تو لشکر کو ان کی من پسند مصروفیت مل جائے گی، اور دوسرا فائدہ یہ کہ ہم نے اگر اسکندریہ پر حملہ کیا تو ان شہروں میں جو فوج موجود ہے وہ ہم پر عقب سے حملہ کر سکتی ہے، ہوسکتا ہے ان فوجیوں کو یہی حکم ہوا ہو، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمیں جو عام شہری اور دیہاتی نظر آتے ہیں وہ فوجی ہی ہوں۔

تمام سالاروں نے سپہ سالار کی اس تجویز کے ساتھ اتفاق کیا اور اسی وقت حملوں کا پلان تیار کرلیا ،اس علاقے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہر حصے میں چار چار پانچ پانچ قصبے یا شہر تھے، ہر ایک حصے پر حملے کرنے کے لئے سالار مقرر کردیئے گئے، جن کے نام تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔

ایک تھے خارجہ بن حذافۃ العدوی ،دوسرے عمر بن وہاب حجمی،اور تیسرےکا نام عقبہ بن عامر،دو مؤرخوں نے چوتھا نام بھی لکھا ہے۔ یہ نام ہے وردان، یہ عمرو بن عاص کا آزاد کیا ہوا غلام تھا پہلے اس کا ذکر گزر چکا ہے، یہ جنگوں میں علمبرادر ہوا کرتا تھا اور عمرو بن عاص کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ رہتاتھا۔ تاریخ میں آیا ہے کہ وردان شجاعت والا مجاہد تھا ،اسے جنوبی علاقے کے دیہات میں بھیجا گیا تھا کہ اس علاقے کو رومی فوج سے پاک کر دے، جو اس نے بڑی خوش اسلوبی سے کر دیا تھا۔

سپہ سالار عمرو بن عاص خیمہ گاہ میں ہی رہے اور گھوم پھر کر اسکندریہ کو دیکھتےاور سوچتے رہے کہ اس پر حملہ کیا جائے تو کس سمت سے اور کس انداز سے کیا جائے۔ تینوں سالار اور وردان اپنی اپنی ذمہ داری کے علاقے میں مجاہدین کا ایک ایک دستہ لے کر چلے گئے۔

ان سب کی جنگی سرگرمیوں اور کارروائیوں کی روداد ایک ہی جیسی ہے ،یہاں بھی وہی بات سامنے آئی جو پہلے اکثر جگہوں پر آچکی تھی کہ ان رومی فوجیوں پر جو مختلف مقامات پر تھے مجاہدین کی دہشت طاری تھی بعض شہروں کے فوجیوں نے کچھ دیر مقابلہ کیا لیکن ہتھیار ڈال دیے ،اور بیشتر مقامات پر یوں ہوا کہ رومیوں نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ،مجاہدین نے کسی پر بلاوجہ تشدد نہ کیا بلکہ ایسا رویہ اپنایا اور ایسا سلوک روا رکھا جیسے مجاہدین ان کے دشمن نہ ہوں بلکہ ان کے محافظ ہوں۔

سالاروں نےہر جگہ اعلان کیاکہ ان میں سےجو بارضا و رغبت اسلام قبول کرلیں گے انہیں مسلمان اپنا بھائی سمجھیں گے اور وہ تمام مراعات کے حقدار ہوں گے، اور جو اسلام قبول نہیں کریں گے ان پر کوئی جبر نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ انہیں جزیہ ادا کرنا پڑے گا۔ مورخوں نے لکھا ہے کہ کئی ایک عیسائی حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔

جن شہروں کےرومی فوجیوں نے مقابلہ کیا تھا اور مجاہدین کو کچھ نقصان پہنچا کر ہتھیار ڈالے تھے ان شہروں سے مال غنیمت اکٹھا کیا گیا جو سپہ سالار عمرو بن عاص نے وہی مجاہدین میں تقسیم کردیا یہ مال غنیمت اتنا زیادہ نہ تھا کہ اس کا ایک حصہ بیت المال کے لئے مدینہ بھیجا جاتا۔

تین مہینے گزر گئے اب یہ تبدیلی آئی کے رومی فوجیوں کی بہت تھوڑی سی نفری باہر آتی مجاہدین کو للکارتی اور لڑے بغیر واپس چلی جاتی، کچھ دنوں بعد چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہونے لگی بہت تھوڑے رومی فوجی باہر آتے اور مجاہدین ان پر حملہ کرتے تو وہ رومی لڑتے ہوئے بڑی تیزی سے پیچھے ہٹتے اور پھر قلعے میں چلے جاتے تھے، مجاہدین دروازے تک پہنچنے کا خطرہ مول نہیں لیتے تھے کیونکہ دیوار سے تیر بھی آتے تھے اور برچھیاں بھی، اور منجنیقوں سے پتھر بھی۔

ان جھڑپوں کا یہ اثر اور فائدہ ہوا کہ مجاہدین کے جسموں میں جان آگئی اور ان کی روحیں تروتازہ ہو گئیں، مجاہدین نے یہ توقع رکھیں کہ کسی دن رومی فوج کے دو چار دستے باہر آ کر ان پر حملہ کریں گے اور بڑے پیمانے کی لڑائی لڑی جائے گی اور ہو سکتا ہے شہر میں داخل ہونے کا موقع مل جائے لیکن ایسا نہ ہوا اور دن گزرتے چلے گئے۔

رومی فوجی بدستور بہت تھوڑی تعداد میں باہر آتے رہے اور انکا انداز بتاتا تھا جیسے وہ مجاہدین کے لشکر سے مذاق کر رہے ہوں یا وہ اس مقصد سے باہر آتے تھے کہ مجاہدین اتنا آگے آجائیں کہ اوپر سے تیر انداز انہیں واپس جانے کے قابل نہ چھوڑیں، ایک روز پھر رومیوں کی تھوڑی سی تعداد باہر نکلی اور اس روز تو انہوں نے مجاہدین کا بہت مذاق اڑایا اور مجاہدین کو رومی للکارنے لگے چند ایک مجاہدین دوڑے گئے کہ آج ان میں سے کسی کو واپس نہ جانے دیں گے لیکن رومی حسب معمول پیچھے ہٹ گئے اور مجاہدین تیروں کی زد میں آنے لگے۔ مجاہدین بغیر لڑے تیروں سےگھائل نہیں ہونا چاہتےتھے لیکن ایک مجاہد ایسا جوش میں آیا کہ وہ اپنےساتھیوں سے زیادہ آگےنکل گیا وہ اکیلا تھا اور رومی زیادہ تھے رومیوں نے اسے گھیر کر پکڑ لیا اسے گرایا اور اس کا سر کاٹ کر دوڑتے ہوئے قلعے میں چلےگئے، وہ اس مجاہد کا سر اپنےساتھ لےگئے تھے یہ مجاہد قبیلہ مہرہ کا تھا ۔

اس قبیلے کے بہت سے مجاہدین لشکر میں موجود تھے تین چار دوڑے گئے اور تیروں کی بوچھاڑوں میں جا کر اپنے ساتھی کی لاش اٹھا کر لے آئے، اس قبیلے کی کچھ اپنی ہی روایت تھی عام حالت میں ان کا انداز بڑا خوشگوار اور دوستانہ ہوا کرتا تھا ،لیکن میدان جنگ میں اس قبیلے کا ہر مجاہد سراپا قہر اور غضب بن جاتا تھا 

اس قبیلے کے بہت سے مجاہدین لشکر میں موجود تھے تین چار دوڑے گئے اور تیروں کی بوچھاڑوں میں جا کر اپنے ساتھی کی لاش اٹھا کر لے آئے، اس قبیلے کی کچھ اپنی ہی روایت تھی عام حالت میں ان کا انداز بڑا خوشگوار اور دوستانہ ہوا کرتا تھا ،لیکن میدان جنگ میں اس قبیلے کا ہر مجاہد سراپا قہر اور غضب بن جاتاتھا،اس قبیلےکےمجاہدین نے جب اپنےساتھی کی لاش بغیر سر کے دیکھی تو انہوں نے اعلان کردیا کہ وہ اس شہید کی لاش سر کے بغیر دفن نہیں کریں گے ،اور اس کا سر لے کر آئیں گے ورنہ سب اپنے سر کٹوا دیں گے۔

میں تمہارے اس جذبے کی بہت قدر کرتا ہوں۔۔۔۔ سپہ سالار عمرو بن عاص نے انہیں کہا۔۔۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ تم قلعے کے اندر جا کر ایسی لڑائی لڑو کے اپنے ساتھی کا سر لے آؤ اگر تم سب مارے گئے تو سوچو کہ لشکر کو کتنا نقصان پہنچے گا لشکر کی تعداد پہلے ہی کم ہے۔

اس قبیلے کے مجاہدین پر اپنے سپہ سالار کی اس بات کا کچھ اثر نہ ہوا وہ اپنی اس سے ضد پر ڈٹے رہے کہ شہید کا سر لا کر ہی اسے دفن کریں گے ۔

پھر یوں کرو۔۔ عمرو بن عاص نے انھیں کہا۔۔ بہادری یہ نہیں کہ اندھا دھن پاگلوں کی طرح دیوار کے ساتھ جا ٹکراؤ اور مارے جاؤ تمہیں اس کا سر نہیں ملے گا بہادری یہ ہے کہ اب رومی باہر آئیں تو ان میں سے کسی کا سر کاٹ لاؤ۔ اسطرح تم سر کے بدلے سر لے آؤ گے۔

یہ بات اس قبیلے کے مجاہدین کے پلے پڑ گئی انہوں نے عہد کر لیا کہ اپنے ساتھی کے سر کے بدلے سر لائیں گے ۔

تاریخ میں اس واقعے کے بیان کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ سپہ سالار عمرو بن عاص نے کہا تھا کہ بنو مہرہ قتل کرنا جانتے ہیں قتل ہونا نہیں جانتے۔ ایک ہی روز بعد کچھ رومی فوجی حسب معمول ایک دروازے سے باہر نکلے اور مجاہدین کو للکارنے اور ان کا مذاق اڑانے لگے ، بنومہرہ کے چند ایک مجاہدین آگے گئے اور اس انداز سے آگے گئے جیسے انکا لڑنے کا ارادہ نہ ہو، رومیوں نےجب انکا ٹھنڈا ٹھنڈا سا انداز دیکھا تو وہ اور آگے آ گئے، یکلخت بنو مہرہ کے مجاہدین رومیوں پر جھپٹ پڑے رومی بغیر لڑے بھاگ اٹھے لیکن مجاہدین نے ان میں سے ایک کو پکڑ لیا اور اسے وہیں گرا کر اس کا سر کاٹا اور سر کو تلوار کی نوک پر اڑس کر بلند کیا اور تکبیر کے نعرے لگاتے واپس آگئے ۔اب انہوں نے سپہ سالار سے کہا کہ ان کے شہید ساتھی کا جنازہ پڑھیں اور اسے دفن کروا دیں۔

جنازہ پڑھا گیا اور شہید کو پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا رومی کے جسم سے کاٹا ہوا سر دور پھینک آئے۔

بزنطیہ کونستانس، جنرل اقلینوس ،اور دوسرے جرنیل مصر کی مخدوش صورتحال کے متعلق بہت پریشان تھے، اور ہر لمحہ کسی پیغام کے منتظر رہتے تھے انہیں سلطنت روم کا بڑا ہی برا انجام صاف نظر آنے لگا تھا۔

ادھر مرتینا تھی جو کچھ اور ہی سوچوں میں غرق پیچ و تاب کھا رہی تھی، یہ چوٹ اس کے لئے قابل برداشت نہیں تھی کہ اس کے بیٹے کے ساتھ جرنیلوں نے اور فوج نے بہت برا سلوک کیا تھا، اور اس کا حکم ماننے سے انکار کردیا تھا، مرتینا کے تو خواب چکنا چور ہوگئے تھے وہ نیند میں ہوتی یا بیدار تخت و تاج کےہی خواب دیکھا کرتی تھی، وہ قیرس سے مایوس ہوچکی تھی ،بزنطیہ کے تخت و تاج سے مایوس ہو گئی تھی، اور اس نے خود جو چالیں چلی تھی وہ بھی ناکام رہی، اور اب اسے ہر سو مایوسی ہی مایوسی نظر آتی تھی، وہ اب آخری حربہ پر اتر آئی۔

رومی جرنیلوں اور مذہبی پیشواؤں کو معلوم ہوگا ہی کے باہر کے بڑے ہی طاقتور دشمن کی نسبت اندر کا کمزور سا دشمن بھی بہت ہی خطرناک ہوتا ہے، لیکن انہیں شاید یہ اندازہ نہ تھاکہ مرتینا وہ دشمن ہےجو شاہی محل کی آستین میں بیٹھ کر اپنی ہی سلطنت کو ڈس سکتی ہے، اور یہ بہت ہی زہریلی ناگن ہے۔

مرتینا کی ایک خاص ملازم ربیکا تھی ، عالم شباب میں تھی اور بڑی ہی پرکشش لڑکی تھی ،مرتینا نے اسے کہیں دیکھا تھا ایک تو اس کی شکل و صورت اور جسمانی حسن سے متاثر ہوئی ،اور جب اسکے ایک دو جوہر اور دیکھے تو مرتینا اسے شاہی محل میں لے آئی، دو چار دنوں میں ہی مرتینا نے دیکھ لیا کہ یہ بڑی ہی ذہین اور ہر ڈھنگ کھیلنے والی لڑکی ہے ۔بڑی ہی خوشگوار طبیعت والی تھی۔ مرتینا تو اس پر فریفتہ ہو گئی تھی چند دنوں میں ہی ربیکا نے مرتینا کے دل میں وہ مقام پیدا کر لیا جو کوئی رازدار سہیلی ہی پیدا کر سکتی ہے۔ مرتینا نے بخوشی اسے اپنی رازدان بنا لیا ،کچھ اور دن گزرے تو مرتینا نے صاف طور پر محسوس کیا کہ یہ لڑکی جو شکل و صورت سے ہنس مکھ بھولی بھالی اور معصوم سی لگتی ہے دراصل بڑی کھلاڑی لڑکی ہے، اور اس کے جال میں آیا ہوا شخص نکل نہیں سکتا ،مرتینا کو ایسی ہی ملازمہ کی ضرورت تھی۔

مرتینا کی عمر پچاس برس سے کچھ اوپر ہو گئی تھی، لیکن اپنی جوانی کو یا جوانی کے جذبات کو اس نے زندہ و بیدار رکھا ہوا تھا،وہ ایک بدکار عورت تھی اس نے ایک دو آدمیوں کےساتھ خفیہ دوستی لگا رکھی تھی، ربیکا اس کےلیے کبھی کبھی کوئی بڑا ہی خوبرو اور جواں سال آدمی لے آتی تھی، یہ شاہی محل کا کردار تھا جسے معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔

پھر مرتینا کو ربیکا اس وجہ سے بھی اچھی لگتی تھی کہ اس کا بیٹا ہرقلیوناس ربیکا کا شیدائی ہو گیا تھا ، ربیکا بڑی خوشی سے ہرقلیوناس کی داشتہ بن گئی تھی۔ ہرقلیوناس کو تو ربیکا انگلیوں پر نچا رکھتی تھی، اور وہ نوجوان اسی میں بہت خوش ہوتا تھا۔

مرتینا سے ربیکا کو پتہ چلا کہ فوج نے ہرقلیوناس کو دھتکار دیا ہے، اور فوج اس سے باغی ہو گئی ہے، تو ربیکا نے مرتینا سے کہا کہ اب اس جادو گرنی کو آزما ہی لیا جائے۔

تینوں کو ربیکا کی یہ تجویز پسند آگئی اور اس نے ربیکا سے کہا کہ وہ اس کے پاس جائے اور اسے بتائے کہ ہم کیا چاہتے ہیں اگر وہ یہ کام کر سکتی تو اسے اپنے ساتھ لے آئے۔

ربیکا ان دنوں امید سے تھی اور چند ہی دنوں بعد ماں بننے والی تھی بچے کی پیدائش میں کچھ دن ہی باقی تھے۔

مجھے ایک بچے کی خواہش بہت ہی پریشان رکھتی تھی۔۔۔ ربیکا نے مرتینا سے کہا۔ یہ تو میں بھی جانتی تھی کہ شادی ہوگئی تو بچہ بھی ہوجائے گا لیکن میں آپ کی ملازمت میں آگئی اور آپکے بیٹے کو دیکھ کر شادی کا خیال دل سے نکال ہی دیا ، آپ کے بیٹے نے مجھے اپنی داشتہ بنا لیا، اڑائی تین سال گزر گئے بچے کے آثار نظر نہ آئے، آخر میں اس جادو گرنی کے پاس گئی اس نے ناجانے کیا عمل کیا اب آپ دیکھ رہی ہیں کہ میں ماں بننے والی ہوں، مجھے امید ہے کہ یہ عورت آپ کی ہر خواہش پوری کر دی گی۔

وہ ایک بوڑھی عورت تھی جو بزنطیہ کی ایک مضافاتی بستی میں رہتی تھی ،وہ جادوگرنی کے نام سے مشہور تھی اس کے پاس شیشے کا ایک گولا تھا جس میں سے روشنی گزرتی تو کئی رنگ نظر آتے تھے، لوگوں کے چہرے اور ہاتھ دیکھتی اور پھر اس گولے میں جھانکتی اور بتاتی تھی کہ اس کا مستقبل کیسا ہوگا ،لوگ پورے یقین کے ساتھ کہتے تھے کہ بگڑی ہوئی قسمت کو سنوار دیتی اور تاریک مستقبل کو درخشندہ کر دیتی ہے، لیکن وہ معاوضہ اتنا زیادہ لیتی تھی جو کوئی عام آدمی ادا نہیں کر سکتا تھا،،،،، اسکے ہاتھ میں کوئی ایسی طاقت تھی یا نہیں یہ ایک الگ بات ہے لیکن حالات کے پٹے ہوئے لوگوں کے لئے وہ آخری سہارا تھی۔

مرتینا اور ربیکا جیسے انسان اس قسم کے جادوگروں اور قسمت سنوارنے والوں کا بڑا آسان شکار ہوا کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے کردار اور اپنے ذہنوں میں اپنی نیتوں کو سنوارنے کی بجائے اپنی قسمت سنوارنے کے لیے جوتشوں اور جادوگروں کے قدموں میں جا گرتے ہیں، مرتینا نے بھی شاید اس جادو گرنی کی شہرت سنی ہوگی، اگر نہیں سنی تھی تو ربیکا نے ایسی تصویر پیش کی کہ مرتینا نےاسےکہا کہ اس جادوگرنی کو کسی ایسے وقت اس کے پاس لے آئے جب کوئی دیکھ نہ سکے۔

اگلی ہی رات یہ جادوگرنی مرتینا کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی،ربیکا اسےمرتینا کے پاس بٹھا کر باہر نکل گئی تھی تاکہ مرتینا تنہائی میں اس کے ساتھ دل کی باتیں کر سکے ،مرتینا نے پہلے تو اس جادو گرنی کا حال اور حلیہ دیکھا ۔ایک تو بڑھاپے نے اس کے چہرے پر رونق نہیں رہنے دی تھیں، اور چہرے پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں پیدا ہوگئی تھیں ویسے بھی اس کا چہرہ مکروہ سا تھا، اور رنگ بالکل سیاہ اس نے سر پر میلا کچیلا رومال باندھ رکھا تھا ،اس کے بال رسیوں جیسے تھے، لباس عجیب و غریب تھا، جسے بیان کرنا بھی کسی کے لیے آسان نہ تھا۔

اس نے شیشے کا گولا اپنے سامنے رکھ لیا اس کے ہاتھ میں دو فٹ لمبا ایک ڈنڈا تھا جس پر کئی رنگوں کے کپڑے لپٹے ہوئےتھے، اور اسکے دونوں سروں میں پرندوں کے رنگ برنگے پر اڑسے ہوئےتھے، ڈنڈے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی گھنٹیا اور تین چار گھنگرو بندھےہوئے تھے،اس عورت کی آنکھیں گہری لال اور ہونٹ گہرےزرد تھے، وہ کراہت کا جیتا جاگتا مجسمہ تھی۔

بول ملکہ۔۔۔ جادوگرنی نے مرتینا سے کہا۔۔۔ حاجت مندوں کی جھولیاں بھر دینےوالی ملکہ کو ایسی کونسی حاجت آن پڑی ہے کہ مجھے بلایا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ رعایا کی قسمت انکے بادشاہوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے ۔

لیکن بادشاہوں کی اپنی قسمت نہ جانے کس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔۔۔۔مرتینا نے کہا۔۔۔ اگر تو میری تین مرادیں پوری کر دے تو اتنا سونا تجھے دوں گی جو تو اٹھا نہیں سکے گی، تو میری قسمت سنوار دے اور میں تیری کایا پلٹ دونگی۔

بول کیا چاہتی ہے۔۔۔ جادوگرنی نے کہا۔

کونستانس مرجائے۔۔۔ مرتینا نے کہا۔۔۔ سلطنت روم کی ملکہ بن جاؤں ،یا میرا بیٹا تخت نشین ہو، اور تیسری مراد یہ کہ مصر سے مسلمان بھاگ جائیں، اور مصر روم کی سلطنت سے نہ نکلے،،،،،، کیا تو اتنی طاقت رکھتی ہے۔

دیکھ کر بتاؤں گی۔۔۔۔ جادوگرنی نے جواب دیا۔ اور مرتینا کے چہرےکو بڑے غور سےدیکھنے لگی، پھر بولی میری زبان سے کوئی ایسی ویسی بات نکل جائے تو مجھے معاف کر دینا ، بھول جاناکہ تو ملکہ ہےاور میں تیری رعایا ہوں،تیرے سامنے وہ آئے گا جو اس شیشے میں دکھائی دے گا، بات کہیں اور سے آئے گی جو میری زبان سے تیرے کانوں تک پہنچے گی۔

جو جی میں آئے کہہ دے۔ مرتینا نے کہا۔ میں جو چاہتی ہوں وہ ہوجائے، تو جو جی میں آئے مجھے کہہ دے۔

بوڑھی جادوگرنی مرتینا کے چہرے پر نظریں گاڑےہوئے تھی، اسکے مکروہ چہرےپر کچھ اور ہی طرح کی سنجیدگی آگئی تھی، یوں لگتا تھا جیسے اس کے چہرے کے خدوخال تبدیل ہو رہے ہیں ،اس نے اچانک اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور مرتینا کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ہاتھ کو پھیلا کر دیکھنے لگی، اب جادوگرنی پر کچھ ایسی کیفیت طاری ہو گئی تھی کہ اس کی سانسیں اکھڑ نے لگی تھی، پھر یوں ہوا جیسے وہ پھنکار رہی ہو۔

ہے تو بھی جادو گرنی۔۔۔ جادوگرنی نے کہا۔۔۔ لیکن کسی جگہ تیرا پاؤں پھسل گیا اور تو منہ کےبل گری ،قسمت انکی چمک اٹھی جنہوں نے اپنی عقل اور سوچ کو ٹھکانے رکھا، کوئی راستہ نکل ہی آئے گا ۔اس نے مرتینا کا ہاتھ یوں اسکی طرف دھکیل دیا جیسے کوئی بیکار سی چیز پرے پھینک دی ہو ۔ اس نے گولے میں جھانکنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ہی ڈنڈا ہاتھ میں لے لیا وہ گولے پر جھکی ہوئی تھی اور اس کا چہرہ نہایت آہستہ آہستہ گولے کی طرف جا رہا تھا جیسے کسی چیز کو بہت قریب سے دیکھنا چاہتی ہو۔

اس نے یکلخت اپنا سر یوں پیچھے کیا جیسے گولے نے اسے ڈس لینے کی کوشش کی ہو، اب تو اسکا چہرہ اور ہی زیادہ مکروہ ہوگیا تھا ،اس نے ڈنڈے کا سرا گولے پر پھیرا اور ایک بار گولے کو ہلکی سی ضرب لگائی ،اس کے ہاتھ کانپنے لگے ہاتھ کانپے تو ڈنڈا بھی تھرتھرانے لگا اور گھنٹیا اور گھنگرو بجنے لگے۔

اس کے ہاتھوں کا رعشہ زیادہ ہونے لگا، اور پھر اس کا پورا جسم کانپنے لگا وہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی اور سر سے پاؤں تک تھرتھرانے لگی، اسکا منہ اس طرح کھل گیا تھا کہ سارے دانت نظر انے لگےتھے، اسکی نظریں گولے پر لگی ہوئی تھی، ذرا دیر بعد یوں لگا جیسے جادوگرنی کھڑے کھڑے ناچ رہی ہو ،مرتینا پر خوف طاری ہونے لگا۔


جاری ہے....

Comments

Popular posts from this blog

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش آخری قِسط

اور_نیل_بہتا_رہا عنایت_اللہ_التمش قسط_نمبر2

Pakistan Plans to Launch 5G in 3 Cities by 2023